جمعہ کی دوسری اذان کا جواب دینے کا حکم الجواب وباللہ التوفیق جمعہ کے دن خطیب صاحب کے منبر پر بیٹھنے کے بعد جو اذان دی جاتی ہے، اس کا جواب مقتدی حضرات نہ دیں، بلکہ خاموش رہیں، یہی اولیٰ ہے۔ البتہ خطیب صاحب اذان کا جواب دے سکتے ہیں۔ فتاویٰ رضویہ شریف میں ہے: سوال: جمعہ کے روز جب امام منبر پر خطبہ پڑھنے کو آجائے اور اذان کہی جائے تو کلماتِ اذان کا جواب دینا اور بعد ازاں دعائے اذان پڑھنی چاہیے یا نہیں؟ اور حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے نامِ پاک پر اذان میں انگوٹھا چومنا یا خطبہ میں آن حضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے نام پر انگوٹھا چومنا چاہیے یا نہیں؟ جواب: اذانِ خطبہ کے جواب اور اس کے بعد دعا میں امام و صاحبین رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا اختلاف ہے، بچنا اولیٰ اور کریں تو حرج نہیں۔ یوں ہی اذانِ خطبہ میں نامِ پاک پر انگوٹھے چومنا، اس کا بھی یہی حکم ہے۔ (فتاویٰ رضویہ، جلد 8، صفحہ 468، رضا فاؤنڈیشن) فتاویٰ رضویہ کی مذکورہ عبارت سے واضح ہوتا ہے کہ جمعہ کے خطبے کی اذان کا جواب دینے اور اس کے بعد دعا پڑھنے میں اختلاف ہے۔ لہٰذا مقتدی حضرات کے لیے خاموش رہنا اولیٰ ہے، البتہ جواب دینے...
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام ہندہ کا نکاح نابلغی میں زید سے کیا گیا تھا ہندہ اپ بالغ ہو چکی ہے مگر وہ زید کے ساتھ رہنا نہیں چاہتی وہ خلا لینا چاہتی ہے مگر زید خلا کے عوض دس لاکھ روپے مانگ رہا ہے اور ہندہ کی مالی حیثیت اتنی نہیں ہے بعض علما بھی کہتے ہیں کہ مذہب حنفی میں اگر ذیادتی عورت کی طرف سے ہے تو خلا کے عوض جتنا مرضی پڑے اتنا مال لے سکتا ہے کیا اسلام میں اس طرح کا کوئی قانون ہے الجواب بعون الملک الوہاب: فقہِ حنفی میں یہ کہنا درست نہیں کہ اگر قصور عورت کی طرف سے ہو تو شوہر خلع کے عوض جتنا چاہے مال لے سکتا ہے۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ میاں بیوی اللہ کی حدود قائم نہ رکھ سکیں گے تو عورت جو بدلہ دے کر علیحدگی حاصل کرے، اس میں دونوں پر گناہ نہیں۔ خلع کے عوض مال لینے کی گنجائش ہے، لیکن عورت کی مجبوری سے ناجائز فائدہ اٹھانا اور اس پر ناقابلِ برداشت مالی بوجھ ڈالنا درست نہیں۔ لہٰذا محض یہ کہنا کہ عورت کی طرف سے زیادتی ہے، شوہر کے لیے دس لاکھ روپے کا مطالبہ شرعاً جائز ہونے کی دلیل نہیں بن سکتا۔ ”اور تمہارے لیے جائز نہیں کہ تم نے اپنی بیویوں کو ج...