نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

جس نے کہا میں ہندو؟

مفتی صاحب کی بارگاہ میں سوال عرض ہے کہ ایک اسلامی بھائی گناہ کا کام کر رہا تھا دوسرے نے کہا یہ مت کرو اس پر پہلے نے جاہلیت کی بنا پر کہا میں ہندو ہوں مسلمان نہیں تو اسکے ایسا کہنے سے وہ مسلمان رہےگا ؟ واقعی کافر ہو جائے گا ؟ اسکو مسلمان مانا جائے گا ؟ سراج ماتھکیا-ٹنکارا -موربی الجواب باسمہ تعالی وبفضلہ سورت مسؤلہ میں جس شخص کو سمجھایا گیا اور اس نے جواب میں کہا کہ میں ہندو ہوں وہ اسلام سے خارج ہو گیا اور کافر ہوگیا  جیسا کہ تفسیرات احمدیہ میں ہے': اگر کوئی شخص بغیر مجبوری کے مذاق کے طور پر یا علم نہ ہونے کی وجہ سے کلمۂ  کفر زبان پر جاری کرے وہ کافر ہوجائے گا(تفسیرات احمدیہ، النحل، تحت الآیۃ: ۱۰۶، ص۵۰۱)۔ صراط الجنان تحت -نحل آیت -١٠٦) لھذا سوال میں مزکور شخص کو اس کلمہ سے توبہ کروا کر کلمہ پڑھوایا جاۓ اور پھر سے مسلمان کیا چاۓ اگر بیوی والا ہے تو نکاح اور کسی کا مرید ہے تو بیعت بھی پھر سے کروائی جائے اور اسے سمجھانے والوں کو ہدایت ہے کہ آئیندہ صرف اسی شخص کو سمجھاۓ جس کے مان جانے کا قوی یقین ہو ،ورنہ نہ سمجھاۓ ورنہ ہو سکتا ہے وہ گنہگار سے کافر ہو جائے اور اسے پتہ بھی نہ ہو و...

زیورات کی زکوة بیوی پر ہے

بیوی سسرال میں زیور لیکے آۓ اسکی زکوت کس پر ؟بیوی پر یا شوہر پر اور کیا زکوت ادا کرنا شوہر کی زمہ داری ہے ؟ الجواب باسمہ تعالی وبفضلہ سورت مسؤلہ میں بیوی جو زیور اپنے مایکے سے لیکر آئی ہے اس کی مالک وہ خود ہے اور اسکی زکوت نکالنا اس پر فرض ہے نہ کے  شوہر پر  فتاویٰ اہل سنت میں ہے:-جو سونا سسرال سے ملتا ہے اسکی دو سورتیں ہیں سسرال والوں نے صراحتاً ہی کہ دیا کہ یہ سونا تمہاری ملک ہے وہاں کا عرف ہی یہ ہو کہ سسرال کے طرف سے ملنے والا سونا بیوی کی ملک سمجھا جاتا ہو اور طلاق ھونے کے بعد سسرال والے واپس بھی نہ لیتے ہو اور ایسا بہت کم ہوتا ہے تو یقیناً بیوی اس سونے کی مالک ہوگی اور اگر سونا سسرال والوں ہی کی ملک سمجھا جاتا ہو اب اس سونے کی زکوٰۃ اسی پر ہوگی جو اسکا مالک ہے  فتاویٰ اہل سنت احکام زکوت -٢٨٨) اور ہمارے گجرات میں عرف یہی ہے کہ میکے سے لایا ہوا سونا بیوی کی ملک ہوتا ہے ،اور طلاق ہونے کی سورت میں وہ سب واپس بھی لے جاتی ہے  لہذا سورت مسؤلہ میں جو زیور بیوی کے ہیں ان کی زکوٰۃ بیوی پر نکالنا فرض ہے ،یہ شوہر کی زمہ داری میں نہیں آتا ، شوہر پر صرف بیوی کا نان و نفقہ ہے ...

