نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

تکبر کرنا جایز نہیں

سوال: "تکبر کرنے والوں کے ساتھ تکبر سے پیش آنا صدقہ ہے" کیا یہ حدیث ہے؟ اگر حدیث ہے تو اس کا کیا مطلب ہے؟پر حاجی خان وارایی  الجواب وباللہ توفیق  آپ نے جو جملہ نقل کیا ہے کہ "تکبر کرنے والوں کے ساتھ تکبر سے پیش آنا صدقہ ہے"، یہ الفاظ بطور حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول نہیں ہیں۔ علماء کرام اور حدیث کے ماہرین کے مطابق، یہ جملہ عوام الناس میں مشہور ضرور ہے، لیکن اسے حدیث نبوی کے طور پر ثابت کرنے کے لیے کوئی معتبر سند یا حوالہ موجود نہیں ہے۔ لہٰذا، اسے حدیث کے طور پر بیان کرنا درست نہیں۔شرعی نقطہ نظر:تکبر (غرور) ایک روحانی بیماری ہے جس کی اسلام میں سخت مذمت کی گئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "لا يدخل الجنة من كان في قلبه مثقال ذرة من كبر" یعنی "وہ شخص جنت میں داخل نہیں ہوگا جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی تکبر ہو۔" (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 4173)  اس حدیث سے واضح ہے کہ تکبر، خواہ وہ کسی کے ساتھ ہو، ایک ناپسندیدہ صفت ہے اور اس سے ہر حال میں بچنا چاہیے۔ اگر کوئی شخص تکبر کا مظاہرہ کرتا ہے، تو اس کے ساتھ تکبر سے پیش آن...

امام بھی انسان ہے ؟

السلام علیکم و رحمۃ اللہ کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان شرع اِس مسئلہ کے بارے میں ایک گام میں مسجد مدرسہ دونوں کی آ مدنی اور خرچہ گام والوں کی طرف سے ایک ساتھ ملا ہوا ہے اب سوال یہ ہے کہ کوئی چیز مسجد میں کام نہیں دے رہی ہے جیسے اے سی پنکھا تو اسے مسجد سے نکال کر امام صاحب کے روم اور مدرسہ میں استعمال کر سکتے ہیں قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں سائل ولی محمد اکبری جامع مسجد آ سپور ضلع ڈوگرپور راجستھان وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ  الجواب و باللہ توفیق  مسجد کی AC امام یا مدرسہ میں لگانا جائز نہیں کہ جو چیز جس مقصد کے لئے وقف ہوتی ہے اسے دوسری جگہ استعمال کرنا منع ہے جیسا کہ فتاوی فقیہ ملت جلد دوم ص ۱۴۴) میں ہے مسجد کا سامان مدرسہ یا کسی اور جگہ لگانا جائز نہیں یہاں تک کہ ایک مسجد کا سامان دوسری مسجد میں نہیں لگا سکتے (بحوالہ فتاوی رضویہ جلد ششم ص ۴۳۸)   سوال جو آمدنی کا زکر ہے اس سے لوگوں کی نیت یہ تھی کہ ہمارے پیسو سے مدرسہ اور مسجد کا کام کیا جائے گا تو مدسہ میں لگانے کی گنجایش ہے مگر امام کے گھر میں لگانے کی اجازت نہیں     البتہ یہ ہوسکتا ہے کہ م...

