نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

قرآن وحدیث کے سامنے کسی کا قول

🌹 اہلِ علم، طلبہ اور عام مسلمانوں سے ایک  اہم گزارش 🌹 زیرِ نظر رسالہ "قرآن اور حدیث کے مقابلہ میں اپنے دینی پیشواؤں کو ترجیح دینے کی مذمت" ایک نہایت اہم اور فکر انگیز تحریر ہے، جس میں قرآنِ مجید، احادیثِ مبارکہ، آثارِ صحابہ اور اکابرِ امت کے اقوال کی روشنی میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ دین میں اصل حجت اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا فرمان ہے۔ یہ رسالہ اندھی عقیدت، بے جا تعصب اور شخصیت پرستی کے نقصانات کو بیان کرتا ہے اور ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ ائمہ و علماء کا ادب اپنی جگہ، لیکن قرآن و سنت سب سے مقدم ہیں۔ لہٰذا ہر طالبِ علم، امام، خطیب، عالمِ دین اور ہر سنجیدہ مسلمان سے گزارش ہے کہ اس رسالے کا ضرور مطالعہ فرمائیں، اپنے اہل و احباب تک پہنچائیں اور اسے زیادہ سے زیادہ عام کریں، تاکہ ہم قرآن و سنت کی صحیح سمجھ حاصل کر سکیں اور اعتدال و انصاف کے راستے پر گامزن رہیں۔ مطالعہ کیجیے، غور کیجیے اور دوسروں تک بھی پہنچائیے، کیونکہ علم جتنا پھیلے گا، گمراہی کے اندھیرے اتنے ہی کم ہوں گے۔ ✍️ مفتی ابو احمد ایم۔ جے۔ اکبری  دارالافتاء گلزارِ طیبہ (بھارت) ٠) قرآن اور حدیث کے مقابلہ میں اپنے دین کے  پ...
حالیہ پوسٹس

मूसाफा

मुसाफ़हा और दस्तबोसी : हक़ीक़त, फ़ज़ीलत और हमारी ज़िम्मेदारी क़ुरआन व हदीस की रौशनी में एक तफ़्सीली मज़मून अल्लाह तआला ने इस्लाम को मोहब्बत, भाईचारे और आपसी रिश्तों को मज़बूत करने वाला दीन बनाया है। मुसलमानों के दिलों को जोड़ने, नफ़रतों को मिटाने और आपसी मोहब्बत को बढ़ाने के लिए शरीअत ने कई तरीक़े बताए हैं। उन्हीं में से एक मुसाफ़हा (हाथ मिलाना) और दूसरा दस्तबोसी (हाथ चूमना) है। लेकिन अफ़सोस कि आज इन दोनों मसाइल में ग़लत फ़हमियाँ पैदा हो गई हैं। कुछ लोग दस्तबोसी को ऐसा ज़रूरी समझ बैठे हैं कि जो व्यक्ति दस्तबोसी न करे, उसे बे-अदब और गुस्ताख़ तक कह दिया जाता है, जबकि शरीअत का हुक्म इससे अलग है। मुसाफ़हा की फ़ज़ीलत 1- गुनाहों की माफ़ी हज़रत बराअ बिन आज़िब रज़ियल्लाहु अन्हु से रिवायत है कि रसूलुल्लाह ﷺ ने फ़रमाया: "जब दो मुसलमान आपस में मुलाक़ात करें और मुसाफ़हा करें, तो उनके अलग होने से पहले उनके गुनाह माफ़ कर दिए जाते हैं।" 📚 (सुनन अबू दाऊद, हदीस: 5212, सुनन तिर्मिज़ी, हदीस: 2727) 2- दिलों की सफ़ाई और मग़फ़िरत रसूलुल्लाह ﷺ ने फ़रमाया: "जो मुसलमान अपने भाई से इस हाल में मु...

