القرآن - سورۃ نمبر 22 الحج آیت نمبر 72 أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ وَاِذَا تُتۡلٰى عَلَيۡهِمۡ اٰيٰـتُـنَا بَيِّنٰتٍ تَعۡرِفُ فِىۡ وُجُوۡهِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا الۡمُنۡكَرَ ؕ يَكَادُوۡنَ يَسۡطُوۡنَ بِالَّذِيۡنَ يَتۡلُوۡنَ عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتِنَا ؕ قُلۡ اَفَاُنَبِّئُكُمۡ بِشَرٍّ مِّنۡ ذٰ لِكُمُ ؕ اَلنَّارُؕ وَعَدَهَا اللّٰهُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ۚ وَبِئۡسَ الۡمَصِيۡرُ ۞ ترجمہ: اور جب ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی تو (ان کی شکل بگڑ جاتی ہے اور) تم ان کے چہروں میں صاف طور پر ناخوشی (کے آثار) دیکھتے ہو۔ قریب ہوتے ہیں کہ جو لوگ ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سناتے ہیں ان پر حملہ کردیں۔ کہہ دو کہ میں تم کو اس سے بھی بری چیز بتاؤں؟ وہ دوزخ کی آگ ہے۔ جس کا خدا نے کافروں سے وعدہ کیا ہے۔ اور وہ برا ٹھکانا ہے ؏
قولِ مولیٰ علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ حضرت مولیٰ علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: “عنقریب یہ امت تہتر (73) فرقوں میں تقسیم ہو جائے گی۔ ان میں بدترین فرقہ وہ ہوگا جو مجھ سے محبت کا دعویٰ کرے گا مگر میرے جیسے اعمال اختیار نہیں کرے گا۔” 📚 حوالہ: تاریخ ابن کثیر، جلد 4، صفحہ 235 مختصر وضاحت: اس قول کا مطلب یہ ہے کہ صرف محبت کا دعویٰ کافی نہیں، بلکہ حقیقی محبت یہ ہے کہ انسان حضرت علی رضی اللہ عنہ کے طریقے، تقویٰ، عدل، دیانت اور سنتِ نبوی کی پیروی کو بھی اختیار کرے۔ اگر کوئی صرف زبان سے محبت کا دعویٰ کرے مگر عمل اس کے خلاف ہو تو وہ حقیقی محبت