محرم الحرام میں نکاح کرنا جائز ہے محرم الحرام اسلامی سال کا ایک بابرکت اور محترم مہینہ ہے، لیکن شریعتِ مطہرہ میں ایسا کوئی حکم موجود نہیں کہ اس مہینے میں نکاح یا شادی بیاہ ممنوع ہو۔ قرآن و حدیث اور فقہائے کرام کے اقوال سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ نکاح سال کے ہر مہینے میں جائز اور سنت ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّلَا مُؤْمِنَةٍ اِذَا قَضَى اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗۤ اَمْرًا اَنْ يَّكُوْنَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ اَمْرِهِمْ﴾ (سورۂ احزاب: 36) ترجمہ: کسی مسلمان مرد اور عورت کے لیے یہ جائز نہیں کہ جب اللہ اور اس کا رسول کسی بات کا فیصلہ فرما دیں تو انہیں اپنے معاملے میں کوئی اختیار باقی رہے۔ نیز اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَمَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ وَمَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا﴾ (سورۂ حشر: 7) ترجمہ: رسول تمہیں جو کچھ عطا فرمائیں وہ لے لو اور جس سے منع فرمائیں اس سے باز رہو۔ محرم الحرام میں نکاح سے متعلق قرآن و حدیث میں کوئی ممانعت وارد نہیں ہوئی، لہٰذا اسے ناجائز یا ممنوع قرار دینا درست نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میت پر تین دن سے زیادہ سو...
الجواب وباللہ توفیق صورت مسئولہ میں اسلام نے ذبح کی کچھ شرائط بیان کی ہیں ،جن میں سے کچھ یہ ہیں : ذبح کرنے والا، صاحب عقل و شعور ہو اور وہ مسلمان یا کم از کم کتابی ہو اور وہی ذبح کا مباشر ہو یعنی اپنے قصد و اختیار سے جانور کے گلے کی رگیں کاٹےاوروقت ذبح ،ذبح کرنے والاخوداللہ تعالی کانام لے،قصدانام خدالیناترک نہ کرے۔ جبکہ الیکٹرک چھری سے ذبح کرنے کی صورت میں مشینی ذبح کی طرح جانور کے گلے کی رگیں کاٹنے والا کوئی صاحب عقل و شعور مسلمان یا کتابی نہیں ہوتا بلکہ ذبح کرنے والی ایک بے جان چیز ہے، لہذا الیکٹرک چھری سے ذبح کیا ہوا جانور دیگر مشینی ذبیحوں کی طرح حرام و مردار ہو گا۔(فتاویٰ یورف صفحہ 486) واللہ اعلم بالصواب کتبہ ابو احمد ایم جے اکبری