پرشاد لینا ؟

کیا فرماتے ہے مفتیان کرام کہ کفار کے بتوں پر چڑھائی گئی مٹھائی کھانا کیسا ہے کبھی کھبی غیر مسلم پڑوسی یہ چیزیں دیتے ہے تو لینا کیسا ہے ہمارے یہاں کے مولانا نے کہا کہ حرام ہے  حالات زمانہ کے مدنظر جواب عطا فرمائیں سائل توفیق ڈھسا  الجواب و باللہ توفیق بتوں پر چڑائی ہوئی مٹھائی حلال ہے مگر نہ لینا بہتر ہے مفتی امجد علی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہے جو مٹھائی وغیرہ بتوں پر چڑھاتے ہیں اگرچہ وہ حرام نہیں ہو جاتی تاہم اس سے اجتناب اولی (یعنی بچنا بہتر ) کہ وہ اسے تبرک سمجھ کر تقسیم کرتے ہیں اور بت پر چڑھنے کے بعد کوئی چیز تبرک نہیں ہو سکتی (فتاوی امجدیہ جلد 4 صفہ 59)  اور( فتاوی مرکز تربیت افتاء جلد 2 صفہ 80 ) میں ہے ہندوں کی ایسی مٹھائی جو دیوتاؤں پر چڑھائی جاتی ہے اس کا لینا جائز ہے مگر اجتناب بہتر ہے  امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہے حلال ہے مگر احتراز چاہے نسبت خباشت کی وجہ سے ( فتاوی رضویہ جلد 21 صفہ 606) مولانا صاحب نے غلط کہا ہے حرام کہنے کے لئے دلیل شرعی ہونی چاہے بغیر کوئی دلیل کے حرام کہنا گناہ ہے حدیث میں جو بے علم فتوی دے اس پر آسمان و زمین کے فرشتوں کی لعنت...

یا محمد کہنا کیسا؟

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ جی مفتی صاحب آپ سے عرض کہ یا محمد پکارنا کیسا ہے وعلکیم السلام الجواب و باللہ توفیق  حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا نام پکارنا بعض علما۶ کرام نے منع لکھا ہے  👇👇👇 شارح بخاری حضرت مفتی شریف الحق امجدی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:یا محمد کے معنی ہے اے محمد یعنی یہ کہنے والا حضور اقدس ﷺ کو ان کا نام لے کر پکار رہا ہے -اس میں حضور ﷺ کی بے ادبی ہے -جیسے ماں باپ کو انکا نام لیکر پکارنا بے ادبی ہے -کوئی لڑکا اگر اپنے باپ کو اسکا نام لے کر پکارے تو وہ گستاخ سمجھا جاۓگا باپ کو پکارا جاتا ہے تو نام نہیں لیا جاتا بلکہ ابا یا بابا کہ کر پکارا جاتا ہے جو ان کا منصب ہے ایسے ہی حضور اقدس ﷺ کو نام لیکر پکارنا اور یا محمد کہنا حضور کی بے ادبی ہے اگر حضور اقدس ﷺ کو پکارنا ہے تو انکا منصب ذکر کرکے پکارو یعنی یا نبی اللہ،یا حبیب اللہ،یا رسول اللہ کہ کر پکارو اللہ پاک  سورہ نور آیت نمبر -٦٣ میں ارشاد فرماتا ہے- لَا تَجْعَلُوْا دُعَآءَ الرَّسُوْلِ بَیْنَكُمْ كَدُعَآءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًاؕ ترجمہ کنزالعرفان:(اے لوگو!) رسول کے پکارنے کو آپس میں ایسا نہ بنالو جیسے تم می...

