हिंदी अनुवाद आखिर में है کیا فرماتے ہیں علمائے دین اور مفتیان شرع متین حسب ذیل مسئلے میں صورتحال یہ ہے کہ ایک مسجد کا امام ہے پاںچ وقت امامت کے فرائض انجام دے رہا ہے اور نماز کے علاوہ کسی مجبوری کے تحت دن میں کسی محدود وقت کے لیے پینٹ شرٹ یا کوٹ , کیپ پہن سکتا ہے یا نہیں وقت مذکورہ کے بعد باقی وقت میں اسلامی لباس زیب تن کر لیتا ہے اس کے بارے میں کیا شریعت کا کیا حکم ہے ؟ الجواب و باللہ توفیق پیمٹ شرٹ پہننا فی زمانہ لوگوں میں عام ہو گیا ہے یہ اب کسی کی مشاہبت نہیں رہا لہاذا جائز ہے مگر ایک عالم کو اس سے بچنا چاہے کہ لوگوں میں عالم کو اس طرح کا لباس پہننا عجیب لگتا ہے اور لوگ تعجب کریں گے لباس مستحب کے متعلق قرآن مجید میں لباس کو زینت کے طور پر ذکر کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں سورۃ الاعراف کی آیت نمبر 26 واضح رہنمائی کرتی ہے:یٰبَنِیْٓ اٰدَمَ قَدْ اَنْزَلْنَا عَلَیْکُمْ لِبَاسًا یُّوَارِیْ سَوْاٰتِکُمْ وَرِیْشًا ۚ وَلِبَاسُ التَّقْوٰی ذٰلِکَ خَیْرٌ ۚ ذٰلِکَ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰہِ لَعَلَّھُمْ یَذَّکَّرُوْنَترجمہ: اے آدم کے بیٹو! ہم نے تم پر لبا...