السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ **سوال:**کیا ولیمہ کی دعوت لڑکے والوں اور لڑکی والوں دونوں کو کرنا سنت ہے یا صرف لڑکے والوں کے لیے؟اور کیا ہر شخص کو دعوت دینا ضروری ہے چاہے حیثیت ہو یا نہ ہو؟ **الجواب وباللہ التوفیق:**ولیمہ نکاح کے بعد شوہر کی طرف سے کی جانے والی دعوت ہے،اس لیے سنت صرف لڑکے یعنی شوہر کے ذمہ ہے،لڑکی والوں پر ولیمہ کرنا سنت نہیں ہے۔نبی کریم ﷺ نے صحابی عبدالرحمن بن عوف سے فرمایا:أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍترجمہ:ولیمہ کرو اگرچہ ایک بکری ہی سے کیوں نہ ہو۔اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ ولیمہ مرد کی طرف سے سنت ہے۔لڑکی والوں کا اگر اپنی خوشی سے کھانا کھلانا ہو تو یہ جائز ہے مگر اسے ولیمہ نہیں کہا جائے گا اور نہ ہی اسے سنت سمجھا جائے گا۔ہر شخص کو دعوت دینا ضروری نہیں ہے بلکہ شریعت کا اصول یہ ہے کہ آدمی اپنی حیثیت کے مطابق دعوت کرے،ریاکاری اور فضول خرچی سے بچے،اور غریبوں کا بھی خیال رکھے۔حدیث شریف میں آیا ہے کہ بدترین دعوت وہ ہے جس میں مالداروں کو بلایا جائے اور غریبوں کو چھوڑ دیا جائے۔لہٰذا خلاصہ یہ ہے کہ ولیمہ صرف لڑکے والوں کے لیے سنت ہے،لڑکی والوں پر لازم نہیں،اور نہ ہی ہر شخص کو ...
السلام علیکم حضرت صاحب زید اور بکر کی بحث دونوں حضور تاج الشریعہ کے مرید ہیں زید نے بکر سے کہا کہ تمہارے پیچھے نماز نہیں ہوگی بکر نے کہا کیوں ؟ زید نے کہا کہ تم حضور تاج الشریعہ کے مرید ہو اور ویڈیو میں نعت تقریر دیکھتے ہو اور لاؤڈ اسپیکر پر نماز پڑھتے ہو - اور یہ ہمارے پیر کے نزدیک حرام ہے - اور حرام کام کرنے والا فاسق ہے - اور فاسق کے پیچھے نماز جائز نہیں! بکر نے کہا کہ ہمارے اکابر علماء اہلسنت میں اختلاف ہے - کچھ حضرات جائز کہتے ہیں اور کچھ حضرات ناجائز - ہمارے نزدیک دونوں طرف کے علماء ہمارے سر کے تاج ہیں - ہم دونوں طرف کے علماء کا ادب و احترام کرتے ہیں - ہم دونوں کو حق و صحیح مانتے ہیں دونوں حضرات کی اپنی اپنی تحقیق ہے - زید نے کہا کہ دونوں کیسے صحیح ہو سکتے ہیں؟ تم تو اپنے پیر کے فتوے پر عمل نہیں کرتے - مرید کا مطلب ہوتا ہے بِک جانا - تم اب ہمارے پیر کے مرید نہیں رہے - *زید کا کہنا صحیح ہے یا بکر کا؟ علمائے اہلسنت کی بارگاہ میں عرض ہے کہ تسلی بخش اور نصیحت آمیز جواب عنایت فرمائیں؟* الجواب وباللہ التوفیق صورتِ مسئولہ میں اصل مسئلہ “اختلافِ علماء” کو صحیح انداز میں سمجھنے کا ہے، کیو...