کیا عالمِ دین ہونے کے لیے سند یافتہ ہونا ضروری ہے؟ بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ رب العالمین، والصلوٰۃ والسلام علی سید المرسلین، وعلی آلہ وأصحابہ أجمعین۔ آج کل بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ جس کے پاس کسی مدرسے کی سند موجود ہو، وہی عالمِ دین ہے، اور جس کے پاس سند نہ ہو وہ عالم نہیں، خواہ اس کے پاس قرآن، حدیث اور فقہ کا وافر علم ہی کیوں نہ ہو۔ دوسری طرف کچھ لوگ سند کی اتنی نفی کرتے ہیں کہ باقاعدہ دینی تعلیم کی اہمیت ہی ختم کر دیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ دونوں انتہائیں درست نہیں۔ عالم ہونے کا اصل معیار اسلام میں اصل معیار علم ہے، نہ کہ صرف ایک کاغذ کی سند۔ سند اگرچہ علمی قابلیت کی ایک شہادت ہے، لیکن علم کی جگہ نہیں لے سکتی۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "عالم کی تعریف یہ ہے کہ عقائد سے پورے طور پر آگاہ ہو... اور اپنی ضروریات کو کتاب سے نکال سکے... علم کتابوں کے مطالعہ سے اور علماء سے سن سن کر بھی حاصل ہوتا ہے۔" (احکامِ شریعت، حصہ ۲، ص ۲۳۱) تشریح اس عبارت سے معلوم ہوا کہ عالم وہ ہے جس کے پاس ایسا پختہ علم ہو کہ وہ دینی مسائل کو سمجھنے اور معتبر کتابوں...