نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

نکاح پڑھانے کا آسان طریقہ

۔۔۔۔۔۔۔نکاح پڑھانے کا طریقہ ۔۔۔۔۔۔ ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی  نکاح پڑھانے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ دلہن اگر بالغ ہو تو نکاح پڑھانے والا دلہن سے اجازت لے اور اگر دلہن نابالغ ہے تو اس کے ولی سے اجازت لے کر مجلس نکاح میں آئے اور دلہا کو پانچ کلمہ یا کلمہ طیبہ اور ایمان مفصل اور ایمان مجمل پڑھائے پھر کھڑے ہو کر خطبہ نکاح پڑھے اور بیٹھ کر پڑھنا بھی جائز ہے  پھر دلہا کی طرف مخاطب ہو کر یوں کہے میں نے بحیثیت وکیل فلاں بنت فلاں کو اتنے مہر کے بدلے آپ کے نکاح میں دیا کیا آپ نے قبول کیا جب دلہا قبول کر لے تو دلہا دلہن کے درمیان الفت محبت کی دعا کریں  اَوّل کلمہ طیّب لَآ اِلٰهَ اِلَّا اﷲُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اﷲِ.۔دوسراکلمہ شہادت اَشْهَدُ اَنْ لاَّ اِلٰهَ اِلاَّ اﷲُ وَحْدَهُ لَا شَرِيْکَ لَهُ وَاَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُوْلُهُ. تیسراکلمہ تمجید سُبْحَانَ اﷲِ وَالْحَمْدُِ ﷲِ وَلَآ اِلٰهَ اِلَّا اﷲُ وَاﷲُ اَکْبَرُ ط وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا بِاﷲِ الْعَلِيِ الْعَظِيْمِ.چوتھاکلمہ توحید لَآ اِلٰهَ اِلاَّ اﷲُ وَحْدَهُ لَاشَرِيْکَ لَهُ لَهُ الْمُلْکُ ...

بچہ گود لینا کیسا ؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔بچے کو گود لینے کا حکم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہبچے کو گود لینا اور اس کے باپ کی جگہ گود لینے والے کا نام لکھنا کیسا اور گود لینے والے کا یہ بچہ وارث ہوگا یا نہیں؟ سائل رضوان حلود گجرات  الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق  کسی کے بچے کو گود لینا تو جائز ہے مگر ولدیت بدلنا حرام اور بہت بڑا گناہ ہے، ایسے شخص پر جو نسب اور ولدیت کو بدلے اس کے اوپر قیامت تک کے لیے لعنت آئی ہے،    حدیث میں ہے ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، ان سے حسین بن واقد نے، ان سے عبداللہ بن بریدہ نے بیان کیا، کہا مجھ سے یحییٰ بن یعمر نے بیان کیا، ان سے ابوالاسود دیلی نے بیان کیا اور ان سے ابوذر ؓ نے کہ  انہوں نے نبی کریم ﷺ سے سنا، آپ ﷺ فرما رہے تھے جس شخص نے بھی جان بوجھ کر اپنے باپ کے سوا کسی اور کو اپنا باپ بنایا تو اس نے کفر کیا اور جس شخص نے بھی اپنا نسب کسی ایسی قوم سے ملایا جس سے اس کا کوئی (نسبی) تعلق نہیں ہے تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے۔صحیح بخاری رقم الحدیث 3508   بالغ ہونے تک اس کی پرورش...

