نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

نابالغ کا نکاح اور طلاق

हिंदी अनुवाद आखिर में है  السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ علماء کرام کی بارگاہ میں ایک سوال ہے کہ نابالغ بچے یا بچی کا نکاح کروا دیتے ہیں اس بچے یا بچی کاایجاب و قبول اس کے والدین کرتے ہیں اس سبب پر کہ وہ منگنی دوسری جگہ نہ دے دیں اب وہ بالغ ہو گئے تو وہ آپس میں راضی نہیں ہوتے ہیں یا بچے اور بچی دونوں یا اس کے ماں باپ اب اس کا نکاح جو ہوا تھا وہ ایجاب و قبول نابالغ تھے تو ان کے ماں باپ نے قبول کیا تھا اب وہ دونوں بالغ ہو گئے تو اب طلاق اس کے والدین دیں گے یا وہ بچہ جو بالغ ہو گیا وہ  دے گا اس کا جواب دینے کی کوشش کریں  ناچیز شفیع محمد باڑمیر وعلیکم السلام ورحمتہ وبرکاتہ  الجواب وباللہ توفیق صورت مسولہ میں نابالغ کا نکاح باپ دادا کا کیا ہوا نکاح نافذ ہو جاتا ہے اور طلاق کا اختیار ان کے والدین کو نہیں ہے بالغ ہونے کے بعد طلاق کا اختیار مرد کو ہے'  قرآن مجید کی روشنی میں طلاق کا اختیار بنیادی طور پر مرد کو دیا گیا ہے۔ اس کی اصل دلیل سورۃ البقرہ کی آیت 229 ہے: > "الطلاق مرتان فإمساك بمعروف أو تسريح بإحسان" ترجمہ: "طلاق (رجعی) دو بار ہے، پھر یا تو معروف طریقے سے ر...

نسبندی کا شرعی حکم

نسبندی کا شرعی حکم روشن تحقیق السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام کہ نس بندی کرانا کیسا ہے جبکہ ڈاکٹر یہ کہے کہ اب یہ عورت مزید بچے پیدا کرے گی، جس سے اسے سخت بیماری پیدا ہونے یا جان کا خطرہ ہے، اور باقی ضبط تولید کے ذرائع سے بھی کبھی خطرہ رہتا ہے، وہ ذرائع فیل ہو جاتے ہیں، اور عورت حاملہ ہو جاتی ہے، اس صورت میں عورت کی مجبوری کو مدنظر رکھتے ہوئے حکم شرعی بیان فرمائیں۔  *سائل: محمد علی باڑمیر*  . وعلیکم السلام ورحمتہ وبرکاتہ  الجواب وباللہ توفیق  نسبندی کی جائز اور ناجائز صورتیں بیان کرتے ہوئے علامہ غلام رسول سعیدی، شرح مسلم جلد سوم میں فرماتے ہیں  1۔ کوئی شخص تنگی رزق کے خوف کی وجہ سے خاندانی منصوبہ بندی (نسبندی کرواتا ہے) اصلًا جائز نہیں ہے، یہ اس لیے کہ حرمت کی علت تنگی رزق کا ہونا قرآن مجید میں مذموم ہے: "لا تقتلوا اولادکم من املاق   (سورہ نمبر 6آیت 151" 2۔ اور کوئی شخص لڑکیوں کی پیدائش سے احتراز کے لیے ضبط تولید کرے، کیونکہ ان کی پرورش میں مشقت اور عار کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور یہ نیت زمانہ جاہلیت کے مشرکین ...

کیا حضور پر جادو کا اثر ہوا تھا

کیا حضور پر جادو کا اثر ہوا تھا حنفی دارالافتا۶ - 01/03/2025  کیا فرماتے ہے مفیان کرام کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کا اثر ہوا تھا اور ہوا تھا تو اس پر صحیح حدیث موجود ہے اور دوسرا سوال یہ ہے کہ صحیح بخاری کی اس حدیث کا کیا جواب ہے جس میں ہے کہ وحی رک گئی تو آپ نے اپنے آپ کو پہاڈ سے گرانا چاہا جواب عنائت فرمائے سائل محمد علی کچھ گجرات  الجواب و باللہ توفیق کسی بھی مسئلے میں قائدہ یہ ہے کہ اس کو قرآن کے سامنے پیش کریں گے اگر قرآن کے خلاف ہے تو اگرچہ حدیث صحیح ہو اس کو قبول نہیں کیا جائے گا آپ پر جادو کا اثر ہوا تھا اس پر جمہور مفسرین نے یہ ہی لکھا ہے تبیان القرآن جلد۔ اول صفہ ۱۰۴۸میں ہے  امام فخر الدین محمد بن عمر رازی متوفی 606  ھ لکھتے ہیں :- جمہور مفسرین نے یہ کہا ہے کہ لبیدبن اعصم یہودی نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر گایرہ گرہوں میں جادو کیا تھا اور اس دھاگے کو ذروان نامی کنوئیں کی تہہ میں ایک پتھر کے نیچے دبا دیا تھا، پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیمار ہوگئے اور تین دن آپ پر سخت گزرے، پھر اس وجہ سے معوذتین نازل ہوئیں اور حضرت جبریل نے آ کر آپ کو ...

کافروں کو ڑھیل دیتے ہیں'

القرآن - سورۃ نمبر 3 آل عمران آیت نمبر 178 ترجمہ: اور کافر لوگ یہ نہ خیال کریں کہ ہم جو ان کو مہلت دیئے جاتے ہیں تو یہ ان کے حق میں اچھا ہے۔ (نہیں بلکہ) ہم ان کو اس لئے مہلت دیتے ہیں کہ اور گناہ کرلیں۔ آخرکار ان کو ذلیل کرنے والا عذاب ہوگا

سود پر سخت عذاب

القرآن - سورۃ نمبر 3 آل عمران آیت نمبر 111 ترجمہ: اور یہ تمہیں خفیف سی تکلیف کے سوا کچھ نقصان نہیں پہنچا سکیں گے اور اگر تم سے لڑیں گے تو پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے پھر ان کو مدد بھی (کہیں سے) نہیں ملے گی القرآن - سورۃ نمبر 3 آل عمران آیت نمبر 131 ترجمہ: اور (دوزخ کی) آگ سے بچو جو کافروں کے لیے تیار کی گئی ہے

تم غیض میں مر جاؤں

القرآن - سورۃ نمبر 3 آل عمران آیت نمبر 119 ترجمہ: دیکھو تم ایسے (صاف دل) لوگ ہو کہ ان لوگوں سے دوستی رکھتے ہو حالانکہ وہ تم سے دوستی نہیں رکھتے اور تم سب کتابوں پر ایمان رکھتے ہو (اور وہ تمہاری کتاب کو نہیں مانتے) اور جب تم سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں ہم ایمان لے آئے اور جب الگ ہوتے ہیں تو تم پر غصے کے سبب انگلیاں کاٹ کاٹ کھاتے ہیں (ان سے) کہہ دو کہ (بدبختو) غصے میں مر جاؤ خدا تمہارے دلوں کی باتوں سے خوب واقف ہے