نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

پرشاد لینا ؟

کیا فرماتے ہے مفتیان کرام کہ کفار کے بتوں پر چڑھائی گئی مٹھائی کھانا کیسا ہے کبھی کھبی غیر مسلم پڑوسی یہ چیزیں دیتے ہے تو لینا کیسا ہے ہمارے یہاں کے مولانا نے کہا کہ حرام ہے  حالات زمانہ کے مدنظر جواب عطا فرمائیں سائل توفیق ڈھسا  الجواب و باللہ توفیق بتوں پر چڑائی ہوئی مٹھائی حلال ہے مگر نہ لینا بہتر ہے مفتی امجد علی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہے جو مٹھائی وغیرہ بتوں پر چڑھاتے ہیں اگرچہ وہ حرام نہیں ہو جاتی تاہم اس سے اجتناب اولی (یعنی بچنا بہتر ) کہ وہ اسے تبرک سمجھ کر تقسیم کرتے ہیں اور بت پر چڑھنے کے بعد کوئی چیز تبرک نہیں ہو سکتی (فتاوی امجدیہ جلد 4 صفہ 59)  اور( فتاوی مرکز تربیت افتاء جلد 2 صفہ 80 ) میں ہے ہندوں کی ایسی مٹھائی جو دیوتاؤں پر چڑھائی جاتی ہے اس کا لینا جائز ہے مگر اجتناب بہتر ہے  امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہے حلال ہے مگر احتراز چاہے نسبت خباشت کی وجہ سے ( فتاوی رضویہ جلد 21 صفہ 606) مولانا صاحب نے غلط کہا ہے حرام کہنے کے لئے دلیل شرعی ہونی چاہے بغیر کوئی دلیل کے حرام کہنا گناہ ہے حدیث میں جو بے علم فتوی دے اس پر آسمان و زمین کے فرشتوں کی لعنت...

یا محمد کہنا کیسا؟

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ جی مفتی صاحب آپ سے عرض کہ یا محمد پکارنا کیسا ہے وعلکیم السلام الجواب و باللہ توفیق  حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا نام پکارنا بعض علما۶ کرام نے منع لکھا ہے  👇👇👇 شارح بخاری حضرت مفتی شریف الحق امجدی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:یا محمد کے معنی ہے اے محمد یعنی یہ کہنے والا حضور اقدس ﷺ کو ان کا نام لے کر پکار رہا ہے -اس میں حضور ﷺ کی بے ادبی ہے -جیسے ماں باپ کو انکا نام لیکر پکارنا بے ادبی ہے -کوئی لڑکا اگر اپنے باپ کو اسکا نام لے کر پکارے تو وہ گستاخ سمجھا جاۓگا باپ کو پکارا جاتا ہے تو نام نہیں لیا جاتا بلکہ ابا یا بابا کہ کر پکارا جاتا ہے جو ان کا منصب ہے ایسے ہی حضور اقدس ﷺ کو نام لیکر پکارنا اور یا محمد کہنا حضور کی بے ادبی ہے اگر حضور اقدس ﷺ کو پکارنا ہے تو انکا منصب ذکر کرکے پکارو یعنی یا نبی اللہ،یا حبیب اللہ،یا رسول اللہ کہ کر پکارو اللہ پاک  سورہ نور آیت نمبر -٦٣ میں ارشاد فرماتا ہے- لَا تَجْعَلُوْا دُعَآءَ الرَّسُوْلِ بَیْنَكُمْ كَدُعَآءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًاؕ ترجمہ کنزالعرفان:(اے لوگو!) رسول کے پکارنے کو آپس میں ایسا نہ بنالو جیسے تم می...

حضور کو یا محمد کہنا؟

جی مفتی صاحب آپ سے عرض کہ یا محمد پکارنا کیسا ہے الجواب باسمہ تعالی وبفضلہ یا محمد پکارنا جائز نہیں کہ اس میں پیارے آقا ﷺ کی شان میں بے ادبی کا پہلو ہے  جیسا کہ  شارح بخاری حضرت مفتی شریف الحق امجدی رحمت اللہ فرماتے ہیں:یا محمد کے معنی ہے اے محمد یعنی یہ کہنے والا حضور اقدس ﷺ کو ان کا نام لے کر پکار رہا ہے -اس میں حضور ﷺ کی بے ادبی ہے -جیسے ماں باپ کو انکا نام لیکر پکارنا بے ادبی ہے -کوئی لڑکا اگر اپنے باپ کو اسکا نام لے کر پکارے تو وہ گستاخ سمجھا جاۓگا باپ کو پکارا جاتا ہے تو نام نہیں لیا جاتا بلکہ ابا یا بابا کہ کر پکارا جاتا ہے جو ان کا منصب ہے ایسے ہی حضور اقدس ﷺ کو نام لیکر پکارنا اور یا محمد کہنا حضور کی بے ادبی ہے اگر حضور اقدس ﷺ کو پکارنا ہے تو انکا منصب ذکر کرکے پکارو یعنی یا نبی اللہ،یا حبیب اللہ،یا رسول اللہ کہ کر پکارو اللہ پاک  سورہ نور آیت نمبر -٦٣ میں ارشاد فرماتا ہے- لَا تَجْعَلُوْا دُعَآءَ الرَّسُوْلِ بَیْنَكُمْ كَدُعَآءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًاؕ ترجمہ کنزالعرفان:(اے لوگو!) رسول کے پکارنے کو آپس میں ایسا نہ بنالو جیسے تم میں سے کوئی دوسرے کو پکارتا ہے(سورہ نور...

