السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان کرام اس مسئلہ میں کہ ایک مسجد میں دو امام ہیں ایک امام صاحب فجر میں کتاب پڑھنے کے بعد قبلہ کی داہنے طرف قعدہ میں بیٹھ کر دعا کرتےہیں،دوسرے امام صاحب کتاب پڑھنے کے بعد مصلیوں کی طرف منھ کرکے اور دونوں پیر بیچھاکر عام حالت میں جس طرح بیٹھتے ہیں اس طرح بیٹھ کر دعا کرتے ہیں،اب رہا مسئلہ یہ کہ ان دونوں میں سنت طریقہ کونسا ہے؟اور کس طرف اور کس طرح بیٹھ کردعا کرنا چاہئے؟اور کونسا طریقہ صحیحی ہے؟کیا دونوں کا طریقے صحیحی ہیں؟ جواب عنایت کریں عین نوازش ہوگی. فقط والسلام .عارف اللہ قادری رضوی.انڈیا وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق سیدی اعلیٰ حضرت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ ارشاد فرماتے ہیں :’’بعدِ سلام (امام کا )قبلہ رو بیٹھا رہنا ہر نماز میں مکروہ ہے ، شمال و جنوب و مشرق میں مختار ہے،مگر جب کوئی مسبوق اس کے محاذات میں اگرچہ اخیر صف میں نماز پڑھ رہا ہو ،تو مشرق کو یعنی جانبِ مقتدیان منہ نہ کرے ، بہر حال پھرنا مطلو...