نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

نسبندی کروانے والی عورت ؟

نسبندی کروانے والی عورت کا حکم؟ - نومبر 22, 2021 نسبندی کروانے والی عورت کا حکم دارالافتا۶ فیضان مدینہ: : السلام علیکم سوال نس بندی کروانے والی عورت کے بارے میں علماء کی کیا راءے ہے کیا اس کو مسلمانوںکے قبرستان میں دفن کر سکتے ہیں اور نماز جنازہ پڑھ سکتے ہیں کیا اس کے ہاتھ سے صدقات خیرات قبول ہوتی ہے یا نہیں مع حوالہ کے جواب۔ کا منتظر ہوں رہنماءی فرماکر شکریہ کا موقع دیں ساءل احقر محمد عبد اللہ صدیقی باڑ میر راجستھان *وعلیکم السلام و رحمۃاللہ و برکاتہ* *الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق* نسبندی (مشتمل طور پر نسبندی یا بچہ دانی) نکلوانے کو علماء اہل سنت ناجائز و حرام قرار دیتے ہے ۔۔صورت مسوئلہ میں جس خاتون نے نسبندی کروائی ہے اس کی وجہ معلوم کئے بغیر کوئی حکم نہیں دیا جا سکتا ہمارا موقف یہ ہے ضرورت سخت ہو اور جان یا صحت کا خطرہ ہو تو ایسی سخت مجبوری میں اجازت کی گنجائش ہے بہر حال بغیر سخت ضرورت کے نسبندی کروانا ناجائز ہے لہٰذا خاتون مذکورہ کو توبہ کا حکم دیا جائے گا جب وہ توبہ کر لیں تو پھر اس پر کوئی گناہ کا اثر باقی نہیں رہتا *قال اللہ ...

☎فون سے نکاح📱

فون پر نکاح کا حکم ؟ - نومبر 23, 2021 کیافرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ نیٹ یاٹیلی فون کے ذریعے نکاح کرنے کی شریعت میں کیاحیثیت ہے؟ سائل:مولانامحمدعبداللہ عطاری(علی گارڈن،فیصل آباد) *الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق* حضرت *مفتی محمد قاسم صاحب عطاری* فرماتے ہیں نکاح صحیح ہونے کے لئے چندشرائط کاپایاجاناضروری ہے جن میں سے ایجاب وقبول کاایک مجلس میں ہونابھی ضروری ہے ۔ لہٰذانیٹرنیٹ یاٹیلی فون پرنکاح درست نہیں کہ ایجاب وقبول کی مجلس مختلف ہےہاں اگرنیٹ یاٹیلی فون پرکسی کووکیل بنادیاجائے اوروہ وکیل گواہوں کی موجودگی میں اپنے مؤکل کانکاح پڑھادے توشرyعاًجائزہوگا۔ *(دارالافتاء اہلسنت )* محقق جدید حضرت *مفتی نظام الدین صاحب* رضوی فرماتے ہیں لیپ ٹاپ اور انٹرنیٹ پر اگرچہ قاضی شاہدین کی صورت نظر آئے مگر اس پر لی گئی شہادت حقیقت میں شہادت نہیں ہے شہادت کا لغوی معنی ہے حضور، ،اور شاہد کا معنی ہے، ،حاضر، ،یہاں شاہد مجلس قضا میں حاضر نہیں بلکہ وہاں سے بہت دور اور غائب ہے یہ الگ بات ہے کہ مشین کی وجہ سے اس کا عکس نظر آرہا ہے، یہ ایک واضح حق...

