نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

ایلکول کی خیرد و فروخت

کوئی مشروب ہو جو شراب میں استعمال کیا جاتا ہو اور اس کا استعمال پر  گورنمنٹ نے پابندی لگادی ہو کیا اسکا استعمال جانور جیسے گاۓ بھینس میں کر سکتے ہیں ؟ الجواب باسمہ تعالی وبفضلہ جو مشروب شراب میں استعمال ہوتا ہے اگر وہ ایسا ہے جس کے استعمال سے شریعت نے منع نہیں کیا تو اس کا استعمال جانور کے لیے بھی جائز ہوگا  تفسیرات احمدیہ میں ہے --- اباحت من جملہ احکام شرعیہ میں سے ایک حکم ہے ،کیونکہ یہ ایک ایسا حکم ہے جس کے کرنے نہ کرنے کا اختیار ہوتا ہے ،اور ہر وہ کام جس کے کرنے یا اسکے نہ کرنے پر کوئی حرج و ضرر کی کوئی بھی دلیل شرعی نہ پائی جاۓ ،دلیل کا ایسا نہ پایا جانا بذات خود شرعی دلیل ہے جس کے پیش نظر اس کام کے کرنے یا نہ کرنے کا اختیاری حکم ثابت ہوتا ہے (تفسیرات احمدیہ -صفحہ:٢٥) لیکن چونکہ گورنمنٹ نے اس پر بین لگا دیا ہے تو ضرور وہ انسان کے لیے نقصان دہ ہوگا لیکن اگر یہ ثابت ہو گیا ہو کہ اس کے استعمال سے جانور کو نقصان نہیں ہوتا تو جائز ہے  اور اگر اسکے استعمال سے گورنمنٹ کی طرف سے ہر طرح پابندی ہو تو اسکا استعمال جانور میں بھی جائز نہیں ،کیونکہ حکومت کا وہ حکم یا پابندی جو شریع...

نا فرمان بیوی

اگر شوہر اور باپ سمجھاۓ مگر بیوی بچے نہ مانے تو کیا اسکا گناہ شوہر پر ہوگا ؟ اور کیا ایسی عورت کو طلاق دینا جائز ہے؟ عمران بھائی  الجواب باسمہ تعالی وبفضلہ اگر شوہر یا باپ اپنی طاقت بھر روکے لیکن بیوی بچے گناہ سے بعض نہ آئیں تو اسکا گناہ شوہر یا باپ پر نہیں جیسا کہ سورہ نجم میں ارشاد خداوندی ہے  اَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى(38) ترجمہ کنزالایمان :کہ کوئی بوجھ اٹھانے والی جان دوسری کا بوجھ نہیں اٹھاتی- اس آیت کی تفسیر میں صراط الجنان میں ہے:  کوئی بوجھ اٹھانے والی جان دوسری جان کا بوجھ نہیں  اٹھائے گی اور کوئی دوسرے کے گناہ پر پکڑا نہیں  جائے گا۔ تفسیر صراط الجنان تحت سورہ نجم آیت -٣٨) (٢)سورت مسؤلہ میں طلاق دینا تو جائز ہے  صدرُالشّریعہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القَوی فرماتے ہیں: طلاق دینا جائز ہے مگر بے وجہِ شرعی ممنوع ہے اور وجہِ شرعی ہو تو مباح بلکہ بعض صورتوں میں مستحب مثلاً عورت اس کو یا اوروں کو ایذا دیتی یا نماز نہیں پڑھتی ہے ۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ بے نمازی عورت کو طلاق دے دوں اور اُس کا مہر میرے...

