نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

حرام اشیاء سے علاج

الجواب وباللہ توفیق پہلے ہم ممانعت کی احادیث پر کلام کرتے ہیں  حرام چیزوں سے علاج کی ممانعت کے متعلق احادیث : - بعض علماء مذکور ذیل احادیث کی بناء پر حرام دداؤں سے علاج کو ناجائز کہتے ہیں خواہ مریض مرجائے مگر حرام چیزوں سے علاج نہ کرے۔ - امام ابو داؤدروایت کرتے ہیں : - حضرت ام درداء (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالی نے بیماری اور دوا دونوں نازل کی ہیں اور ہر بیماری کے لیے دواء ہے سو تم دوا کرو اور حرام دوا نہ لو۔ (سنن ابوداؤد ج ٢ ص ١٨٥‘ مطبوعہ مطبع مجتبائی ٗ پاکستان ‘ لاہور ١٤٠٥ ھ) - حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خبیث دوا سے منع فرمایا ہے۔ (سنن ابوداؤد ج ٢ ص ١٨٥‘ مطبوعہ مطبع مجتبائی ٗ پاکستان ‘ لاہور ١٤٠٥ ھ) - حضرت سوید بن طارق (رض) بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے شراب کے متعلق پوچھا ‘ آپ نے اس سے منع فرمایا ‘ انہوں نے پھر سوال کیا ‘ آپ نے پھر منع فرمایا ‘ انہوں نے کہا : یا نبی اللہ ! یہ دوا ہے ‘ آپ نے فرمایا : نہیں ‘ بلکہ یہ بیماری ہے (سنن ابوداؤد ج ٢ ص ١٨٥‘ ...
حالیہ پوسٹس

قیامت کے احوال وڈیو سے

قیامت کے مناظر کی AI ویڈیوز بنانے اور دیکھنے کا شرعی حکم السؤال: قیامت کے موضوع پر AI (مصنوعی ذہانت) کے ذریعے فرضی مناظر یا ویڈیوز بنانا، جبکہ بنانے والا خود جانتا ہو کہ یہ حقیقی قیامت کے مناظر نہیں بلکہ محض تخیلاتی منظرکشی ہے، اور ایسی ویڈیوز کو دیکھنا کیسا ہے؟ الجواب وبالله التوفيق شریعتِ اسلامیہ میں قیامت، حشر و نشر، جنت و جہنم اور دیگر امورِ آخرت امورِ غیب میں سے ہیں۔ ان کی حقیقی کیفیت اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے اور رسولِ اکرم ﷺ نے وحی کے ذریعے جو کچھ بیان فرمایا ہے، مسلمان اسی پر ایمان رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ﴿الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ﴾ “وہ لوگ جو غیب پر ایمان رکھتے ہیں۔” (سورۃ البقرۃ: 3) لہٰذا غیبی معاملات کو انسانی تخیل اور فرضی منظرکشی کے ذریعے اپنی مرضی کی شکل میں پیش کرنا شرعی طور پر درست نہیں، کیونکہ اس سے لوگوں کے ذہنوں میں ایسے تصورات پیدا ہوسکتے ہیں جن کی کوئی شرعی بنیاد نہیں۔ اسی طرح قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے بلاعلم بات کہنے سے منع فرمایا: ﴿وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ﴾ “اور اس بات کے پیچھے نہ پڑو جس کا تمہیں علم نہیں۔” ...

