نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

سیرت ‏حضرت ‏عشمان ‏غنی ‏رضی ‏اللہ ‏عنہ

الحمدللہ رب العالمین والصلوتہ والسلام علی سید المرسلین اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ عنوان: رسول اللہﷺکے جلیل القدرصحابی ٗخلیفۂ سوم امیرالمؤمنین ذوالنورین حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی ولادت مکہ میں رسول اللہ ﷺ کی ولادت باسعادت کے چھ سال بعدہوئی،قبیلۂ قریش کے مشہورخاندان ’’بنوامیہ ‘‘ سے تعلق تھا،سلسلۂ نسب پانچویں پشت میں عبدمناف پررسول اللہ ﷺ کے نسب سے جاملتاہے،مزیدیہ کہ ان کی نانی ’’اُم حکیم‘‘رسول اللہ ﷺ کے والدگرامی جناب عبداللہ کی جڑواں بہن تھیں ۔ ٭حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی زندگی زمانۂ جاہلیت میں بھی انتہائی شریفانہ تھی جس کی وجہ سے قبیلۂ قریش میں نیزتمام شہرمکہ میں انہیں انتہائی عزت واحترام کی نگاہ سے دیکھاجاتاتھا،اُس دورمیں جب ہرکوئی لہوولعب کادلدادہ اورشراب کاازحدرسیا تھا… مگرایسے میں بھی حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کادامن ہمیشہ لہوولعب سے پاک رہا، اوران کے لب جامِ شراب سے ہمیشہ ناآشنارہے۔ ٭مکہ شہرمیں دینِ اسلام کاسورج طلوع ہونے سے قبل ہی حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی حضرت ابو...

کرامات ‏فاروق ‏اعظم

[کرامات فاروق اعظم  : قبروالوں سے گفتگو : امیرالمؤمنین حضرت عمرفاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک مرتبہ ایک نوجوان صالح کی قبرپرتشریف لے گئے اور فرمایا کہ اے فلاں! اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے کہ ’’وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ جَنَّتَانْ‘‘ یعنی جوشخص اپنے رب کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرگیا اس کے لئے دوجنتیں ہیں۔ اے نوجوان! بتا تیرا قبر میں کیا حال ہے؟ اُس نوجوان صالح نے قبر کے اندر سے آپ کا نام لے کر پکارا۔ اور بہ آواز بلند دومرتبہ جواب دیا کہ میرے رب نے یہ دونوں جنتیں مجھے عطا فرمادی ہیں۔ مدینہ کی آواز نہاوند تک : امیرالمؤمنین حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے حضرت ساریہ رضی اللہ عنہ کو ایک لشکر کا سپہ سالار بناکر نہاوند کی سرزمین میں جہاد کے لئے روانہ فرمایا۔ آپ جہاد میں مصروف تھے کہ ایک دن حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مسجدِنبوی کے منبرپر خطبہ پڑھتے ہوئے ناگہاں یہ ارشاد فرمایا کہ ’’یاساریۃ الجبل‘‘ یعنی اے ساریہ! پہاڑ کی طرف اپنی پیٹھ کرلو۔ حاضرینِ مسجد حیران رہ گئے کہ حضرت ساریہ تو سرزمین نہاوند میں مصروفِ جہاد ہیں اور مدینہ منورہ سے سینکڑوں میل کی دوری پرہیں۔ آج امیرالمؤم...

شان ‏فاروق ‏اعظم

شان فاروق اعظم  سیدنا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی شانِ رفیعہ میں چند فرامینِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم پیش کرتا ہوں ۔  ۱:-نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ: ’’اے ابن خطاب !اس ذات پاک کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، جس راستے پہ آپ کو چلتا ہواشیطان پالیتا ہے وہ اس راستہ سے ہٹ جاتا ہے، وہ راستہ چھوڑ کر دوسراراستہ اختیار کرتا ہے ۔‘‘ (صحیح بخاری) ۲:-صحیح بخاری میں روایت ہے کہ :’’حضور پاک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے حالتِ خواب میں دودھ پیا، یہاں تک کہ میں اس سے سیر ہوگیا اور اس کی سیرابی کے آثار میرے ناخنوں میں نمایاں ہونے لگے، پھر میں نے وہ دودھ عمرؓ کو دے دیا، اصحابِ رسولؓ نے پوچھا: یارسول اللہ! اس خواب کی تعبیر کیا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’علم‘‘۔ ۳:-اسی طرح امام بخاری ؒنے ایک اور روایت بھی اپنی صحیح میںدرج کی ہے کہ : ’’ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کویہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ: میں نیند میں تھا، میں نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ میرے سامنے پیش کیے جارہے ہیں اور انہوںنے قمیصیں پہنی ہ...

سیرت ‏حضرت ‏عمر ‏فارق ‏رضی ‏اللہ ‏عنہ ‏

الحمدللہ رب العالمین والصلوتہ والسلام علی سید المرسلین اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم  حضرت عمربن الخطاب رضی اللہ عنہ عنوان: حضرت عمربن الخطاب رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے جلیل القدرصحابی ٗخلیفۂ دوم امیرالمؤمنین فاروقِ اعظم حضرت عمربن الخطاب رضی اللہ عنہ کاتعلق قبیلۂ قریش کے معززترین خاندان ’’بنوعدی‘‘سے تھا ٗجوکہ مکہ شہرکے مشہورومعروف محلہ ’’شُبیکہ‘‘میں آبادتھا۔بچپن کے بعدجب شباب کی منزل میں قدم رکھا توقبیلۂ قریش سے تعلق رکھنے والے دیگرمعززافرادکی مانندتجارت کواپنامشغلہ بنایا،فنونِ سپہ گری ٗشمشیرزنی ٗ نیزہ بازی ٗ تیراندازی ٗاورگھڑسواری میں خوب مہارت حاصل کی۔اس کے علاوہ پہلوانی اورکُشتی کے فن میں بھی انہیں کمال مہارت حاصل تھی ۔مکہ شہرکے قریب ہرسال ’’عُکاظ‘‘کا جومشہورومعروف اورتاریخی میلہ لگاکرتاتھا ،اس میں بڑے بڑے دنگلوں میں شرکت کرتے اور’’قوتِ بازو‘‘کاخوب مظاہرہ کیاکرتے تھے۔ مزیدیہ کہ بچپن میں ہی لکھناپڑھنابھی سیکھا،عربی لغت ٗ ادب ٗ فصاحت وبلاغت ٗ خصوصاً تقریروخطابت کے میدان میں انہیں بڑی دسترس حاصل تھی ،شجاعت وبہادری کے ساتھ ساتھ حکمت ...