قبر کے حالات

الحمدللہ رب العالمین والصلوتہ والسلام علی سید المرسلین اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم  یٰۤاَیُّهَا  الَّذِیْنَ اٰمَنُوا  اتَّقُوا اللّٰهَ حَقَّ  تُقٰتِهٖ وَ لَا تَمُوْتُنَّ  اِلَّا وَ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ(۱۰۲)  ترجمۂ کنز العرفان  اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو جیسا اس سے ڈرنے کا حق ہے اور ضرور تمہیں موت صرف اسلام کی حالت میں آئے۔  تفسیر صراط الجنان  {اِتَّقُوا  اللّٰهَ : اللہ سے ڈرو۔} ارشاد فرمایا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ایسا ڈرو جیسا ڈرنے کا حق ہے ۔ اس سے مراد یہ ہے کہ بَقدرِ  طاقت اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔ اس کی تفسیر وہ آیت ہے جس میں فرمایا گیا: فَاتَّقُوا اللّٰهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ(تغابن:۱۶)      ترجمۂ کنزُالعِرفان:تو اللہ سے ڈرو جتنی طاقت رکھتے ہو۔             نیز آیت کے آخری حصے میں فرمایا کہ اسلام پر ہی تمہیں موت آئے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ اپنی طرف سے زندگی کے ہر لمحے میں اسلام پر ہی رہنے کی کوشش کرو تاکہ جب تمہیں موت آئے تو حالت ِ اسلام پرہی ...

کفار ‏کے ‏تیہوار ‏کی ‏مبارکباد ‏؟

کفار کے مذہبی تہوار کی مبارکباد دینا کیسا؟  کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان شرع متین کہ کفار کو ان کے مذہبی تہوار کی مبارکباد دینا کیسا ہے؟ سائل حسنین احمداباد گجرات  الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق  صورت مسئولہ میں ان مشرکانہ مذہبی تیوہاروں پر ہندوؤں کو مبارک باد دینا اشد حرام ہے بلکہ منجرالی الکفر ہے جو مسلمان ایسا کرتے ہیں ان پر توبہ تجدید ایمان ونکاح لازم ہے اور اس پر پیسہ لینا بھی حرام وگناہ  حضرت مفتی محمد  شریف الحق رحمت اللہ علیہ فتاوی عالمگیری کے  حوالے سے فرماتے ہیں  ان باتوں کے بیان میں ہے جو کفر ہیں (ویخروجہ الی نیروز المجوس والموافقة معھم فیھا یفعلون فی ذلک الیوم الی ان قال ویا ھدائہ ذلک الیوم للمشرکین ولو بیضة تعظیما لذلک الیوم ) اور مجوسیوں کے تہوار نوروز میں شریک ہونے اور اس دن کے مشرکانہ افعال میں ان کی موافقت کرنے کی وجہ سے مزید فرمایا اور اس دن کی تعظیم کرتے ہوے مشرکین کو اس دن تحفہ دینے کی وجہ سے مسلمان کافر ہوجاتا ہے اگر چہ تحفہ میں ایک ہی انڈا دے اور ظاہر ہے کہ مبا...

میت ‏پر ‏چادر ‏ڈالنا ‏کیسا؟

..میت پر چادر اوڑھنا کیسا؟… السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ علماء کرام کی بارگاہ میں سوال عرض ہے کہ کیا میت پر جو چادریں چڑھائی جاتی ہیں میت کو دفنانے سے پہلےدوست رشتدار چادریں اوڑھتے ہیں کیا یہ جائز ہے شریعت مطہرہ میں دوسرا یہ کہ عورت جس کا شوہر مرجاتا ہے عدت میں تیجے میں عزیز رشتے دار عورت کو نئے کپڑے وغیرہ دیتے ہیں کیا یہ جائز ہے شریعت مطہرہ میں اس کا حکم کیا ہے قرآن وحدیث کی روشنی میں تفصیل سے جواب عنایت فرمائیں شکریہ جزاک اللہ خیرا کثیرا نوید احمد رضا حیدر آباد پاکستان سندھ وعلیکم السلام علیکم و رحمتاللہ و برکاتہ  الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق صورت مسئولہ رشتہ داروں کا میت پر چادر اوڑھنا فضول ہے اور یہ رسم ہنود ہے اس سے احتراز لازم ہاں اگر میت کے لیے ثواب کی نیت سے یہ چادریں کسی فقیر شرعی کو دے دیں تو اس میں کوئی حرج نہیں نبی کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالٰی جب بندے کے درجات بلند فرماتا ہے تو یہ بندہ کہتا ہے یہ درجہ مجھے کسطرح مل گیا ؟ تو رب العزت فرماتا ہے تجھے یہ منزل تیرے بیٹے کی استغفار کی وجہ سے ملی ہے (مشکوت ر...

