نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

منگیتر ‏سے ‏فون ‏پر ‏بات ‏کرنا؟

 منگیتر سے فون پر؟  ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسلے میں کہ جو امام اپنی منگیتر سے واپساپ  سے لوگوں سے چھوپ کر چیٹنگ کرتا ہو اس کے پیچھے نماز میں کوئی کراہت ہوگی؟ وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ  الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق  ۔منگنی کی حیثیت شرعاً صرف وعدہٴ نکاح کی ہے، باقاعدہ وہ نکاح نہیں ہے، اس لیے منگنی کے بعد بھی (لڑکا اور لڑکی) دونوں ایک دوسرے کے حق میں اجنبی ہی برقرار رہتے ہیں، اور جس طر ح منگنی سے پہلے دونوں کے لیے ایک دوسرے سے بلاضرورت بات چیت کرنا اور ملنا جلنا ناجائز ہے، اسی طرح منگنی کے بعد بھی ناجائز ہے، رابطہ فون کے ذریعہ ہویا فیس بک وغیرہ کے ذریعہ، بہرصورت بلاضرورت جائز نہیں ہے، ہاں عقد نکاح مکمل ہوجانے کے بعد دونوں ایک دوسرے کے لیے حلال ہوجاتے ہیں، اور باہم ہرطرح کی گفتگو جائز ہوجاتی ہے۔  امیر اہلسنت حضرت مولانا الیاس قادری دامت برکاتہم فرماتے ہیں  ایک دوسرے کو دیکھنے ، ایک دوسرے سے بات چیت کرنے اور میل جول رکھنے کے معاملے میں شَرْعی ر...

بیوی ‏کے ‏حقوق

اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎ میرا مفتی صاحب سے یہ سوال ھے کہ ایک گھر میں میاں بیوی 4 سال سے نہ اپنی بیوی سے بات چیت  کرتا نہ اس سے میل جول ھے نہ اس کا پکاھوا کھانا کھاتا ہے اس سے کوی کلام نہیں کر تا البتہ گھرکا خرچ دیتاھے اس کے علاوہ کہچھ نہیں کرتا اس شخص کے بارے میں قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب عطا فرما دیں کچھہ کا کہنا ھے کہ نکاح ٹوٹ گیا ھے برأے مہربانی جواب عطا فرما دیں  محمد طاھر عطاری کہروڑپکا وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ  الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق  صورت مسئولہ میں بغیر عذر شرعی کے بیوی کے ساتھ اس طرح کا سلوک کرنا جائز نہیں مگر پھر بھی طلاق نہیں ہوا شوہر پر بیوی کے بھی کچھ حقوق ہوتے ہیں ادا نہ کرنے پر گناہگار ہوگا  شوہر کے ذمہ بیوی کے واجبی حقوق میں نان نفقہ، رہنے کے لیے مکان دینا خواہ ذاتی ہو یا کرایے کا، نیز کپڑے وغیرہ دینا اسی طرح شب باشی بھی حقوق میں شامل ہے، جیسا کہ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: وعاشروہن بالمعروف، شوہروں کو حکم ہے کہ عورتوں کے ساتھ...

والدین ‏کے ‏ساتھ ‏حسن ‏سلوک

الحمدللہ رب العالمین الصلاة والسلام علی سید المرسلین  والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا حکم اللہ تَعَالٰی نے دیا ہے اللہ تَعَالٰی فرماتا ہے وَ قَضٰى رَبُّكَ اَلَّا  تَعْبُدُوْۤا اِلَّاۤ اِیَّاهُ وَ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًاؕ-اِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ اَحَدُهُمَاۤ اَوْ كِلٰهُمَا فَلَا تَقُلْ لَّهُمَاۤ اُفٍّ وَّ لَا تَنْهَرْهُمَا وَ قُلْ لَّهُمَا قَوْلًا كَرِیْمًا(۲۳)  ترجمۂ کنز العرفان  اور تمہارے رب نے حکم فرمایا کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔ اگر تیرے سامنے ان میں سے کوئی ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان سے اُف تک نہ کہنا اور انہیں نہ جھڑکنا اور ان سے خوبصورت ، نرم بات کہنا۔  تفسیر صراط الجنان  {وَ قَضٰى رَبُّكَ: اور تمہارے رب نے حکم فرمایا ۔} اس آیت اور اس کے بعد والی 16 آیات میں  اللّٰہ تعالیٰ نے تقریباً 25کاموں  کا حکم دیا ہے ۔ آیت کے ابتدائی حصے کا معنی یہ ہے کہ تمہارے رب عَزَّوَجَلَّنے حکم فرمایا کہ تم اللّٰہ تعالیٰ کی عبادت میں  اس کے ساتھ کسی اور کو شریک نہ ٹھہراؤ اور تمہیں...

کس ‏گناہ ‏سے ‏بندہ ‏کافر ‏؟

کس گناہ سے بندہ کافر ہو جاتا ہے؟  السلامُ علیکم ورحمۃ اللّه وبرکاتہ 🤝 کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں. سوال : کونسے گناہ کرنے سے مسلمان کفر میں چلا جاتا ہے.؟  عبد المصطفیٰ پنجاب پاکستان وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ  الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق  یسا گناہ جو نص قطعی سے ثابت ہو، اس کا ارتکاب کوئی حلال سمجھتے ہوئے کرے کہ ایسا کرنا حرام نہیں بلکہ حلال ہے تو وہ کافر ہوجاتا ہے، اگر دل میں یہ خیال ہو کہ بہت بڑا جرم ہے گناہ کا کام ہے، مگر پھر بھی شیطان کے بہکاوے میں آکر وہ گناہ کا کام کرلیتا ہے، تو اس سے ایمان باقی رہتا ہے البتہ گناہ کا مرتکب ہوا۔ ایسے ہی اگر استہزاء یا استخفافاً اس کو کرتا ہے تو بھی اس کے ایمان کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے: إن استحلال المعصیة إذا ثبت کونہا معصیةً بدلالة قطعیة وکذا الاستہانة بہا کفر بأن یعدہا ہنیئةً سہلةً ویرتکبہا من غیر مبالاة بہا ویجریہا مجری المباحات في ارتکابہا، وکذا الاستہزاء علی الشریعة الغراء کفر؛ لأن ذلک من إمارات تکذیب الأنبیاء علیہم ا...