حاضہ عورت سے مباشرت

حیض کی حالت میں عورت کو کپڑے کے اوپر سے فائدہ اٹھانا کیسا ؟ الجواب باسمہ تعالی وبفضلہ  اگر کپڑے ایسے ہے جس سے بدن کی گرمی محسوس نہیں ہوتی تو اس طرح عورت سے نفع اٹھانا جائز ہے  مفتی امجد علی اعظمی رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں: اس حالت میں ناف سے گھٹنے تک عورت کے بدن سے مرد کا اپنے کسی عُضْوْ سے چھونا جائز نہیں جب کہ کپڑا وغیرہ حائل نہ ہو شَہوت سے ہویا بے شَہوت اور اگر ایسا حائل ہو کہ بدن کی گرمی محسوس نہ ہوگی تو حَرَج نہیں۔  مزید آگے فرماتے ہیں: ناف سے اوپر اور گھٹنے سے نیچے چھونے یا کسی طرح کا نفع لینے میں کوئی حَرَج نہیں۔ یوہیں بوس وکنار بھی جائز ہے بہارِ شریعت ،جلد اول،حصہ دوم،صفحہ٣٩١) واللہ تعالیٰ اعلم مفتی ادارہ ایم جے اکبری قادری حنفی دارالافتاء فیضان مدینہ -گجرات

کیا اللہ پاک کو استاد؟

کیا اللہ پاک کو أستاذ کہ سکتے ہے؟ الجواب باسمہ تعالی وبفضلہ اللہ پاک کو أستاذ کہنا جائز ہے استاذ کا لغوی معنی سیکھانے والاہے   اور اللہ پاک نے قرآن پاک میں سیکھانے کی نسبت اپنی طرف کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:  وَ عَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُؕ-وَ كَانَ فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكَ عَظِیْمًا(۱۱۳) ( ترجَمۂ کنزالایمان: اورتمہیں سکھا دیا جو کچھ تم نہ جانتے تھے اور اللہ  کا تم پر بڑا فضل ہے۔(پ5، النساء:113) ایک اور جگہ ارشاد خداوندی ہے : اَلرَّحْمٰنُۙ(۱) عَلَّمَ الْقُرْاٰنَؕ(۲)   ترجمۂ کنزالایمان: رحمٰن نے اپنے محبوب کو قرآن سکھایا۔سورہ رحمن آیت ١-٢) ظاہرا  اللہ پاک کو أستاذ کہنے میں حرج نہیں لیکن استاد کی جگہ معلم کاینات کہنا بہتر ہے  کے چس کو جو ملا سب اللہ کی عطا اور اللہ کے سیکھانے سے ملا  واللہ تعالیٰ اعلم مفتی ادارہ ایم جے اکبری قادری حنفی دارالافتاء فیضان مدینہ

گاڑی کے نچے جانور ؟

سوال: راستہ میں جاتے ہوئے اگر انجانے میں گاڈی کے نیچے جانور کچل جاۓ تو ہم گنہگار ہونگے ؟ الجواب باسمہ تعالی وبفضلہ اگر جان بجھ کر جانور کو نہیں مارا ،اچانک آکر مرگیا تو گنہگار نہیں ہوں نگے اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: لَا یُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَاؕ(بقرہ ٢٨٦) ترجمہ کنزالعرفان ا:للہ کسی جان پر اس کی طاقت کے برابر ہی بوجھ ڈالتا ہے  اور انسان کی طاقت میں یہ ہے کہ وہ جان بجھ کر کسی جانور کو قتل کرنے سے بچے، اور چالو گاڈی میں کئی بار ہمارے توجہ کے باوجود انجانے میں جانور آ جاتا ہے جس کو بچانا ہماری طاقت سے باہر ہوتا ہے  اور اللہ کسی پر طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: وَ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا(مومنون -٦٢) ترجمہ کنزالعرفان:اور ہم کسی جان پر بوجھ نہیں رکھتے مگر اس کی طاقت بھر واللہ تعالیٰ اعلم مفتی ادارہ ایم جے اکبری قادری حنفی دارالافتاء فیضان مدینہ

کپڑے پر تصویر کا حکم؟

سوال کپڑے پر جانور کی تصویر ہو تو اس کپڑے کا کیا حکم ہے ؟ سائل عمر جمیل کچھ  الجواب و باللہ توفیق  اسی طرح کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے اعلیٰ حضرت امام اہلِ سنّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان  علیہ رحمۃ الرحمٰن  فرماتے ہیں : “ کسی جاندار کی تصویر جس میں اس کا چہرہ موجود ہو اور اتنی بڑی ہو کہ زمین پر رکھ کر کھڑے سے دیکھیں تو اعضاء کی تفصیل ظاہر ہو ، اس طرح کی تصویر جس کپڑے پر ہو اس کا پہننا ، پہنانا یا بیچنا ، خیرات کرنا سب ناجائز ہے اور اسے پہن کر نماز مکروہِ تحریمی ہے جس کا دوبارہ پڑھنا واجب ہے۔ ۔ ۔ ایسے کپڑے پر سے تصویر مٹادی جائے یا اس کا سر یا چہرہ بالکل محو کردیا جائے ، اس کے بعد اس کا پہننا ، پہنانا ، بیچنا ، خیرات کرنا ، اس سے نماز ، سب جائز ہوجائے گا۔ اگر وہ ایسے پکے رنگ کی ہو کہ مٹ نہ سکے دھل نہ سکے تو ایسے ہی پکے رنگ کی سیاہی اس کے سر یا چہرے پر اس طرح لگادی جائے کہ تصویر کا اتنا عضو محو ہوجائے صرف یہ نہ ہو کہ اتنے عضو کا رنگ سیاہ معلوم ہو کہ یہ محو ومنافی صورت نہ ہوگا۔ “ (فتاویٰ رضویہ ، 24 / 567) خلاصہ اگر زمین پر رکھے کپڑے پر سے تصویر صاف نہیں دیکھتی تو م...