بسم اللہ الرحمن الرحیم السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ السؤال: کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ میں کہ ایک عورت طلاق یافتہ ہے اور عدت پوری کر چکی ہے۔ اب وہ دوبارہ نکاح کرنا چاہتی ہے، لیکن اس کی برادری میں مناسب رشتہ نہیں مل رہا۔ مثال کے طور پر عورت پٹھان برادری سے ہے جبکہ ایک دیندار اور مناسب لڑکا انصاری برادری میں موجود ہے، مگر والدین صرف برادری کی بنیاد پر اس نکاح پر راضی نہیں ہوتے اور کہتے ہیں کہ شادی اپنی ہی برادری میں ہوگی۔ ایسی صورت میں اگر عورت کو گناہ میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہو تو کیا حکم ہے؟ کیا بالغ، عاقل اور طلاق یافتہ عورت اپنی مرضی سے نکاح کر سکتی ہے؟ قرآن و حدیث اور فقہِ حنفی کی روشنی میں مدلل جواب عنایت فرمائیں۔ سائل: ابراہیم خان الجواب وباللہ التوفیق: اگر عورت بالغ، عاقل ہو اور اپنی عدت مکمل کر چکی ہو تو شریعتِ اسلامیہ نے اسے نکاح کے معاملہ میں ایک خاص اختیار دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ﴿فَلَا تَعْضُلُوهُنَّ أَنْ يَّنْكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ إِذَا تَرَاضَوْا بَيْنَهُمْ بِالْمَعْرُوفِ﴾ ترجمہ: "تم انہیں اس بات سے نہ روکو کہ وہ اپنے (پسند کے...
یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ وَّ اُنْثٰى وَ جَعَلْنٰكُمْ شُعُوْبًا وَّ قَبَآىٕلَ لِتَعَارَفُوْاؕ-اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ(13) ترجمۂ کنز الایمان اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد اورایک عورت سے پیدا کیا اور تمہیں شاخیں اور قبیلے کیا کہ آپس میں پہچان رکھو بیشک اللہ کے یہاں تم میں زیادہ عزت والا وہ جو تم میں زیادہ پرہیزگارہے بیشک اللہ جاننے والا خبردار ہے۔ تفسیر صراط الجنان { یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ وَّ اُنْثٰى : اے لوگو!ہم نے تمہیں ایک مرداورایک عورت سے پیدا کیا۔} ارشاد فرمایا :اے لوگو!ہم نے تمہیں ایک مرد حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اورایک عورت حضرت حوا رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا سے پیدا کیا اورجب نسب کے اس انتہائی درجہ پر جا کر تم سب کے سب مل جاتے ہو تو نسب میں ایک دوسرے پر فخر اوربڑائی کا اظہار کرنے کی کوئی وجہ نہیں ، سب برابر ہو اور ایک جدِّ اعلیٰ کی اولاد ہو (اس لئے نسب کی وجہ سے ایک دوسرے پر فخر کا اظہار نہ کرو) ...