نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

قرعہ نکلا تو عمرہ

الجواب وباللہ توفیق صورت مسئولہ میں ہماری تحقیق کے مطابق سوال میں مذکور تمام صورتیں ناجائز ہے افسوس عمرہ جیسی عبادت کو لوگوں نے کاروبار بنا دیا ہے کہی حلے بہانے تلاش کر کے ایک ناجائز امر کو اپنے فائدے کے لیے جواز کا فتویٰ لینے کے لیے بھٹک رہے ہیں دارالافتاء گلزار طیبہ کا صاف مؤقف ہے کہ ہر وہ صورت جو غیر یقینی نفاع پر مشتمل ہے وہ ناجائز ہے  امام علاء الدین حصکفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: > القمار هو كل لعبٍ يكون فيه أخذُ مالٍ على وجه المخاطرة. ترجمہ: قمار ہر وہ کھیل یا معاملہ ہے جس میں خطرے اور غیر یقینی بنیاد پر مال حاصل کیا جائے۔ (الدر المختار مع رد المحتار)  :شریعت ِمطہرہ میں خرید و فروخت کے جو اصول وضع کیے گئے ہیں اُن کے فقدان کی وجہ سے ایسی بیع جائز نہیں، صورتِ مذکورہ میں ایکؔ ممنوع امر یہ ہے کہ اگر نام نکل آئے تو اس کو بیعہ دیا جائے گا ورنہ نہیں جو کہ شرط فاسد ہے۔ اور دوؔ سرا یہ کہ ہر ایک ممبر اپنا نام نکلنے کا متمنّی ہو تا ہے لیکن پتہ نہیں کہ نکلے یا نہیں، تو گو یا بیع علیٰ خطر الوجود ہونے کی وجہ سے قمار لازم آتا ہے جو کہ بنصِ قرآنی ممنوع ہے اس بناء پر مذکورہ معا ملہ ش...
حالیہ پوسٹس

قسطوں پر گاڑی مکان

🌹 قسطوں اور EMI کے نام پر سود سے بچیں! 🌹 آج کل بہت سے لوگ موبائل، فریج، ٹی وی، بائیک، کار، گھر اور کاروبار کے لیے EMI اور Loan لے رہے ہیں، اور بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ چونکہ ہر ماہ تھوڑی تھوڑی رقم ادا کرنی ہے، اس لیے کوئی گناہ نہیں۔ ⚠️ یہ سوچ درست نہیں! سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ہر EMI حرام نہیں اور ہر قسط سود نہیں۔ اصل حکم معاہدے کی نوعیت پر منحصر ہے۔ 📌 اگر کوئی سامان قسطوں پر ایک مقررہ قیمت میں خریدا جائے اور خریداری کے وقت کل قیمت اور قسطوں کی مدت واضح ہو، تو شرعی شرائط کے ساتھ ایسی خرید و فروخت جائز ہو سکتی ہے۔ قسطوں پرکسی چیز کی  خرید و فرخت کرنا  تجارت کی ایک جائز قسم ہے، جو عام طور پر نقد سے  قدرے زائد قیمت پر بائع (دوکاندار)  اور مشتری (خریدار )کی باہمی رضامندی  سے طے پاتا ہے،  البتہ اس کے صحیح ہونے کے لیےچند  شرائط کی پابندی کرنا ضروری ہے،  اگر ان شرائط کی رعایت نہ کی جائے تو سود  لازم آئے گا جو کہ حرام ہے۔ شرائط مندرجہ ذیل ہیں: 1۔عقد کے وقت  ہی کوئی ایک قیمت متعین کرلی جائے۔ 2۔ ادھار  کی مدت  بھی متعین کرلی ...

