نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

امام بھی انسان ہے ؟

السلام علیکم و رحمۃ اللہ کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان شرع اِس مسئلہ کے بارے میں ایک گام میں مسجد مدرسہ دونوں کی آ مدنی اور خرچہ گام والوں کی طرف سے ایک ساتھ ملا ہوا ہے اب سوال یہ ہے کہ کوئی چیز مسجد میں کام نہیں دے رہی ہے جیسے اے سی پنکھا تو اسے مسجد سے نکال کر امام صاحب کے روم اور مدرسہ میں استعمال کر سکتے ہیں قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں سائل ولی محمد اکبری جامع مسجد آ سپور ضلع ڈوگرپور راجستھان


وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ 

الجواب و باللہ توفیق 

مسجد کی AC امام یا مدرسہ میں لگانا جائز نہیں کہ جو چیز جس مقصد کے لئے وقف ہوتی ہے اسے دوسری جگہ استعمال کرنا منع ہے جیسا کہ فتاوی فقیہ ملت جلد دوم ص ۱۴۴) میں ہے مسجد کا سامان مدرسہ یا کسی اور جگہ لگانا جائز نہیں یہاں تک کہ ایک مسجد کا سامان دوسری مسجد میں نہیں لگا سکتے (بحوالہ فتاوی رضویہ جلد ششم ص ۴۳۸)   سوال جو آمدنی کا زکر ہے اس سے لوگوں کی نیت یہ تھی کہ ہمارے پیسو سے مدرسہ اور مسجد کا کام کیا جائے گا تو مدسہ میں لگانے کی گنجایش ہے مگر امام کے گھر میں لگانے کی اجازت نہیں     البتہ یہ ہوسکتا ہے کہ مسجد کو اب اس AC یا fen کی ضرورت نہیں ہے تو مسلمان اس کو  خرید کر امام کے گھر لگا دے اور فروخت کندہ قیمت مسجد میں خرچ کرے جیسا کہ (فتاوی تربیت افتاء جلد دوم ص ۱۸۴) میں ہے مسجد کی خراب شدہ وہ اشیاء جو قابل استعمال نہیں ان کے بارے میں حکم یہ ہے کہ وہ چیزیں مسجد کے مال سے خریدی گئی ہوں تو مسجد چاہے کہ انھیں فروخت کر کے حاصل شدہ رقم مسجد کے جس کام میں چاہے صرف کرے  اب حکم شرع تو یہی ہے اس Ac کو  جماعت نے جب چندہ گاؤ میں  کیا ہوگا تو یہہی نیت سے پیسے لئے ہے کہ مسجد میں AC لگانا ہے لہاذا وقف مسجد صحیح ہو گیا اب واقف کو بھی اجازت  نہیں ہے کہ وہ کسی بھی طرح کا تصرف کرے واللہ عالم ورسولہ 

نصیحت  اس دور کے مسلمانوں سے گزارش ہے  مسجد میں آپ اس گرمی میں دس بیس  منٹ رک نہیں سکتے گرمی برداشت نہیں ہوتی اس لئے مسجد میں ac وغیرہ کا ہونا ضروری ہے تاکہ لوگ سکون سے نماز ادا کر سکے اور ہیہ ہونا بھی  چاہے کہ مسجد میں جتنا خرچ کروگے اللہ کا وعدہ پے سات سو گناہ عطا کرے گا مگر اس گرمی میں اس غریب امام کا بھی تو خیال رکھنا ضروری ہے وہ اس گرمی میں رات بھر کیسے سوتا ہوگا  میری قوم مسجد ہو یا مدرسہ ہو یا امام مسجد کی ضروریات پر خرچ کرنا اللہ کی راہ میں خرچ کرنا ہے اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے تمھارے مال میں کمی نہیں آئے گی بلکہ اللہ تمھیں بہت عطا فمائے گا اللہ تعالی فرماتا ہے 


مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ اَنْۢبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِیْ كُلِّ سُنْۢبُلَةٍ مِّائَةُ حَبَّةٍؕ-وَ اللّٰهُ یُضٰعِفُ لِمَنْ یَّشَآءُؕ-وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ(261)


 ترجمۂ کنز الایمان


ان کی کہاوت جو اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اس دانہ کی طرح جس نے اوگائیں سات بالیں ہر بال میں سو دانے اور اللہ اس سے بھی زیادہ بڑھائے جس کے لئے چاہے اور اللہ وسعت والا علم والا ہے۔

لہازا امام صاحب اللہ کے گھر کا خدمگار ہے اس کو جتنا زیادہ ہو سکے اتنی فیسیلیٹی دو سوال کے مطابق مسجد کا AC ضروت سے زائد ہے اور مسجد میں استعمال نہیں ہو رہا ہے تو مسلمان اس کی قیمت دے کر امام صاحب کے گھر میں لگا دے 