حرم کے امام کی اقتدہ؟

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسیٔلے  میں کہ  حج اور عمرہ کے درمیان مسجد حرام اور مسجد نبوی شریف کے امام کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ؟ اور یہ کہنا کیسا کہ اگر اللہ پاک کو وہ پسند نہ ہوتا تو اسکو وہاں امامت ہرگز نہ کرنے دیتا ؟ الجواب وباللہ توفیق امام کعبہ اور امام مسجد نبوی یہ لوگ بدمذہب گمراہ ہے ان کے پیچھے نماز پڑھنا گناہ ہے  بدمذہب لوگوں سے دور رہنے کا حکم ہے   قال اللہ تعالٰی، اور تم ان لوگوں سے میل جول نہ رکھو جنھوں نے ظلم کیا ہے ورنہ تمھیں بھی (دوزخ )کی آگ لگ جائے گی، الخ *قرآن مجید سورتہ 11 آیت 113* اور صحیح مسلم کی حدیث ہے، قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بدمذہب اگر بیمار پڑھ جائے تو اس کی عیادت نہ کرو اگر مر جائے تو جنازہ میں شرکت نہ کرو ان سے ملاقات ہو تو انھیں سلام نہ کرو ان کے پاس نہ بیٹھوں نہ کھانا کھاؤ نہ پانی پیوں نہ ان کے ساتھ شادی بیاہ کرو الخ 📙 *انوار الحدیث صفحہ 103* 📕* *مسند امام اعظم صفحہ 23*   مفتی محمد نظام الدین صاحب فرماتے ہے  پھر تو اس کا تقاضا یہ ہے کہ عرصہ دراز تک وہاں شیعوں کے ایک ...

جس ادارہ میں امیر و غرب کا فرق ہو اس میں چندہ

 ۔۔اکبری۔۔ جس ادارے میں امیر و غریب کا فرق ہو اس کا حکم ؟ -  نومبر 30, 2021 السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ  علماء کرام کی بارگاہ میں سوال ہے کہ جو بڑے بڑے دارالعلوم چلتے ہیں ان کے صدر کا یہ رویہ درست ہے کہ جب کسی امیر کے بچے کا داخلہ کرانا ہوتا ہے تو فوراً ہو جاتا ہے تب انھیں کوئی اصول کی خلاف ورزی یاد نہیں آتی مگر جب کسی غریب کے بچے کا داخلہ کرانا ہوتا ہے تو کہہ دیتے ہیں کہ ابھی جگہ خالی نہیں ہے لیکن جب کسی امیر شخص سے فون کروایا جائے تو یہ ہی صدر صاحب بلا کچھ بولے فوراً کہہ دیتے ہیں کہ بھیج دوں بچے کو داخلہ ہو جائے گا ہم علماء کرام سے یہ جاننا چاہتے ہیں کہ اسلام میں امیر اور غریب میں امتیاز کب سے ہے کیا امیر چندہ دیتا ہے تو غریب بھی تو دیتا ہے ایسے ادارے کے بارے میں حکم شرع بیان فرما کر ہماری رہنمائی فرمائیں کہ ان اداروں کو چندہ دینا کیسا؟  سائل رضوان بھائی پالی راجستھان وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ  الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق  صورت مسئولہ میں سوال میں ذکر جو باتیں ہیں وہ درست ہے تو صدر کا یہ...

💦عورتوں کا نوکری کرنا ؟💥

عورتوں کا نوکری کرنا؟ - نومبر 18, 2021 ……..عورت کا نوکری کرنا؟ ……. کیا عورت شوہر کے کمانے کے باوجود نوکری کر سکتی ہے کسی کمپنی میں؟ عارف عطاری سریندر نگر  الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق عورت کے لیے ملازمت پانچ شرائط کے ساتھ کرنی جائز ہے ان شرطوں میں سے ایک بھی مفقود ہو تو ملازمت  (نوکری کرنا ) حرام ہے 1 کپڑے بارک نہ ہوں جن سے سر کے بال یا کلائی وغیرہ ستر کا کوئی حصہ چمکے 2 کپڑے تنگ و چست نہ ہوں جو بدن کی ہیبت ظاہر کریں 3 بالوں یا گلے یا پیٹ یا کلائی یا پنڈلی کا کوئی حصہ ظاہر نہ ہوتا ہو 4 کبھی نامحرم کے ساتھ کسی مختصر وقت کے لیے بھی تنہائی نہ ہوتی ہو 5 اس کے وہاں رہنے یا باہر آنے جانے میں کوئی فتنہ نہ ہو ( فتاوی تربیت افتاء جلد دوم بحوالہ فتاوی رضویہ جلد 9 صفحہ 252  )  اس دور میں شرط اول تو مفقود ہی نظر آتی ہے!  عورت کو بے پردہ باہر نکلنا اجنبی مردوں کے ساتھ خلط ملط، سر کے بال کھلے رکھنا، ایسا لباس پہننا جس سے بدن کا ابھار ظاہر ہو غیروں کے ساتھ خلوت و تنہائی حرام و گناہ ہے اللہ تَعَالٰی فرماتا ہے! وَ قَرْنَ فِیْ...

