سوال میں ذکر کردہ اسکیم قرآن و حدیث کے خلاف اور جوئے پر مشتمل ہونے کی وجہ سے ناجائز و حرام ہے۔ نیزاس کی خرابیوں میں سے یہ بھی ہے کہ جوئے کے ذریعے جو مال ملے گا، وہ لینا حرام اور دوسروں کا مال باطل طریقے سے کھانا کہلاتا ہے۔پھر مالِ حرام سے کیا جانے والا عمرہ بھی اللہ عزوجل کی پاک بارگاہ میں قبول نہیں ہوتا۔ لہذا بحیثیتِ مسلمان اس اسکیم سے بچنا شرعاً لازم ہے۔ نیز اس اسکیم کی سر پرستی کرنے والوں کو بھی حکمتِ عملی سے شرعی حکم بتاتے ہوئے یہ اسکیم ختم کرنے کی ترغیب دلائیں، بلکہ انہیں خود بھی چاہئے کہ اس شیطانی عمل سے بچیں اور اپنی آخرت داؤ پر نہ لگائیں۔ لفظ ’’قمار‘‘ ’’قمر‘‘سے بنا ہے جو گھٹتا اور بڑھتا رہتا ہےاور قمار کو قمار اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس میں بھی بازی لگانے والوں میں سے ہر ایک کا مال دوسرے کے پاس جانا، ممکن ہوتا ہے اور وہ مدِ مقابل کے مال سے نفع حاصل کر لیتا ہے ،پس اس طرح ان میں سے ہر ایک کا مال بھی کبھی گھٹتا ہے اور کبھی بڑھتا ہے ،پس جب مال جانبین سے مشروط ہو ،تو یہ قمار ہو گا اور قمار حرام ہے ،اس لیے کہ اس میں اپنے مال کو خطرےپر پیش کرنا ہےاور یہ جائز...
السلام علیکم حضرت صاحب * حرمت مشاہرت کب اور کس کس طرح ہو سکتی ہے اور کیا میری عووت کو میں گالی دوں اس کی ماں کی تو بھی کیا حرمت مشاہرت ثابت ہو جاتی ہے؟* * وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ الجواب وباللہ توفیق یہ مسئلہ ذہن نشین رہے کہ حرمتِ مصاہرت ثابت ہونے کے لیے اس لڑکے یا لڑکی کا حد شہوت کو پہنچنا ضروری ہے یعنی لڑکےکاکم ازکم بارہ سال اورلڑکی کاکم ازکم نوسال کا ہونا ضروری ہے، اس سے پہلے حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوتی۔ لہذا بالکل چھوٹے نومولود بچےیابچی کو شہوت سے چھونے میں حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوگی،کیونکہ یہ حد شہوت کو پہنچے ہوئے نہیں ہیں۔ چنانچہ حرمتِ مصاہرت ثابت ہونے کے متعلق در مختار میں ہے:”(هذا إذا كانت حية مشتهاة) ولو ماضيا(أما غيرها)يعني الميتة وصغيرة لم تشته(فلا)تثبت الحرمة بها أصلا...وكذا تشترط الشهوة في الذكر؛فلو جامع غير مراهق زوجة أبيه لم تحرم“ترجمہ:حرمت مصاہرت اس وقت ثابت ہوگی جب عورت زندہ اور حد شہوت تک پہنچی ہو اگر چہ بوڑھی ہو اگر اس کے علاوہ ہو یعنی مُردہ عورت یا چھوٹی بچی جو حد شہوت تک نہ پہنچی ہو(نو برس سے کم عمر کی لڑکی ہو)تو ...