نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

हाथ को चुमने

सवाल: किन किन लोगों के हाथ चूमने चाहिए? क्या हर किसी का हाथ चूमना ज़रूरी है? कुछ लोग मुसाफ़हा करते वक़्त अपना हाथ आगे बढ़ाकर गोया हाथ चुमवाने की ख़्वाहिश रखते हैं, इस बारे में शरई रहनुमाई फ़रमाएँ। अल-जवाब बि'औनिल मलिकिल वह्हाब हाथ चूमना (बोसा-ए-यद) फ़ी-नफ़्सिही जायज़ है, बल्कि बाज़ मौक़ों पर अकाबिर-ए-दीन, वालिदैन, असातिज़ा और अहल-ए-इल्म व तक़वा की ताज़ीम के लिए मुस्तहब भी है। हज़रत ज़ारे' रज़ियल्लाहु अन्हु फ़रमाते हैं: "فَجَعَلْنَا نَتَبَادَرُ مِنْ رَوَاحِلِنَا فَنُقَبِّلُ يَدَ النَّبِيِّ ﷺ" "हम अपनी सवारियों से जल्दी जल्दी उतरने लगे और नबी करीम ﷺ के दस्त-ए-मुबारक को चूमने लगे।" 📖 (सुनन अबू दाऊद, हदीस: 5225) इसी तरह सहाबा-ए-किराम रज़ियल्लाहु अन्हुम से बुज़ुर्गों और अहल-ए-फ़ज़्ल के हाथ चूमना मन्क़ूल है। इमाम नववी रहमतुल्लाहि अलैहि फ़रमाते हैं: "يُسْتَحَبُّ تَقْبِيلُ يَدِ الرَّجُلِ الصَّالِحِ وَالْعَالِمِ وَنَحْوِهِمَا" "नेक आदमी, आलिम-ए-दीन और इन जैसे अहल-ए-फ़ज़्ल के हाथ चूमना मुस्तहब है।" 📖 (अल-अज़कार, सफ़्हा 255) अलबत्ता ह...
حالیہ پوسٹس

کن کن کے ہاتھوں کو بوسہ

سوال: کن کن لوگوں کے ہاتھ چومنے چاہئیں؟ کیا ہر کسی کا ہاتھ چومنا ضروری ہے؟ بعض لوگ مصافحہ کے وقت اپنا ہاتھ آگے بڑھا کر گویا ہاتھ چوموانے کی خواہش رکھتے ہیں، اس بارے میں شرعی رہنمائی فرمائیں۔ الجواب بعون الملک الوہاب ہاتھ چومنا (بوسۂ ید) فی نفسہٖ جائز ہے، بلکہ بعض مواقع پر اکابرِ دین، والدین، اساتذہ اور اہلِ علم و تقویٰ کی تعظیم کے لیے مستحب بھی ہے۔ حضرت زارع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: "فَجَعَلْنَا نَتَبَادَرُ مِنْ رَوَاحِلِنَا فَنُقَبِّلُ يَدَ النَّبِيِّ ﷺ" "ہم اپنی سواریوں سے جلدی جلدی اترنے لگے اور نبی کریم ﷺ کے دستِ مبارک کو چومنے لگے۔" (سنن ابی داود، حدیث: 5225) اسی طرح صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے بزرگوں اور اہلِ فضل کے ہاتھ چومنا منقول ہے۔ امام نووی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "يُسْتَحَبُّ تَقْبِيلُ يَدِ الرَّجُلِ الصَّالِحِ وَالْعَالِمِ وَنَحْوِهِمَا" "نیک آدمی، عالمِ دین اور ان جیسے اہلِ فضل کے ہاتھ چومنا مستحب ہے۔" (الأذكار، ص: 255) البتہ ہر شخص کا ہاتھ چومنا نہ ضروری ہے اور نہ ہی شرعاً مطلوب۔ نیز کسی شخص کا لوگوں سے اپنے ہاتھ چوموانے کی خوا...

