نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

اصول نوٹس دارالافتاء

📢 तवज्जोह फरमाएं 📢 दारुल इफ्ता में सवाल करने वाले हज़रात से गुज़ारिश है कि सवाल भेजने से पहले ग्रुप की डिस्क्रिप्शन में दिए गए दारुल इफ्ता के उसूल ज़रूर पढ़ लें, फिर अपना सवाल करें। बार-बार समझाने के बावजूद अक्सर लोग अपना पूरा नाम, पता या मुकम्मल तआरुफ़ नहीं लिखते, या सवाल के साथ भेजते ही नहीं। ऐसी सूरत में जवाब देने में दिक्कत पेश आती है, इसलिए कई सवालात का जवाब नहीं दिया जाता। 📖 शरीअत का मसला बहुत नाज़ुक अमानत है। अधूरी मालूमात की बुनियाद पर सही जवाब देना मुश्किल हो जाता है। इसलिए सवाल भेजते वक्त: ✍️ अपना नाम ✍️ मुकम्मल पता ✍️ ज़रूरी तफ़सील ज़रूर लिखें, ताकि सही और मुतमइन जवाब दिया जा सके। 🌹 याद रखिए! अदब और उसूल की पाबंदी इल्म में बरकत और सही रहनुमाई का ज़रिया है। दारुल इफ्ता के उसूल पढ़कर ही सवाल करें। जज़ाकुमुल्लाहु खैरन 🌸
حالیہ پوسٹس

ہدایت و گمراہ کن

القرآن - سورۃ نمبر 17 الإسراء آیت نمبر 15 أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ مَنِ اهۡتَدٰى فَاِنَّمَا يَهۡتَدِىۡ لِنَفۡسِهٖ ‌ۚ وَمَنۡ ضَلَّ فَاِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيۡهَا‌ ؕ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰى‌ ؕ وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِيۡنَ حَتّٰى نَبۡعَثَ رَسُوۡلًا ۞ ترجمہ: جو شخص ہدایت اختیار کرتا ہے تو اپنے لئے اختیار کرتا ہے اور جو گمراہ ہوتا ہے تو گمراہی کا ضرر بھی اسی کو ہوگا اور کوئی شخص کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا اور جب تک ہم پیغمبر نہ بھیج لیں عذاب نہیں دیا کرتے

قربانی کے جانور میں عیب ہو جائے

ایک شخص ہے اس نے ایک بکری قربانی کے لیے خاص کی اس کی وجہ سے اس خاص بکری کی پسند کی ہوئی بکری کی قربانی کرنی واجب ہوتی ہے اب ایام قربانی اتے اتے اس بکری میں جس کو قربانی کے لیے خاص کیا تھا نقص پیدا ہو گیا اب سوال یہ ہے کہ جو جانور قربانی کے لیے خاص کیا ہو اسی جانور کی قربانی واجب ہوتی ہے اگر اس میں کوئی نقص ا جائے تو کیا اب بھی اس کی قربانی واجب ہے یا اس نقص کی وجہ سے کوئی اور جانور ذبح کرنا جائز ہے ذرا اس بات پر مفتیان کرام روشنی ڈالیں اور قران و حدیث کی روشنی میں جواب ارسال فرمائیں  وما توفیق الا باللہ  سائل منتظر نظر رحمت ماتحت دست برکت مولانا محمد سمیر برکاتی وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ الجواب وباللہ توفیق صورت مسئولہ میں اگر شخص غنی ہے تو اسے دوسرے جانور کی قربانی کرنا واجب ہے کہ جس جانور میں عیب ہو جائے وہ قربانی کے لائق نہیں رہتا  بدائع الصنائع، ہندیہ اور رد المحتار میں ہے:واللفظ للاول:”لو كان فی ملك انسان شاة فنوى ان يضحی بها او اشترى شاة ولم ينو الاضحية وقت الشراء،ثم نوى بعد ذلك ان يضحی بها لا يجب عليه سواء كان غنيا او فقيرا “یعنی اگر کسی شخص کی ملکیت میں بک...