واللہ اعلم بالصواب 

ابو احمد ایم جے اکبری 

دارالافتاء گلزار طیبہ 

تاثرات برفتویٰ دارالافتاء گلزار طیبہ


بر مسئلہ: مسجد کی اشیاء کو مدرسہ یا امام کے ذاتی استعمال میں لانے کا حکم

تحریر: مولانا محمد عارف (عفا اللہ عنہ)


الحمد للّٰہ! زیر نظر فتویٰ جسے حضرت مفتی ابو احمد ایم جے اکبری دامت برکاتہم العالیہ نے دارالافتاء گلزارِ طیبہ سے جاری فرمایا، ایک نہایت اہم اور عملی مسئلہ پر روشن شرعی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اس میں شریعتِ مطہرہ کے اصولوں کو سامنے رکھ کر ایک محتاط، متوازن اور بصیرت افروز فیصلہ کیا گیا ہے۔


۱. وقف کے تقدس کا تحفظ:


مفتی صاحب نے نہایت دلنشین انداز میں یہ حقیقت واضح فرمائی کہ:


> "جو چیز جس مصرف کے لیے وقف کی جائے، اس میں کسی قسم کا تصرف جائز نہیں۔"




یہی وہ بنیادی اصول ہے جو ہمارے دینی اداروں اور اموالِ وقف کی حرمت و امانت کو قائم رکھتا ہے۔ فتاویٰ فقیہ ملت اور فتاویٰ رضویہ جیسے معتبر مراجع سے استناد کر کے بات کو وزن عطا کیا گیا، جو علمی ثقاہت کا آئینہ دار ہے۔


۲. نیتِ واقف کا احترام:


یہ پہلو بہت خوبصورتی سے اجاگر کیا گیا کہ اگر عوام نے مسجد و مدرسہ کی مشترکہ نیت سے چندہ دیا ہو تو مدرسہ میں اس مال کا استعمال شرعاً درست ہے، لیکن کسی کی ذاتی ملکیت یا استعمال کے لیے نہیں۔ یہ فقہی باریکی نہایت اہم ہے، جو نیت کے فقهی اثرات کو واضح کرتی ہے۔


۳. حکیمانہ حل کی راہنمائی:


مسئلہ کے حل کے طور پر جو تدبیر پیش کی گئی، وہ علمی حکمت، فقہی فہم، اور عوامی مصلحت کا حسین امتزاج ہے:


> "اگر مسجد کو چیز کی ضرورت نہ رہی ہو، تو مسلمان اسے خرید کر امام کے ذاتی استعمال میں لا سکتے ہیں، بشرطیکہ قیمت مسجد کے فنڈ میں جمع کی جائے۔"




ایسی تجاویز نہ صرف شرعی دائرہ میں ہوتی ہیں بلکہ عملی طور پر امت کو پریشانی سے نکالنے والی بھی ثابت ہوتی ہیں۔


۴. امت کے لیے درد مندانہ نصیحت:


یہ پہلو بھی قابلِ تحسین ہے کہ صرف فتویٰ ہی نہیں دیا گیا، بلکہ امت کو جذبہ دلایا گیا کہ:


> "مسجد، مدرسہ اور امام کی ضروریات پر خرچ کرنا اللہ کی راہ میں خرچ کرنا ہے، اور اللہ کی راہ میں خرچ سات سو گنا تک بڑھا دیا جاتا ہے۔"




قرآن مجید کی آیت (سورہ بقرہ: 261) سے استدلال کر کے دینی جذبہ کو ایمان افروز بنا دیا گیا۔


۵. امام کی تکریم و رعایت:


یہ بہت قیمتی بات ہے کہ امام کے آرام و آسائش کی طرف بھی قوم کو توجہ دلائی گئی۔ یہ دراصل اُس خدمتِ دین کا اعتراف ہے جو امام مسجد انجام دیتا ہے۔



---


خلاصۂ تأثر:


یہ فتویٰ صرف شرعی فیصلہ ہی نہیں بلکہ ایک علمی رہنمائی، دعوتی خطاب اور امت کے لیے فکری بصیرت کا حامل ہے۔ میں دارالافتاء گلزار طیبہ کے اس جذبۂ خیر کو دل سے سراہتا ہوں اور دعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ اس فتاویٰ کی اشاعت کو قبول فرمائے اور عوام کو اس سے نفع اُٹھانے کی توفیق عطا فرمائے۔


وما توفیقی إلا بالله العلي العظيم


مولانا محمد عارف بن غلام رسول 

(خادمِ علومِ فقہیہ و محبتِ طیبہ)



تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

نسبندی کا شرعی حکم

نسبندی کا شرعی حکم روشن تحقیق السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام کہ نس بندی کرانا کیسا ہے جبکہ ڈاکٹر یہ کہے کہ اب یہ عورت مزید بچے پیدا کرے گی، جس سے اسے سخت بیماری پیدا ہونے یا جان کا خطرہ ہے، اور باقی ضبط تولید کے ذرائع سے بھی کبھی خطرہ رہتا ہے، وہ ذرائع فیل ہو جاتے ہیں، اور عورت حاملہ ہو جاتی ہے، اس صورت میں عورت کی مجبوری کو مدنظر رکھتے ہوئے حکم شرعی بیان فرمائیں۔  *سائل: محمد علی باڑمیر*  . وعلیکم السلام ورحمتہ وبرکاتہ  الجواب وباللہ توفیق  نسبندی کی جائز اور ناجائز صورتیں بیان کرتے ہوئے علامہ غلام رسول سعیدی، شرح مسلم جلد سوم میں فرماتے ہیں  1۔ کوئی شخص تنگی رزق کے خوف کی وجہ سے خاندانی منصوبہ بندی (نسبندی کرواتا ہے) اصلًا جائز نہیں ہے، یہ اس لیے کہ حرمت کی علت تنگی رزق کا ہونا قرآن مجید میں مذموم ہے: "لا تقتلوا اولادکم من املاق   (سورہ نمبر 6آیت 151" 2۔ اور کوئی شخص لڑکیوں کی پیدائش سے احتراز کے لیے ضبط تولید کرے، کیونکہ ان کی پرورش میں مشقت اور عار کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور یہ نیت زمانہ جاہلیت کے مشرکین ...

کمیشن لینا कमिशन लेना हिंदी अनुवाद आखिर में

हिंदी अनुवाद आखिर में है  کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان شرع کے ایک عالم صاحب جو کہ امامت کرتے ہیں ساتھ میں ان کا کاروبار گاڑیوں کے لین دین کا جس میں دو پارٹیوں سے سودا کرواتے ہیں جس میں ان کی ذمہ داری رہتی ہے گاڑیوں کے کاغذ وغیرہ کسی میں فولڈ ہوگا تو گارنٹی ان کی رہتی ہے جس کی وجہ سے کبھی نقصان بھی ہوتا ہے کبھی فائدہ مہینہ دو مہینہ کے بعد جب کاغذ وغیرہ نام پر ہو جاتے ہیں تب 5000/10000 جو کمیشن طے ہوتا ہے وہ ملتا ہے ابھی کوئی شخص بولتا ہے کے کمیشن کا دھندا کرنے والے کے پیچھے نماز نہیں ہوتی قرآن و حدیث کی روشنی میں مدلل جواب عنایت فرمائیں سائل قاری غلام رسول ضیائی   کوشل کوٹ ضلع بانسواڑہ راجستھان ُ الجواب و بللہ توفیق    شرعی ضابطے پورے کرتے ہوئے کمیشن کے  ذریعے روزی کمانے میں شرعاً کوئی ممانعت نہیں  ہے، کہ کمیشن یا بروکری وہ ذریعۂ آمدنی ہے جس میں اپنی محنت کے ذریعے ایک سروس دی جاتی ہے اور یہ طریقۂ آمدنی آج کا نہیں بلکہ  صدیوں سے رائج ہے جس کو ہر دور کے علماء نے جائز ہی کہا ۔  بروکر کی اجرت (کمیشن): بروکر کو "اجیر خاص" یا "وکیل" سمجھا جات...

حربی سے سود لینے کا حکم روشن تحقیق

حربی سے سود لینے کا حکم ؟ دارالافتاء گلزارِ طیبہ کی یہ علمی تحقیق نہایت دقیق، جامع اور بصیرت افروز ہے۔ اس میں جہاں امام ابو حنیفہؒ کے قول کا صحیح مفہوم واضح کیا گیا ہے، وہیں اس کے غلط استعمالات اور اس کے دینی، سماجی و بین الاقوامی مضمرات پر بھی مدلل کلام کیا گیا ہے۔ علمی و ادبی تاثرات: 1. محققانہ اسلوب: تحقیق کی بنیاد قرآنی آیات، صحیح احادیث اور فقہاء کی معتبر تشریحات پر رکھی گئی ہے۔ علامہ ابن قدامہ، علامہ سعیدی، امام ابن ہمام، امام شافعی، سرخسی وغیرہ جیسے جلیل القدر علماء کے اقوال سے مزین یہ رسالہ اسلوبِ تحقیق کا عمدہ نمونہ ہے۔ 2. فقہی توازن و اعتدال: تحقیق میں نہ صرف مختلف اقوال کا ذکر کیا گیا بلکہ ان کا تجزیہ بھی علمی انداز میں کیا گیا ہے، جو قاری کو یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ امام ابو حنیفہؒ کا اصل مدعا کیا تھا، اور بعد کے علماء نے ان کے قول کو کس حد تک محدود کیا ہے۔ 3. دورِ حاضر کے تقاضے: یہ تحقیق صرف نصوص کی بحث نہیں، بلکہ موجودہ حالات کے تناظر میں ایک عملی رہنمائی بھی ہے۔ خاص طور پر سوشل میڈیا کے دور میں فتاویٰ کے غلط استعمال، اسلام کے بارے میں پھیلنے والی بدگمانیوں اور ہندوست...