نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

نماز کے بعد درود و سلام ؟

سوال نماز کے بعد درود وسلام بلند آواذ سے پڑھنا کیسا,  ذکر بالجہر کا ثبوت قرآن کی روشنی میں: فَاذْكُرُواْ اللّهَ كَذِكْرِكُمْ آبَاءَكُمْ أَوْ أَشَدَّ ذِكْرًا. ’’اللہ کا خوب ذکر کیا کرو جیسے تم اپنے باپ دادا کا (بڑے شوق سے) ذکر کرتے ہو یا اس سے بھی زیادہ شدت شوق سے (اللہ کا) ذکر کیا کرو‘‘۔ البقره، 2 : 200 دراصل کفار مکہ حج سے فراغت کے بعد مجالس میں اپنی قومی خوبیاں اور نسبی عظمتیں بیان کرتے تھے اس کو اللہ تعالیٰ نے منع فرما دیا اور اس کی جگہ اللہ کا ذکر کرنے کا حکم دیا۔ وہ اپنے آباؤ اجداد کا بلند آواز سے تذکرہ کرتے تھے، اس کو چھوڑ کر ان اجتماعات میں ذکر الٰہی کرنے کا حکم دیا گیا۔ پس یہ ذکر بالجہر کا حکم ہے۔ وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن مَّنَعَ مَسَاجِدَ اللّهِ أَن يُذْكَرَ فِيهَا اسْمُهُ وَسَعَى فِي خَرَابِهَا. ’’اور اس شخص سے بڑھ کر کون ظالم ہو گا جو اللہ کی مسجدوں میں اس کے نام کا ذکر کئے جانے سے روک دے اور انہیں ویران کرنے کی کوشش کرے‘‘۔ البقره، 2 : 114 اس آیت مبارکہ میں اس شخص کو سب سے بڑا ظالم گردانا گیا ہے جو مسجد میں اللہ کا ذکر کرنے والوں کو ذکر سے روکتا ہے اور مساجد کو ویران کرنے ...

امام کو ستانا ؟

کیا فرماتے ہے مفتیان کرام جو امام پابند شرع ہو اور اپنی ڑیوٹی پر برابر حاضر رہتا ہو مگر کچھ لوگوں کا کا بلا وجہ شرعی امام کو پریشان کرتے رہنا جس سے امام مجبور ہو کر  چلا جائے تاکہ اپنی پسند کا امام لائے جو ان کے کہنے کے مطابق تقریر کرے ان کے کہنے کے مطابق نماز پڑھائے ان لوگوں کا  ایسا کرنا کیسا اور اس پردوسرے مسلمانوں کا  خاموش رہ کر تماشہ دیکھنا حق کا ساتھ نہ دینا  اور مسلمانوں کا  امام کو بغیر کوئی وجہ سے امامت سے ہٹانے والوں کے متعلق کیا حکم شرح ہے بیان فرمائے  سائل مولانا اسمائل نوری احمد آباد گجرات الجواب باسمہ تعالی وبفضلہ سورت مسؤلہ میں جو لوگ امام کو بلا وجہ شرعی پریشان کرتے ہیں اور مکلنے پر مجبور کرتے ہیں وہ ایک مسلمان کی دل آزاری کی وجہ سے کبریرہ گناہ میں مبتلہ ہیں اور ایک مسلمان کو ستانے کی سخت وعید آئی ہے  وَ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ بِغَیْرِ مَا اكْتَسَبُوْا فَقَدِ احْتَمَلُوْا بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا(58) ترجمہ: کنزالایمان اور جو ایمان والے مردوں اور عورتوں کو بے کئے ستاتے ہیں انہوں نے بہتان اور کھلا...

