نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

زکوٰۃ سے علاج

دارالافتاء گلزار طیبہ تحقیق سینٹر سوال: کچھ مسلمان شرعاً مالکِ نصاب ہوتے ہیں، مگر بیماری اور علاج کے اخراجات میں کافی رقم خرچ ہوجاتی ہے۔ کیا ایسے لوگوں کو زکوٰۃ دے سکتے ہیں؟ اور اگر زکوٰۃ کا حیلۂ شرعی کیا جائے تو اس کا کیا حکم ہے؟ الجواب وباللّٰہ توفیق اگر کوئی مسلمان شرعاً مالکِ نصاب ہے تو محض بیمار ہونے یا علاج کے اخراجات زیادہ ہونے کی وجہ سے وہ زکوٰۃ کا مستحق نہیں ہوجاتا۔ جب تک اس کے پاس حاجتِ اصلیہ سے زائد نصاب کے بقدر مال موجود ہے، اسے زکوٰۃ دینا جائز نہیں۔ البتہ اگر علاج کے ضروری اخراجات اور حاجاتِ اصلیہ کے بعد اس کے پاس نصاب کے بقدر زائد مال باقی نہ رہے تو وہ شرعاً مستحقِ زکوٰۃ ہوسکتا ہے اور اسے زکوٰۃ دی جاسکتی ہے۔ حیلۂ شرعی کے متعلق: حیلۂ شرعی ہر جگہ کرنا درست نہیں اور اسے زکوٰۃ سے بچنے یا غیر مستحق کو زکوٰۃ پہنچانے کا معمول نہیں بنانا چاہیے۔ صرف حقیقی سخت مجبوری اور شرعی ضرورت کی صورت میں معتبر علما کی رہنمائی سے جائز شرعی طریقہ اختیار کیا جاسکتا ہے۔ زکوٰۃ میں اصل تملیکِ مستحق ہے۔ لہٰذا جو بیمار شخص مالکِ نصاب ہونے کی وجہ سے زکوٰۃ کا مستحق نہیں، مسلمانوں کو چاہیے کہ...
حالیہ پوسٹس

کیمیکل والے خضاب

الجواب وبالله التوفيق داڑھی کے بالوں میں مہندی لگانا شرعاً جائز بلکہ مردوں کے لیے خضابِ حناء (مہندی) مستحب ہے، بشرطیکہ اس میں کوئی ناپاک یا شرعاً ممنوع جز شامل نہ ہو۔ لہٰذا بازار کی ایسی مہندی جس کے اجزاء پاک ہوں، استعمال کی جاسکتی ہے؛ البتہ محض مارکیٹ میں دستیاب ہونے کی وجہ سے ہر قسم کی مہندی کو بلا تحقیق جائز نہیں کہا جائے گا۔ مہندی لگانے کے بعد اگر صرف رنگ باقی رہے اور کوئی جرم یا تہہ باقی نہ رہے جو پانی کو بالوں تک پہنچنے سے روکے، تو وضو اور غسل بالکل درست ہیں؛ کیونکہ محض رنگ پانی کے پہنچنے میں مانع نہیں۔ اور اگر کسی مہندی کا ایسا جرم/تہہ بالوں پر باقی رہ جائے جو پانی کو بالوں تک پہنچنے سے روک دے، تو وضو یا غسل سے پہلے اسے دور کرنا ضروری ہے۔ لہٰذا بہتر یہی ہے کہ ایسی مہندی استعمال کی جائے جس میں پاک اجزاء ہوں، خالص سیاہ رنگ نہ ہو اور دھونے کے بعد صرف رنگ باقی رہے، پانی روکنے والی تہہ نہ رہے۔ خلاصہ: مہندی کا صرف رنگ وضو کے لیے مانع نہیں، البتہ پانی روکنے والی تہہ مانع ہے۔ عموماً جو مہندی رائج ہے اسے لگانے کے بعد جب رنگ آجائے تو اس کی تہہ نہیں جمتی، اس لیے اس کا صرف رنگ وضو اور غسل س...

