نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

محرم میں گھروں پر پرچم

سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مفتی صاحب کی بارگاہ میں سوال عرض ہے کہ محرم الحرام میں بعض لوگ اپنے گھروں پر لال، سبز اور کالے جھنڈے لگاتے ہیں، کیا یہ عمل اسلام میں جائز ہے؟ سائل: معین الدین برکاتی، وانکانیر الجواب وباللہ التوفیق: محرم الحرام میں گھروں پر لال، سبز یا کالے جھنڈے لگانا نہ قرآنِ کریم سے ثابت ہے، نہ احادیثِ مبارکہ سے، نہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم، نہ تابعین، نہ تبع تابعین، اور نہ ہی ائمۂ مجتہدین سے اس کا ثبوت ملتا ہے۔ خصوصاً شہادتِ امام حسین رضی اللہ عنہ کی یاد میں مخصوص رنگوں کے جھنڈے لگانا ایک ایسا رواج ہے جو بعد کے زمانوں میں پیدا ہوا، لہٰذا اسے دینی شعار، ثواب کا کام یا ضروری مذہبی عمل سمجھنا درست نہیں۔ اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا: مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هٰذَا مَا لَيْسَ مِنْهُ فَهُوَ رَدٌّ "جس نے ہمارے دین میں کوئی ایسی نئی بات نکالی جو اس میں نہیں تھی تو وہ مردود ہے۔" 📖 (صحیح بخاری، حدیث: 2697، صحیح مسلم، حدیث: 1718) لہٰذا محرم میں گھروں پر مخصوص رنگوں کے جھنڈے لگانا اگر محض دنیاوی یا شناختی مقصد کے لیے ہو تو شرعاً لازم و مستحب نہیں، اور اگر اسے دی...
حالیہ پوسٹس

تعزیہ کے سامنے فاتحہ

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ الجواب وباللہ التوفیق: صورتِ مسئولہ میں تعزیہ کے سامنے فاتحہ پڑھنا درست طریقہ نہیں بلکہ جہالت و غلط رواج میں شمار ہوتا ہے۔ اعلیٰ حضرت، امام اہلِ سنت، مجددِ دین و ملت، امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "فاتحہ جائز ہے جس چیز پر ہو، مگر تعزیہ پر رکھ کر یا اس کے سامنے ہونا جہالت ہے۔ تعزیہ سے جدا، خالص سچی نیت سے حضراتِ شہدائے کرام کی نیاز ہو۔" (فتاویٰ رضویہ، جلد 24، صفحہ 499) لہٰذا شہدائے کربلا رضی اللہ عنہم کی یاد میں ایصالِ ثواب، فاتحہ خوانی اور نیاز کا اہتمام کرنا باعثِ ثواب ہے، لیکن تعزیہ کو سامنے رکھ کر یا اس کی طرف متوجہ ہو کر فاتحہ پڑھنا شرعی طریقہ نہیں۔ مسلمان کو چاہیے کہ وہ اس قسم کی غلط رسموں سے بچے اور اپنی عبادت و نیاز کو خالص اللہ تعالیٰ کی رضا اور شہدائے کرام کے ایصالِ ثواب کے لیے انجام دے۔  *تشریح* : حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اور دیگر شہدائے کربلا کی محبت ایمان کا حصہ ہے۔ ان کے نام پر قرآن خوانی، فاتحہ اور ایصالِ ثواب کرنا نیکی کا کام ہے، مگر دین میں وہی طریقہ اختیار کرنا چاہیے جو شریعت کے مطابق ہو۔ بعض لوگ لاعلمی...