فاسقہ ‏عورت ‏سے ‏نکاح؟

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام مسئلہ ھذا میں کہ ایک عورت ہے جس کا یہ دھندہ بن چکا ہے کسی مرد سے نکاح کرتی ہے کچھ دنوں کے بعد اپنے شوہر کو کہتی ہے کہ میں اپنے میکے جاتی ہوں پھر نہیں آتی پھر دوسرے مرد سے شادی کرلیتی ہے چند دن اس کے گھر رہتی ہے اس کو لوٹ کر چلی جاتی ہے پھر تیسرے مرد سے شادی کرلیتی ہے اس نے بہت سارے نکاح کیے ہیں سوال یہ ہے کہ اگر کوئی امام نکاح پڑھاے لیکن اس کو اس کے بارے میں معلومات نہیں ہے بعد میں معلوم ہوا کہ یہ عورت نہ جانے کتنے نکاح کرچکی ہے تو امام اور سامعین کے نکاح کے بارے میں کیا حکم ہوگا ...سائل.. علی محمد اکبری خطیب و امام مدینہ مسجد نانی چیرئی بھچاو واگڑ کچھ *الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق* صورت مسوئلہ میں اس عورت کا دوسرے سے نکاح  جب تک نہیں ہو سکتا جب تک پہلے والا شوہر اسے طلاق دے دی ہو تو دوسرے سے نکاح ہو سکتا ہے ورنہ بغیر طلاق کے دوسرے سے نکاح ہرگز جائز نہیں بلکہ حرام ہے ،قال اللہ تعالٰی، *شوہر والی عورتیں تم پر حرام ہیں الخ* قرآن مجید سورتہ 4 آیت 24 اور سوال سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ عورت مطلق...

مسافر ‏امام ‏نے ‏چار ‏رکعت ‏پڑھ ‏لی؟

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارےمیں کہ امام مسافر ہےاورمقتدی مقیم ہیں، امام نے بھولے سے نماز ظہر چار رکعتیں پڑھا دیں، اور دوسری رکعت کے بعد قعدہ بھی کیا، لیکن آخر میں سجدہ سہو  نہیں کیا،نماز کے بعد مسافر امام کو یاد آیا کہ میں نے چار پڑھا دی،حالانکہ میں مسافر ہوں،نماز کا کیا حکم ہو گا؟ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ      مسافر امام نے جو نماز بُھولے سے چار رکعت پڑھا دی اور دوسری رکعت میں قعدہ بھی کیا تھا،تو اس صورت میں مسافر امام اور مقیم مقتدیوں کے لیے الگ الگ حکم ہو گا۔مسافر امام کی نماز کا  حکم یہ ہو گاکہ اس کے فرض ادا ہو جائیں گےاور آخری دو رکعت نفل ہو جائیں گی ،لیکن بُھولے سے چار رکعت مکمل کرنے کی وجہ سےسجدۂ سہو لازم تھا جو کہ مسافر امام نے نہ کیا، لہٰذا نماز واجبُ الاِعَادہ کی نیت سے دوبارہ اداکرنی ہو گی۔ جبکہ مقتدیوں کے لیے حکم یہ ہو گا کہ ان  کی نمازباطل ہو گئی، کیونکہ اقتداءکے لئےصحیح ہونے کی شرائط میں سے ایک یہ بھی ہے کہ امام کی نما...

داڈھی ‏کی ‏حد ‏کہا ‏تک ‏

داڑھی کی حد کہا تک؟  السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ  کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے میں کہ داڑھی کی جو  مقدار ایک مشت بتائیں گءی ہے' وہ تھوڑی کے نیچے کی ہی شمار ہوگی  یا دونوں ختصار کی طرف بھی ایک مشت رکھنی واجب ہے ساءل: عارف عطاری از:کاریلا، سریندر نگر وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ  الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق اسی طرح کے ایک سوال کے جواب میں حضرت مفتی محمد قاسم صاحب فرماتے ہیں  داڑھی کی حد کو آسان سے آسان الفاظ میں یوں سمجھ لیں کہ داڑھی قلموں کے نیچے سے کنپٹیوں ، جبڑوں ، ٹھوڑی پر جمتی ہے اور عرضا اس کا بالائی حصہ کانوں اور گالوں کے بیچ میں ہوتا ہے ۔ اب اگر کوئی شخص اپنے کانوں کے برابر والے بالوں میں سے وہ بال چھوٹے کرواتا ہے کہ جو قلموں سے نیچے ، داڑھی کا حصہ ہیں تو وہ گنہگار ہو گا کیونکہ داڑھی کے بالوں کو لمبائی اور چوڑائی دونوں طرح سے ایک مشت پوری ہونے سے پہلے تھوڑا یا زیادہ کاٹنا ناجائز ہے دارالافتاء اہلسنت  ) واللہ اعلم و رسولہ  فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حن...