السلام علیکم حضرت صاحب آج کل عوام کو کوئی شریعت کا مسئلہ بتایا جاتا ہے تو عوام بحث اور جھگڑا کرنا شروع کر دیتی ہے- جیسے تعزیہ داری وغیرہ- اس کا آسان حل ہو تو بتا دیجیئے ابراھیم خان، راجستھان، انڈیا الجواب وباللہ التوفیق: وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ اگر عوام کو کوئی شرعی مسئلہ بتایا جائے اور وہ بحث و جھگڑا شروع کر دیں تو ایسے موقع پر صبر، حکمت اور نرمی اختیار کرنی چاہیے، کیونکہ شریعت نے بے فائدہ جھگڑوں اور کج بحثی سے منع فرمایا ہے۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: اُدْعُ اِلٰی سَبِیْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ ترجمہ: "اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ بلاؤ اور ان سے بہترین طریقے سے گفتگو کرو۔" (سورۃ النحل، آیت: 125) اسی طرح اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: وَاِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا ترجمہ: "اور جب جاہل ان سے مخاطب ہوتے ہیں تو وہ سلامتی کی بات کہتے ہیں۔" (سورۃ الفرقان، آیت: 63) احادیثِ مبارکہ میں بھی جھگڑے اور بے فائدہ بحث سے سختی کے ساتھ منع فرمایا گی...