ہندو مردے کا کھانا

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ حضرت میرا سوال ہے کہ ہندو کی موت پر انکے یہاں بارہویں کا کھانا کھانا گناہ ہے یا کفر ؟ واحد خان- رادھنپور وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ الجواب باسمہ تعالی وبفضلہ  ہندو کی موت پر انکے یہاں جو کھانا پکایا جاتا ہے وہ اسکو ایصالِ صواب پہونچا نے کے لیے کھلایا جاتا ہے اور اسکا کھانا حرام ہے    مفتی شریف الحق امجدی رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں:اس لیے سرادھ کا کھانا ہندو اپنے مردے کے ایصال صواب کے لیے کرتے ہیں اور یہ بات سب کو معلوم ہے .... اور اس (کھانے والے) پر توبہ لازم ہے  فتاویٰ شارح بخاری -جلد -٢ صفحہ:٥٥٩) لھذا ان کے یہاں  بارہویں کا کھانا حرام ہے  اور اگر یہ اعتقاد رکھا کہ جو میں کھارہا ہو اسکا ثواب اس کافر کو پہونچے گا تو کفر ہے اس صورت میں توبہ کے ساتھ تجدید ایمان بھی لازم ہے واللہ تعالیٰ اعلم ورسولہ مفتی ادارہ ایم جے اکبری قادری حنفی دارالافتاء فیضان مدینہ -مالون گجرات

ایلکول کی خیرد و فروخت

کوئی مشروب ہو جو شراب میں استعمال کیا جاتا ہو اور اس کا استعمال پر  گورنمنٹ نے پابندی لگادی ہو کیا اسکا استعمال جانور جیسے گاۓ بھینس میں کر سکتے ہیں ؟ الجواب باسمہ تعالی وبفضلہ جو مشروب شراب میں استعمال ہوتا ہے اگر وہ ایسا ہے جس کے استعمال سے شریعت نے منع نہیں کیا تو اس کا استعمال جانور کے لیے بھی جائز ہوگا  تفسیرات احمدیہ میں ہے --- اباحت من جملہ احکام شرعیہ میں سے ایک حکم ہے ،کیونکہ یہ ایک ایسا حکم ہے جس کے کرنے نہ کرنے کا اختیار ہوتا ہے ،اور ہر وہ کام جس کے کرنے یا اسکے نہ کرنے پر کوئی حرج و ضرر کی کوئی بھی دلیل شرعی نہ پائی جاۓ ،دلیل کا ایسا نہ پایا جانا بذات خود شرعی دلیل ہے جس کے پیش نظر اس کام کے کرنے یا نہ کرنے کا اختیاری حکم ثابت ہوتا ہے (تفسیرات احمدیہ -صفحہ:٢٥) لیکن چونکہ گورنمنٹ نے اس پر بین لگا دیا ہے تو ضرور وہ انسان کے لیے نقصان دہ ہوگا لیکن اگر یہ ثابت ہو گیا ہو کہ اس کے استعمال سے جانور کو نقصان نہیں ہوتا تو جائز ہے  اور اگر اسکے استعمال سے گورنمنٹ کی طرف سے ہر طرح پابندی ہو تو اسکا استعمال جانور میں بھی جائز نہیں ،کیونکہ حکومت کا وہ حکم یا پابندی جو شریع...

نا فرمان بیوی

اگر شوہر اور باپ سمجھاۓ مگر بیوی بچے نہ مانے تو کیا اسکا گناہ شوہر پر ہوگا ؟ اور کیا ایسی عورت کو طلاق دینا جائز ہے؟ عمران بھائی  الجواب باسمہ تعالی وبفضلہ اگر شوہر یا باپ اپنی طاقت بھر روکے لیکن بیوی بچے گناہ سے بعض نہ آئیں تو اسکا گناہ شوہر یا باپ پر نہیں جیسا کہ سورہ نجم میں ارشاد خداوندی ہے  اَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى(38) ترجمہ کنزالایمان :کہ کوئی بوجھ اٹھانے والی جان دوسری کا بوجھ نہیں اٹھاتی- اس آیت کی تفسیر میں صراط الجنان میں ہے:  کوئی بوجھ اٹھانے والی جان دوسری جان کا بوجھ نہیں  اٹھائے گی اور کوئی دوسرے کے گناہ پر پکڑا نہیں  جائے گا۔ تفسیر صراط الجنان تحت سورہ نجم آیت -٣٨) (٢)سورت مسؤلہ میں طلاق دینا تو جائز ہے  صدرُالشّریعہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القَوی فرماتے ہیں: طلاق دینا جائز ہے مگر بے وجہِ شرعی ممنوع ہے اور وجہِ شرعی ہو تو مباح بلکہ بعض صورتوں میں مستحب مثلاً عورت اس کو یا اوروں کو ایذا دیتی یا نماز نہیں پڑھتی ہے ۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ بے نمازی عورت کو طلاق دے دوں اور اُس کا مہر میرے...

