السلام علیکم حضرت صاحب زید اور بکر کی بحث دونوں حضور تاج الشریعہ کے مرید ہیں زید نے بکر سے کہا کہ تمہارے پیچھے نماز نہیں ہوگی بکر نے کہا کیوں ؟ زید نے کہا کہ تم حضور تاج الشریعہ کے مرید ہو اور ویڈیو میں نعت تقریر دیکھتے ہو اور لاؤڈ اسپیکر پر نماز پڑھتے ہو - اور یہ ہمارے پیر کے نزدیک حرام ہے - اور حرام کام کرنے والا فاسق ہے - اور فاسق کے پیچھے نماز جائز نہیں! بکر نے کہا کہ ہمارے اکابر علماء اہلسنت میں اختلاف ہے - کچھ حضرات جائز کہتے ہیں اور کچھ حضرات ناجائز - ہمارے نزدیک دونوں طرف کے علماء ہمارے سر کے تاج ہیں - ہم دونوں طرف کے علماء کا ادب و احترام کرتے ہیں - ہم دونوں کو حق و صحیح مانتے ہیں دونوں حضرات کی اپنی اپنی تحقیق ہے - زید نے کہا کہ دونوں کیسے صحیح ہو سکتے ہیں؟ تم تو اپنے پیر کے فتوے پر عمل نہیں کرتے - مرید کا مطلب ہوتا ہے بِک جانا - تم اب ہمارے پیر کے مرید نہیں رہے - *زید کا کہنا صحیح ہے یا بکر کا؟ علمائے اہلسنت کی بارگاہ میں عرض ہے کہ تسلی بخش اور نصیحت آمیز جواب عنایت فرمائیں؟* الجواب وباللہ التوفیق صورتِ مسئولہ میں اصل مسئلہ “اختلافِ علماء” کو صحیح انداز میں سمجھنے کا ہے، کیو...
السلام علیکم حضرت صاحب آج کل لوگ کان کے اتننے کچے ہو گئے ہیں کہ بغیر تحقیق کئے لوگ کہتے ہیں کہ فلاں عالم ایسے ہیں، فلاں امام ایسا ہے، فلاں شخص ایسا ہے جبکہ کہنے والوں کے پاس نہ کوئی شرعی سبوت ہوتا ہے، ایسے کہنے والوں پر اور ایسا سن کر آگے بڑھانے پر کیا حکم ہے؟ وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاۃ الجواب وباللہ توفیق بغیر تحقیق کسی عالم، امام یا مسلمان کے بارے میں غلط بات کہنا یا سن کر آگے پھیلانا شریعت میں سخت ناجائز اور گناہِ کبیرہ ہے۔ قرآنِ کریم میں واضح حکم ہے: "اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو تحقیق کر لیا کرو" (سورہ الحجرات: 6) اسی طرح بلا تحقیق بات پھیلانے والوں کے بارے میں فرمایا: "اور جس بات کا تمہیں علم نہ ہو اس کے پیچھے نہ پڑو" (سورہ بنی اسرائیل: 36) حدیث شریف میں بھی سخت وعید آئی ہے: نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات بیان کر دے" (صحیح مسلم) حکم کی وضاحت: بغیر ثبوت کسی پر الزام لگانا بہتان ہے۔ کسی کی برائی بیان کرنا اگر سچی بھی ہو تو بلا ضرورت غیبت ہے۔ سنی سنائی بات آگے پھیلان...