نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

کربلا میں پانی بند

*( کربلا میں پانی بند ہونے میدان کربلا ریگستان  اور اس کے راوی و روایت کا تحقیقی جائزہ)* خطیب حضرات عام طورپر یہ بیان کرتے ہیں اور اردو کی عام کتب میں بھی یہ لکھا ہوا کہ کربلا میں ایک بوند بھی پانی نہیں تھا تین دن تک بھوکے پیاسے رہے ، ذرا بھی پانی موجود نہیں تھا خطیب حضرات نے شاید یہ نتیجہ اس روایت سے نکالا یے کے 7 محرم کو پانی پر بہت سخت پہرا لگا دیا گیا تھا تاکہ کوئ پانی نہ لے جا سکے یہ روایت تمام کتب میں موجود ہے ۔ لیکن اس سے یہ تو ثابت نہیں ہوتا کہ پانی موجود ہی نہ ہو۔اسی پر انشاء اللہ میں تحقیقی بحث کروں گا فنقول و باللہ توفیق۔ قارئین کرام ہمیں کسی بھی معتبر کتب میں کہیں نہیں ملا کی ایک بوند بھی پانی نہیں تھا، بلکہ تحقیق کے مطابق پانی موجود تھا اور اتنا زیادا تھا کی امام عالی مقام اور آپ کے ساتھیوں نے اس سے غسل فرمایا  اور یہ بھی مشہور ہے کہ  کربلا بے آب و گیاہ میدان تھا، یہ غیر معتبر بات ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کربلا میں نرکل اور بانس کا جنگل تھا یہ ریگستان نہ تھا۔ یہ میدان دریاۓ فرات  یا اس سے نکلنے والی نہر کا کنارہ تھا۔  قارئین کرام پانی نہ ہونے کی بات لوگوں...

کیا امام حسین نے ہزاروں کو قتل

*(کیا حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے ہزاروں یزیدیوں کو قتل کیا تھا)* کربلا کی بہت سی غیر تحقیقی کہانیوں میں سے ایک اور مبالغہ آمیز کہانی یہ  بیان کی جاتی ہے کہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ  نے دشمن فوج کے ھزاروں بلکہ لاکھوں افراد کو اپنے ہاتھ سے قتل کیا اور یہی دعوی ان کے بعض رفقاء کے متعلق بھی کیا گیا ہے کہ ان میں سے بعض نے سینکڑوں دشمن قتل کئے اور کشتوں کے پشتے لگا دیئے۔  واعظین اس کو خوب زور شور سے بیان کرتے ہیں، ایک مشہور و معروف صاحب نے تو اس تعلق سے بڑا طویل وعظ کیا ہوا ہے، اور تلوار چمکنے وغیرہ نہ جانے کیا کیا انہوں نے ذکر کیا ہے بہر حال امام حسین کے متعلق تو بعض روایتوں میں یہ تعداد دو ہزار اور بعض شیعی روایات میں تین لاکھ تک بھی آئی ہے۔ ان روایات کے مبالغے کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ اگر ہر آدمی کے ساتھ مقابلہ کرنے اور اسے پچھاڑ کر قتل کرنے کے لئےاگر ایک منٹ بھی درکار ہو تو دو ہزار افراد کو قتل کرنے کے لیے دو ہزار منٹ تو چاھیے ہوں گے، یہ تقریبا تینتیس گھنٹے بنتے ہیں۔  جبکہ ابو مخنف کی روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ سانحہ کربلا محض ایک آدھ پہر میں ہو کر ختم ہو...

