نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

قرآن سے کفر بربادی ہے

القرآن - سورۃ نمبر 2 البقرة آیت نمبر 121 ترجمہ: جن لوگوں کو ہم نے کتاب عنایت کی ہے وہ اس کو (ایسا) پڑھتے ہیں جیسا اسکے پڑھنے کا حق ہے، یہی لوگ اس پر ایمان رکھنے والے ہیں اور جو لوگ اس کو نہیں مانتے وہ خسارہ پانے والے ہیں  ؏

نیکی کا سیلا

القرآن - سورۃ نمبر 2 البقرة آیت نمبر 112 ترجمہ: ہاں جو شخص خدا کے آگے گردن جھکا دے (یعنی ایمان لے آئے) اور وہ نیکو کار بھی ہو تو اس کا صلہ اس کے پروردگار کے پاس ہے اور ایسے لوگوں کو (قیامت کے دن) نہ کسی طرح کا خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے  ؏

اللہ سے بچانے والا کوئی نہیں

القرآن - سورۃ نمبر 2 البقرة آیت نمبر 120 ترجمہ: اور تم سے نہ تو یہودی کبھی خوش ہوں گے اور نہ عیسائی یہاں تک کہ ان کے مذہب کی پیروی اختیار کرلو (ان سے) کہہ دو کہ خدا کی ہدایت (یعنی دین اسلام) ہی ہدایت ہے اور (اے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اگر تم اپنے پاس علم (یعنی وحی خدا) کے آجانے پر بھی ان کی خواہشوں پر چلو گے تو تم کو (عذاب) خدا سے (بچانے والا) نہ کوئی دوست ہوگا نہ کوئی مددگار

تبن صحابہ کی توبہ

القرآن - سورۃ نمبر 9 التوبة آیت نمبر 118 ترجمہ: اور ان تینوں پر بھی جن کا معاملہ ملتوی کیا گیا تھا۔ یہاں تک کہ جب زمین باجود فراخی کے ان پر تنگ ہوگئی اور ان کی جانیں بھی ان پر دوبھر ہوگئیں اور انہوں نے جان لیا کہ خدا (کے ہاتھ) سے خود اس کے سوا کوئی پناہ نہیں۔ پھر خدا نے ان پر مہربانی کی تاکہ توبہ کریں۔ بیشک خدا توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔  ؏

اسلام کے سوا کوئ دین قبول نہیں

القرآن - سورۃ نمبر 3 آل عمران آیت نمبر 85 ترجمہ: اور جو شخص اسلام کے سوا کسی اور دین کا طالب ہوگا وہ اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا اور ایسا شخص آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں ہوگا

مکتب مِیں زکوٰۃ دینا

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ سوال مقامی مدرسہ جس میں علاقائی بچے پڑھتے ہیں اور ایک آدھ گھنٹے پڑھ کر چلے جاتے ہیں ۔ کیا ایسے مدرسے میں زکوٰۃ و فطرہ کی رقم دے سکتے ہیں ؟؟ انور بھائی موربی وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ  الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق  ارشاد باری تعالیٰ ہے: إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ فَرِيضَةً مِّنَ اللّهِ وَاللّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌO ’’زکوٰۃ تو صرف ان لوگوں کے لئے جو محتاج اور نرے نادار (مسکین) ہوں اور جو اس کی تحصیل پر مقرر ہیں اور جن کے دلوں کو اسلام سے الفت دی جائے (اسلام کی طرف مائل کرنا ہو) اور (مملوکوں کی) گردنیں آزاد کرنے میں اور قرض داروں کو اور اللہ کی راہ اور مسافر کو، یہ ٹھہرایا ہوا (مقرر شدہ) ہے اللہ کی طرف سے اور اللہ علم و حکمت والا ہے‘‘۔ (التوبة، 9: 60) اس آیت مبارکہ میں آٹھ مصارفین کا ذکر موجود ہے: فقراء مساکین عاملین زکوٰۃ (زکوٰۃ اکٹھی کر...