نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

خنثی مشکل

سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ حضرت مفتی صاحب! میرا ایک پیدائشی مسئلہ ہے، براہِ کرم شریعت کی روشنی میں میری رہنمائی فرمائیں۔ میرا پرائیویٹ پارٹ عام مردوں کی طرح نہیں ہے۔ میرا عضوِ تناسل بہت چھوٹا ہے، اس میں پیشاب کا سوراخ (یوریتھرا) موجود نہیں ہے، اور دونوں خصیے (Testicles) بھی باہر نہیں ہیں بلکہ پیدائشی طور پر پیٹ کے اندر ہیں۔ میری خواہش ہے کہ میری شناخت مرد کے طور پر ہو، لیکن اپنی پیدائشی کیفیت کی وجہ سے میں شریعت کا حکم جاننا چاہتا/چاہتی ہوں۔ سوال یہ ہے کہ شریعت کی نظر میں میرا حکم کیا ہے؟ کیا مجھے مرد شمار کیا جائے گا یا عورت؟ اور مجھ پر مردوں کے احکام لاگو ہوں گے یا عورتوں کے؟ الجواب وباللہ توفیق صورت مسئولہ میں     شرعی معیار کے مطابق جس پر خنثٰی مشکل کا     نیز خنثٰی مشکل کی تعریف اور اس کی پہچان   کا شرعی معیار  مندرجہ ذیل ہے  :    خنثٰی وہ فرد ہے جس میں مرد و عورت دونوں کے اعضاء ہوں یا دونوں میں سے کوئی عضو نہ ہو ۔ اگر دونوں عضو ہوں،تو  نابالغی کی حالت میں اس  پر  مرد یا عورت  کا حک...
حالیہ پوسٹس

چلتی ریل گاڑی میں نماز

کیا چلتی ریل گاڑی میں یا بس میں جب نماز کے وقت نہ رکے تو نماز پڑھ سکتے ہیں سایل محمد علی جمیلانی سانوا باڑمیر راجستھان  الجواب وباللہ توفیق صورت مسئولہ ایسی صورت میں چلتی گاڑی میں نماز پڑھنا جائز ہے قال اللہ تعالیٰ  وَ لِلّٰهِ الْمَشْرِقُ وَ الْمَغْرِبُۗ-فَاَیْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْهُ اللّٰهِؕ-اِنَّ اللّٰهَ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ(115)  ترجمۂ کنز الایمان اور پورب پچھم سب اللہ ہی کا ہے تو تم جدھر منہ کرو ادھر وجہ اللہ (خدا کی رحمت تمہاری طرف متوجہ) ہے بیشک اللہ وسعت والا علم والا ہے چلتی ہوئی ٹرین میں فرض نماز پڑھنے کا جواز :- اس آیت سے یہ معلوم ہوا کہ سفر میں سواری پر نفل پڑھنا جائز ہیں خواہ سواری کا منہ کسی طرف ہو ‘ اور فرض نماز سواری پر بلا عذر پڑھنا جائز نہیں ہے کیونکہ قبلہ کی طرف منہ کرنا فرض ہے اور بلاعذر فرض ساقط نہیں ہوتا ‘ اور اگر عذر ہو تو پھر جائز ہے ‘ اور اگر راستہ میں کیچڑ ہو اور سوار سے نیچے اتر کر نماز پڑھنے سے کپڑے کیچڑ میں متلوث ہوں تو سواری پر فرض نماز پڑھنا جائز ہے۔ - امام ترمذی   روایت کرتے ہیں : - یعلی بن مرہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول ...

حضرت بلال حبشی اور آذان

حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے متعلق مشہور واقعہ کی حقیقت تمام محدثین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ مشہور واقعہ بالکل جھوٹ، من گھڑت اور موضوع ہے، اور اسے نبی کریم ﷺ کی طرف منسوب کرنا درست نہیں۔ چنانچہ فتاویٰ شارح بخاری میں ہے: ’’آپ نے جو واقعہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے بارے میں لکھا ہے، اس کے قریب قریب بعض کتابوں میں درج ہے، لیکن تمام محدثین کا اس پر اتفاق ہے کہ یہ روایت موضوع، من گھڑت اور بالکلیہ جھوٹ ہے۔‘‘ 📚 (فتاویٰ شارح بخاری، جلد 2، صفحہ 38، مکتبہ برکات المدینہ) لہٰذا حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی زبان میں لکنت ہونے اور اسی وجہ سے انہیں اذان سے روکنے، پھر ان کے اذان دینے پر صبح نہ ہونے وغیرہ کا جو واقعہ بعض واعظین اور قوالوں کی مجالس میں بیان کیا جاتا ہے، اس کی کوئی معتبر شرعی بنیاد نہیں ۔ اسی طرح یہ کہنا بھی درست نہیں کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی زبان میں ایسی لکنت تھی کہ وہ ’’اشہد‘‘ کو درست ادا نہیں کر سکتے تھے۔ اس قسم کی باتیں بغیر تحقیق کے بیان کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔ واللہ اعلم بالصواب کتبہ: ابو احمد محمد رضا نوری قادری حنفی دارالافتاء...