خنثی مشکل

سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ حضرت مفتی صاحب! میرا ایک پیدائشی مسئلہ ہے، براہِ کرم شریعت کی روشنی میں میری رہنمائی فرمائیں۔ میرا پرائیویٹ پارٹ عام مردوں کی طرح نہیں ہے۔ میرا عضوِ تناسل بہت چھوٹا ہے، اس میں پیشاب کا سوراخ (یوریتھرا) موجود نہیں ہے، اور دونوں خصیے (Testicles) بھی باہر نہیں ہیں بلکہ پیدائشی طور پر پیٹ کے اندر ہیں۔ میری خواہش ہے کہ میری شناخت مرد کے طور پر ہو، لیکن اپنی پیدائشی کیفیت کی وجہ سے میں شریعت کا حکم جاننا چاہتا/چاہتی ہوں۔ سوال یہ ہے کہ شریعت کی نظر میں میرا حکم کیا ہے؟ کیا مجھے مرد شمار کیا جائے گا یا عورت؟ اور مجھ پر مردوں کے احکام لاگو ہوں گے یا عورتوں کے؟ الجواب وباللہ توفیق صورت مسئولہ میں     شرعی معیار کے مطابق جس پر خنثٰی مشکل کا     نیز خنثٰی مشکل کی تعریف اور اس کی پہچان   کا شرعی معیار  مندرجہ ذیل ہے  :    خنثٰی وہ فرد ہے جس میں مرد و عورت دونوں کے اعضاء ہوں یا دونوں میں سے کوئی عضو نہ ہو ۔ اگر دونوں عضو ہوں،تو  نابالغی کی حالت میں اس  پر  مرد یا عورت  کا حک...

چلتی ریل گاڑی میں نماز

کیا چلتی ریل گاڑی میں یا بس میں جب نماز کے وقت نہ رکے تو نماز پڑھ سکتے ہیں سایل محمد علی جمیلانی سانوا باڑمیر راجستھان  الجواب وباللہ توفیق صورت مسئولہ ایسی صورت میں چلتی گاڑی میں نماز پڑھنا جائز ہے قال اللہ تعالیٰ  وَ لِلّٰهِ الْمَشْرِقُ وَ الْمَغْرِبُۗ-فَاَیْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْهُ اللّٰهِؕ-اِنَّ اللّٰهَ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ(115)  ترجمۂ کنز الایمان اور پورب پچھم سب اللہ ہی کا ہے تو تم جدھر منہ کرو ادھر وجہ اللہ (خدا کی رحمت تمہاری طرف متوجہ) ہے بیشک اللہ وسعت والا علم والا ہے چلتی ہوئی ٹرین میں فرض نماز پڑھنے کا جواز :- اس آیت سے یہ معلوم ہوا کہ سفر میں سواری پر نفل پڑھنا جائز ہیں خواہ سواری کا منہ کسی طرف ہو ‘ اور فرض نماز سواری پر بلا عذر پڑھنا جائز نہیں ہے کیونکہ قبلہ کی طرف منہ کرنا فرض ہے اور بلاعذر فرض ساقط نہیں ہوتا ‘ اور اگر عذر ہو تو پھر جائز ہے ‘ اور اگر راستہ میں کیچڑ ہو اور سوار سے نیچے اتر کر نماز پڑھنے سے کپڑے کیچڑ میں متلوث ہوں تو سواری پر فرض نماز پڑھنا جائز ہے۔ - امام ترمذی   روایت کرتے ہیں : - یعلی بن مرہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول ...

حضرت بلال حبشی اور آذان

حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے متعلق مشہور واقعہ کی حقیقت تمام محدثین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ مشہور واقعہ بالکل جھوٹ، من گھڑت اور موضوع ہے، اور اسے نبی کریم ﷺ کی طرف منسوب کرنا درست نہیں۔ چنانچہ فتاویٰ شارح بخاری میں ہے: ’’آپ نے جو واقعہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے بارے میں لکھا ہے، اس کے قریب قریب بعض کتابوں میں درج ہے، لیکن تمام محدثین کا اس پر اتفاق ہے کہ یہ روایت موضوع، من گھڑت اور بالکلیہ جھوٹ ہے۔‘‘ 📚 (فتاویٰ شارح بخاری، جلد 2، صفحہ 38، مکتبہ برکات المدینہ) لہٰذا حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی زبان میں لکنت ہونے اور اسی وجہ سے انہیں اذان سے روکنے، پھر ان کے اذان دینے پر صبح نہ ہونے وغیرہ کا جو واقعہ بعض واعظین اور قوالوں کی مجالس میں بیان کیا جاتا ہے، اس کی کوئی معتبر شرعی بنیاد نہیں ۔ اسی طرح یہ کہنا بھی درست نہیں کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی زبان میں ایسی لکنت تھی کہ وہ ’’اشہد‘‘ کو درست ادا نہیں کر سکتے تھے۔ اس قسم کی باتیں بغیر تحقیق کے بیان کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔ واللہ اعلم بالصواب کتبہ: ابو احمد محمد رضا نوری قادری حنفی دارالافتاء...

