نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

ظالم ظالم پر مسلط

القرآن - سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 129 أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ وَكَذٰلِكَ نُوَلِّىۡ بَعۡضَ الظّٰلِمِيۡنَ بَعۡضًاۢ بِمَا كَانُوۡا يَكۡسِبُوۡنَ  ۞ ترجمہ: اور اسی طرح ہم ظالموں کو ان کے اعمال کے سبب جو وہ کرتے تھے ایک دوسرے پر مسلط کر دیتے ہیں  ؏
حالیہ پوسٹس

معتکف کا ٹھنڈک حاصل کرنے کے لیے نہانہ

- اپریل 23, 2022 السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ  کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام مسئلہ ذیل میں معتکف گرمی کی وجہ سے غسل کر سکتا کیا اس کا اعتکاف فاسد نہیں ہوگا جواب عنایت فرمائیں سائل مولانا یوسف اکبری انجھار کچھ  وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ  الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق  معتکف کا مسجد کے غسل خانے میں نہانے سے اعتکاف فاسد نہیں ہوتا مفتی امجد علی اعظمی رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں فنائے مسجد جو جگہ مسجد سے باہر اس سے ملحق ضروریات مسجد کے لئے ہے مثلاً جوتا اتارنے کی جگہ اور غسل خانہ ان میں جانے سے اعتکاف نہیں ٹوٹے گا فنائے مسجد اس معاملہ میں حکم مسجد ہے  (فتاوی امجدیہ جلد اول صفحہ 399 )  امام احمد رضا خان رضی اللہ عنہ ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں وہ مدارس متعلق مسجد حدود مسجد کے اندر ہیں ان میں اور مسجد میں راستہ فاصل نہیں صرف ایک فیصل سے صحنوں کا امتیاز کر دیا ہے اور ان میں جانا مسجد سے باہر جانا ہی نہیں یہاں تک ایسی جگہ معتکف کو جانا جائز کہ وہ گویا مسجد ہی کا ایک قطعہ ہے  (فتاوی رض...

مسجد میں چندہ کا اعلان

دارالافتاء گلزارِ طیبہ 📍 مالون چوکڑی 📌 مسئلہ: کیا مسجد کے اندر چندہ یا کسی دنیوی کام کا اعلان کیا جا سکتا ہے؟ سائل: طاہر ماتھکیا گاؤں: مہیکا ❖ *الجواب وباللہ التوفیق:*  مسجد اللہ تعالیٰ کا مقدس گھر ہے، جسے خاص طور پر عبادت، ذکر، تلاوتِ قرآن اور دینی امور کے لیے بنایا گیا ہے۔ لہٰذا اس میں ایسے امور انجام دینا جو دنیوی اغراض پر مشتمل ہوں یا جن سے مسجد کی حرمت و خشوع متاثر ہوتا ہو، شرعاً ناجائز اور ممنوع ہے۔ 📖 قرآنِ کریم سے دلیل: اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: "وَأَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلّٰهِ فَلَا تَدْعُوا مَعَ اللّٰهِ أَحَدًا" (قرآن مجید، سورۃ الجن: 18) ترجمہ: بے شک مسجدیں اللہ ہی کے لیے ہیں، لہٰذا ان میں اللہ کے سوا کسی اور کو نہ پکارو۔ 📜 احادیثِ مبارکہ: 1️⃣ نبی کریم محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جب تم کسی کو مسجد میں خرید و فروخت کرتے دیکھو تو کہو: اللہ تمہاری تجارت کو نفع نہ دے۔" (جامع ترمذی) 2️⃣ ایک اور حدیث میں ہے کہ: "جو شخص مسجد میں اپنی گمشدہ چیز کا اعلان کرے تو تم کہو: اللہ تمہیں تمہاری چیز واپس نہ کرے۔" (صحیح مسلم) ان احادیث سے واضح ہوا کہ مس...