اذان کے وقت نماز

اذان کے وقت نماز پڑھنا کیسا ؟ اور اذان کے وقت نیک کام کرے تو گنہگار ہونگے ؟ دعائے قنوت کی جگہ اور دعا بڑھ سکتے ہیں ؟ عمران بھائی    الجواب باسمہ تعالی وبفضلہ اذان کے درمیان نماز یا دیگر عبادات کرنا جایز ہے ،لیکن تعظیم اذان کے لیے حکم  یہ ہے کہ تلاوت کرتا ہو تو وہ بھی موقوف کردے بہار شریعت میں ہے  جب اَذان ہو، تو اتنی دیر کے لیے سلام کلام اور جواب سلام، تمام اشغال موقوف کر دے یہاں  تک  کہ قرآن مجید کی تلاوت میں  اَذان کی آواز آئے، تو تلاوت موقوف کر دے اور اَذان کو غور سے سُنے اور جواب دے۔ یوہیں  اِقامت میں (بہار شریعت جلد - صفحہ:٤٧٣) (٢)مفتی امجد علی اعظمی رحمت اللہ فرماتے ہیں: دعاء قنوت کا پڑھنا واجب ہے اور اس میں کسی خاص دعا کا پڑھنا ضروری نہیں ،بہتر وہ دعائیں ہیں جو نبی کریم ﷺ سے ثابت ہے اور انکے علاوہ کوئی اور دعا پڑھے جب بھی حرج نہیں (بہر شریعت جلد -١ صفحہ:٦٥٤) لہذا اگر کوئی اور دعا پڑھنا بھی جایز ہے مگر جو احادیث میں وارد ہے وہی پڑھنی چاہیے کہ اس میں سنت و حدیث دونوں پر عمل بھی ہو جائے گا واللہ اعلم ورسولہ مفتی ادارہ ایم جے اکبری قادری حنف...

ایک پیغام ائمہ کے نام

*ایک پیغام ائمہ کرام کے نام* الحمد للہ رب العالمین  والصلوتہُ و السلام علی سید المرسرین اما بعد فاعوذُ باللہ من الشیطان الرجیم   بسم اللہ الرحمن الرحیم ؔ ایک پیغام ائمہ مساجد کے نام  امام کو چاہئے کہ بے خوف ہو کر اللہ عزوجل و رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم قوم کو بتائے اگچہ حق بات کسی کو بری لگے آپ حق بیان کرنے سے پیچھے نہ ہٹے اگرچہ آپ کو نوکری سے نکال دیا جائے رزق کا زمہ اللہ نے لیا ہے حدیث پاک ہے جو علم حاصل کرے گا اللہ اس کی مشکلات آسان فرما دے گا اور اسے وہاں سے رزق عطا فرمائے گا جہاں اس کا گمان بھی نہ ہوگا (جامع بیان ) یہ ہو سکتا ہے کچھ دن آپ کو تکلیف کا سامنا کرنا پڑے مگر آپ حوصلہ بلند رکھیں گے تو پہلے سے بہتر روزی ملے گی میں نے اس حدیث کا نور بارہا دیکھا ہے بہت سی جگہ میرے ساتھ یہ ہوا کہ حق بیان کرنے کی وجہ سے لوگ مخالف ہوئے مگر قسم خدا کی آج تک مجھے کسی ممبر کی حمت نہیں ہوئی کے مجھے کہہ سکے آپ  کو امامت سے ہم ہٹاتے ہے بلک میں نے خود اس جگہ کو چھوڑا ہے اور آج تک جس جگہ سے میں نکلا ہوں وہا کے مسلمان اب بھی مجھے واپس بلانا چاہتے ہیں اور پہلے سے زیادہ ت...