سوال: "تکبر کرنے والوں کے ساتھ تکبر سے پیش آنا صدقہ ہے" کیا یہ حدیث ہے؟ اگر حدیث ہے تو اس کا کیا مطلب ہے؟پر حاجی خان وارایی الجواب وباللہ توفیق آپ نے جو جملہ نقل کیا ہے کہ "تکبر کرنے والوں کے ساتھ تکبر سے پیش آنا صدقہ ہے"، یہ الفاظ بطور حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول نہیں ہیں۔ علماء کرام اور حدیث کے ماہرین کے مطابق، یہ جملہ عوام الناس میں مشہور ضرور ہے، لیکن اسے حدیث نبوی کے طور پر ثابت کرنے کے لیے کوئی معتبر سند یا حوالہ موجود نہیں ہے۔ لہٰذا، اسے حدیث کے طور پر بیان کرنا درست نہیں۔شرعی نقطہ نظر:تکبر (غرور) ایک روحانی بیماری ہے جس کی اسلام میں سخت مذمت کی گئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "لا يدخل الجنة من كان في قلبه مثقال ذرة من كبر" یعنی "وہ شخص جنت میں داخل نہیں ہوگا جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی تکبر ہو۔" (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 4173) اس حدیث سے واضح ہے کہ تکبر، خواہ وہ کسی کے ساتھ ہو، ایک ناپسندیدہ صفت ہے اور اس سے ہر حال میں بچنا چاہیے۔ اگر کوئی شخص تکبر کا مظاہرہ کرتا ہے، تو اس کے ساتھ تکبر سے پیش آن...