حضور کو یا محمد کہنا؟

جی مفتی صاحب آپ سے عرض کہ یا محمد پکارنا کیسا ہے الجواب باسمہ تعالی وبفضلہ یا محمد پکارنا جائز نہیں کہ اس میں پیارے آقا ﷺ کی شان میں بے ادبی کا پہلو ہے  جیسا کہ  شارح بخاری حضرت مفتی شریف الحق امجدی رحمت اللہ فرماتے ہیں:یا محمد کے معنی ہے اے محمد یعنی یہ کہنے والا حضور اقدس ﷺ کو ان کا نام لے کر پکار رہا ہے -اس میں حضور ﷺ کی بے ادبی ہے -جیسے ماں باپ کو انکا نام لیکر پکارنا بے ادبی ہے -کوئی لڑکا اگر اپنے باپ کو اسکا نام لے کر پکارے تو وہ گستاخ سمجھا جاۓگا باپ کو پکارا جاتا ہے تو نام نہیں لیا جاتا بلکہ ابا یا بابا کہ کر پکارا جاتا ہے جو ان کا منصب ہے ایسے ہی حضور اقدس ﷺ کو نام لیکر پکارنا اور یا محمد کہنا حضور کی بے ادبی ہے اگر حضور اقدس ﷺ کو پکارنا ہے تو انکا منصب ذکر کرکے پکارو یعنی یا نبی اللہ،یا حبیب اللہ،یا رسول اللہ کہ کر پکارو اللہ پاک  سورہ نور آیت نمبر -٦٣ میں ارشاد فرماتا ہے- لَا تَجْعَلُوْا دُعَآءَ الرَّسُوْلِ بَیْنَكُمْ كَدُعَآءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًاؕ ترجمہ کنزالعرفان:(اے لوگو!) رسول کے پکارنے کو آپس میں ایسا نہ بنالو جیسے تم میں سے کوئی دوسرے کو پکارتا ہے(سورہ نور...

حاضہ عورت سے مباشرت

حیض کی حالت میں عورت کو کپڑے کے اوپر سے فائدہ اٹھانا کیسا ؟ الجواب باسمہ تعالی وبفضلہ  اگر کپڑے ایسے ہے جس سے بدن کی گرمی محسوس نہیں ہوتی تو اس طرح عورت سے نفع اٹھانا جائز ہے  مفتی امجد علی اعظمی رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں: اس حالت میں ناف سے گھٹنے تک عورت کے بدن سے مرد کا اپنے کسی عُضْوْ سے چھونا جائز نہیں جب کہ کپڑا وغیرہ حائل نہ ہو شَہوت سے ہویا بے شَہوت اور اگر ایسا حائل ہو کہ بدن کی گرمی محسوس نہ ہوگی تو حَرَج نہیں۔  مزید آگے فرماتے ہیں: ناف سے اوپر اور گھٹنے سے نیچے چھونے یا کسی طرح کا نفع لینے میں کوئی حَرَج نہیں۔ یوہیں بوس وکنار بھی جائز ہے بہارِ شریعت ،جلد اول،حصہ دوم،صفحہ٣٩١) واللہ تعالیٰ اعلم مفتی ادارہ ایم جے اکبری قادری حنفی دارالافتاء فیضان مدینہ -گجرات

کیا اللہ پاک کو استاد؟

کیا اللہ پاک کو أستاذ کہ سکتے ہے؟ الجواب باسمہ تعالی وبفضلہ اللہ پاک کو أستاذ کہنا جائز ہے استاذ کا لغوی معنی سیکھانے والاہے   اور اللہ پاک نے قرآن پاک میں سیکھانے کی نسبت اپنی طرف کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:  وَ عَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُؕ-وَ كَانَ فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكَ عَظِیْمًا(۱۱۳) ( ترجَمۂ کنزالایمان: اورتمہیں سکھا دیا جو کچھ تم نہ جانتے تھے اور اللہ  کا تم پر بڑا فضل ہے۔(پ5، النساء:113) ایک اور جگہ ارشاد خداوندی ہے : اَلرَّحْمٰنُۙ(۱) عَلَّمَ الْقُرْاٰنَؕ(۲)   ترجمۂ کنزالایمان: رحمٰن نے اپنے محبوب کو قرآن سکھایا۔سورہ رحمن آیت ١-٢) ظاہرا  اللہ پاک کو أستاذ کہنے میں حرج نہیں لیکن استاد کی جگہ معلم کاینات کہنا بہتر ہے  کے چس کو جو ملا سب اللہ کی عطا اور اللہ کے سیکھانے سے ملا  واللہ تعالیٰ اعلم مفتی ادارہ ایم جے اکبری قادری حنفی دارالافتاء فیضان مدینہ