بکری کا ایک تھن خشک ہو تو قربانی

سوال بکری کے ایک تھن میں دودھ کم آتا ہے اور ایک میں برابر آتا ہے تو کیا اس بکری کی قربانی کر سکتے ہے سائل ظہرالدین کوٹھی گجرات  اگر بکری کے ایک تھن کسی بیماری کی وجہ سے ضائع ہو جائے تو اس کی قربانی جائز نہیں خلاصہ میں ہے ایسے جانور کی قربانی جائز ہونے کا زکر ہے جس کا دودھ بغیر کسی بیماری کے نہیں اترتا اور تتار خانیئ میں ہے شطور کی قربانی جائز نہیں یعنی دو تھنوں میں سے ایک سے دودھ آنا منقطع ہو جائے بہار شریعت میں ہے جس کے تھن خشک ہوں اس کی قربانی ناجائز ہے (حصہ ۱۵ص ۳۴۱) سوال میں ایک تھن میں دودھ کم اترتا ہے کا زکر ہے بلکل خشک نہیں ہے ایسی صورت میں قربانی جائز ہے مگر افضل یہ کہ بلکل بے عیب جانور کی قربانی کرنا چاہے فتاوینوریہ جلد ۳ ص ۴۴۵) میں افضل یہ ہے کہ قربانی کا جانور خوبصورت فربہ اور بے عیب ہو ،،،،،،، معمولی عیب ہو تو قربانی ہو جائے گی اس سلسلے میں فقہائے کرام نے یہ نکتہ بیان فرمایا ہے کہ ایسا عیب جو جو منفعت کو بلکل زائل کر دے یا جمال و زیبائی کو اکثر ختم کر دے قربانی سے مانع ہے مزکورہ سوال کے مطابق اگرچہ قربانی ہو جائے گی مگر مکروہ ہوگی بہتر یہ ہے اس کے بجائے دوسرا جانور قربان...

काला बाल करने वाले लोग

دارुलइफ्ता गुलज़ार-ए-तैय्यबा – गुजरात (भारत) Dār al-Iftā Gulzār-e-Ṭayyibah – Gujarat, India فتویٰ نمبر: GT-KHZ-042 | तारीख़ ए इजरा: 14 ज़िलक़ादा 1446 हि / 13 मई 2025 ╚════════════════════════════════════╝ सवाल: क्या स्याह खिजाब (काले रंग का हेयर डाई) लगाना जायज़ है? अगर किसी को कम उम्र में बीमारी की वजह से बाल सफेद हो जाएं, तो क्या वह खिजाब कर सकता है? और अगर कोई इमाम स्याह खिजाब करता हो तो क्या उसकी इमामत में नमाज़ मुकम्मल होगी? तफ़सील से रहनुमाई फ़रमाएँ। (साइल: वली मुहम्मद अकबरी, आसपुर, ज़िला डूंगरपुर, राजस्थान) जवाब: الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ التوفیق स्याह खिजाब (काला रंग लगाना) शरीअत में हराम और गुनाह-ए-कबीरा है। हज़रत अब्दुल्लाह बिन अब्बास रज़ियल्लाहु अन्हु से रिवायत है कि रसूलुल्लाह صلی اللہ علیہ وسلم ने फ़रमाया: “आख़िरी ज़माने में कुछ लोग होंगे जो अपने बालों को कबूतर के सीने की तरह काले करेंगे, वो जन्नत की ख़ुशबू तक नहीं पाएँगे।” (سنن ابی داؤد: 4212، سنن ابن ماجہ: 3624) और हज़रत अबू बकर रज़ि. के वालिद अबू क़हाफ़ा जब सफेद बालों क...

سیاہ خضاب لگانا

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ سوال: کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ سیاہ خضاب لگانا کیسا ہے؟ اگر کسی کو کم عمری میں بیماری کی وجہ سے بال سفید ہو جائیں تو کیا وہ سیاہ خضاب لگا سکتا ہے؟ اور اگر کوئی امام سیاہ خضاب استعمال کرے تو کیا اس کے پیچھے نماز پڑھنا درست ہے یا نہیں؟ تفصیل کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں۔ السائل: ولی محمد اکبری، آسپور، ضلع ڈونگرپور، راجستھان الجواب بسم اللہ الرحمن الرحیم صورتِ مسئولہ میں واضح رہے کہ شرعاً سیاہ خضاب کا استعمال حرام اور ناجائز ہے۔ اس سلسلہ میں کئی احادیثِ مبارکہ وارد ہوئی ہیں: 1. حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "آخر زمانہ میں کچھ لوگ ہوں گے جو کبوتر کے سینہ کی طرح سیاہ خضاب لگائیں گے، وہ جنت کی خوشبو تک نہ پائیں گے۔" (سنن ابی داؤد: 4212، سنن ابن ماجہ) 2. حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن ابوقحافہ رضی اللہ عنہ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا، ان کے بال سفید گھاس کی طرح تھے، تو آپ نے فرمایا: "انہیں کسی عورت کے پاس ل...