فرعون سے نرمی سے بات

القرآن - سورۃ نمبر 20 طه آیت نمبر 44 أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ فَقُوۡلَا لَهٗ قَوۡلًا لَّيِّنًا لَّعَلَّهٗ يَتَذَكَّرُ اَوۡ يَخۡشٰى ۞ ترجمہ: اور اس سے نرمی سے بات کرنا شاید وہ غور کرے یا ڈر جائے

نماز کا کفارہ نہیں

دارالافتاء گلزار طیبہ مفتی ابو احمد ایم جے اکبری ❖ مسئلہ: اگر کوئی شخص نماز پڑھنا بھول جائے یا سو جائے اور نماز قضاء ہو جائے تو اس کا کیا حکم ہے؟ کیا اس پر کوئی کفارہ لازم ہے؟ ❖ الجواب بعون الملک الوہاب: اس بارے میں نبی کریم ﷺ کا واضح فرمان موجود ہے جیسا کہ صحیح البخاری شریف میں ہے: "اگر کوئی شخص نماز پڑھنا بھول جائے تو جب بھی یاد آ جائے اس کو پڑھ لے، اس قضاء کے سوا اور کوئی کفارہ اس کی وجہ سے نہیں ہوتا۔" پھر حضور ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿وَأَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي﴾ (اور میری یاد کے لیے نماز قائم کرو) یہ آیت قرآن مجید، سورۂ طٰہٰ آیت نمبر 14 میں وارد ہے۔ ❖ حکمِ شرعی: اگر نماز بھول جانے یا نیند کی وجہ سے قضاء ہو جائے تو اس میں گناہ نہیں۔ جیسے ہی یاد آئے یا آنکھ کھلے فوراً نماز ادا کرنا فرض ہے۔ اس قضاء کے علاوہ کوئی الگ کفارہ (مثلاً صدقہ وغیرہ) لازم نہیں۔ لیکن اگر کوئی شخص جان بوجھ کر نماز چھوڑ دے تو وہ سخت گناہگار ہے: اس پر سچی توبہ لازم ہے۔ اور نماز کی قضاء ادا کرنا بھی ضروری ہے۔ واللہ اعلم بالصواب ✍🏻 مفتی ابو احمد ایم جے اکبری دارالافتاء گلزار طیبہ

مندر کا بھنڑارا کھانا ؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم دارالافتاء گلزارِ طیبہ، گجرات الجواب بعون الملک الوہاب مسئلہ: کیا مسلمانوں کے لئے مندروں میں دیوتاؤں پر چڑھائی گئی مٹھائی (بھندارہ / پرساد) کا لینا یا کھانا جائز ہے؟ الجواب: فقہائے اہلِ سنّت کے نزدیک دیوتاؤں پر چڑھائی گئی مٹھائی وغیرہ فی نفسہٖ حرام نہیں ہو جاتی ، البتہ چونکہ ہندو حضرات اس کو بطورِ تبرک تقسیم کرتے ہیں، اس لئے مسلمانوں کے لئے اس سے اجتناب (بچنا) اولیٰ و بہتر ہے۔ چنانچہ صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی فرماتے ہیں: "جو مٹھائی وغیرہ بتوں پر چڑھاتے ہیں اگرچہ وہ حرام نہیں ہو جاتی، تاہم اس سے اجتناب اولیٰ ہے کہ وہ اسے تبرک سمجھ کر تقسیم کرتے ہیں، اور بت پر چڑھنے کے بعد کوئی چیز تبرک نہیں ہو سکتی۔" (فتاویٰ امجدیہ، ج 4، ص 59) اسی طرح امام احمد رضا خان تحریر فرماتے ہیں: "حلال ہے مگر احتراز چاہئے نسبتِ خباثت کی وجہ سے۔" (فتاویٰ رضویہ، ج 21، ص 606) لہٰذا ایسی مٹھائی کا لینا جائز ہے ، مگر بچنا بہتر و مستحسن ہے۔ خلاصۂ کلام: موجودہ زمانہ میں مسلمان اکثر دیہات میں کم آبادی کے ساتھ رہتے ہیں، ایسی صورت میں اگر غیر مسلم ح...