حاجی کا ہاتھ کو بوسہ دینا ضروری نہیں

حاجی کے حج سے واپس آنے کے بعد اس کے ہاتھ یا ہتھیلی چومنے کے بارے میں یہ بات مشہور ہے کہ چونکہ اس نے انہی ہاتھوں سے حجرِ اسود کو بوسہ دیا ہوتا ہے، اس لیے اس کی ہتھیلیاں چومنی چاہئیں۔ کیا اس کی کوئی شرعی حقیقت یا فضیلت ثابت ہے؟ الجواب وباللہ توفیق  حاجی جب واپس آئے تو اس کے گھر میں داخل ہونے سے پہلے اس سے۔سلام و  مصافحہ کرنا اور اس سے اپنے لیے دعائیں کروانا سنت ہے جیسا احادیث مبارکہ میں ہے حضرت ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم حاجی سے ملو تو اسے سلام کرو ، اس سے مصافحہ کرو اور اس سے پہلے کے وہ اپنے گھر میں داخل ہو ۔ اس سے درخواست کرو کہ وہ تمہارے لیے مغفرت طلب کرے ، کیونکہ اس کی مغفرت ہو چکی ہے (اور ایسے شخص کی دعا قبول ہوتی ہے) ۔‘‘ رواہ احمد ۔ کتاب: مشکوٰۃ المصابیح حدیث نمبر: 2538 حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جب کسی حاجی سے ملو تو اسے سلام کرو ، اس سے مصافحہ کرو اور اس کے اپنے گھر میں داخل ہونے سے پہلے اپنے لیے بخشش کی دعا کرواؤ ، کیونکہ وہ بخشا بخشایا ہوا ہے ۔ کتاب: مسند احمد حدیث نمبر: 5371 حضرت عبداللہ بن...

मोहर्रम में निकाह

अस्सलामु अलैकुम व रहमतुल्लाहि व बरकातुहू सवाल : आजकल सोशल मीडिया पर बहुत से लोग सना-ख़्वाँ हज़रत ओवैस रज़ा क़ादरी साहब पर मुहर्रमुल हराम में अपने बच्चों की शादी करने की वजह से एतराज़ कर रहे हैं और कुछ लोग उन्हें नासिबी, यज़ीदी और ख़ारिजी तक कह रहे हैं। जबकि कुछ उलेमा ने मुहर्रम में निकाह को जायज़ बताया है। इस बारे में शरीअत का क्या हुक्म है? अल-जवाब बिस्मिल्लाहिर्रहमानिर्रहीम मुहर्रमुल हराम में निकाह और शादी करना शरीअतन जायज़ है। क़ुरआन, हदीस और फ़ुक़हा-ए-किराम की किसी भी मुस्तनद किताब में मुहर्रम के महीने में निकाह को हराम, नाजायज़ या ममनूअ नहीं बताया गया है। सबसे पहले यह बात याद रखनी चाहिए कि दीन में हलाल और हराम का फैसला अल्लाह तआला और उसके रसूल ﷺ के हुक्म से होता है। अल्लाह तआला फ़रमाता है: "और किसी मुसलमान मर्द और मुसलमान औरत के लिए यह जायज़ नहीं कि जब अल्लाह और उसका रसूल किसी बात का फैसला फ़रमा दें तो फिर उन्हें अपने मामले में कोई इख़्तियार बाकी रहे। और जो अल्लाह और उसके रसूल की नाफ़रमानी करे, वह खुली गुमराही में पड़ गया।" (सूरह अल-अहज़ाब, आयत 36) एक दूसरी जगह इरशाद फ़र...