مصافحہ اور دست بوسی

مصافحہ اور دست بوسی: حقیقت، فضیلت اور ہماری ذمہ داری قرآن و حدیث کی روشنی میں ایک تفصیلی مضمون اللہ تعالیٰ نے اسلام کو محبت، بھائی چارے اور باہمی تعلقات کو مضبوط کرنے والا دین بنایا ہے۔ مسلمانوں کے دلوں کو جوڑنے، نفرتوں کو مٹانے اور آپس میں محبت بڑھانے کے لیے شریعت نے کئی طریقے بتائے ہیں۔ انہی میں سے ایک مصافحہ (ہاتھ ملانا) اور دوسرا دست بوسی (ہاتھ چومنا) ہے۔ لیکن افسوس کہ آج ان دونوں مسائل میں غلط فہمیاں پیدا ہو گئی ہیں۔ کچھ لوگ دست بوسی کو ایسا ضروری سمجھ بیٹھے ہیں کہ جو شخص دست بوسی نہ کرے، اسے بے ادب اور گستاخ تک کہہ دیا جاتا ہے، حالانکہ شریعت کا حکم اس سے مختلف ہے۔ مصافحہ کی فضیلت 1- گناہوں کی معافی حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جب دو مسلمان آپس میں ملاقات کریں اور مصافحہ کریں تو ان کے جدا ہونے سے پہلے ان کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔" 📚 (سنن ابی داؤد، حدیث: 5212، سنن ترمذی، حدیث: 2727) 2- دلوں کی صفائی اور مغفرت رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جو مسلمان اپنے بھائی سے اس حال میں مصافحہ کرے کہ ان دونوں میں سے کسی کے دل میں دوسرے کے ...

طبری شیعہ تھا

*طبری نے حضرت امیر معاویہ پر لعنت کیوں بھیجی* السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ  کیا فرماتے ہیں علمائے اہلسنت اس مسئلہ میں کہ امام طبری نے حضرت امیر معاویہ پر لعنت ہو لکھا ہے اس بارے میں رہنمائی فرمائے ،،، مصباح الدین و علیکم السلام و رحمتہ اللہ و برکاتہ  الجواب ھو الھادی الی الصواب ابن جریر طبری شیعہ سنی کے درمیان متنازع شخصیت ہے، طبری کا جھکاؤ شیعہ کی طرف تھا طبری کا بھانجا خود اپنے ان اشعار میں فخریہ انداز میں ذکر کرتا ہے با مل مولدی و بنو جریر فاخو الی و یحکی المرء خالہ فھا انا رافضی عن کلا لہ (الکنی والا لقاب جلد اول) ترجمہ مقام مل میری جاۓ پیدائش ہے, اور جریر کے بیٹے میرے ماموں ہے، اور آدمی اپنے ماموں کے مشابہ ہوتا ہے،ہاں ہاں میں جدی پشتی شیعہ ہوں اور میرے سوا شیعہ کہلانے والا جدی پشتی نہیں بلکہ دور کا شیعہ ہے اس شعر میں خود اقرار کیا یے ابن جریر طبری شیعہ ہے اس لیے جو بات طبری کی عقائد اہلسنت کے موافق ہوں گی ،  اس کو تو ہم قبول کرسکتے ہیں، لیکن اگر طبری کی کوئی بات عقائد اہلسنت کے خلاف ہوگی اس کو ہم قبول نہیں کریں گے۔ لہٰذا جس روایت کے تعلق سے آپنے سوال کیا یے،...

