نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

غیر مسلم گوشت دے

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں؟

ایک کمپنی شریعتِ مطہرہ کے مطابق کسی حلال جانور کو ذبح کرتی ہے، پھر اس کا گوشت اچھی طرح پیک (Seal Pack) کر کے گاڑی میں لوڈ کر دیتی ہے تاکہ اسے مقررہ مقام تک پہنچایا جا سکے۔ لیکن گاڑی کا ڈرائیور غیر مسلم (کافر) ہوتا ہے، جو صرف سامان کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانے کا کام کرتا ہے۔

بعض حضرات یہ اشکال پیش کرتے ہیں کہ فقہِ اسلامی میں یہ مسئلہ مذکور ہے کہ اگر آدمی اپنے ہاتھ سے ذبح کیا ہوا جانور کافر کے حوالے کر دے اور وہ اس کی نظر سے اوجھل ہو جائے تو اس کے کھانے کی ممانعت بیان کی گئی ہے۔

لہٰذا دریافت طلب امر یہ ہے کہ:

کیا مذکورہ صورت میں، جبکہ جانور شرعی طریقے سے ذبح کیا گیا ہو، گوشت پیک اور سیل بند ہو، اور کافر صرف بطور ڈرائیور یا ٹرانسپورٹر اسے ایک مقام سے دوسرے مقام تک پہنچا رہا ہو، تو اس گوشت کا استعمال جائز ہے یا نہیں؟

نیز فقہائے احناف کی معتبر کتب، مثلاً فتاویٰ ہندیہ، رد المحتار، بدائع الصنائع، البحر الرائق، فتاویٰ رضویہ وغیرہ کی اصل عبارت، جلد و صفحہ کے ساتھ مدلل و مفصل جواب عنایت فرمایا جائے۔

سائل:
کے۔ ایم۔ ankanerw
الجواب وباللہ توفیق 
تفصیل کے مطابق پوچھی گئی صورت کا جواب یہ ہے کہ خریدنااوربیچنایہ معاملات سے تعلق رکھتے ہیں ،دیانات سے تعلق نہیں رکھتے ۔ لہذاکافرنوکرکوگوشت لینے بھیجااوروہ آکرکہے کہ مسلمان سے گوشت خریدکرلایاہوں اورقرائن کی رو سے اس کافرکی اس بات پر شک نہ ہوتا ہو بلکہ غالب گمان اس کے سچاہونے کاہوتواس کی خبرمقبول ہے اوراب اس کے ضمن میں حلت بھی ثابت ہوجائے گی ۔

   فتاوی رضویہ میں ہے” اگر قرائن کی رو سے اس کافر کے اس قول میں شک پیدانہ ہو، ظن غالب اس کے صدق ہی کاہو، تو مسلمان کے لئے اس ذبیحہ کے کھانے میں کوئی حرج نہیں کہ ہدیہ لانا از قبیل معاملات ہے اور معاملات میں کافر کی بات مقبول، او ر جب یہ مان لیا گیا کہ یہ ذبیحہ فلاں مسلم کا بھیجا ہوا ہے، تو اس کے ضمن میں حلت بھی مسلم ہوگئی، اگر چہ ابتداء حلت، حرمت، طہارت، نجاست وغیرہا امور خالصہ دینیہ میں کافرکا قول مقبول نہیں۔(فتاوی رضویہ،ج 20،ص 286،رضا فاؤنڈیشن،لاہور)

   بہارشریعت میں ہے "اپنے نوکر یا غلام کو گوشت لانے کے لیے بھیجا، اگرچہ یہ مجوسی یا ہندو ہو وہ گوشت لایا اور کہتا ہے کہ مسلمان یا کتابی سے خرید کر لایا ہوں تو یہ گوشت کھایا جاسکتا ہے اور اگر اس نے آ کریہ کہا کہ مشرک مثلاً مجوسی یا ہندو سے خرید کر لایا ہوں تو اس گوشت کا کھانا حرام ہے کہ خریدنا بیچنا معاملات میں ہے اور معاملات میں کافر کی خبر معتبر ہے، اگرچہ حلَّت و حرمت دِیانات میں سے ہیں اور دیانات میں کافر کی خبر نامقبول ہے، مگر چونکہ اصل خبر خریدنے کی ہے اور حلت و حرمت اس مقام پر ضمنی چیزہے، لہٰذا جب وہ خبر معتبر ہوئی تو ضمناًیہ بھی ثابت ہوجائے گی اور اصل خبر حلت و حرمت کی ہوتی تو نامعتبر ہوتی۔"(بہار شریعت،ج 3،حصہ 16،ص 398،مکتبۃ المدینہ) واللہ اعلم بالصواب کتبہ ابو احمد ایم جے اکبری دارالافتاء گلزار طیبہ