غیرموعتبر نور العین کتاب

*(نور العین فی مشہد الحسین نہایت ہی غیر معتبر کتاب ہے)* واقعات کربلا بیان کرنے میں نور العین کو معتبر کتاب سمجھا جاتا ہے چونکہ اس کی نسبت امام ابو اسحاق اصفرائینی کی طرف ہے مگر حقیقت یہ ہے کتاب نور العین فی مشہد الحسین نام کی کتاب کو امام ابو اسحاق اصفرائنی کی کتاب کہا جاتا ہے اسی وجہ سے ہمارے بعض علماء نے اپنی اپنی کتب میں نور العین کا حوالہ دیا ہے خطبات محرم میں علامہ مفتی جلال الدین امجدی رحمہ اللہ نے بھی اس کتاب کا حوالہ دیا ہے اسی طرح میرے شہر ہلدوانی کے ایک مفتی صاحب نے اس کتاب کا حوالہ دیا کہ حضرت علی اصغر کے لیے امام عالی مقام نے پانی طلب کیا تھا یہ بات نور العین میں لکھی ہے موصوف کا زعم یہ تھا یہ اہلسنت کی بہت  معتبر کتاب ہے اور موصوف نے مزید رعب ڈالنے کے لیے لکھا امام ابو اسحاق اصفرائینی ثقات میں سے ہیں مگر چونکہ موصوف کی کم علمی تھی کہ اس کتاب کو امام اصفرائینی کی کتاب سمجھ بیٹھے حالانکہ یہ کتاب نہایت ہی اعلی درجہ کی غیر معتبر کتاب ہے نور العین میں اس کے مصنف نے کیا کیا گل کھلائیں ہیں میں اس پر تبصرہ کرتا ہوں نور العین امام ابو اسحاق اصفرائینی کی کتاب نہیں ہے بلکہ یہ کتا...

کیا امام نے علی اصغر کے لیے پانی

*(کیا امام عالی مقام نے حضرت علی اصغر کے لیۓ پانی طلب کیا تھا)* چھے ماہ کے علی اصغر اور ان کے پیاس کا افسانوی قصہ بھی غیر معتبر ھے  ، عموما واعظین کہتے ہیں کہ شہزادہ علی اصغر رضیﷲ عنہ کو امام حسین نے یزیدیوں کے سامنے لے جا کر پانی مانگا یہ پانی مانگنے کا  غیرمعتبر قصہ ہے "خاک کربلا" جیسی کتب میں بغیر حوالے کے درج ہے بلا تحقیق غور و خوض کے عوام الناس میں بیان کیا جاتا ہے، جب کہ یہ واقعہ امام حسین رضی اللہ عنہ کی شان عزیمت کے بالکل خلاف ہے اور ان کی شایان شان قطعاً نہیں ہے،۔ پہلی بات تو یہ ہے حضرت علی اصغر کا نام عبداللہ ہے،، علی اصغر آپ کو کہا جاتا ہے،،  جب پانی اتنی مقدار میں موجود تھا کہ امام عالی مقام اور آپ کے ساتھیوں نے غسل کیا حضرت زینب بے ہوش ہوکر گری تو آپ کے چہرے پر پانی ڈالا گیا تو کیا حضرت عبداللہ یعنی علی اصغر کے  پینے کے لیۓ نہ تھا ؟ کتنی ہی عجیب بات ہے سچ تو یہ ہے امام عالی مقام اس بچہ کو لیکر پانی مانگنے نہیں گۓ تھے ۔، بلکہ آپ اپنے اس بچہ کو پیار کر رہے تھے تو دشمنوں نے تیر مارا جو کے اس بچہ علی اصغر کے آکر لگا جس سے وہ شہید ہو گۓ۔ جی ہاں یہ بات تو شیعو...

حضرت قاسم کی شادی

*(حضرت قاسم ابن حسن کا تعویذ اور کربلا میں شادی)* حضرت قاسم کے بارے میں بعض کتابوں میں یہ لکھا ہوا ہے آپ کو جب میدان جنگ میں جانے کی اجازت نہ ملی تو آپ کے تعویذ بندھا ہوا تھا اس کو کھولا گیا تو اس میں لکھا ہوا تھا ان کو جنگ کے میدان میں جانے دیا جاۓ  اور یہ تعویذ حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے باندھا تھا، حالانکہ یہ بلکل جھوٹ و منگھڑت ہے لوگوں کی بناوٹی کہانی ہے محض افسانہ ہے، صحیح یہ ہے جو کہ شیعوں اور اہلسنت کی معتبر کتب میں لکھا ہے کہ آپ میدان جنگ میں جاتے ہیں اور شہید ہو جاتے ہیں۔ تعویذ وغیرہ کا کوئی ذکر نہیں ہے مقتل ابو مخنف میں بھی صرف شہادت کا ذکر ہے، اور اسی طرح یہ بھی بیان کیا جاتا ہے حضرت قاسم کی شادی کربلا میں امام عالی مقام نے اپنی بیٹی سے کردی تھی حالانکہ  یہ بھی جھوٹ ہے اس کی کوئی حقیقت نہیں بلکہ شیعوں نے بھی اسے غیر معتبر قرار دیا ہے اس کو سب سے پہلے ملا حسین کاشفی نے روضتہ الشہداء میں شادی ہونے کا شوشہ چھوڑا  اس سے پہلے یہ کہیں نہیں ملتا کہ آپ کی شادی ہوئی ہو میدان کربلا میں جلاء العیون میں  مجلسی نے لکھا ہے میں نے اس کو کسی بھی معتبر کتاب میں نہیں پایا اسی...

