نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

سید صاحب اور امام کا اجازت

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ: زید سید ہے۔ جمعہ کے دن مسجد میں آیا، اس وقت امام صاحب خطبہ دے رہے تھے۔ نمازِ جمعہ ادا ہونے کے بعد زید نے لوگوں سے کہا: "اس امام کو نکال دو، اس نے میرا ادب نہیں کیا۔ میری موجودگی میں اسے نماز پڑھانے سے پہلے مجھ سے اجازت لینا ضروری تھا۔" واضح رہے کہ زید سید ضرور ہے مگر عالم نہیں، جبکہ مسجد کے امام صاحب عالمِ دین، مفتی اور مسجد کے مقرر امام ہیں۔ ایسی صورت میں زید کا یہ کہنا کہ امام کو اس سے اجازت لینا ضروری تھا، شرعاً درست ہے یا نہیں؟ اور کیا صرف سید ہونے کی وجہ سے مقرر امام پر اس کی اجازت لینا لازم ہے؟ سائل: احمد رضا خان، ٹونٹی، گجرات الجواب وباللہ التوفیق: صورتِ مسئولہ میں اگر واقعہ سوال میں مذکورہ تفصیل کے مطابق ہے کہ زید سید ہے، مگر عالمِ دین نہیں، جبکہ مسجد کا امام باقاعدہ مقرر، عالم اور مفتی ہے، تو زید کا یہ کہنا کہ: "اس امام کو نکال دو، اس نے میرا ادب نہیں کیا، میری موجودگی میں اسے نماز پڑھانے سے پہلے مجھ سے اجازت لینا ضروری تھا۔" شرعاً یہ دعویٰ درست نہیں، بلکہ بے اصل اور تکبر پر مبنی ہے۔ شریعتِ ...
حالیہ پوسٹس

مولیٰ علی فرماتے ہیں افضل ابوبکر وعمر ہے

*حضرت علی ابوبکر و عمر کو ہی افضل مانتے تھے اس روایت کے80 سے زائد راوی ہیں* ابن تیمیہ نے منہاج السنة النبویة میں لکھا ہے حضرت علی نے فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے افضل ابو بکر ہیں اور یہ بات ان سے تواتر سے ثابت ہے اس کے 80 سے زائد راوی ہیں، وَقَدْ رَوَى بِضْعَةٌ وَثَمَانُونَ نَفْسًا عَنْ عَلِيٍّ أَنَّهُ قَالَ: " خَيْرُ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا أَبُو بَكْرٍ ثُمَّ عُمَرَ ". رَوَاهَا الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - اور حضرت علی رضی اللہ عنہ سے یہ بات اسی 80 سے زائد اشخاص نے روایت کی ہے کہ انہوں نے فرمایا، اس امت میں اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے افضل ابو بکر ہیں، پھر عمر۔    (منهاج السنة النبوية  جلد 7 صفحہ 284) مسند احمد میں ہے، حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ الْوَاسِطِيُّ أَنْبَأَنَا خَالِدٌ عَنْ عَطَاءٍ يَعْنِي ابْنَ السَّائِبِ عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا أَبُو بَكْرٍ وَخَيْرُ...

ناد علی

*(ناد علی شیعوں کی من گھڑت روایت ہے)* ناد علی بڑی ہی مشہور و معروف دعا ہے جس کا اہل شیعہ اور بعض صوفیائے کرام میں خوب ورد و وظائف کیا جاتا ہے۔ اوراد و وظائف کی کتب میں اس کی خوب فضیلت بیان کی جاتی ہے اور بعض لوگ اس کی سند کو بڑی مضبوط قرار دیتے نظر آتے ہیں۔ حالانکہ یہ صرف ایک کھوکھلا دعویٰ ہے۔ سند مضبوط ہونا تو دور کی بات ہے، سرے سے اس کی کوئی معتبر سند ہی موجود نہیں۔ ناد علی کو تقریباً نو سو ہجری سے ہزار ہجری کے درمیان جنگ بدر کے واقعے کے تحت گھڑا گیا ہے، اسی وجہ سے ابتدائی محدثین جیسے امام ابن حجر عسقلانی، علامہ ابن عبد البر، امام ذہبی اور دیگر جلیل القدر محدثین کے اقوال میں اس کا کہیں ذکر نہیں ملتا۔ البتہ ہزار ہجری اور اس کے بعد کے بعض محدثین نے واضح طور پر فرمایا ہے کہ یہ شیعوں کی گھڑی ہوئی روایت ہے۔ ابن حجر عسقلانی، امام ذہبی، ابن عبد البر اور دیگر ابتدائی اور متقدم محدثین جو 800 ہجری سے پہلے کے ہیں، کے اقوال میں ناد علی کا ذکر نہ ملنے کی وجہ یہی ہے کہ یہ روایت نو سو ہجری سے ہزار ہجری کے درمیان کے عرصے میں گھڑی گئی تھی۔ اس سے پہلے یہ روایت موجود ہی نہیں تھی، اس لیے ان جلیل القدر ع...