افیون کھانا؟

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم  السّلام علیکم ورحمۃاللہ بعد سلام عرض یہ ہے کہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام مسئلہ ھاذا کے بارے میں کہ افیون اور ڈوڈے کھانا اور پینا شرعاً کیسا ہے یعنی حرام ہیں یا مکروہ یعنی افیون کھانا حرام ہے یا مکروہ ونیز ڈوڈے پینا حرام ہے مکروہ  بینوا تاجروں سائل عبد المصطفیٰ بھوج الجواب وباللہ توفیق  افیون اور ڈوڈے کھانا پینا ناجائز ہے اور اس کی تجارت بھی جائز نہیں  بہارشریعت میں ہے افیون وغیرہ جس کا کھانا ناجائز ہے ایسوں کے ہاتھ فروخت کرنا جو کھاتے ہو ناجائز ہے اس میں گناہ پر اعانت ہے افیون اتنی استعمال کرنا عقل فاسد ہو جائے ناجائز ہے اور اگر کمی کے ساتھ استعمال کی گئی عقل میں فتور نہیں آیا تو حرج نہیں (بہارشریعت حصہ ہفد ہم صفہ ۶۷۷) واللہ اعالم ورسولہ  ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی

پہلے وضو یا نماز فرض؟

السلام عکیکم  سوال کیا فرماتے ہے علماء کرام مسئلہ زیل میں کہ پہلے وضو فرض ہوا تھا یا نماز جواب عنائت فرمائے سائل محمد علی نویانال کچھ الجواب باسمہ تعالی وبفضلہ سیرت مصطفی ﷺ پر نظر کرنے سے بہی ظاہر ہے کہ وضو نماز سے پہلے فرض تھا اگرچہ اسکی فرضیت کی آیت بعد میں نازل ہوئی  چیسا کہ  حکیم الامت مفسر قرآن مفتی احمد یار خان نعیمی رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں: آیات نماز ہجرت سے پہلے آئی اور آیات وضو ہجرت کے بعد سورہ مائدہ میں آئی مگر اس دراز زمانے میں حضور ﷺ نے وضو کرکے نمازیں  پڑھیں اور لوگوں کو پڑھائںں  (تفسیر نور العرفان تحت سورہ بقرہ آیت:١ -صفحہ:٣  (مطبوعہ فرید بک ڈپو -دہلی) اور علامہ غلام رسول سعیدی عیلہ رحمت اللہ القوی فرماتے ہیں:-آیت وضو اجماعا مدنی ہے اور تمام اہل سیرت کا اس پر اجماع ہے کہ وضو اور غسل مکہ میں نماز کے ساتھ فرض ہو گیے تھے اور نبی ﷺنے کبھی بغیر وضو نماز نہیں پڑھی بلکہ ہم سے پہلی شریعت میں بھی وضو فرض تھا کیونکہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: یہ میرا وضو ہے اور مجھ سے پہلے انبیاء کا وضو ہے  اور اصول فقہ میں یہ مقرر ہے کہ جب اللہ اور اسکا رسول بغیر انک...