کفار کو جانور فروخت کرنا؟

سوال کفار اپنے بتوں کے نام بکرا چڑاتے ہے تو ان کو بکرا فروخت کرنا کیسا ہے ### الجواب وباللہ توفیق صورتِ مسئولہ میں اگر کوئی غیر مسلم اس مقصد سے بکرا خریدتا ہے کہ اسے اپنے بت کے نام پر چڑھائے گا یا غیر اللہ کے لیے ذبح کرے گا، اور فروخت کرنے والے کو اس مقصد کا علم بھی ہے، تو ایسی صورت میں اسے بکرا فروخت کرنا جائز نہیں؛ کیونکہ یہ گناہ اور غیر اللہ کی عبادت کے کام میں اعانت کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: > وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ”اور گناہ اور زیادتی پر ایک دوسرے کی مدد نہ کرو۔“(سورۃ المائدہ، 5:2) لہٰذا اگر خریدار صاف طور پر بتائے کہ یہ بکرا بت کے نام پر چڑھانے کے لیے ہے، یا فروخت کنندہ کو یقینی طور پر معلوم ہو کہ وہ اسی حرام مذہبی رسم میں استعمال کرے گا، تو اس مقصد کے لیے فروخت کرنا ناجائز ہوگا، اور اس سے اجتناب لازم ہے۔ فتاویٰ رضویہ میں ہے: > ”مسلمان نے مجوسی کی بکری اس کے آتشکدہ کے لیے یا کافر کی بکری ان کے بتوں کے لیے اللہ کے نام سے ذبح کیا تو وہ کھائی جائے گی، کیونکہ مسلمان نے اللہ کے نام سے ذبح کیا ہے، البتہ مسلمان کے لیے اس صورت میں کراہت لکھتے ہ...

منگیتر ‏سے ‏فون ‏پر ‏بات ‏کرنا؟

 منگیتر سے فون پر؟  ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسلے میں کہ جو امام اپنی منگیتر سے واپساپ  سے لوگوں سے چھوپ کر چیٹنگ کرتا ہو اس کے پیچھے نماز میں کوئی کراہت ہوگی؟ وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ  الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق  ۔منگنی کی حیثیت شرعاً صرف وعدہٴ نکاح کی ہے، باقاعدہ وہ نکاح نہیں ہے، اس لیے منگنی کے بعد بھی (لڑکا اور لڑکی) دونوں ایک دوسرے کے حق میں اجنبی ہی برقرار رہتے ہیں، اور جس طر ح منگنی سے پہلے دونوں کے لیے ایک دوسرے سے بلاضرورت بات چیت کرنا اور ملنا جلنا ناجائز ہے، اسی طرح منگنی کے بعد بھی ناجائز ہے، رابطہ فون کے ذریعہ ہویا فیس بک وغیرہ کے ذریعہ، بہرصورت بلاضرورت جائز نہیں ہے، ہاں عقد نکاح مکمل ہوجانے کے بعد دونوں ایک دوسرے کے لیے حلال ہوجاتے ہیں، اور باہم ہرطرح کی گفتگو جائز ہوجاتی ہے۔  امیر اہلسنت حضرت مولانا الیاس قادری دامت برکاتہم فرماتے ہیں  ایک دوسرے کو دیکھنے ، ایک دوسرے سے بات چیت کرنے اور میل جول رکھنے کے معاملے میں شَرْعی ر...

حرام اشیاء سے علاج

الجواب وباللہ توفیق پہلے ہم ممانعت کی احادیث پر کلام کرتے ہیں  حرام چیزوں سے علاج کی ممانعت کے متعلق احادیث : - بعض علماء مذکور ذیل احادیث کی بناء پر حرام دداؤں سے علاج کو ناجائز کہتے ہیں خواہ مریض مرجائے مگر حرام چیزوں سے علاج نہ کرے۔ - امام ابو داؤدروایت کرتے ہیں : - حضرت ام درداء (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالی نے بیماری اور دوا دونوں نازل کی ہیں اور ہر بیماری کے لیے دواء ہے سو تم دوا کرو اور حرام دوا نہ لو۔ (سنن ابوداؤد ج ٢ ص ١٨٥‘ مطبوعہ مطبع مجتبائی ٗ پاکستان ‘ لاہور ١٤٠٥ ھ) - حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خبیث دوا سے منع فرمایا ہے۔ (سنن ابوداؤد ج ٢ ص ١٨٥‘ مطبوعہ مطبع مجتبائی ٗ پاکستان ‘ لاہور ١٤٠٥ ھ) - حضرت سوید بن طارق (رض) بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے شراب کے متعلق پوچھا ‘ آپ نے اس سے منع فرمایا ‘ انہوں نے پھر سوال کیا ‘ آپ نے پھر منع فرمایا ‘ انہوں نے کہا : یا نبی اللہ ! یہ دوا ہے ‘ آپ نے فرمایا : نہیں ‘ بلکہ یہ بیماری ہے (سنن ابوداؤد ج ٢ ص ١٨٥‘ ...

