الجواب وباللہ توفیق صورت مسئولہ میں اسلام نے ذبح کی کچھ شرائط بیان کی ہیں ،جن میں سے کچھ یہ ہیں : ذبح کرنے والا، صاحب عقل و شعور ہو اور وہ مسلمان یا کم از کم کتابی ہو اور وہی ذبح کا مباشر ہو یعنی اپنے قصد و اختیار سے جانور کے گلے کی رگیں کاٹےاوروقت ذبح ،ذبح کرنے والاخوداللہ تعالی کانام لے،قصدانام خدالیناترک نہ کرے۔ جبکہ الیکٹرک چھری سے ذبح کرنے کی صورت میں مشینی ذبح کی طرح جانور کے گلے کی رگیں کاٹنے والا کوئی صاحب عقل و شعور مسلمان یا کتابی نہیں ہوتا بلکہ ذبح کرنے والی ایک بے جان چیز ہے، لہذا الیکٹرک چھری سے ذبح کیا ہوا جانور دیگر مشینی ذبیحوں کی طرح حرام و مردار ہو گا۔(فتاویٰ یورف صفحہ 486) واللہ اعلم بالصواب کتبہ ابو احمد ایم جے اکبری
(*عید غدیر رافضی صحابہ کے گستاخ نے 352ھ میں ایجاد کی تھی*) عید غدیر جیسی عید کا اسلام میں کوئی تصور نہیں ہے، اس نام نہاد بدعتی ناجائز عید کو شیعوں رافضیوں نے گھڑا ہے جو کے 18 ذو الحجہ کو منائی جاتی ہے اور یہی دن حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت کا دن ہے اس عید کی آڑ میں رافضی لوگ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خوشیاں مناتے ہیں، عید غدیر کو ایجاد کرنے والا معز الدولہ احمد بن بویہ ہے 18 ذوالحجہ 352ھ میں بغداد میں عید غدیر منانے کا حکم دیا خوب ڈھول بجائے گئے اور خوشیاں منائی گئیں۔ علامہ ابن کثیر البدایۃ والنھایۃ میں 352ھ کے واقعات میں لکھتے ہیں: 18 ذوالحجہ 352 ہجری کو معز الدولہ نے بغداد شہر کو مزین کرنے کا حکم دیا کہ رات کو بازار کھلے رکھے جائیں، شادیانے اور ڈھول وغیرہ بجائے جائیں اور امراء کے دروازوں پر چراغ روشن رکھے جائیں۔ یہ سارا کچھ ایک بہت ہی قبیح اور بری بدعت عید غدیر خم‘‘ کی خوشی میں کیا گیا۔ (البدایۃ و النھایۃ 11 جلد صفحہ 243) معز الدولہ ایسا بد بخت و خبیث قسم کا رافضی انسان تھا جو کہ صحابہ کا گستاخ تھا اس کے دور میں بغداد کی مساجدوں کے دروازوں پر ایسی عبارتیں ...