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

حربی سے سود لینے کا حکم روشن تحقیق

حربی سے سود لینے کا حکم ؟ دارالافتاء گلزارِ طیبہ کی یہ علمی تحقیق نہایت دقیق، جامع اور بصیرت افروز ہے۔ اس میں جہاں امام ابو حنیفہؒ کے قول کا صحیح مفہوم واضح کیا گیا ہے، وہیں اس کے غلط استعمالات اور اس کے دینی، سماجی و بین الاقوامی مضمرات پر بھی مدلل کلام کیا گیا ہے۔ علمی و ادبی تاثرات: 1. محققانہ اسلوب: تحقیق کی بنیاد قرآنی آیات، صحیح احادیث اور فقہاء کی معتبر تشریحات پر رکھی گئی ہے۔ علامہ ابن قدامہ، علامہ سعیدی، امام ابن ہمام، امام شافعی، سرخسی وغیرہ جیسے جلیل القدر علماء کے اقوال سے مزین یہ رسالہ اسلوبِ تحقیق کا عمدہ نمونہ ہے۔ 2. فقہی توازن و اعتدال: تحقیق میں نہ صرف مختلف اقوال کا ذکر کیا گیا بلکہ ان کا تجزیہ بھی علمی انداز میں کیا گیا ہے، جو قاری کو یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ امام ابو حنیفہؒ کا اصل مدعا کیا تھا، اور بعد کے علماء نے ان کے قول کو کس حد تک محدود کیا ہے۔ 3. دورِ حاضر کے تقاضے: یہ تحقیق صرف نصوص کی بحث نہیں، بلکہ موجودہ حالات کے تناظر میں ایک عملی رہنمائی بھی ہے۔ خاص طور پر سوشل میڈیا کے دور میں فتاویٰ کے غلط استعمال، اسلام کے بارے میں پھیلنے والی بدگمانیوں اور ہندوست...

نسبندی کا شرعی حکم

نسبندی کا شرعی حکم روشن تحقیق السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام کہ نس بندی کرانا کیسا ہے جبکہ ڈاکٹر یہ کہے کہ اب یہ عورت مزید بچے پیدا کرے گی، جس سے اسے سخت بیماری پیدا ہونے یا جان کا خطرہ ہے، اور باقی ضبط تولید کے ذرائع سے بھی کبھی خطرہ رہتا ہے، وہ ذرائع فیل ہو جاتے ہیں، اور عورت حاملہ ہو جاتی ہے، اس صورت میں عورت کی مجبوری کو مدنظر رکھتے ہوئے حکم شرعی بیان فرمائیں۔  *سائل: محمد علی باڑمیر*  . وعلیکم السلام ورحمتہ وبرکاتہ  الجواب وباللہ توفیق  نسبندی کی جائز اور ناجائز صورتیں بیان کرتے ہوئے علامہ غلام رسول سعیدی، شرح مسلم جلد سوم میں فرماتے ہیں  1۔ کوئی شخص تنگی رزق کے خوف کی وجہ سے خاندانی منصوبہ بندی (نسبندی کرواتا ہے) اصلًا جائز نہیں ہے، یہ اس لیے کہ حرمت کی علت تنگی رزق کا ہونا قرآن مجید میں مذموم ہے: "لا تقتلوا اولادکم من املاق   (سورہ نمبر 6آیت 151" 2۔ اور کوئی شخص لڑکیوں کی پیدائش سے احتراز کے لیے ضبط تولید کرے، کیونکہ ان کی پرورش میں مشقت اور عار کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور یہ نیت زمانہ جاہلیت کے مشرکین ...

کمیشن لینا कमिशन लेना हिंदी अनुवाद आखिर में

हिंदी अनुवाद आखिर में है  کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان شرع کے ایک عالم صاحب جو کہ امامت کرتے ہیں ساتھ میں ان کا کاروبار گاڑیوں کے لین دین کا جس میں دو پارٹیوں سے سودا کرواتے ہیں جس میں ان کی ذمہ داری رہتی ہے گاڑیوں کے کاغذ وغیرہ کسی میں فولڈ ہوگا تو گارنٹی ان کی رہتی ہے جس کی وجہ سے کبھی نقصان بھی ہوتا ہے کبھی فائدہ مہینہ دو مہینہ کے بعد جب کاغذ وغیرہ نام پر ہو جاتے ہیں تب 5000/10000 جو کمیشن طے ہوتا ہے وہ ملتا ہے ابھی کوئی شخص بولتا ہے کے کمیشن کا دھندا کرنے والے کے پیچھے نماز نہیں ہوتی قرآن و حدیث کی روشنی میں مدلل جواب عنایت فرمائیں سائل قاری غلام رسول ضیائی   کوشل کوٹ ضلع بانسواڑہ راجستھان ُ الجواب و بللہ توفیق    شرعی ضابطے پورے کرتے ہوئے کمیشن کے  ذریعے روزی کمانے میں شرعاً کوئی ممانعت نہیں  ہے، کہ کمیشن یا بروکری وہ ذریعۂ آمدنی ہے جس میں اپنی محنت کے ذریعے ایک سروس دی جاتی ہے اور یہ طریقۂ آمدنی آج کا نہیں بلکہ  صدیوں سے رائج ہے جس کو ہر دور کے علماء نے جائز ہی کہا ۔  بروکر کی اجرت (کمیشن): بروکر کو "اجیر خاص" یا "وکیل" سمجھا جات...