ایک شخص جوان ہے عمر تقریباً 24 سال ہے اسے ایک لڑکی پسند ہے جس سے وہ نکاح کرنا چاہتا ہے اور وہ لڑکی بھی اسے پسند کرتی ہے ،لیکن دونوں کے والدین راضی نہیں تو کیا لڑکا بھاگ کر شادی کر سکتا ہے ؟لڑکے کی حالت ایسی ہے کہ اسے نکاح کی شدت سے خاہش ہے محمد علی -انجار کچھ الجواب وباللہ توفیق شریعتِ مطہرہ نے اسلامی معاشرے کو جنسی بے راہ روی سے بچاکر تسکینِ شہوت کے لیے اور اسے اعلی اَقدار پر استوار کرنے اور صالح معاشرے کی تشکیل کے لیے نکاح کا حلال راستہ متعین کیا ہے، اور نکاح کی صورت میں ہم بستری و جسمانی تعلقات قائم کرنے کو حلال کردیا ہے جب کہ اس کے علاوہ تسکینِ شہوت کے دیگر تمام ذرائع کو حرام قرار دیاہے۔ نیز نکاح چوں کہ تسکینِ شہوت کا حلال ذریعہ ہے اس وجہ سے نکاح کے اعلان کے حکم کے ساتھ ساتھ مساجد میں نکاح کی تقریب منعقد کرنے کی ترغیب بھی دی ہے؛ تاکہ اس حلال و پاکیزہ بندھن سے جڑنے والے افراد پر کسی کو تہمت لگانے کا موقع نہ ملے اور ایک پاکیزہ معاشرہ وجود میں آ سکے جو نسلِ انسانی کی بقا کا ذریعہ ہو۔ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ’’عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَال...