السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ سوال یہ ھےکہ عقد نکاح کےوقت جیسےزیدکانکاح ہندہ کےساتھ کرناتھا اور عمرو کانکاح زینب کےساتھ کرناتھا لیکن بھول کی وجہ سےایجاب وقبول کراتےوقت زیدکانکاح زینب کےساتھ ہوگیا اور عمرو کانکاح ھندہ کےساتھ ہوگیا نکاح ہونےکےبعدپتہ چلاکہ جسطرح والدین نےرشتےطےکئےتھےاس کےبرعکس ہوگیا اب ان کےطلاقیں دلاکرازسرےنونکاح کروایاجائےیانہیں ازروئےشریعت مطہرہ بادلیل جواب تحریر فرماکررھنمائ فرمائیں،جزاک اللہ خیرا کثیرا فی الدارین السائل محمد یعقوب ازخلیفہ کی باؤڑی وعلیکم السلام الجواب وباللہ توفیق صورت مسائلہ میں یہ نکاح ہی نہیں ہوا مفتی امجد علی اعظمی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہے وکیل نے موکلہ کے باپ کے نام میں غلطی کی اور موکلہ کی طرف اشارہ بھی نہ ہوا تو نکاح نہ ہوا یوہیں اگر لڑکی کے نام میں غلطی کرے جب بھی نہ ہوا (بہار شریعت حصہ ہفتم صفہ ۱۷) لہازا نکاح پھر سے کرے واللہ عالم ورسولہ کتبہ ابو احمد ایم جے اکبری