نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

تزکرہ ‏حضرت ‏امام ‏حسن ‏رضی ‏اللہ ‏عنہ

حضرتِ سیّدہ فاطمۃُالزّہراء  رضیَ اللہُ تعالٰی عنہَا  کے گلشن کے مہکتے پھول،اپنے نانا جان ،رحمتِ عالمیان  صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسلَّم  کی آنکھوں کے نور ، راکبِ دوشِ مصطفےٰ (مصطفےٰ جانِ رحمت  صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسلَّم  کے مبارک کندھوں پر سواری کرنے والے)، سردارِ امّت، حضرت سیّدُنا  امام حَسَن مجتبیٰ  رضیَ اللہُ تعالٰی عنہُ  کی ولادتِ باسعادت  15رمضان المبارک 3ہجری  کو مدینہ طیبہ میں ہوئی۔                                             (البدايۃوالنہایہ،  5/519) نام،القابات اورکنیت:آپ  رضیَ اللہُ تعالٰی عنہُ  کا نام حسن کنیت ”ابو محمد“ اور لقب ”سبطِ رسول اللہ“(رَسُوۡلُ اللہ  صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسلَّم  کے نَواسے)اور”رَیْحَانَۃُ الرَّسُوْل“(رَسُوۡلُ اللہ  صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسلَّم  کے پھول)ہے۔(تاریخ الخلفاء، ص149) مبارك تحنیک (گھُٹ...

کرامات ‏حضرت ‏علی ‏رضی ‏اللہ ‏عنہ

امیرالمؤ منین حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کاشانہ خلافت سے کچھ دور ایک مسجد کے پہلو میں دومیاں بیوی رات بھر جھگڑا کرتے رہے ۔ صبح کوامیرالمؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دونوں کو بلا کر جھگڑے کا سبب دریافت فرمایاتو شوہر نے عرض کیا ’’اے امیر المؤمنیںؓ میں کیا کروں ؟نکاح کے بعد مجھے اس عورت سے بے انتہا نفرت ہوگئی ہے ،میرا رویہ دیکھ کر بیوی مجھ سے جھگڑا کرنے لگی، پھر بات بڑھ گئی اوررات بھر لڑائی ہوتی رہی امیرالمؤ منین حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تمام حاضرین دربارکوباہر نکال دیا اور عورت سے فرمایا ’’ دیکھ میں تجھ سے جو سوال کروں اس کا سچ سچ جواب دینا‘‘ پھرآپؓ نے فرمایا’’ اے عورت! تیرا نام یہ ہے ؟ تیرے باپ کا نام یہ ہے؟‘‘ عورت حیران ہوئی کہ امیرالمؤ منین حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ سب کیسے معلوم ہوا حالانکہ اس نے بتایا بھی نہیں۔ بولی’’بالکل ٹھیک آپ نے بتایاہے یا امیر المومینینؓ ‘‘۔ پھرآپ نے فرمایا ’’ اے عورت تو یاد کر کہ تو زناکاری سے حاملہ ہوگئی تھی اورایک مدت تک تو اورتیری ماں اس حمل کو چھپاتی رہی۔ جب دردزہ شروع ہوا تو تیری ماں تجھے اس گھر سے باہر لے گئی اور جب بچہ ...

سیرت ‏حضرت ‏علی ‏رضی ‏اللہ ‏عنہ

حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ عنوان: رسول اللہﷺکے جلیل القدرصحابی ٗخلیفۂ چہارم امیرالمؤمنین حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کاتعلق مکہ میں قبیلۂ قریش کے مشہوراورمعززترین خاندان’’بنوہاشم‘‘سے تھا، دوسری ہی پشت میں عبدالمطلب پرسلسلۂ نسب رسول اللہ ﷺ کے نسب سے جاملتاہے، لہٰذا رسول اللہ ﷺ ٗ نیزحضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہٗ دونوں کے داداایک ہی تھے،یعنی ’’عبدالمطلب‘‘۔ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی پیدائش مکہ شہرمیں رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے دس برس قبل ہوئی تھی۔آپؓ ابوطالب کے بیٹے تھے،جوکہ رسول اللہ ﷺ کے مشفق ومہربان چچابھی تھے اورسرپرست بھی ، چھ سال کی عمرمیں جب رسول اللہ ﷺ کی والدہ آمنہ بنت وہب کاانتقال ہوگیاتھا، تب آپؐ اپنے داداعبدالمطلب کی کفالت میں آگئے تھے ، اور پھر دوسال بعدجب داداکاانتقال ہوا، تب آپؐ داداکی وصیت کے مطابق اپنے چچاابوطالب کی کفالت میں آگئے تھے ،اُس وقت آپؐ کی عمرمبارک آٹھ سال تھی ،ابوطالب نے تادمِ زیست آپؐ کی کفالت وحفاظت اورسرپرستی وخبرگیری کافریضہ بحسن وخوبی انجام دیاتھا۔ ابوطالب کے چاربیٹے تھے:طالب ، عقیل ، جعفر،اورعلی،جبکہ دوبیٹ...

