سوال کفار اپنے بتوں کے نام بکرا چڑاتے ہے تو ان کو بکرا فروخت کرنا کیسا ہے ### الجواب وباللہ توفیق صورتِ مسئولہ میں اگر کوئی غیر مسلم اس مقصد سے بکرا خریدتا ہے کہ اسے اپنے بت کے نام پر چڑھائے گا یا غیر اللہ کے لیے ذبح کرے گا، اور فروخت کرنے والے کو اس مقصد کا علم بھی ہے، تو ایسی صورت میں اسے بکرا فروخت کرنا جائز نہیں؛ کیونکہ یہ گناہ اور غیر اللہ کی عبادت کے کام میں اعانت کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: > وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ”اور گناہ اور زیادتی پر ایک دوسرے کی مدد نہ کرو۔“(سورۃ المائدہ، 5:2) لہٰذا اگر خریدار صاف طور پر بتائے کہ یہ بکرا بت کے نام پر چڑھانے کے لیے ہے، یا فروخت کنندہ کو یقینی طور پر معلوم ہو کہ وہ اسی حرام مذہبی رسم میں استعمال کرے گا، تو اس مقصد کے لیے فروخت کرنا ناجائز ہوگا، اور اس سے اجتناب لازم ہے۔ فتاویٰ رضویہ میں ہے: > ”مسلمان نے مجوسی کی بکری اس کے آتشکدہ کے لیے یا کافر کی بکری ان کے بتوں کے لیے اللہ کے نام سے ذبح کیا تو وہ کھائی جائے گی، کیونکہ مسلمان نے اللہ کے نام سے ذبح کیا ہے، البتہ مسلمان کے لیے اس صورت میں کراہت لکھتے ہ...
منگیتر سے فون پر؟ ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسلے میں کہ جو امام اپنی منگیتر سے واپساپ سے لوگوں سے چھوپ کر چیٹنگ کرتا ہو اس کے پیچھے نماز میں کوئی کراہت ہوگی؟ وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق ۔منگنی کی حیثیت شرعاً صرف وعدہٴ نکاح کی ہے، باقاعدہ وہ نکاح نہیں ہے، اس لیے منگنی کے بعد بھی (لڑکا اور لڑکی) دونوں ایک دوسرے کے حق میں اجنبی ہی برقرار رہتے ہیں، اور جس طر ح منگنی سے پہلے دونوں کے لیے ایک دوسرے سے بلاضرورت بات چیت کرنا اور ملنا جلنا ناجائز ہے، اسی طرح منگنی کے بعد بھی ناجائز ہے، رابطہ فون کے ذریعہ ہویا فیس بک وغیرہ کے ذریعہ، بہرصورت بلاضرورت جائز نہیں ہے، ہاں عقد نکاح مکمل ہوجانے کے بعد دونوں ایک دوسرے کے لیے حلال ہوجاتے ہیں، اور باہم ہرطرح کی گفتگو جائز ہوجاتی ہے۔ امیر اہلسنت حضرت مولانا الیاس قادری دامت برکاتہم فرماتے ہیں ایک دوسرے کو دیکھنے ، ایک دوسرے سے بات چیت کرنے اور میل جول رکھنے کے معاملے میں شَرْعی ر...