ताजिया के सामने फातिहा

[ताज़िये के सामने फ़ातेहा] दारुल इफ्ता गुलज़ारे तैय्यबा - 06:27 सवाल: जो इमाम ताज़िये के सामने फ़ातेहा पढ़ता हो उसके पीछे नमाज़ पढ़ने का हुक्म क्या है? अलजवाब वबिल्लाहित्तौफ़ीक़: सूरत-ए-मसऊला में ताज़िये के सामने फ़ातेहा पढ़ना दुरुस्त तरीका नहीं बल्कि जहालत व ग़लत रिवाज में शुमार होता है। आला हज़रत, इमामे अहले सुन्नत, मुजद्दिदे दीनो मिल्लत, इमाम अहमद रज़ा ख़ाँ क़ादरी रहमतुल्लाहि अलैह फ़रमाते हैं: "फ़ातेहा जायज़ है जिस चीज़ पर हो, मगर ताज़िये पर रखकर या उसके सामने होना जहालत है। ताज़िये से जुदा, ख़ालिस सच्ची नियत से हज़राते शुहदाए किराम की नियाज़ हो।" (फ़तावा रज़विया, जिल्द 24, सफ़्हा 499) फ़रमाते हैं उलमाए किराम इस मसअला ज़ैल में कि अगर किसी शख़्स ने ताज़िया बनाने की मन्नत मानी तो क्या वह अपनी मन्नत पूरे करे या अगर उस मन्नत की जगह सदक़ा वग़ैरह करना चाहे तो क्या यह सदक़ा करना दुरुस्त होगा? तफ़सील के साथ जवाब इनायत फ़रमाएँ। मुरव्वजा ताज़िया बनाने की मन्नत मानना जायज़ नहीं है। यह शरई नज़्र नहीं है इसलिए पूरा करना ज़रूरी नहीं है। सदक़ा देना भी ज़रूरी नहीं है। अलबत्ता नज़्र व मन्न...

کیا تعزیہ کی کویی جایز صورت ہےت

السؤال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مفتی صاحب کی بارگاہ میں سوال عرض ہے کہ تعزیہ کے بارے میں یہ جملہ بولا جاتا ہے کہ "مروجہ تعزیہ داری حرام ہے"، تو سوال یہ ہے کہ تعزیہ کی جائز صورت کون سی ہے؟ سائل: حاجی خان عطاری، وراہی، ضلع پٹن، گجرات الجواب بعون الملک الوہاب: تعزیہ داری کی جو صورت آج کل رائج ہے، یعنی تعزیہ بنانا، اسے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے روضۂ مبارک کا نمونہ سمجھنا، اس کے سامنے نیاز و فاتحہ دینا، تعظیماً کھڑا ہونا، سلام کرنا، جلوس نکالنا، ماتم کرنا، سینہ کوبی کرنا، تعزیہ کو دفن یا پانی میں بہانا اور اسے مذہبی شعار سمجھنا، یہ سب امور ناجائز و حرام اور بدعتِ سیئہ ہیں۔ رہا یہ سوال کہ "جائز تعزیہ" کیا ہے؟ تو حقیقت یہ ہے کہ شریعتِ مطہرہ میں نہ تعزیہ بنانے کا کوئی حکم ہے، نہ اس کی کوئی مسنون یا مستحب صورت ثابت ہے۔ لہٰذا جب علماءِ اہل سنت بعض کتب کے حوالے سے "مروجہ تعزیہ داری" کی قید لگاتے ہیں تو اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ جو ناجائز رسوم و بدعات آج رائج ہیں ان کی نفی کی جائے، نہ یہ کہ تعزیہ داری کی کوئی شرعی و مسنون صورت ثابت کی جائے۔ اصل یہ ہے کہ حض...

تعزیہ کے سامنے فاتحہ

سوال جو امام تعزیہ کے سامنے فاتحہ پڑھتا ہو اس کے پیچھے نماز پڑھنے کا حکم کیا ہے  الجواب وباللہ التوفیق: صورتِ مسئولہ میں تعزیہ کے سامنے فاتحہ پڑھنا درست طریقہ نہیں بلکہ جہالت و غلط رواج میں شمار ہوتا ہے۔ اعلیٰ حضرت، امام اہلِ سنت، مجددِ دین و ملت، امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "فاتحہ جائز ہے جس چیز پر ہو، مگر تعزیہ پر رکھ کر یا اس کے سامنے ہونا جہالت ہے۔ تعزیہ سے جدا، خالص سچی نیت سے حضراتِ شہدائے کرام کی نیاز ہو۔" (فتاویٰ رضویہ، جلد 24، صفحہ 499) فرماتے ہیں علماےکرام اس مسئلہ ذیل میں کہ اگر کسی شخص نے تعزیہ بنانے کی منت مانگی تو کیا وہ اپنی منت پورے کرے یا اگر اس منت کی جگہ صدقہ وغیرہ کرنا چاہے تو کیا یہ صدقہ کرنا درست ہوگا ؟  تفصیل کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں مروجہ تعزیہ بنانے کی منت ماننا جائز نہیں ہے یہ شرعی نذر نہیں ہے اس لئے پورا کرنا ضروری نہیں ہے صدقہ دینا بھی ضروری نہیں ہے البتہ نذر و منت مان کر جو غیر شرعی کام کیا ہے استحبابا اس کے ازالے کے لیے صدقہ کر سکتے ہیں پر ضروری نہیں ہے۔نفلی صدقہ خیرات کبھی بھی دے سکتے ہیں۔ تعزیہ پر منت ماننا کیسا؟ اعلیٰ ...