محرم الحرام میں نکاح

محرم الحرام میں نکاح کرنا جائز ہے محرم الحرام اسلامی سال کا ایک بابرکت اور محترم مہینہ ہے، لیکن شریعتِ مطہرہ میں ایسا کوئی حکم موجود نہیں کہ اس مہینے میں نکاح یا شادی بیاہ ممنوع ہو۔ قرآن و حدیث اور فقہائے کرام کے اقوال سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ نکاح سال کے ہر مہینے میں جائز اور سنت ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّلَا مُؤْمِنَةٍ اِذَا قَضَى اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗۤ اَمْرًا اَنْ يَّكُوْنَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ اَمْرِهِمْ﴾ (سورۂ احزاب: 36) ترجمہ: کسی مسلمان مرد اور عورت کے لیے یہ جائز نہیں کہ جب اللہ اور اس کا رسول کسی بات کا فیصلہ فرما دیں تو انہیں اپنے معاملے میں کوئی اختیار باقی رہے۔ نیز اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَمَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ وَمَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا﴾ (سورۂ حشر: 7) ترجمہ: رسول تمہیں جو کچھ عطا فرمائیں وہ لے لو اور جس سے منع فرمائیں اس سے باز رہو۔ محرم الحرام میں نکاح سے متعلق قرآن و حدیث میں کوئی ممانعت وارد نہیں ہوئی، لہٰذا اسے ناجائز یا ممنوع قرار دینا درست نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میت پر تین دن سے زیادہ سو...

مشین سے ذبح کا حکم

الجواب وباللہ توفیق صورت مسئولہ میں  اسلام نے ذبح کی کچھ شرائط بیان کی ہیں ،جن میں سے کچھ یہ ہیں :  ذبح کرنے والا، صاحب عقل و شعور ہو اور وہ مسلمان یا کم از کم کتابی ہو اور وہی  ذبح کا مباشر ہو  یعنی اپنے قصد و اختیار سے   جانور کے گلے کی رگیں  کاٹےاوروقت ذبح ،ذبح کرنے والاخوداللہ تعالی کانام لے،قصدانام خدالیناترک نہ کرے۔        جبکہ  الیکٹرک چھری سے ذبح کرنے کی صورت میں مشینی ذبح کی طرح جانور کے گلے کی رگیں کاٹنے والا  کوئی صاحب عقل و شعور مسلمان یا کتابی نہیں ہوتا  بلکہ ذبح کرنے والی   ایک بے جان چیز ہے، لہذا الیکٹرک چھری سے ذبح کیا ہوا جانور دیگر مشینی ذبیحوں کی طرح حرام و مردار ہو گا۔(فتاویٰ یورف صفحہ 486) واللہ اعلم بالصواب کتبہ ابو احمد ایم جے اکبری

عید غدیر کی شرعی حیثیت

(*عید غدیر رافضی صحابہ کے گستاخ نے 352ھ میں ایجاد کی تھی*) عید غدیر جیسی عید کا اسلام میں کوئی تصور نہیں ہے، اس نام نہاد بدعتی ناجائز عید کو شیعوں رافضیوں نے گھڑا ہے جو کے 18 ذو الحجہ کو منائی جاتی ہے اور یہی دن حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت کا دن ہے اس عید کی آڑ میں رافضی لوگ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خوشیاں مناتے ہیں، عید غدیر کو ایجاد کرنے والا معز الدولہ احمد بن بویہ ہے 18 ذوالحجہ 352ھ میں بغداد میں عید غدیر منانے کا حکم دیا خوب ڈھول بجائے گئے اور خوشیاں منائی گئیں۔ علامہ ابن کثیر البدایۃ والنھایۃ میں 352ھ کے واقعات میں لکھتے ہیں: 18 ذوالحجہ 352 ہجری کو معز الدولہ نے بغداد شہر کو مزین کرنے کا حکم دیا کہ رات کو بازار کھلے رکھے جائیں، شادیانے اور ڈھول وغیرہ بجائے جائیں اور امراء کے دروازوں پر چراغ روشن رکھے جائیں۔ یہ سارا کچھ ایک بہت ہی قبیح اور بری بدعت عید غدیر خم‘‘ کی خوشی میں کیا گیا۔ (البدایۃ و النھایۃ 11 جلد صفحہ 243) معز الدولہ ایسا بد بخت و خبیث قسم کا رافضی انسان تھا جو کہ صحابہ کا گستاخ تھا اس کے دور میں بغداد کی مساجدوں کے دروازوں پر  ایسی عبارتیں ...