السلام علیکم حضرت صاحب کیا فاسق معلن سے سلام کرنا اور میل جول رکھنا گناہ ہے؟ ابراھیم خان راجستھان انڈیا وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ الجواب وباللہ التوفیق: فاسقِ معلن یعنی وہ شخص جو کھلے عام گناہ کرتا ہو اور اپنے فسق کا اظہار کرتا ہو، ایسے شخص سے بلا ضرورت بے تکلف میل جول، دوستی اور قلبی محبت رکھنا شرعاً مذموم ہے، کیونکہ اس سے دین پر بُرا اثر پڑتا ہے اور گناہوں کی جرأت بڑھتی ہے۔ 📖 حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: “تمہارے اور فاسق کے درمیان کوئی احترام نہیں۔” (الادب المفرد، حدیث: 1018) یعنی فاسقِ معلن کی ایسی عزت و تعظیم نہ کی جائے جس سے اس کے گناہ کی تائید ہو یا لوگ اسے نیک سمجھنے لگیں۔ البتہ سلام کرنے یا اس کے سلام کا جواب دینے میں تفصیل ہے: 📌 اگر سلام کرنے میں اصلاح کی نیت ہو، یا شرعی مصلحت ہو، یا قطع تعلق سے زیادہ فساد پیدا ہونے کا اندیشہ ہو، تو سلام کرنے میں حرج نہیں۔ 📌 لیکن اگر اس سے اس کے فسق کی حوصلہ افزائی ہوتی ہو یا لوگ دھوکے میں پڑیں، تو ایسے شخص سے بے ضرورت اختلاط اور قربت سے بچنا چاہیے۔ 📖 اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: “فاسقِ معلن ...
الجواب وباللہ توفیق صورت مسئولہ میں گابھن (حاملہ) جانور کی قربانی شرعاً ناپسند ہے، لیکن قربانی ہو جائے گی اور اگر صرف پندرہ بیس روز کا حمل ہے، تو کسی قسم کا مضائقہ نہیں۔ فتاوی عالمگیری میں ہے:’’شاۃ او بقرۃ اشرفت علی الولادۃ، قالوا: یکرہ ذبحھا‘‘ ترجمہ: بکری یا گائے بچہ جننے کے قریب ہو، تو فقہاء فرماتے ہیں کہ اس کو ذبح کرنا مکروہ ہے۔ (فتاوی عالمگیری، کتاب الذبائح، جلد 5، صفحہ 354، مطبوعہ کراچی) سیدی اعلیٰ حضرت امام اہلسنت مولانا الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (متوفی 1340ھ) فتاوی رضویہ شریف میں فرماتے ہیں: گابھن کی قربانی، اگرچہ صحیح ہے، مگر ناپسند ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 20، صفحہ 370، رضا فاونڈیشن، لاھور) صاحبِ بہار شریعت، مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی (متوفی 1367ھ) فتاوی امجدیہ میں فرماتے ہیں: حاملہ جانور کی قربانی ہو سکتی ہے، مگرحاملہ ہونا معلوم ہے، تو احتراز اولیٰ ہے اور اگر صرف پندرہ بیس روز کا حمل ہے، تو اس میں کسی قسم کا مضائقہ نہیں۔ (فتاوی امجدیہ، حصہ 3، صفحہ 328، مکتبہ رضویہ، آرام باغ، کراچی ہدایہ اور تبیین میں فرمایا:(جو جانورپہلے قربانی کی نی...