حضرت سکینہ کے متعلق جھوٹا واقعہ

*{حضرت سکینہ کے متعلق ایک جھوٹا واقعہ }* بعض بازاری چلتی پھرتی غیر معتبر کتابوں میں ایک واقعہ لکھا ہوا ہے، جسے  بعض مقررین حضرات بھی اس واقعہ کو بڑے جوش کے ساتھ بیان بیان کرتے ہیں کہ کر بلا میں عاشوراء کی رات جب تمام اہل بیت قرآن عظیم کی تلاوت میں مشغول و مصروف تھے تو حضرت سکینہ رضی اللہ تعالی عنہا نے قرآن جب پڑھتے ہوئے دیکھا توحضور امام پاک رضی اللہ تعالی عنہ سے عرض کیا مجھے بھی قرآن پاک پڑھا ئیے امام پاک نے فرمایا بیٹی پانی نہیں ہے لہٰذا تیمم کرلو بعد تیمم تعوذ و تسمیہ پڑھا تے ہیں پھر زارو قطار رونے لگے حضرت سکینہ نے رو نے کا سبب پوچھا تو فرمایا بیٹی قرآن شروع کرا دیا ہوں لیکن ختم نہیں کرا سکوں گا، یہ روایت مو ضوع و بے اصل ہے اس سے اہل بیت اطہار پر یہ الزام آتا ہے کہ وہ حضرات قرآن کریم سے اتنے غافل تھے کہ سات سال کی حضرت سکینہ تھی اور ابھی قرآن عظیم شروع پڑھنا نہیں جانتی تھی معاذ اللہ۔ جیسا کہ صد رالافاضل علامہ سید نعیم الدین مراد آبادی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ اُس وقت آپ کی عمر سات سال کی تھی۔  (سوا نح کر بلا ص ۸۷) فقیر کا ایمان تو یہ کہتا ہے کہ اس وقت حضرت سکینہ ...

حضرت فاطمہ صغریٰ کا افسانوی قصہ

*(حضرت فاطمہ صغری کا افسانوی قصہ)* جہاں واقعہ کربلا میں کثیر موضوع روایات ملادی گئیں ہیں انہیں میں سے  ایک واقعہ فاطمہ صغریٰ کا بیان کیا جاتا ہے جو کہ بے اصل منگھڑت ہے ،واقعہ اس طرح بیان کیا جاتا ہے امام عالی مقام جب مدینہ شریف سے روانہ ہوۓ تو اپنی بیٹی فاطمہ صغریٰ کو اکیلا چھوڑ دیا مکہ مکرمہ پھر وہاں سے کربلا تشریف لے گۓ۔  ادھر فاطمہ صغریٰ تنہا اور بیمار تھی اپنے بابا کے انتظار میں روتی رہتی پھر لکھنے والوں نے اسے بہت دردناک بناکر لکھ ڈالا جس کا مقصد رلانا دھلانا تھا پورا واقعہ خاک کربلا میں دیکھا جا سکتا ہے میں اس کو یہاں ذکر نہیں کرتا، واضح رہے خاک کربلا نہایت ہی درجہ کی غیر معتبر کتاب ہے، یہ واقعہ محض بے اصل اور جھوٹ ہے کیوں کہ حضرت فاطمہ صغریٰ میدان کربلا میں موجود تھی اور شیعہ و اہلسنت کی کتب میں یہ مذکور ہے، اول تو امام عالی مقام کی اولاد کی تعداد 6 بتائی گئ ہے شیعہ سنی دونوں کے یہاں چار لڑکے اور دو لڑکیاں کی تعداد ہے۔منتخب التاریخ میں ہے امام عالی مقام کی چھ اولاد تھیں چار لڑکے اور دو لڑکیاں، علی بن حسین  اکبر، علی بن حسین اصغر یہ دونوں کربلا میں شہید ہوۓ تھے۔، جع...