شاہ است حسین کا حکم

السلام علیکم حضرت صاحب اس شعر کا کیا مطلب ہے اور اس کا مسجد پر لکھنا کیسا؟ وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ الجواب وباللہ توفیق  ترجمہ ملاحظہ ہو شاہ است حسین، بادشاہ است حسین ترجمہ: شاہ بھی حسین ہیں، بادشاہ بھی حسین ہیں۔ دین است حسین، دین پناہ است حسین ترجمہ: دین بھی حسین ہیں، دین کو پناہ دینے والے بھی حسین ہیں۔ سرداد نہ داد دست در دست یزید ترجمہ: سر دے دیا مگر یزید کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ نہ دیا۔ حقا کہ بنائے لا الٰہ است حسین ترجمہ: حقیقت تو یہ ہے کہ لا الٰہ کی بنیاد ہی حسین ہیں۔ اور رہی بات پڑھنے کی تو اس کا پڑھنا بالکل درست ہے۔ مسجد میں لگانا بھی کوئی حرج نہیں  البتہ آخری اشعار پر اعتراض ہو سکتا ہے  اس کی ہم یہ تاویل کرتے ہیں  امام حسین رضی اللہ عنہ نے اپنی عظیم قربانی کے ذریعے کلمۂ توحید (لا إلہ إلا اللہ) اور دینِ اسلام کی حفاظت فرمائی، اس لیے شاعر نے مبالغہ کے انداز میں آپ کو 'بنائے لا الٰہ' کہا ہے۔" یعنی: حفاظتِ دین کے اعتبار سے امام حسین رضی اللہ عنہ کا کردار اتنا عظیم ہے کہ شاعر نے انہیں کلمۂ توحید کی عمارت کا محافظ اور ستون قرار دیا ہے۔ جیسے قرآن میں حضرت ابر...

بزرگوں کی حاضری آنا

سوال: بعض جگہ مرد یا عورت میں ایک "حاضری" آتی ہے، وہ اپنے آپ کو کسی بزرگ کا نام بتاتا ہے اور لوگوں کو حکم دیتا ہے کہ کالا بکرہ ذبح کرو، تمہارا کام ہو جائے گا، بیماری دور ہو جائے گی وغیرہ۔ اس کے کہنے پر بکرہ ذبح کرنا اور اس کا گوشت کھانا کیسا ہے؟ الجواب وباللہ توفیق  کسی ولی یا بزرگ کے ایصالِ ثواب کے لیے اللہ تعالیٰ کے نام پر جانور ذبح کرنا جائز ہے، لیکن کسی مرد یا عورت میں آنے والی نام نہاد "حاضری" کو بزرگ کی روح سمجھنا اور اس کے حکم پر بکرہ ذبح کرنا شرعاً ثابت نہیں۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ﴿وَأَنَّهُ كَانَ رِجَالٌ مِّنَ الْإِنسِ يَعُوذُونَ بِرِجَالٍ مِّنَ الْجِنِّ فَزَادُوهُمْ رَهَقًا﴾ ترجمہ: "اور یہ کہ انسانوں میں کچھ لوگ جنات میں سے بعض لوگوں کی پناہ لیا کرتے تھے تو انہوں نے ان کی گمراہی اور بڑھا دی۔" 📖 (سورۃ الجن: 6) اس آیت سے معلوم ہوا کہ جنات کے دعووں اور ان کے تصرفات پر اعتماد کرنا گمراہی کا سبب ہے۔ نیز رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هٰذَا مَا لَيْسَ مِنْهُ فَهُوَ رَدٌّ» ترجمہ: "جس نے ہمارے دین میں ایسی بات پیدا کی جو...