قضاۓ ‏عمری ‏کا ‏طریقہ

سنت غیر مؤکدہ کی جگہ قضائے عمری؟  ۔السلام علیکم و رحمت اللہ وبرکاتہ  علماءے کرام کی بارگاہ میں عرض ہے کہ سنت غیر مؤکدہ کی جگہ عمری قضاء پڑھ سکتے ھے  ساءل محمد ذکی عطاری دانتا بناس کانٹھا وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ  الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق   عصر اور عشاء کی سنت غیر موکدہ کے بجائے قضاء نماز پڑھنے سے بلا شبہ نماز ہوجائے گی؛ بلکہ سنن غیر موٴکدہ سے پہلے قضاء نماز یں پڑھنا اولی ہے ۔  لیکن بہتر یہ ہے کہ ہمیشہ سنت غیر مؤکدہ کو ترک نہ کرے کہ اس کی بہت فضیلت ہے قضائے عمری کا طریقہ  تو بہت اچھی طرح غور کرلیں کہ میرے ذمہ کس قدر نمازیں قضاء ہیں او رایک کاپی پر ان کو الگ الگ لکھ لیں اور عشاء کے ساتھ وتر کو بھی شامل کرلیں، مجموعی اعتبار سے جس قدر واجب الاداء نمازیں ہوں ان کو اداء کرنا شروع کریں، مثلاً اس طرح نیت کریں کہ میرے ذمہ قضاء نمازوں میں جو سب سے پہلی نماز فجر ہے اس کو اداء کرتا ہوں جب وہ اداء ہوگئی تو پھر اسی طرح نیت کریں چونکہ پہلے جو نماز فجر اداء کی تھی اب اس کے بعد والی پہ...

علم ‏کی ‏اہمیت

الحمدللہ رب العالمین والصلوتہ والسلام علی سید المرسلین اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم فَسْــٴَـلُوْۤا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ(۷) اے لوگو! علم والوں سے پوچھو اگر تم نہیں جانتے۔ علم کی اہمیت اللہ فرماتا ہے ارشادِ باری تعالیٰ ہے : حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے مؤمنوں پر بڑا احسان کیا کہ ان کے درمیان اُنہی میں سے ایک رسول بھیجا جواُن سامنے اللہ کی آیتوں کی تلاوت کرے،اُنہیں پاک صاف بنائے، اُنہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دے،جب کہ یہ لوگ اس سے پہلے کھلی گمراہی میں مبتلا تھے۔(سورۂ آل عمران ۱۶۴) نبی کریم ﷺکا ارشاد ہے: ’’مجھے معلم بناکر بھیجا گیا۔ ‘‘(ابن ماجہ؍ دارمی) آپﷺ میں وہ تمام صفاتِ عالیہ موجود تھیں جو ایک معلمِ کامل میں مطلوب ہیں،آپﷺ کمالِ علم،خلقِ عظیم،اُسوۂ حسنہ ،کمال شفقت ورحمت جیسی صفات سے متصف تھے، آپ ﷺ کی تعلیم وتربیت خود اللہ تعالیٰ نے فرمائی،جیسا کہ قرآنِ کریم میں ارشاد ہے: ’’اور تمہیں اُن باتوں کا علم دیا جو تم نہیں جانتے تھے۔(سورۃالنساء) آپ ﷺ کی عالی صفات میں کمالِ علم،عظیم حکمت،اعلیٰ اخلاق،شاگردوں کے ساتھ شفقت و...