السلام علیکم حضرت مفتی صاحب سے ایک سوال ہے۔ میں معافی چاہتا ہوں، مجھے معلوم نہیں کہ اس طرح کا سوال پوچھنا چاہیے یا نہیں، پھر بھی عرض کر رہا ہوں۔ کہ ایک شخص حج کرنے کے لیے لاکھوں روپے خرچ کرتا ہے اور حج کے لیے روانہ ہوتا ہے، یہاں تک کہ حج کے ارکان شروع ہونے کا وقت بھی آ جاتا ہے۔ اگر کسی عورت کو حج کے دوران حیض شروع ہو جائے تو کیا وہ عورت اپنا حج مکمل کرے یا اپنا حج روک دے؟ اور اگر حج روک دے تو کیا اُس عورت پر دوبارہ حج فرض ہوگا؟ محمد امتیاز انصاری ضلع احمد آباد، ڈھولکا وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ الجواب وباللہ توفیق صورت مسئولہ میں اگر کسی عورت کو حج کے دوران حیض (ماہواری) شروع ہو جائے تو وہ حج نہیں روکے گی، بلکہ اپنے حج کے تمام ارکان ادا کرتی رہے گی۔ البتہ جن اعمال کے لیے طہارت شرط ہے، اُن میں احتیاط کرے گی۔ مثلاً: وقوفِ عرفہ، مزدلفہ جانا، رمیِ جمار وغیرہ حیض کی حالت میں بھی کیے جا سکتے ہیں۔ لیکن طوافِ کعبہ (خاص طور پر طوافِ زیارت) حیض کی حالت میں جائز نہیں، اس کے لیے پاک ہونا ضروری ہے۔ لہٰذا اگر حیض آ گیا تو عورت انتظار کرے گی، جب پاک ہو جائے اور غسل کر لے تب طواف ادا کرے گ...
السلام علیکم حضرت صاحب کیا فاسق معلن سے سلام کرنا اور میل جول رکھنا گناہ ہے؟ ابراھیم خان راجستھان انڈیا وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ الجواب وباللہ التوفیق: فاسقِ معلن یعنی وہ شخص جو کھلے عام گناہ کرتا ہو اور اپنے فسق کا اظہار کرتا ہو، ایسے شخص سے بلا ضرورت بے تکلف میل جول، دوستی اور قلبی محبت رکھنا شرعاً مذموم ہے، کیونکہ اس سے دین پر بُرا اثر پڑتا ہے اور گناہوں کی جرأت بڑھتی ہے۔ 📖 حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: “تمہارے اور فاسق کے درمیان کوئی احترام نہیں۔” (الادب المفرد، حدیث: 1018) یعنی فاسقِ معلن کی ایسی عزت و تعظیم نہ کی جائے جس سے اس کے گناہ کی تائید ہو یا لوگ اسے نیک سمجھنے لگیں۔ البتہ سلام کرنے یا اس کے سلام کا جواب دینے میں تفصیل ہے: 📌 اگر سلام کرنے میں اصلاح کی نیت ہو، یا شرعی مصلحت ہو، یا قطع تعلق سے زیادہ فساد پیدا ہونے کا اندیشہ ہو، تو سلام کرنے میں حرج نہیں۔ 📌 لیکن اگر اس سے اس کے فسق کی حوصلہ افزائی ہوتی ہو یا لوگ دھوکے میں پڑیں، تو ایسے شخص سے بے ضرورت اختلاط اور قربت سے بچنا چاہیے۔ 📖 اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: “فاسقِ معلن ...