اذان کے وقت نماز

اذان کے وقت نماز پڑھنا کیسا ؟ اور اذان کے وقت نیک کام کرے تو گنہگار ہونگے ؟ دعائے قنوت کی جگہ اور دعا بڑھ سکتے ہیں ؟ عمران بھائی    الجواب باسمہ تعالی وبفضلہ اذان کے درمیان نماز یا دیگر عبادات کرنا جایز ہے ،لیکن تعظیم اذان کے لیے حکم  یہ ہے کہ تلاوت کرتا ہو تو وہ بھی موقوف کردے بہار شریعت میں ہے  جب اَذان ہو، تو اتنی دیر کے لیے سلام کلام اور جواب سلام، تمام اشغال موقوف کر دے یہاں  تک  کہ قرآن مجید کی تلاوت میں  اَذان کی آواز آئے، تو تلاوت موقوف کر دے اور اَذان کو غور سے سُنے اور جواب دے۔ یوہیں  اِقامت میں (بہار شریعت جلد - صفحہ:٤٧٣) (٢)مفتی امجد علی اعظمی رحمت اللہ فرماتے ہیں: دعاء قنوت کا پڑھنا واجب ہے اور اس میں کسی خاص دعا کا پڑھنا ضروری نہیں ،بہتر وہ دعائیں ہیں جو نبی کریم ﷺ سے ثابت ہے اور انکے علاوہ کوئی اور دعا پڑھے جب بھی حرج نہیں (بہر شریعت جلد -١ صفحہ:٦٥٤) لہذا اگر کوئی اور دعا پڑھنا بھی جایز ہے مگر جو احادیث میں وارد ہے وہی پڑھنی چاہیے کہ اس میں سنت و حدیث دونوں پر عمل بھی ہو جائے گا واللہ اعلم ورسولہ مفتی ادارہ ایم جے اکبری قادری حنف...

ایک پیغام ائمہ کے نام

*ایک پیغام ائمہ کرام کے نام* الحمد للہ رب العالمین  والصلوتہُ و السلام علی سید المرسرین اما بعد فاعوذُ باللہ من الشیطان الرجیم   بسم اللہ الرحمن الرحیم ؔ ایک پیغام ائمہ مساجد کے نام  امام کو چاہئے کہ بے خوف ہو کر اللہ عزوجل و رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم قوم کو بتائے اگچہ حق بات کسی کو بری لگے آپ حق بیان کرنے سے پیچھے نہ ہٹے اگرچہ آپ کو نوکری سے نکال دیا جائے رزق کا زمہ اللہ نے لیا ہے حدیث پاک ہے جو علم حاصل کرے گا اللہ اس کی مشکلات آسان فرما دے گا اور اسے وہاں سے رزق عطا فرمائے گا جہاں اس کا گمان بھی نہ ہوگا (جامع بیان ) یہ ہو سکتا ہے کچھ دن آپ کو تکلیف کا سامنا کرنا پڑے مگر آپ حوصلہ بلند رکھیں گے تو پہلے سے بہتر روزی ملے گی میں نے اس حدیث کا نور بارہا دیکھا ہے بہت سی جگہ میرے ساتھ یہ ہوا کہ حق بیان کرنے کی وجہ سے لوگ مخالف ہوئے مگر قسم خدا کی آج تک مجھے کسی ممبر کی حمت نہیں ہوئی کے مجھے کہہ سکے آپ  کو امامت سے ہم ہٹاتے ہے بلک میں نے خود اس جگہ کو چھوڑا ہے اور آج تک جس جگہ سے میں نکلا ہوں وہا کے مسلمان اب بھی مجھے واپس بلانا چاہتے ہیں اور پہلے سے زیادہ ت...

مسجد کی ٹایلس مدرسہ میں ؟

السلام علیکم ورحمتہ وبرکاتہ قبلہ مفتی صاحب کی بارگاہ میں ایک سوال ہے ہمارے یہاں نی مسجد بنائی ہے کچھ ٹالس بچی ہے اس مسجد کے جسٹ پاس میں مدرسہ بن رہا ہے کیا اس میں ٹالس استعمال کر سکتے ہے رہنمائی فرمائیں  وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ  الجواب باسمہ تعالی وبفضلہ  صورت مسؤلہ میں مسجد کی بچی ٹائلس مدرسہ میں لگانا جائز نہیں ، جیسا کہ مرکز تربیت افتاء میں عالمگیری سے  ہے: لایجوز تغیر الوقف عن ھیئتہ ترجمہ:وقف کی ھییت بدلنہ جایز نہیں فتاویٰ مرکز تربیت افتاء -٢ صفحہ:١٨٦) لیکن  جو ٹائلس بچی ہیں اگر وہ آئیندہ مسجد کے کام کی نہیں ،تو اسکی جو قیمت بنتی ہو وہ قیمت مسجد میں دیکر ،پھر اسے مدرسہ میں لگانا جائز ہوگا واللہ تعالیٰ اعلم  مفتی ادارہ ایم جے اکبری قادری حنفی دارالافتاء فیضان مدینہ ،گجرات

