نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

منی ٹرانسفر کا حکم

السلام علیکم و رحمۃاللہ و برکاتہ علماء کرام کی خدمت میں مسئلہ عرض ہے کہ منی(Money) ٹرانسفر کا کاروبار کرنا جس میں ایک ہزار روپے پر سو روپیہ چارج وصول کیا جاتا ہے تو ایسا کرنا درست ہے.. سائل محمد انیس رضوی الجواب وباللہ توفیق صورت مسئولہ  منی ٹرانسفر کا کاروبار کرنا شرعاً درست ہے اور اس پر فیس یا سروس چارجز لینا جائز ہے، بشرطیکہ وہ رقم آپ کی محنت، وقت اور فراہم کردہ خدمات (Services) کی اجرت (فیس) کے طور پر ہو، نہ کہ رقم کے بدلے رقم کا سود۔علماء کرام اور مفتیانِ عظام کے مطابق اس معاملے کی شرعی حیثیت اور درست طریقے کی تفصیل درج ذیل ہے:1۔ جواز کی شرعی وجہ (وجہِ جواز)جب آپ کسی کے پیسے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرتے ہیں، تو آپ اصل میں ایک خدمت (Service) فراہم کر رہے ہوتے ہیں، جسے فقہ اسلامی کی اصطلاح میں "اجارہ" (امورِ نیابت پر اجرت لینا) کہا جاتا ہے۔ آپ جو 100 روپے وصول کر رہے ہیں، وہ رقم کے بدلے رقم کا تبادلہ نہیں ہے، بلکہ آپ کی درج ذیل خدمات کا معاوضہ ہے:آپ کی دکان، انٹرنیٹ، یا بینک اکاؤنٹ کا استعمال۔آپ کا وقت اور محنت۔رقم کو بحفاظت منتقل کرنے کی ذمہ داری۔2۔ سود سے بچنے کے لیے ...
حالیہ پوسٹس

حلال بھی واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے

مفتی صاحب کی بارگاہ میں سوال عرض ہے کہ حلال بھی واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے اس کا مطلب کیا ہے جواب عنایت فرمائیں سایل محمد علی جمیلانی سانوا باڑمیر  الجواب وباللہ توفیق  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا  بے شک حلال بھی واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے، اور ان دونوں کے درمیان کچھ مشتبہ (شک والی) چیزیں ہیں جنہیں بہت سے لوگ نہیں جانتے۔ پس جس شخص نے شبہات سے پرہیز کیا، اس نے اپنے دین اور اپنی عزت کو محفوظ کر لیا، اور جو شخص شبہات میں پڑ گیا، وہ حرام میں مبتلا ہو گیا۔ اس کی مثال اس چرواہے جیسی ہے جو (شاہی) چراگاہ کے ارد گرد اپنے جانور چرائے، تو بہت ممکن ہے کہ وہ اس کے اندر چرنے لگیں۔ سن لو! ہر بادشاہ کی ایک چراگاہ ہوتی ہے اور اللہ کی چراگاہ اس کی حرام کردہ حدود ہیں۔ خبردار! جسم میں گوشت کا ایک لوتھڑا ہے، جب وہ ٹھیک ہو جائے تو پورا جسم ٹھیک رہتا ہے اور جب وہ خراب ہو جائے تو پورا جسم خراب ہو جاتا ہے، سن لو! وہ دل ہے۔“(صحیح البخاری: 52، صحیح مسلم: 1599) یہاں حدیثِ پاک ”إِنَّ الْحَلَالَ بَيِّنٌ وَإِنَّ الْحَرَامَ بَيِّنٌ“ (حلال بھی واضح ہے اور حرام بھی...) کی علمی اور فقہی شروح...