سیرت ‏حضرت ‏عشمان ‏غنی ‏رضی ‏اللہ ‏عنہ

الحمدللہ رب العالمین والصلوتہ والسلام علی سید المرسلین اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ عنوان: رسول اللہﷺکے جلیل القدرصحابی ٗخلیفۂ سوم امیرالمؤمنین ذوالنورین حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی ولادت مکہ میں رسول اللہ ﷺ کی ولادت باسعادت کے چھ سال بعدہوئی،قبیلۂ قریش کے مشہورخاندان ’’بنوامیہ ‘‘ سے تعلق تھا،سلسلۂ نسب پانچویں پشت میں عبدمناف پررسول اللہ ﷺ کے نسب سے جاملتاہے،مزیدیہ کہ ان کی نانی ’’اُم حکیم‘‘رسول اللہ ﷺ کے والدگرامی جناب عبداللہ کی جڑواں بہن تھیں ۔ ٭حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی زندگی زمانۂ جاہلیت میں بھی انتہائی شریفانہ تھی جس کی وجہ سے قبیلۂ قریش میں نیزتمام شہرمکہ میں انہیں انتہائی عزت واحترام کی نگاہ سے دیکھاجاتاتھا،اُس دورمیں جب ہرکوئی لہوولعب کادلدادہ اورشراب کاازحدرسیا تھا… مگرایسے میں بھی حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کادامن ہمیشہ لہوولعب سے پاک رہا، اوران کے لب جامِ شراب سے ہمیشہ ناآشنارہے۔ ٭مکہ شہرمیں دینِ اسلام کاسورج طلوع ہونے سے قبل ہی حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی حضرت ابو...

کرامات ‏فاروق ‏اعظم

[کرامات فاروق اعظم  : قبروالوں سے گفتگو : امیرالمؤمنین حضرت عمرفاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک مرتبہ ایک نوجوان صالح کی قبرپرتشریف لے گئے اور فرمایا کہ اے فلاں! اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے کہ ’’وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ جَنَّتَانْ‘‘ یعنی جوشخص اپنے رب کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرگیا اس کے لئے دوجنتیں ہیں۔ اے نوجوان! بتا تیرا قبر میں کیا حال ہے؟ اُس نوجوان صالح نے قبر کے اندر سے آپ کا نام لے کر پکارا۔ اور بہ آواز بلند دومرتبہ جواب دیا کہ میرے رب نے یہ دونوں جنتیں مجھے عطا فرمادی ہیں۔ مدینہ کی آواز نہاوند تک : امیرالمؤمنین حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے حضرت ساریہ رضی اللہ عنہ کو ایک لشکر کا سپہ سالار بناکر نہاوند کی سرزمین میں جہاد کے لئے روانہ فرمایا۔ آپ جہاد میں مصروف تھے کہ ایک دن حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مسجدِنبوی کے منبرپر خطبہ پڑھتے ہوئے ناگہاں یہ ارشاد فرمایا کہ ’’یاساریۃ الجبل‘‘ یعنی اے ساریہ! پہاڑ کی طرف اپنی پیٹھ کرلو۔ حاضرینِ مسجد حیران رہ گئے کہ حضرت ساریہ تو سرزمین نہاوند میں مصروفِ جہاد ہیں اور مدینہ منورہ سے سینکڑوں میل کی دوری پرہیں۔ آج امیرالمؤم...

شان ‏فاروق ‏اعظم

شان فاروق اعظم  سیدنا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی شانِ رفیعہ میں چند فرامینِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم پیش کرتا ہوں ۔  ۱:-نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ: ’’اے ابن خطاب !اس ذات پاک کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، جس راستے پہ آپ کو چلتا ہواشیطان پالیتا ہے وہ اس راستہ سے ہٹ جاتا ہے، وہ راستہ چھوڑ کر دوسراراستہ اختیار کرتا ہے ۔‘‘ (صحیح بخاری) ۲:-صحیح بخاری میں روایت ہے کہ :’’حضور پاک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے حالتِ خواب میں دودھ پیا، یہاں تک کہ میں اس سے سیر ہوگیا اور اس کی سیرابی کے آثار میرے ناخنوں میں نمایاں ہونے لگے، پھر میں نے وہ دودھ عمرؓ کو دے دیا، اصحابِ رسولؓ نے پوچھا: یارسول اللہ! اس خواب کی تعبیر کیا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’علم‘‘۔ ۳:-اسی طرح امام بخاری ؒنے ایک اور روایت بھی اپنی صحیح میںدرج کی ہے کہ : ’’ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کویہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ: میں نیند میں تھا، میں نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ میرے سامنے پیش کیے جارہے ہیں اور انہوںنے قمیصیں پہنی ہ...