سوال جو امام تعزیہ کے سامنے فاتحہ پڑھتا ہو اس کے پیچھے نماز پڑھنے کا حکم کیا ہے الجواب وباللہ التوفیق: صورتِ مسئولہ میں تعزیہ کے سامنے فاتحہ پڑھنا درست طریقہ نہیں بلکہ جہالت و غلط رواج میں شمار ہوتا ہے۔ اعلیٰ حضرت، امام اہلِ سنت، مجددِ دین و ملت، امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "فاتحہ جائز ہے جس چیز پر ہو، مگر تعزیہ پر رکھ کر یا اس کے سامنے ہونا جہالت ہے۔ تعزیہ سے جدا، خالص سچی نیت سے حضراتِ شہدائے کرام کی نیاز ہو۔" (فتاویٰ رضویہ، جلد 24، صفحہ 499) فتاویٰ فقہ ملت میں ہے مروجہ تعزیہ داری حرام ہے زید ڈھول بجاتا ہے اور تعزیہ کے چوک پر فاتحہ کر کے امر ناجائز میں جاہلوں کی حوصلا افزائی کرتا ہے سخت گنہگار مستحق عذاب نار ہے اس کی اقتدا میں نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہے اسے چاہیے کہ علانیہ توب کرے تاکہ دوسرے لوگ بھی اس سے عبرت حاصل کرے (فتاویٰ فقیہ ملت اول صفحہ 53 لہٰذا شہدائے کربلا رضی اللہ عنہم کی یاد میں ایصالِ ثواب، فاتحہ خوانی اور نیاز کا اہتمام کرنا باعثِ ثواب ہے، لیکن تعزیہ کو سامنے رکھ کر یا اس کی طرف متوجہ ہو کر فاتحہ پڑھنا شرعی طریقہ نہیں۔ مسلمان کو چاہیے ک...
السلام علیکم حضرت صاحب اس شعر کا کیا مطلب ہے اور اس کا مسجد پر لکھنا کیسا؟ وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ الجواب وباللہ توفیق ترجمہ ملاحظہ ہو شاہ است حسین، بادشاہ است حسین ترجمہ: شاہ بھی حسین ہیں، بادشاہ بھی حسین ہیں۔ دین است حسین، دین پناہ است حسین ترجمہ: دین بھی حسین ہیں، دین کو پناہ دینے والے بھی حسین ہیں۔ سرداد نہ داد دست در دست یزید ترجمہ: سر دے دیا مگر یزید کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ نہ دیا۔ حقا کہ بنائے لا الٰہ است حسین ترجمہ: حقیقت تو یہ ہے کہ لا الٰہ کی بنیاد ہی حسین ہیں۔ اور رہی بات پڑھنے کی تو اس کا پڑھنا بالکل درست ہے۔ مسجد میں لگانا بھی کوئی حرج نہیں البتہ آخری اشعار پر اعتراض ہو سکتا ہے اس کی ہم یہ تاویل کرتے ہیں امام حسین رضی اللہ عنہ نے اپنی عظیم قربانی کے ذریعے کلمۂ توحید (لا إلہ إلا اللہ) اور دینِ اسلام کی حفاظت فرمائی، اس لیے شاعر نے مبالغہ کے انداز میں آپ کو 'بنائے لا الٰہ' کہا ہے۔" یعنی: حفاظتِ دین کے اعتبار سے امام حسین رضی اللہ عنہ کا کردار اتنا عظیم ہے کہ شاعر نے انہیں کلمۂ توحید کی عمارت کا محافظ اور ستون قرار دیا ہے۔ جیسے قرآن میں حضرت ابر...