کیا ہر عورت ناقص عقل ہے

دارالافتاء گلزار طیبہ تحقیق سینٹر سوال کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے میں کہ زید نے کہا: "مرد کے مقابلے میں عورت کا درجہ کم ہے، چاہے رابعہ بصری ہوں یا سیدہ فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا، کیونکہ یہ سب ناقص العقل اور ناقص الدین ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نہ ان میں کوئی امام ہوئی، نہ مفتیہ اور نہ فقیہہ۔" کیا زید کا یہ کہنا درست ہے؟ سائل: فقیر قادری عبدالقیوم اسماعیلی الجواب وباللّٰہ التوفيق زید کا مذکورہ کلام اس مطلق انداز میں درست نہیں ، بلکہ اس میں متعدد شرعی مسائل کو باہم خلط کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ (النساء: 34) اس آیت میں مردوں کی قوامیت، کفالت اور گھریلو ذمہ داری بیان ہوئی ہے، یہ حکم نہیں کہ ہر مرد ہر عورت سے علم، تقویٰ اور فضیلت میں افضل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فضیلت کا اصل معیار تقویٰ قرار دیتے ہوئے فرمایا: إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ أَتْقَاكُمْ (الحجرات: 13) یعنی اللہ کے نزدیک زیادہ عزت والا وہ ہے جو زیادہ متقی ہے۔ حدیثِ "ناقصات عقل ودین" کا صحیح مفہوم صحیح بخاری میں حدیثِ "ناقصات عقل ودین...

ووٹ ڈالنے کے

🕌 بسم اللہ الرحمن الرحیم سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! انتخابات کے دوران امیدواروں سے دین کے کام کروانے کے بدلے ووٹ دینا، اور اس کے ساتھ ذاتی طور پر روپیہ لینا شرعاً کیسا ہے؟ الجواب بعون الملک الوہاب وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! ووٹ ایک امانت اور ذمہ داری ہے، اسے ذاتی مال یا کسی دنیاوی فائدے کے بدلے دینا شرعاً درست نہیں۔ اگر کسی امیدوار سے یہ معاملہ طے کیا جائے کہ “آپ ہمیں اتنی رقم دیں یا ذاتی فائدہ پہنچائیں، ہم آپ کو ووٹ دیں گے” تو یہ رشوت کے مفہوم میں داخل ہے، اور رشوت لینا اور دینا دونوں ناجائز ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ﴾ “اور آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق نہ کھاؤ۔” 📖 سورۃ البقرۃ، آیت 188 اور رسول اللہ ﷺ نے رشوت دینے اور لینے والے پر سخت وعید فرمائی ہے: «لَعَنَ رَسُولُ اللهِ ﷺ الرَّاشِيَ وَالْمُرْتَشِيَ» “رسول اللہ ﷺ نے رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے پر لعنت فرمائی۔” 📖 سنن ابی داؤد، جامع ترمذی لہٰذا ووٹ کے بدلے ذاتی طور پر روپیہ لینا جائز نہیں، خواہ رقم کم ہو یا زیادہ۔ البتہ اگر کسی امیدوار سے یہ کہا جائے ک...

زکوٰۃ سے علاج

دارالافتاء گلزار طیبہ تحقیق سینٹر سوال: کچھ مسلمان شرعاً مالکِ نصاب ہوتے ہیں، مگر بیماری اور علاج کے اخراجات میں کافی رقم خرچ ہوجاتی ہے۔ کیا ایسے لوگوں کو زکوٰۃ دے سکتے ہیں؟ اور اگر زکوٰۃ کا حیلۂ شرعی کیا جائے تو اس کا کیا حکم ہے؟ الجواب وباللّٰہ توفیق اگر کوئی مسلمان شرعاً مالکِ نصاب ہے تو محض بیمار ہونے یا علاج کے اخراجات زیادہ ہونے کی وجہ سے وہ زکوٰۃ کا مستحق نہیں ہوجاتا۔ جب تک اس کے پاس حاجتِ اصلیہ سے زائد نصاب کے بقدر مال موجود ہے، اسے زکوٰۃ دینا جائز نہیں۔ البتہ اگر علاج کے ضروری اخراجات اور حاجاتِ اصلیہ کے بعد اس کے پاس نصاب کے بقدر زائد مال باقی نہ رہے تو وہ شرعاً مستحقِ زکوٰۃ ہوسکتا ہے اور اسے زکوٰۃ دی جاسکتی ہے۔ حیلۂ شرعی کے متعلق: حیلۂ شرعی ہر جگہ کرنا درست نہیں اور اسے زکوٰۃ سے بچنے یا غیر مستحق کو زکوٰۃ پہنچانے کا معمول نہیں بنانا چاہیے۔ صرف حقیقی سخت مجبوری اور شرعی ضرورت کی صورت میں معتبر علما کی رہنمائی سے جائز شرعی طریقہ اختیار کیا جاسکتا ہے۔ زکوٰۃ میں اصل تملیکِ مستحق ہے۔ لہٰذا جو بیمار شخص مالکِ نصاب ہونے کی وجہ سے زکوٰۃ کا مستحق نہیں، مسلمانوں کو چاہیے کہ...