بچوں کا ہبہ کرنا

سوال -آج کل دیکھا جارہا ہے کہ ماں باپ اپنی حیات میں اپنے دونوں بیٹوں کو الگ کرکے اپنی جائیداد سے برابری کا حصہ دے دیتے ہیں اور کہتے ہیں:تم الگ رہو اور تم اپنے محنت سے کرو ہماری زمہداری نہیں کیا والدین کی حیات میں انکی جائیداد تقسیم کی جا سکتی ہے؟ اور اگر کسی کے ٢ بیٹے اور ایک بیٹی ہو اور جائداد میں ١ کروڈ تو کیسے تقسیم کیا جائگا ؟ سائل؛ عمران بھائی  الجواب باسمہ تعالی وبفضلہ  باپ پر صرف نابالغ اولاد کی کفالت اور نفقہ وجب ہے  بہار شریعت میں ہے: نابالغ اولاد کا نفقہ باپ پر واجب ہے ،جبکہ اولاد فقیر ہو اسکی ملکیت میں مال نہ ہو اور آزاد ہو  (بہار شریعت -٢ صفحہ:٢٧٣) اور بالغ اولاد کا نفقہ باپ پر واجب نہیں  فقہ النفس امام قاضی خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:بالغ بیٹوں کا نفقہ باپ پر واجب نہیں ، فتاویٰ قاضی خان -٢ صفحہ:٢٣٧) لہذا والدین کا اس طرح بچوں کو الگ کرنا جائز ہے  (٢) والدین کی حیات میں بیٹے انہیں   جائداد تقسیم کرنے پر مجبور نہیں کر  سکتے ،لیکن حالات زمانہ کے حساب سے والدین تقسیم کر دیں تو بہتر ہے ،لکین یہ تقسیم وراثت نہیں بلکہ ہبہ کہلاۓگا ، (...

جس نے کہا میں ہندو؟

مفتی صاحب کی بارگاہ میں سوال عرض ہے کہ ایک اسلامی بھائی گناہ کا کام کر رہا تھا دوسرے نے کہا یہ مت کرو اس پر پہلے نے جاہلیت کی بنا پر کہا میں ہندو ہوں مسلمان نہیں تو اسکے ایسا کہنے سے وہ مسلمان رہےگا ؟ واقعی کافر ہو جائے گا ؟ اسکو مسلمان مانا جائے گا ؟ سراج ماتھکیا-ٹنکارا -موربی الجواب باسمہ تعالی وبفضلہ سورت مسؤلہ میں جس شخص کو سمجھایا گیا اور اس نے جواب میں کہا کہ میں ہندو ہوں وہ اسلام سے خارج ہو گیا اور کافر ہوگیا  جیسا کہ تفسیرات احمدیہ میں ہے': اگر کوئی شخص بغیر مجبوری کے مذاق کے طور پر یا علم نہ ہونے کی وجہ سے کلمۂ  کفر زبان پر جاری کرے وہ کافر ہوجائے گا(تفسیرات احمدیہ، النحل، تحت الآیۃ: ۱۰۶، ص۵۰۱)۔ صراط الجنان تحت -نحل آیت -١٠٦) لھذا سوال میں مزکور شخص کو اس کلمہ سے توبہ کروا کر کلمہ پڑھوایا جاۓ اور پھر سے مسلمان کیا چاۓ اگر بیوی والا ہے تو نکاح اور کسی کا مرید ہے تو بیعت بھی پھر سے کروائی جائے اور اسے سمجھانے والوں کو ہدایت ہے کہ آئیندہ صرف اسی شخص کو سمجھاۓ جس کے مان جانے کا قوی یقین ہو ،ورنہ نہ سمجھاۓ ورنہ ہو سکتا ہے وہ گنہگار سے کافر ہو جائے اور اسے پتہ بھی نہ ہو و...