السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں؟ ایک کمپنی شریعتِ مطہرہ کے مطابق کسی حلال جانور کو ذبح کرتی ہے، پھر اس کا گوشت اچھی طرح پیک (Seal Pack) کر کے گاڑی میں لوڈ کر دیتی ہے تاکہ اسے مقررہ مقام تک پہنچایا جا سکے۔ لیکن گاڑی کا ڈرائیور غیر مسلم (کافر) ہوتا ہے، جو صرف سامان کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانے کا کام کرتا ہے۔ بعض حضرات یہ اشکال پیش کرتے ہیں کہ فقہِ اسلامی میں یہ مسئلہ مذکور ہے کہ اگر آدمی اپنے ہاتھ سے ذبح کیا ہوا جانور کافر کے حوالے کر دے اور وہ اس کی نظر سے اوجھل ہو جائے تو اس کے کھانے کی ممانعت بیان کی گئی ہے۔ لہٰذا دریافت طلب امر یہ ہے کہ: کیا مذکورہ صورت میں، جبکہ جانور شرعی طریقے سے ذبح کیا گیا ہو، گوشت پیک اور سیل بند ہو، اور کافر صرف بطور ڈرائیور یا ٹرانسپورٹر اسے ایک مقام سے دوسرے مقام تک پہنچا رہا ہو، تو اس گوشت کا استعمال جائز ہے یا نہیں؟ نیز فقہائے احناف کی معتبر کتب، مثلاً فتاویٰ ہندیہ، رد المحتار، بدائع الصنائع، البحر الرائق، فتاویٰ رضویہ وغیرہ کی اصل عبارت، جلد و صفحہ کے ساتھ مدلل و مفصل جواب عنایت فرمایا جائے۔ سائل: کے۔ ا...
الجواب وباللہ التوفیق جس شعر میں اللہ تعالیٰ کے لیے "شیدا" کا لفظ استعمال کیا گیا ہو، اس کا پڑھنا جائز نہیں؛ کیونکہ "شیدا" کے لغوی معانی ہیں: آشفتہ، فریفتہ، مجنون، عشق میں ڈوبا ہوا، عاشق ۔ یہ تمام معانی اللہ تعالیٰ کی شان کے خلاف ہیں، اور اللہ عزوجل ان تمام نقائص سے پاک اور منزہ ہے۔ لہٰذا ایسا شعر پڑھنے، پڑھانے یا عام کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔ فتاویٰ شارح بخاری میں ہے: "(اللہ تعالیٰ) کو شیدائے محمد کہنا بھی جائز نہیں کہ اس میں معنیِ سوء کا احتمال ہے۔ شیدا کا معنی آشفتہ، فریفتہ، مجنون، عشق میں ڈوبا ہوا، عاشق ہے۔ اللہ تعالیٰ ان تمام باتوں سے منزہ ہے۔" (فتاویٰ شارح بخاری، جلد 1، صفحہ 141، مکتبہ برکات المدینہ، کراچی) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب دارالافتاء گلزار طیبہ مفتی ابو احمد ایم جے اکبری صاحب بفیضِ روحانی علامہ غلام رسول سعیدی رحمۃ اللہ علیہ