نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

ان باپ صالع تھا

القرآن - سورۃ نمبر 18 الكهف آیت نمبر 82 ترجمہ: اور وہ جو دیوار تھی سو وہ دو یتیم لڑکوں کی تھی (جو) شہر میں (رہتے تھے) اور اس کے نیچے ان کا خزانہ (مدفون) تھا اور ان کا باپ ایک نیک بخت آدمی تھا۔ تو تمہارے پروردگار نے چاہا کہ وہ اپنی جوانی کو پہنچ جائیں اور (پھر) اپنا خزانہ نکالیں۔ یہ تمہارے پروردگار کی مہربانی ہے۔ اور یہ کام میں نے اپنی طرف سے نہیں کئے۔ یہ ان باتوں کا راز ہے جن پر تم صبر نہ کرسکے  ؏ فرقان اول صفہ 549

صدقہ ان کے لئے ہے'

القرآن - سورۃ نمبر 2 البقرة آیت نمبر 273 ترجمہ: (اور ہاں تم جو خرچ کرو گے تو) ان حاجتمندوں کے لئے جو خدا کی راہ میں رکے بیٹھے ہیں اور ملک میں کسی طرف جانے کی طاقت نہیں رکھتے (اور مانگنے سے عار رکھتے ہیں) یہاں تک کہ نہ مانگنے کی وجہ سے ناواقف شخص ان کو غنی خیال کرتا ہے اور تم قیافے سے ان کو صاف پہچان لو (کہ حاجتمند ہیں اور شرم کے سبب) لوگوں سے (منہ پھوڑ کر اور) لپٹ کر نہیں مانگ سکتے اور تم جو مال خرچ کرو گے کچھ شک نہیں کہ خدا اس کو جانتا ہے  ؏

اے رسول آپ تمام لوگوں کو درست راہ

القرآن - سورۃ نمبر 2 البقرة آیت نمبر 272 ترجمہ: (اے محمدﷺ) تم ان لوگوں کی ہدایت کے ذمہ دار نہیں ہو بلکہ خدا ہی جس کو چاہتا ہے ہدایت بخشتا ہے۔ اور (مومنو) تم جو مال خرچ کرو گے تو اس کا فائدہ تمہیں کو ہے اور تم جو خرچ کرو گے خدا کی خوشنودی کے لئے کرو گے۔ اور جو مال تم خرچ کرو گے وہ تمہیں پورا پورا دے دیا جائے گا اور تمہارا کچھ نقصان نہیں کیا جائے گا،

عدت وفات منسوخ

القرآن - سورۃ نمبر 2 البقرة آیت نمبر 240 ترجمہ: اور جو لوگ تم میں سے مرجائیں اور عورتیں چھوڑ جائیں وہ اپنی عورتوں کے حق میں وصیت کرجائیں کہ ان کو ایک سال تک خرچ دیا جائے اور گھر سے نہ نکالی جائیں۔ ہاں اگر وہ خود گھر سے نکل جائیں اور اپنے حق میں پسندیدہ کام (یعنی نکاح) کرلیں تو تم پر کچھ گناہ نہیں۔ اور خدا زبردست حکمت والا ہے

عدت وفات

القرآن - سورۃ نمبر 2 البقرة آیت نمبر 234 ترجمہ: اور جو لوگ تم میں سے مرجائیں اور عورتیں چھوڑ جائیں تو عورتیں چار مہینے دس دن اپنے آپ کو روکے رہیں۔ اور جب (یہ) عدت پوری کرچکیں اور اپنے حق میں پسندیدہ کام (یعنی نکاح) کرلیں تو ان پر کچھ گناہ نہیں۔ اور خدا تمہارے سب کاموں سے واقف ہے

کافروں کے دوست شیطان نے

القرآن - سورۃ نمبر 2 البقرة آیت نمبر 257 ترجمہ: جو لوگ ایمان لائے ہیں ان کا دوست خدا ہے کہ اُن کو اندھیرے سے نکال کر روشنی میں لے جاتا ہے اور جو کافر ہیں ان کے دوست شیطان ہیں کہ ان کو روشنی سے نکال کر اندھیرے میں لے جاتے ہیں یہی لوگ اہل دوزخ ہیں کہ اس میں ہمیشہ رہیں گے  ؏

قسم کا کفارہ

قسم کا کفارہ (یعنی جب کوئی شخص اپنی قسم توڑ دے) قرآن مجید میں سورۃ المائدہ (5:89) میں بیان کیا گیا ہے۔ کفارہ درج ذیل میں سے کسی ایک طریقے سے ادا کیا جا سکتا ہے: 1. دس مسکینوں کو کھانا کھلانا – درمیانے درجے کا کھانا جو عام طور پر آپ اپنے گھر میں کھاتے ہیں۔ 2. دس مسکینوں کو کپڑے دینا – ایسا لباس جو عام طور پر پہنا جا سکے۔ 3. ایک غلام آزاد کرنا – آج کے دور میں غلامی نہیں ہے، اس لیے یہ آپشن قابلِ عمل نہیں ہے۔ 4. اگر یہ تینوں کام نہ کر سکے تو تین دن کے روزے رکھنا۔ یہ ضروری ہے کہ کفارہ خلوصِ نیت سے ادا کیا جائے تاکہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہو۔