قیامت کے احوال وڈیو سے

قیامت کے مناظر کی AI ویڈیوز بنانے اور دیکھنے کا شرعی حکم السؤال: قیامت کے موضوع پر AI (مصنوعی ذہانت) کے ذریعے فرضی مناظر یا ویڈیوز بنانا، جبکہ بنانے والا خود جانتا ہو کہ یہ حقیقی قیامت کے مناظر نہیں بلکہ محض تخیلاتی منظرکشی ہے، اور ایسی ویڈیوز کو دیکھنا کیسا ہے؟ الجواب وبالله التوفيق شریعتِ اسلامیہ میں قیامت، حشر و نشر، جنت و جہنم اور دیگر امورِ آخرت امورِ غیب میں سے ہیں۔ ان کی حقیقی کیفیت اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے اور رسولِ اکرم ﷺ نے وحی کے ذریعے جو کچھ بیان فرمایا ہے، مسلمان اسی پر ایمان رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ﴿الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ﴾ “وہ لوگ جو غیب پر ایمان رکھتے ہیں۔” (سورۃ البقرۃ: 3) لہٰذا غیبی معاملات کو انسانی تخیل اور فرضی منظرکشی کے ذریعے اپنی مرضی کی شکل میں پیش کرنا شرعی طور پر درست نہیں، کیونکہ اس سے لوگوں کے ذہنوں میں ایسے تصورات پیدا ہوسکتے ہیں جن کی کوئی شرعی بنیاد نہیں۔ اسی طرح قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے بلاعلم بات کہنے سے منع فرمایا: ﴿وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ﴾ “اور اس بات کے پیچھے نہ پڑو جس کا تمہیں علم نہیں۔” ...

قبروں پر مسجد بنانا

الجواب وباللہ توفیق  صورتِ مسئولہ میں پہلے آپ یہ سمجھیں کہ ہر مسلے کے جواب میں حدیث کا مطالبہ کرنا درست نہیں ہے ہر مسلے میں حدیث حدیث کی رٹ لگانا غیر مقلدین کی عادت ہے اور پھر ان کا عمل حدیث کے خلاف بھی ہوتا ہے دوسری چیز یہ ہے کہ ہر مسلے کا حل حدیث میں صاف ظاہر مل جاتا تو پھر آیمہ عربیہ کا کیا مطلب؟  اور یہ کہنا بھی درست نہیں ہے کہ درمختار عالمگیری کے حوالے سے مسلہ بیان کرے یہ کتب تو بہت بعد میں آیی ہے اس سے پہلے بھی مذہب حنفی کی بہت سی کتابیں ہیں کیا وہ سب غیر معتبر ہے؟ سوال کا طریقہ یہ ہونا چاہیے کہ جواب شریعت کی روشنی میں دے نہ کہ اپنی خواہش کی کتب کا مطالبہ کرے  مسلے کا حل اصول سے کیا جاتا ہے جیسا کہ حدیث میں ہے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو نبی کریم ﷺ نے یمن کی طرف قاضی اور حاکم بنا کر بھیجا تھا۔ اس سلسلے میں مشہور روایت میں آپ ﷺ نے ان سے پوچھا: «كَيْفَ تَقْضِي إِذَا عَرَضَ لَكَ قَضَاءٌ؟» ’’جب تمہارے سامنے کوئی مقدمہ پیش ہو تو کس طرح فیصلہ کرو گے؟‘‘ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: «أَقْضِي بِكِتَابِ اللَّهِ» ’’میں اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ کروں گا۔‘‘ آپ ﷺ نے ...

قرعہ نکلا تو عمرہ

الجواب وباللہ توفیق صورت مسئولہ میں ہماری تحقیق کے مطابق سوال میں مذکور تمام صورتیں ناجائز ہے افسوس عمرہ جیسی عبادت کو لوگوں نے کاروبار بنا دیا ہے کہی حلے بہانے تلاش کر کے ایک ناجائز امر کو اپنے فائدے کے لیے جواز کا فتویٰ لینے کے لیے بھٹک رہے ہیں دارالافتاء گلزار طیبہ کا صاف مؤقف ہے کہ ہر وہ صورت جو غیر یقینی نفاع پر مشتمل ہے وہ ناجائز ہے  امام علاء الدین حصکفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: > القمار هو كل لعبٍ يكون فيه أخذُ مالٍ على وجه المخاطرة. ترجمہ: قمار ہر وہ کھیل یا معاملہ ہے جس میں خطرے اور غیر یقینی بنیاد پر مال حاصل کیا جائے۔ (الدر المختار مع رد المحتار)  :شریعت ِمطہرہ میں خرید و فروخت کے جو اصول وضع کیے گئے ہیں اُن کے فقدان کی وجہ سے ایسی بیع جائز نہیں، صورتِ مذکورہ میں ایکؔ ممنوع امر یہ ہے کہ اگر نام نکل آئے تو اس کو بیعہ دیا جائے گا ورنہ نہیں جو کہ شرط فاسد ہے۔ اور دوؔ سرا یہ کہ ہر ایک ممبر اپنا نام نکلنے کا متمنّی ہو تا ہے لیکن پتہ نہیں کہ نکلے یا نہیں، تو گو یا بیع علیٰ خطر الوجود ہونے کی وجہ سے قمار لازم آتا ہے جو کہ بنصِ قرآنی ممنوع ہے اس بناء پر مذکورہ معا ملہ ش...