کیمیکل والے خضاب

الجواب وبالله التوفيق داڑھی کے بالوں میں مہندی لگانا شرعاً جائز بلکہ مردوں کے لیے خضابِ حناء (مہندی) مستحب ہے، بشرطیکہ اس میں کوئی ناپاک یا شرعاً ممنوع جز شامل نہ ہو۔ لہٰذا بازار کی ایسی مہندی جس کے اجزاء پاک ہوں، استعمال کی جاسکتی ہے؛ البتہ محض مارکیٹ میں دستیاب ہونے کی وجہ سے ہر قسم کی مہندی کو بلا تحقیق جائز نہیں کہا جائے گا۔ مہندی لگانے کے بعد اگر صرف رنگ باقی رہے اور کوئی جرم یا تہہ باقی نہ رہے جو پانی کو بالوں تک پہنچنے سے روکے، تو وضو اور غسل بالکل درست ہیں؛ کیونکہ محض رنگ پانی کے پہنچنے میں مانع نہیں۔ اور اگر کسی مہندی کا ایسا جرم/تہہ بالوں پر باقی رہ جائے جو پانی کو بالوں تک پہنچنے سے روک دے، تو وضو یا غسل سے پہلے اسے دور کرنا ضروری ہے۔ لہٰذا بہتر یہی ہے کہ ایسی مہندی استعمال کی جائے جس میں پاک اجزاء ہوں، خالص سیاہ رنگ نہ ہو اور دھونے کے بعد صرف رنگ باقی رہے، پانی روکنے والی تہہ نہ رہے۔ خلاصہ: مہندی کا صرف رنگ وضو کے لیے مانع نہیں، البتہ پانی روکنے والی تہہ مانع ہے۔ عموماً جو مہندی رائج ہے اسے لگانے کے بعد جب رنگ آجائے تو اس کی تہہ نہیں جمتی، اس لیے اس کا صرف رنگ وضو اور غسل س...

کفار کو جانور فروخت کرنا؟

سوال کفار اپنے بتوں کے نام بکرا چڑاتے ہے تو ان کو بکرا فروخت کرنا کیسا ہے ### الجواب وباللہ توفیق صورتِ مسئولہ میں اگر کوئی غیر مسلم اس مقصد سے بکرا خریدتا ہے کہ اسے اپنے بت کے نام پر چڑھائے گا یا غیر اللہ کے لیے ذبح کرے گا، اور فروخت کرنے والے کو اس مقصد کا علم بھی ہے، تو ایسی صورت میں اسے بکرا فروخت کرنا جائز نہیں؛ کیونکہ یہ گناہ اور غیر اللہ کی عبادت کے کام میں اعانت کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: > وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ”اور گناہ اور زیادتی پر ایک دوسرے کی مدد نہ کرو۔“(سورۃ المائدہ، 5:2) لہٰذا اگر خریدار صاف طور پر بتائے کہ یہ بکرا بت کے نام پر چڑھانے کے لیے ہے، یا فروخت کنندہ کو یقینی طور پر معلوم ہو کہ وہ اسی حرام مذہبی رسم میں استعمال کرے گا، تو اس مقصد کے لیے فروخت کرنا ناجائز ہوگا، اور اس سے اجتناب لازم ہے۔ فتاویٰ رضویہ میں ہے: > ”مسلمان نے مجوسی کی بکری اس کے آتشکدہ کے لیے یا کافر کی بکری ان کے بتوں کے لیے اللہ کے نام سے ذبح کیا تو وہ کھائی جائے گی، کیونکہ مسلمان نے اللہ کے نام سے ذبح کیا ہے، البتہ مسلمان کے لیے اس صورت میں کراہت لکھتے ہ...