حضرت بلال حبشی اور آذان

حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے متعلق مشہور واقعہ کی حقیقت تمام محدثین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ مشہور واقعہ بالکل جھوٹ، من گھڑت اور موضوع ہے، اور اسے نبی کریم ﷺ کی طرف منسوب کرنا درست نہیں۔ چنانچہ فتاویٰ شارح بخاری میں ہے: ’’آپ نے جو واقعہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے بارے میں لکھا ہے، اس کے قریب قریب بعض کتابوں میں درج ہے، لیکن تمام محدثین کا اس پر اتفاق ہے کہ یہ روایت موضوع، من گھڑت اور بالکلیہ جھوٹ ہے۔‘‘ 📚 (فتاویٰ شارح بخاری، جلد 2، صفحہ 38، مکتبہ برکات المدینہ) لہٰذا حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی زبان میں لکنت ہونے اور اسی وجہ سے انہیں اذان سے روکنے، پھر ان کے اذان دینے پر صبح نہ ہونے وغیرہ کا جو واقعہ بعض واعظین اور قوالوں کی مجالس میں بیان کیا جاتا ہے، اس کی کوئی معتبر شرعی بنیاد نہیں ۔ اسی طرح یہ کہنا بھی درست نہیں کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی زبان میں ایسی لکنت تھی کہ وہ ’’اشہد‘‘ کو درست ادا نہیں کر سکتے تھے۔ اس قسم کی باتیں بغیر تحقیق کے بیان کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔ واللہ اعلم بالصواب کتبہ: ابو احمد محمد رضا نوری قادری حنفی دارالافتاء...

حربی سے سود لینے کا حکم روشن تحقیق

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ  سوال کیا فرماتے ہیں مفتیان اعظم مسلہ ذیل میں ہندستان کے کفار سے سود لینا کیسا اور ہندوستان کی بینکوں سے ملنے والا سود کا کیا حکم ہے اور کیا ہندوستان کے کفار حربی ہے ان سوالات کا جواب عنایت فرمائیں سایل محمد علی سانوا باڑمیر راجستھان  وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ الجواب وباللہ توفیق  تحقیق یہ ہے کہ ہندوستان کے کفار سے بھی سودی معاملات جایز نہیں اور ہندوستان کی بینکوں سے ملنے والا سود بھی حرام ہے اس رقم کو بغیر نیت ثواب کے  کسی غریب کو دے دیں اب آے اس مسلے پر تفصیلی گفتگو کرتے ہیں  دارالحرب کے سود میں جمہور فقہا کا نظریہ علامہ ابن قدامہ حنمبلی فرماتےہے دارالحرب میں سود اسی طرح حرام ہے جس طرح دارال اسلام میں سود حرام ہے امام احمد امام مالک امام اوزاعی امام ابو یسف امام شافعی اور اسحاق کا بھی یہی مزہب ہے امام ابو حنیفہ نے کہا کہ مسلمان اور حربی کے درمیان دارالحرب میں ربا جاری نہیں ہوگا اور ان سے ایک روایت یہ بھی ہے کہ دو شخص دارالحرب میں مسلمان ہو گئے توان کے درمیان ربا (سود) نہیں ہوگا اور ان کے اموال مباح ہیں علامہ غلام رسول س...

عصمت انبیاء علیہم السلام

عرضِ مصنف بسم اللہ الرحمٰن الرحیم الحمدللہ رب العالمین، والصلاۃ والسلام علیٰ سید المرسلین، حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ، وعلیٰ آلہٖ واصحابہٖ اجمعین۔ یہ مختصر رسالہ ’’عصمتِ انبیاء علیہم السلام‘‘ کے موضوع پر ایک تحقیقی کاوش ہے۔ اس کی ترتیب و تحریر میں بالخصوص تفاسیرِ معتبرہ اور کتبِ حدیث و عقائد سے استفادہ کیا گیا ہے۔ دورانِ تحقیق بعض ایسی روایات، واقعات اور تفسیری عبارات سامنے آئیں جن میں انبیائے کرام علیہم السلام، بالخصوص سرکارِ دو عالم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی طرف ایسے الفاظ یا امور کی نسبت کی گئی ہے جن کی صحیح تحقیق اور درست مفہوم کا بیان ضروری ہے۔ اسی مقصد کے پیشِ نظر اس رسالے میں بعض تفاسیر میں مذکور واقعات کی تحقیقی وضاحت، عصمتِ انبیاء علیہم السلام کے اصولی دلائل، اور حضور اکرم ﷺ کی طرف لفظ ’’ذنب‘‘ کی نسبت کی علمی و تحقیقی حیثیت کو واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے، تاکہ اہلِ حق کے عقیدۂ عصمتِ انبیاء علیہم السلام کی صحیح ترجمانی ہو اور ان عبارات کے متعلق پیدا ہونے والے شبہات کا ازالہ کیا جا سکے۔ اس سلسلے میں علامہ غلام رسول سعیدی رحمۃ اللہ علیہ کی تفسیر ’’تبیان القرآن‘‘، شرح صحیح مسلم، حضرت قاضی عی...