قسطوں پر گاڑی مکان

🌹 قسطوں اور EMI کے نام پر سود سے بچیں! 🌹 آج کل بہت سے لوگ موبائل، فریج، ٹی وی، بائیک، کار، گھر اور کاروبار کے لیے EMI اور Loan لے رہے ہیں، اور بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ چونکہ ہر ماہ تھوڑی تھوڑی رقم ادا کرنی ہے، اس لیے کوئی گناہ نہیں۔ ⚠️ یہ سوچ درست نہیں! سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ہر EMI حرام نہیں اور ہر قسط سود نہیں۔ اصل حکم معاہدے کی نوعیت پر منحصر ہے۔ 📌 اگر کوئی سامان قسطوں پر ایک مقررہ قیمت میں خریدا جائے اور خریداری کے وقت کل قیمت اور قسطوں کی مدت واضح ہو، تو شرعی شرائط کے ساتھ ایسی خرید و فروخت جائز ہو سکتی ہے۔ قسطوں پرکسی چیز کی  خرید و فرخت کرنا  تجارت کی ایک جائز قسم ہے، جو عام طور پر نقد سے  قدرے زائد قیمت پر بائع (دوکاندار)  اور مشتری (خریدار )کی باہمی رضامندی  سے طے پاتا ہے،  البتہ اس کے صحیح ہونے کے لیےچند  شرائط کی پابندی کرنا ضروری ہے،  اگر ان شرائط کی رعایت نہ کی جائے تو سود  لازم آئے گا جو کہ حرام ہے۔ شرائط مندرجہ ذیل ہیں: 1۔عقد کے وقت  ہی کوئی ایک قیمت متعین کرلی جائے۔ 2۔ ادھار  کی مدت  بھی متعین کرلی ...

خنثی مشکل

سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ حضرت مفتی صاحب! میرا ایک پیدائشی مسئلہ ہے، براہِ کرم شریعت کی روشنی میں میری رہنمائی فرمائیں۔ میرا پرائیویٹ پارٹ عام مردوں کی طرح نہیں ہے۔ میرا عضوِ تناسل بہت چھوٹا ہے، اس میں پیشاب کا سوراخ (یوریتھرا) موجود نہیں ہے، اور دونوں خصیے (Testicles) بھی باہر نہیں ہیں بلکہ پیدائشی طور پر پیٹ کے اندر ہیں۔ میری خواہش ہے کہ میری شناخت مرد کے طور پر ہو، لیکن اپنی پیدائشی کیفیت کی وجہ سے میں شریعت کا حکم جاننا چاہتا/چاہتی ہوں۔ سوال یہ ہے کہ شریعت کی نظر میں میرا حکم کیا ہے؟ کیا مجھے مرد شمار کیا جائے گا یا عورت؟ اور مجھ پر مردوں کے احکام لاگو ہوں گے یا عورتوں کے؟ الجواب وباللہ توفیق صورت مسئولہ میں     شرعی معیار کے مطابق جس پر خنثٰی مشکل کا     نیز خنثٰی مشکل کی تعریف اور اس کی پہچان   کا شرعی معیار  مندرجہ ذیل ہے  :    خنثٰی وہ فرد ہے جس میں مرد و عورت دونوں کے اعضاء ہوں یا دونوں میں سے کوئی عضو نہ ہو ۔ اگر دونوں عضو ہوں،تو  نابالغی کی حالت میں اس  پر  مرد یا عورت  کا حک...