سجدے میں ہر پاؤں کی کم از کم تین انگلیوں کے پیٹ کا زمین پر لگنا واجب بتایا جاتا ہے۔ کیا اس مخصوص حکم پر کوئی صحیح حدیث موجود ہے؟ اگر نہیں تو فقہائے احناف نے تین انگلیوں کی تعیین کس شرعی بنیاد پر کی؟ الجواب وباللہ توفیق اس خاص مسئلے میں اصل حدیثی بنیاد کیا ہے؟ اصل حدیثی بنیاد یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے سجدہ پاؤں کے ساتھ کرنے کا حکم دیا: “أُمِرْتُ أَنْ أَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةِ أَعْظُمٍ...” اور ایک صحیح روایت میں سجدے کی کیفیت بیان کرتے ہوئے حضرت ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ سجدے میں اپنے پاؤں کی انگلیوں کے سروں کو قبلہ رخ رکھتے تھے۔ صحیح بخاری میں صفتِ نماز کے ضمن میں یہ مضمون موجود ہے۔ اسی سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ سجدے میں پاؤں کی انگلیوں کو زمین پر رکھنا اور قبلہ رخ کرنا سنتِ نبوی ہے۔ لیکن تین انگلیوں کی تعداد کا تعین اسی حدیث کے الفاظ میں نہیں ہے۔ یہ مقدار فقہائے احناف کی فقہی تعیین ہے، جسے سجدے کے تحقق، اطرافِ اصابع، عرف اور نماز کے عملی طریقے سے متعلق فقہی اصولوں کی روشنی میں بیان کیا گیا ہے۔ لہٰذا سائل کے سوال کا صاف اور غیر جانب دار جواب یہ ہے: ① سا...
سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ حضرت مفتی صاحب! میرا ایک پیدائشی مسئلہ ہے، براہِ کرم شریعت کی روشنی میں میری رہنمائی فرمائیں۔ میرا پرائیویٹ پارٹ عام مردوں کی طرح نہیں ہے۔ میرا عضوِ تناسل بہت چھوٹا ہے، اس میں پیشاب کا سوراخ (یوریتھرا) موجود نہیں ہے، اور دونوں خصیے (Testicles) بھی باہر نہیں ہیں بلکہ پیدائشی طور پر پیٹ کے اندر ہیں۔ میری خواہش ہے کہ میری شناخت مرد کے طور پر ہو، لیکن اپنی پیدائشی کیفیت کی وجہ سے میں شریعت کا حکم جاننا چاہتا/چاہتی ہوں۔ سوال یہ ہے کہ شریعت کی نظر میں میرا حکم کیا ہے؟ کیا مجھے مرد شمار کیا جائے گا یا عورت؟ اور مجھ پر مردوں کے احکام لاگو ہوں گے یا عورتوں کے؟ الجواب وباللہ توفیق صورت مسئولہ میں شرعی معیار کے مطابق جس پر خنثٰی مشکل کا نیز خنثٰی مشکل کی تعریف اور اس کی پہچان کا شرعی معیار مندرجہ ذیل ہے : خنثٰی وہ فرد ہے جس میں مرد و عورت دونوں کے اعضاء ہوں یا دونوں میں سے کوئی عضو نہ ہو ۔ اگر دونوں عضو ہوں،تو نابالغی کی حالت میں اس پر مرد یا عورت کا حک...