دارالافتاء گلزار طیبہ تحقیق سینٹر سوال: کسی مسلمان کو، خصوصاً کسی عالمِ دین کو "حرامی" کہنا شرعاً کیسا ہے؟ الجواب وباللہ التوفیق دارالافتاء گلزار طیبہ تحقیق سینٹر کا فتویٰ یہ ہے کہ کسی مسلمان کو "حرامی" کہنا سخت حرام، ناجائز، فحش گوئی اور سنگین گناہ ہے۔ یہ محض گالی نہیں بلکہ کسی کے نسب پر حملہ اور اس کی عزت و آبرو کو پامال کرنا ہے۔ اور اگر یہ گستاخی کسی عالمِ دین کے ساتھ کی جائے تو اس کا گناہ مزید بڑھ جاتا ہے، کیونکہ علماء کرام انبیاء علیہم السلام کے وارث ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ، وَقِتَالُهُ كُفْرٌ» "مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اور اس سے لڑنا (کفر کے عمل سے مشابہ) ہے۔" (صحیح بخاری، حدیث: 48؛ صحیح مسلم، حدیث: 64) اور فرمایا: «لَيْسَ الْمُؤْمِنُ بِالطَّعَّانِ، وَلَا اللَّعَّانِ، وَلَا الْفَاحِشِ، وَلَا الْبَذِيءِ» "مومن طعنہ دینے والا، لعنت کرنے والا، فحش گو اور بدزبان نہیں ہوتا۔" (جامع ترمذی، حدیث: 1977) لہٰذا جو شخص کسی عالمِ دین کو "حرامی" کہتا ہے، وہ اپنی زبان سے اپنے اخلاق، اپنی تربیت...
السلام عليكم ورحمۃ اللهِ ایک سوال ہے جس کا علم ہونا بہت ضروری ہے سوال یہ ہے کہ آج ہم اکثر عوام و خواص حرمین شریفین کی زیارت کےلئے جاتے ہیں حج و عمرہ کے موقعہ پر تو وہاں کھانے میں نون ویج. چکن مٹن ٹور والوں کی طرف سے آتا ہے جس کے ذبیحہ کے بارے میں معلوم نہیں ہوتا کہ کس کے ہاتھ کا ذبیحہ ہوگا یا مشین کا ذبیحہ ہوگا اور سب حاجی اور عمرہ کرنے والے کھاتے ہیں اسکے بارے میں علماء کرام کیا فرماتے ہیں اس مسئلہ کا جواب ضرور دیں تاکہ ہم سب کی اصلاح ہو محمد انیس رضوی *الجواب وباللہ توفیق* شریعتِ مطہرہ نے حلال جانور کے حلال ہونے کے لیے شرعی طریقے سے ذبح کو شرط قرار دیا ہے۔ اگر یقین یا غالب گمان ہو کہ جانور غیر شرعی طریقے سے ذبح کیا گیا ہے، یا مردار ہے، تو اس کا کھانا جائز نہیں۔ البتہ اگر کسی اسلامی ملک میں مسلمانوں کی طرف سے گوشت فراہم کیا جا رہا ہو اور اس کے غیر شرعی ذبیحہ ہونے کی کوئی معتبر دلیل موجود نہ ہو، تو محض شک اور وہم کی بنیاد پر اسے حرام قرار دینا درست نہیں۔ فقہاء نے فرمایا ہے: «الأصل في أف...