غیر برادری میں نکاح

بسم اللہ الرحمن الرحیم السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ السؤال: کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ میں کہ ایک عورت طلاق یافتہ ہے اور عدت پوری کر چکی ہے۔ اب وہ دوبارہ نکاح کرنا چاہتی ہے، لیکن اس کی برادری میں مناسب رشتہ نہیں مل رہا۔ مثال کے طور پر عورت پٹھان برادری سے ہے جبکہ ایک دیندار اور مناسب لڑکا انصاری برادری میں موجود ہے، مگر والدین صرف برادری کی بنیاد پر اس نکاح پر راضی نہیں ہوتے اور کہتے ہیں کہ شادی اپنی ہی برادری میں ہوگی۔ ایسی صورت میں اگر عورت کو گناہ میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہو تو کیا حکم ہے؟ کیا بالغ، عاقل اور طلاق یافتہ عورت اپنی مرضی سے نکاح کر سکتی ہے؟ قرآن و حدیث اور فقہِ حنفی کی روشنی میں مدلل جواب عنایت فرمائیں۔ سائل: ابراہیم خان الجواب وباللہ التوفیق: اگر عورت بالغ، عاقل ہو اور اپنی عدت مکمل کر چکی ہو تو شریعتِ اسلامیہ نے اسے نکاح کے معاملہ میں ایک خاص اختیار دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ﴿فَلَا تَعْضُلُوهُنَّ أَنْ يَّنْكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ إِذَا تَرَاضَوْا بَيْنَهُمْ بِالْمَعْرُوفِ﴾ ترجمہ: "تم انہیں اس بات سے نہ روکو کہ وہ اپنے (پسند کے...

اسلام میں ذات پات نسل

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ وَّ اُنْثٰى وَ جَعَلْنٰكُمْ شُعُوْبًا وَّ قَبَآىٕلَ لِتَعَارَفُوْاؕ-اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ(13)   ترجمۂ کنز الایمان اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد اورایک عورت سے پیدا کیا اور تمہیں شاخیں اور قبیلے کیا کہ آپس میں پہچان رکھو بیشک اللہ کے یہاں تم میں زیادہ عزت والا وہ جو تم میں زیادہ پرہیزگارہے بیشک اللہ جاننے والا خبردار ہے۔   تفسیر صراط الجنان { یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ وَّ اُنْثٰى : اے لوگو!ہم نے تمہیں  ایک مرداورایک عورت سے پیدا کیا۔} ارشاد فرمایا :اے لوگو!ہم نے تمہیں  ایک مرد حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اورایک عورت حضرت حوا رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا سے پیدا کیا اورجب نسب کے اس انتہائی درجہ پر جا کر تم سب کے سب مل جاتے ہو تو نسب میں  ایک دوسرے پر فخر اوربڑائی کا اظہار کرنے کی کوئی وجہ نہیں ، سب برابر ہو اور ایک جدِّ اعلیٰ کی اولاد ہو (اس لئے نسب کی وجہ سے ایک دوسرے پر فخر کا اظہار نہ کرو) ...

کعبہ کا ماڈل رکھنا

السؤال: گھروں میں کعبۂ معظمہ، گنبدِ خضریٰ یا اولیائے کرام کی درگاہوں کے ماڈل (نمونے) رکھنا کیسا ہے؟ الجواب وباللہ التوفیق: اگر یہ ماڈل صرف بطورِ سجاوٹ، یادگار یا تعظیم کے لیے رکھے جائیں، ان کی عبادت نہ کی جائے، نہ ان سے کسی قسم کی غیبی مدد مانگی جائے، تو فی نفسہٖ اس میں شرک نہیں۔ البتہ گھروں میں ایسی چیزیں رکھنا جن کا کوئی دینی یا دنیوی فائدہ نہ ہو، محض نمائش اور آرائش کے لیے ہو، اس سے بچنا بہتر ہے، خصوصاً جب اس میں فضول خرچی یا بے ادبی کا اندیشہ ہو۔ اگر ان ماڈلز کی ایسی تعظیم کی جائے جو عبادت سے مشابہ ہو، یا ان کے متعلق باطل عقائد رکھے جائیں، تو یہ ناجائز اور گمراہی کا سبب ہوگا۔ لہٰذا بہتر یہی ہے کہ گھر کو قرآنِ کریم کی تلاوت، ذکرِ الٰہی، نماز اور دینی تعلیم سے آباد رکھا جائے، کیونکہ اصل برکت انہی اعمال میں ہے، نہ کہ محض ماڈل رکھنے میں۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب دارالافتاء گلزار طیبہ مفتی ابو احمد ایم جے اکبری صاحب بفیضِ روحانی علامہ غلام رسول سعیدی رحمۃ اللہ علیہ