عرضِ مصنف بسم اللہ الرحمٰن الرحیم الحمدللہ رب العالمین، والصلاۃ والسلام علیٰ سید المرسلین، حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ، وعلیٰ آلہٖ واصحابہٖ اجمعین۔ یہ مختصر رسالہ ’’عصمتِ انبیاء علیہم السلام‘‘ کے موضوع پر ایک تحقیقی کاوش ہے۔ اس کی ترتیب و تحریر میں بالخصوص تفاسیرِ معتبرہ اور کتبِ حدیث و عقائد سے استفادہ کیا گیا ہے۔ دورانِ تحقیق بعض ایسی روایات، واقعات اور تفسیری عبارات سامنے آئیں جن میں انبیائے کرام علیہم السلام، بالخصوص سرکارِ دو عالم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی طرف ایسے الفاظ یا امور کی نسبت کی گئی ہے جن کی صحیح تحقیق اور درست مفہوم کا بیان ضروری ہے۔ اسی مقصد کے پیشِ نظر اس رسالے میں بعض تفاسیر میں مذکور واقعات کی تحقیقی وضاحت، عصمتِ انبیاء علیہم السلام کے اصولی دلائل، اور حضور اکرم ﷺ کی طرف لفظ ’’ذنب‘‘ کی نسبت کی علمی و تحقیقی حیثیت کو واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے، تاکہ اہلِ حق کے عقیدۂ عصمتِ انبیاء علیہم السلام کی صحیح ترجمانی ہو اور ان عبارات کے متعلق پیدا ہونے والے شبہات کا ازالہ کیا جا سکے۔ اس سلسلے میں علامہ غلام رسول سعیدی رحمۃ اللہ علیہ کی تفسیر ’’تبیان القرآن‘‘، شرح صحیح مسلم، حضرت قاضی عی...
السلام علیکم حضرت صاحب *میرے ایک دوست نے ۴ہزار روپیہ مانگے اور کہا ایک مہینے بعد ۵ہزار دے دوں گا- کیا اس طرح کرنا صحیح ہے؟ اور اگر اس طرح کرنا صحیح نہیں ہے تو اس سے بچنے کی کیا صورتیں ہو سکتی ہیں؟* ابراھیم خان، راجستھان انڈیا وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ الجواب وبالله التوفيق صورتِ مسئولہ میں اگر آپ کے دوست نے ₹4,000 قرض مانگتے ہوئے پہلے ہی یہ شرط رکھی کہ ایک ماہ بعد ₹5,000 واپس کرے گا تو یہ معاملہ ناجائز اور سود (ربا) ہے؛ کیونکہ ₹4,000 کے قرض کے بدلے مدت گزرنے پر مشروط طور پر ₹1,000 زائد لینا قرض دینے والے کے لیے مقررہ نفع ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: فَلَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ یعنی: تمہارے لیے تمہاری اصل رقم ہی ہے۔ حضور ﷺ نے صحابہ کرام کو خطبہ دیا اور سود اور اس کی برائیاں بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ ایک ایسا درہم جسے آدمی بطور سود لیتا ہے اللہ کے ہاں 33 مرتبہ زنا کرنے سے زیادہ برا ہے اور سب سے بڑا سود مسلمان کے مال میں سے کچھ لینا ہے۔(مکاشفۃ القلوب، ص 481) 4۔سود میں 70 گناہ ہیں سب سے ادنیٰ گناہ یہ ہے کہ جیسے آدمی اپنی ماں سے نکاح کر لے۔(مکاشفۃ القلوب،ص 481) لہٰذا ₹4,000 قر...