حضرت بلال حبشی اور آذان

حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے متعلق مشہور واقعہ کی حقیقت تمام محدثین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ مشہور واقعہ بالکل جھوٹ، من گھڑت اور موضوع ہے، اور اسے نبی کریم ﷺ کی طرف منسوب کرنا درست نہیں۔ چنانچہ فتاویٰ شارح بخاری میں ہے: ’’آپ نے جو واقعہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے بارے میں لکھا ہے، اس کے قریب قریب بعض کتابوں میں درج ہے، لیکن تمام محدثین کا اس پر اتفاق ہے کہ یہ روایت موضوع، من گھڑت اور بالکلیہ جھوٹ ہے۔‘‘ 📚 (فتاویٰ شارح بخاری، جلد 2، صفحہ 38، مکتبہ برکات المدینہ) لہٰذا حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی زبان میں لکنت ہونے اور اسی وجہ سے انہیں اذان سے روکنے، پھر ان کے اذان دینے پر صبح نہ ہونے وغیرہ کا جو واقعہ بعض واعظین اور قوالوں کی مجالس میں بیان کیا جاتا ہے، اس کی کوئی معتبر شرعی بنیاد نہیں ۔ اسی طرح یہ کہنا بھی درست نہیں کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی زبان میں ایسی لکنت تھی کہ وہ ’’اشہد‘‘ کو درست ادا نہیں کر سکتے تھے۔ اس قسم کی باتیں بغیر تحقیق کے بیان کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔ واللہ اعلم بالصواب کتبہ: ابو احمد محمد رضا نوری قادری حنفی دارالافتاء...

حربی سے سود لینے کا حکم روشن تحقیق

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ  سوال کیا فرماتے ہیں مفتیان اعظم مسلہ ذیل میں ہندستان کے کفار سے سود لینا کیسا اور ہندوستان کی بینکوں سے ملنے والا سود کا کیا حکم ہے اور کیا ہندوستان کے کفار حربی ہے ان سوالات کا جواب عنایت فرمائیں سایل محمد علی سانوا باڑمیر راجستھان  وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ الجواب وباللہ توفیق  تحقیق یہ ہے کہ ہندوستان کے کفار سے بھی سودی معاملات جایز نہیں اور ہندوستان کی بینکوں سے ملنے والا سود بھی حرام ہے اس رقم کو بغیر نیت ثواب کے  کسی غریب کو دے دیں اب آے اس مسلے پر تفصیلی گفتگو کرتے ہیں  دارالحرب کے سود میں جمہور فقہا کا نظریہ علامہ ابن قدامہ حنمبلی فرماتےہے دارالحرب میں سود اسی طرح حرام ہے جس طرح دارال اسلام میں سود حرام ہے امام احمد امام مالک امام اوزاعی امام ابو یسف امام شافعی اور اسحاق کا بھی یہی مزہب ہے امام ابو حنیفہ نے کہا کہ مسلمان اور حربی کے درمیان دارالحرب میں ربا جاری نہیں ہوگا اور ان سے ایک روایت یہ بھی ہے کہ دو شخص دارالحرب میں مسلمان ہو گئے توان کے درمیان ربا (سود) نہیں ہوگا اور ان کے اموال مباح ہیں علامہ غلام رسول س...