وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ الجواب وباللہ توفیق صورت مسئولہ میں شرعی نقطہ نظر سے کسی سنی صحیح العقیدہ مسلمان کے لیے محض اداکاری، ڈرامے یا سوشل میڈیا ریل (Reel) میں بھی خود پر وہابی یا کسی گمراہ فرقے کا لیبل لگانا، یا دوسرے سنی بھائیوں کا اسے لائیو ویڈیو میں "وہابی" کہہ کر پکارنا پسندیدہ اور موزوں عمل نہیں ہے، اور اس سے احتیاط لازم ہے۔ اگرچہ نیت دین کی اشاعت اور سنی عوام تک درست عقائد پہنچانے کی ہے، لیکن اس طریقے کار میں چند اہم شرعی اور سماجی خرابیاں پائی جاتی ہیں جن کی تفصیل درج ذیل ہے: 1. فتنے اور غلط فہمی کا اندیشہ (عوام الناس کا مغالطہ) سوشل میڈیا پر ہر قسم کے لوگ ریلز دیکھتے ہیں۔ بہت سے سیدھے سادھے عوام ریلز کو حقیقت سمجھ بیٹھتے ہیں یا رول پلے کرنے والے بھائی کو مستقل طور پر "وہابی" سمجھ سکتے ہیں۔ شریعتِ اسلامیہ میں ایسے کاموں سے بچنے کا حکم ہے جس سے انسان خود کو تہمت کی جگہ پر کھڑا کرے اور لوگ اس کے بارے میں بدگمانی میں مبتلا ہوں۔ حضرت صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اعتکاف میں تھے۔ میں ایک رات آپ ﷺ سے ملاقات کے لیے آئی۔ واپسی کے ...
فتویٰ: اذان غلط پڑھنے سے کفر لازم آتا ہے؟ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے میں کہ اذان غلط پڑھنے میں سترہ (17) کلماتِ کفریہ ہیں؟ اگر ہیں تو وہ کفرِ لزومی ہے یا کفرِ التزامی؟ نیز اذان کے الفاظ غلط پڑھنے والے کا شرعی حکم کیا ہے؟ المستفتی: ابراہیم خان، راجستھان، انڈیا الجواب بعون الملک الوہاب اذان اسلام کا ایک عظیم شعار ہے، اس کے کلمات کو صحیح تلفظ اور درست ادائیگی کے ساتھ ادا کرنا ضروری ہے۔ اذان کے الفاظ میں ایسی غلطی کرنا جس سے معنی بدل جائیں، شرعاً ناجائز ہے، اور بعض صورتوں میں اذان بھی درست نہیں ہوتی۔ صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ تحریر فرماتے ہیں: ”کلماتِ اذان میں لحنِ جلی حرام ہے، مثلاً اللہ یا اکبر کے ہمزہ کو مد کے ساتھ آللہ یا آکبر پڑھنا، یونہی اکبر میں بے کے بعد الف بڑھانا حرام ہے۔“ (بہارِ شریعت، جلد 1، حصہ 3، صفحہ 468، مکتبۃ المدینہ) سترہ کلماتِ کفریہ کی تحقیق اذان میں غلط پڑھنے کی وجہ سے سترہ (17) کلماتِ کفریہ ہونے کی بات کسی مستند شرعی دلیل سے ہمارے سامنے ثابت نہیں۔ اس لیے بلا تحقیق اس بات کو بی...