قرا انداز

سوال میں ذکر کردہ اسکیم قرآن و حدیث کے خلاف اور جوئے پر مشتمل ہونے کی وجہ سے ناجائز و حرام ہے۔ نیزاس کی خرابیوں میں سے یہ بھی ہے کہ  جوئے کے ذریعے جو مال ملے گا، وہ لینا حرام اور دوسروں کا مال باطل طریقے سے کھانا کہلاتا ہے۔پھر مالِ حرام سے کیا جانے  والا عمرہ بھی اللہ عزوجل کی پاک بارگاہ میں قبول نہیں ہوتا۔ لہذا بحیثیتِ مسلمان اس اسکیم سے بچنا شرعاً لازم ہے۔ نیز اس اسکیم کی سر پرستی کرنے والوں کو بھی حکمتِ عملی سے شرعی حکم بتاتے ہوئے یہ اسکیم ختم کرنے کی ترغیب دلائیں، بلکہ انہیں خود بھی چاہئے کہ اس شیطانی عمل سے بچیں اور اپنی آخرت داؤ پر نہ لگائیں۔ لفظ ’’قمار‘‘ ’’قمر‘‘سے بنا ہے جو گھٹتا اور بڑھتا رہتا ہےاور قمار کو قمار اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس میں بھی بازی لگانے والوں میں سے ہر ایک کا مال دوسرے کے پاس جانا، ممکن ہوتا  ہے اور وہ مدِ مقابل کے مال سے نفع حاصل کر لیتا ہے ،پس اس طرح ان میں سے ہر ایک کا  مال بھی کبھی گھٹتا ہے اور کبھی بڑھتا ہے ،پس جب مال جانبین سے مشروط ہو ،تو یہ قمار ہو گا اور قمار حرام ہے ،اس لیے کہ اس  میں اپنے مال کو خطرےپر پیش کرنا ہےاور یہ جائز...

حرمت مصاہرت

السلام علیکم حضرت صاحب * حرمت مشاہرت کب اور کس کس طرح ہو سکتی ہے اور کیا میری عووت کو میں گالی دوں اس کی ماں کی تو بھی کیا حرمت مشاہرت ثابت ہو جاتی ہے؟* * وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ الجواب وباللہ توفیق  یہ مسئلہ ذہن نشین رہے کہ حرمتِ مصاہرت ثابت ہونے کے لیے اس لڑکے یا لڑکی کا حد شہوت کو پہنچنا ضروری ہے یعنی لڑکےکاکم ازکم بارہ سال اورلڑکی کاکم ازکم   نوسال  کا ہونا ضروری ہے، اس سے پہلے حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوتی۔ لہذا بالکل چھوٹے نومولود بچےیابچی کو شہوت سے چھونے میں حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوگی،کیونکہ یہ حد شہوت کو پہنچے ہوئے نہیں ہیں۔    چنانچہ  حرمتِ مصاہرت ثابت ہونے کے متعلق در مختار میں ہے:”(هذا إذا كانت ‌حية ‌مشتهاة) ولو ماضيا(أما غيرها)يعني الميتة وصغيرة لم تشته(فلا)تثبت الحرمة بها أصلا...وكذا تشترط الشهوة في الذكر؛فلو جامع غير مراهق زوجة أبيه لم تحرم“ترجمہ:حرمت مصاہرت اس وقت ثابت ہوگی جب عورت زندہ اور حد شہوت تک پہنچی ہو اگر چہ بوڑھی ہو اگر اس کے علاوہ ہو یعنی مُردہ عورت یا چھوٹی بچی جو حد شہوت تک نہ پہنچی ہو(نو برس سے کم عمر کی لڑکی ہو)تو ...

واٹساپ پر سلام

دارالافتاء گلزارِ طیبہ سوال: السلام علیکم حضرت صاحب! کون سا سلام “سلامِ تحیّت” کہلاتا ہے؟ کیا واٹس ایپ (WhatsApp) پر کیا گیا سلام بھی سلامِ تحیّت میں شمار ہوتا ہے، خواہ وہ وائس میسج (voice message) ہو یا ٹیکسٹ میسج (Text message)؟ اور کیا اس کا جواب دینا شرعاً لازم (واجب) ہے؟ الجواب وباللہ التوفیق: “سلامِ تحیّت” سے مراد وہ سلام ہے جو مسلمان ایک دوسرے کو بطور دعا دیتے ہیں، جیسے: "السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ" واٹس ایپ (WhatsApp) پر کیا گیا سلام، خواہ وائس میسج کی صورت میں ہو یا ٹیکسٹ میسج کی صورت میں، دونوں صورتوں میں اس کا جواب دینا لازم ہوتا ہے۔ مسئلے کی تفصیل یہ ہے کہ قلم، پین یا پنسل کے ذریعے کسی بات کو لکھنا، زبان سے کلام کرنے کی طرح ہی اپنے مافی الضمیر کو ظاہر کرنا ہے۔ جس طرح زبان سے ایجاب و قبول معتبر ہوتا ہے، اسی طرح فقہائے کرام نے تحریر کو بھی وہی درجہ دیا ہے۔ چنانچہ اگر کسی کے پاس خط کے ذریعے سلام آئے تو اس کا جواب دینا لازم ہے۔ اسی اصول پر جدید ذرائع جیسے واٹس ایپ بھی داخل ہیں، کیونکہ یہ بھی اظہارِ ما فی الضمیر کا ذریعہ ہیں۔ عصرِ حاضر کے علماء نے ان کو ب...