قیامت کے احوال وڈیو سے

قیامت کے مناظر کی AI ویڈیوز بنانے اور دیکھنے کا شرعی حکم السؤال: قیامت کے موضوع پر AI (مصنوعی ذہانت) کے ذریعے فرضی مناظر یا ویڈیوز بنانا، جبکہ بنانے والا خود جانتا ہو کہ یہ حقیقی قیامت کے مناظر نہیں بلکہ محض تخیلاتی منظرکشی ہے، اور ایسی ویڈیوز کو دیکھنا کیسا ہے؟ الجواب وبالله التوفيق شریعتِ اسلامیہ میں قیامت، حشر و نشر، جنت و جہنم اور دیگر امورِ آخرت امورِ غیب میں سے ہیں۔ ان کی حقیقی کیفیت اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے اور رسولِ اکرم ﷺ نے وحی کے ذریعے جو کچھ بیان فرمایا ہے، مسلمان اسی پر ایمان رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ﴿الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ﴾ “وہ لوگ جو غیب پر ایمان رکھتے ہیں۔” (سورۃ البقرۃ: 3) لہٰذا غیبی معاملات کو انسانی تخیل اور فرضی منظرکشی کے ذریعے اپنی مرضی کی شکل میں پیش کرنا شرعی طور پر درست نہیں، کیونکہ اس سے لوگوں کے ذہنوں میں ایسے تصورات پیدا ہوسکتے ہیں جن کی کوئی شرعی بنیاد نہیں۔ اسی طرح قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے بلاعلم بات کہنے سے منع فرمایا: ﴿وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ﴾ “اور اس بات کے پیچھے نہ پڑو جس کا تمہیں علم نہیں۔” ...

قیامت کے احوال وڈیو سے

قیامت کے مناظر کی AI ویڈیوز بنانے اور دیکھنے کا شرعی حکم السؤال: قیامت کے موضوع پر AI (مصنوعی ذہانت) کے ذریعے فرضی مناظر یا ویڈیوز بنانا، جبکہ بنانے والا خود جانتا ہو کہ یہ حقیقی قیامت کے مناظر نہیں بلکہ محض تخیلاتی منظرکشی ہے، اور ایسی ویڈیوز کو دیکھنا کیسا ہے؟ الجواب وبالله التوفيق شریعتِ اسلامیہ میں قیامت، حشر و نشر، جنت و جہنم اور دیگر امورِ آخرت امورِ غیب میں سے ہیں۔ ان کی حقیقی کیفیت اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے اور رسولِ اکرم ﷺ نے وحی کے ذریعے جو کچھ بیان فرمایا ہے، مسلمان اسی پر ایمان رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ﴿الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ﴾ “وہ لوگ جو غیب پر ایمان رکھتے ہیں۔” (سورۃ البقرۃ: 3) لہٰذا غیبی معاملات کو انسانی تخیل اور فرضی منظرکشی کے ذریعے اپنی مرضی کی شکل میں پیش کرنا شرعی طور پر درست نہیں، کیونکہ اس سے لوگوں کے ذہنوں میں ایسے تصورات پیدا ہوسکتے ہیں جن کی کوئی شرعی بنیاد نہیں۔ اسی طرح قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے بلاعلم بات کہنے سے منع فرمایا: ﴿وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ﴾ “اور اس بات کے پیچھے نہ پڑو جس کا تمہیں علم نہیں۔” ...