اذان کے تلفظ درست ہونا ضروری ہے

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ السائل: محمد علی عطّاری، موربی (گجرات) آپ کا سوال نہایت عمدہ ہے، اس کا جواب فقہی اصولوں اور تلفظ کے قواعد کی روشنی میں تفصیل سے دیا جا رہا ہے: --- ╔════════════════════════════╗ دارالافتاء گلزارِ طیبہ – گجرات (بھارت) Dār al-Iftā Gulzār-e-Ṭayyibah – Gujarat, India ╚════════════════════════════╝ فتویٰ نمبر: GT-AZN-034 │ تاریخِ اجرا: 14 ذو القعدہ 1446ھ / 13 مئی 2025ء سوال: اذان میں جب "حی علی الصلوٰۃ" اور "حی علی الفلاح" کہا جاتا ہے تو کچھ مؤذن "ی" کو کھینچ کر (لمبا کر کے) پڑھتے ہیں، اور کچھ بغیر کھینچے پڑھتے ہیں۔ اس بارے میں شرعی رہنمائی فرمائیں کہ درست طریقہ کیا ہے؟ --- جواب: "حَیِّ عَلَی الصَّلَاةِ" اور "حَیِّ عَلَی الفَلَاحِ" میں "حَیِّ" کا تلفظ تشديد اور مد (کھنچاؤ) کے ساتھ ہونا چاہیے، کیونکہ: 1. لفظ "حَیِّ" دراصل "حَیّ" سے ہے، جس میں "ی" پر تشدید ہے۔ 2. تشدید کا مطلب ہے کہ حرف کو دو بار کی مقدار میں ادا کیا جائے – یعنی "ی" کو واضح اور مکمل ادا کیا جائے...

निकाह पढ़ाना इमाम का हक़ है?

═══════════════╗ دارالافتاء گلزارِ طیبہ – गुझरात (भारत) Dār al-Iftā Gulzār-e-Ṭayyibah – Gujarat, India ╚════════════════════════════════════╝ फ़तवा नंबर: GT-NKH-031 │ तारीख़ ए इजराः 14 ज़ुलक़अदा 1446 हिजरी / 13 मई 2025 ◆━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━◆ निकाह पढ़ाने का हक़ – शरीअत व समाजी नज़रिया ◆━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━◆ सवाल: क्या निकाह पढ़ाने का हक़ सिर्फ मस्जिद के इमाम को है? अगर कोई और आलिम या नेक मुसलमान पढ़ा दे तो क्या ये इमाम साहब का हक़ छीनना कहलाएगा? जवाब: शरीअत में निकाह पढ़ाने के लिए "इमाम" होना शर्त नहीं है। अगर कोई समझदार, दीनी समझ रखने वाला, बालीग़ और शरीअत के उसूलों को जानने वाला शख़्स (चाहे वो इमाम हो या न हो) निकाह के इजाब-ओ-क़बूल को सही तरीक़े से अंजाम दे, तो निकाह बिलकुल दुरुस्त और जायज़ होगा। लेकिन...! मस्जिद के इमाम को निकाह पढ़ाने में तरजीह (प्राथमिकता) देना ज़्यादा बेहतर और मुनासिब है, क्योंकि: ये इमाम के ओहदे का अदब है, मस्जिद का निज़ाम क़ायम रहता है, और इमाम को एक जायज़ आमदनी मिलती है। अगर कोई दूसरा निकाह पढ़ा दे तो... यह शरीअत की नज़र में इमाम का हक़ मारना नही...