औलिया से मदद मांगने

✍️ लेखक की ओर से बिस्मिल्लाहिर्रहमानिर्रहीम अल्हम्दुलिल्लाहि रब्बिल आलमीन, वस्सलातु वस्सलामु अला सय्यिदिल मुर्सलीन, अम्मा बाद! इस छोटे से रिसाले को लिखने का मक़सद किसी से बहस करना या इख़्तिलाफ़ फैलाना नहीं है, बल्कि अहल-ए-सुन्नत के सही अक़ीदे को क़ुरआन, हदीस और अइम्मा-ए-अहल-ए-सुन्नत की तालीमात की रौशनी में वाज़ेह करना है, ताकि मुसलमान औलिया-ए-अल्लाह के मज़ारात पर हाज़िरी का सही मक़सद, उसके शरई आदाब और औलिया-ए-अल्लाह से इस्तिआनत (मदद तलब करने) के सही तरीक़े को समझ सकें। आज हमारे समाज में मुसलमानों की एक बड़ी तादाद मज़ारात पर हाज़िरी तो देती है, लेकिन ज़ियारत का शरई तरीक़ा, ईसाल-ए-सवाब, दुआ, वसीला और नज़र-ओ-नियाज़ के अहकाम से नावाक़िफ़ है। इसी नावाक़िफ़ी की वजह से कुछ लोग ऐसे आमाल में पड़ जाते हैं जो शरीअत के ख़िलाफ़ हैं, जैसे क़ब्र को सज्दा करना, क़ब्र का तवाफ़ करना, साहिब-ए-क़ब्र के नाम की नज़र मानना, या ऐसे अल्फ़ाज़ कहना जिनसे ग़लत अक़ीदे का शुब्हा पैदा हो। दूसरी तरफ़ कुछ बदमज़हब फ़िर्क़े इन्हीं ग़लत आमाल को बहाना बनाकर पूरे अहल-ए-सुन्नत पर "क़ब्र-परस्त" होने का इल्ज़ाम लगाते ...

اولیاء اللہ سے استعانت

مصنف کی گزارش بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ رب العالمین، والصلاة والسلام علی سید المرسلین، أما بعد! اس مختصر رسالے کو تحریر کرنے کا مقصد کسی سے مناظرہ کرنا یا اختلاف کو ہوا دینا نہیں، بلکہ صحیح عقیدۂ اہلِ سنت کو قرآن و سنت اور ائمۂ اہلِ سنت کی تعلیمات کی روشنی میں واضح کرنا ہے، تاکہ مسلمان مزاراتِ اولیاء پر حاضری کے شرعی آداب، حدود اور اولیاء اللہ سے استعانت کے صحیح مفہوم کو سمجھ سکیں۔ آج ہمارے معاشرے میں ایک بڑی تعداد ایسے مسلمانوں کی ہے جو مزارات پر حاضر تو ہوتی ہے، مگر شرعی طریقۂ زیارت، ایصالِ ثواب، دعا، وسیلہ اور نذر و نیاز کے احکام سے ناواقف ہے۔ اسی ناواقفیت کی وجہ سے بعض لوگ ایسے اعمال میں مبتلا ہو جاتے ہیں جو شریعت کے خلاف ہیں، مثلاً قبروں کو سجدہ کرنا، ان کا طواف کرنا، صاحبِ مزار کے نام کی نذر ماننا یا ایسے الفاظ کہنا جن سے غلط عقیدے کا شبہ پیدا ہو۔ دوسری طرف بعض بد مذہب گروہ انہی غلط اعمال کو بنیاد بنا کر پورے اہلِ سنت پر "قبر پرست" ہونے کا الزام لگا دیتے ہیں، حالانکہ اہلِ سنت کا عقیدہ ہرگز یہ نہیں۔ اہلِ سنت کا عقیدہ یہ ہے کہ عبادت صرف اللہ تعالیٰ کی ہے، حقیقی ن...

کھڑے ہو کر پاجامہ پہنے سے

کھڑے ہو کر پاجامہ پہننے سے لاعلاج بیماری آتی ہے؟ ایک تحقیقی جائزہ ✍️ دارالافتاء گلزارِ طیبہ (بھارت) مرتب: مفتی ابو احمد ایم. جے. اکبری الجواب وباللہ التوفیق بعض لوگوں میں ایک روایت بہت مشہور ہے کہ: "جو شخص کھڑے ہو کر پاجامہ پہنے گا، وہ ایسی بیماری میں مبتلا ہوگا جس کی کوئی دوا نہیں۔" یہ بات عوام میں اس قدر مشہور ہو چکی ہے کہ بہت سے لوگ اسے حدیثِ رسول ﷺ سمجھتے ہیں، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ اس روایت کی حقیقت علامہ دانش حنفی برکاتہم العالیہ فرماتے ہیں کہ مذکورہ روایت موضوع (من گھڑت) ہے۔ حدیث کی کسی معتبر اور معروف کتاب میں اس کا کوئی وجود نہیں ملتا۔ اگرچہ شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی بعض تصانیف میں اس کا ذکر کیا ہے، لیکن اس کی کوئی معتبر سند بیان نہیں کی، اور بعد کے لوگوں نے بلا تحقیق ایک دوسرے سے نقل کرتے ہوئے اسے مشہور کر دیا، یہاں تک کہ عوام نے اسے حدیث سمجھ لیا۔ محدثین کا اصول علمائے حدیث نے واضح فرمایا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی طرف کوئی بات اس وقت تک منسوب نہیں کی جا سکتی جب تک وہ صحیح یا قابلِ قبول سند سے ثابت نہ ہو۔ امام عبداللہ بن مبارک...

قرآن وحدیث کے سامنے کسی کا قول

🌹 اہلِ علم، طلبہ اور عام مسلمانوں سے ایک  اہم گزارش 🌹 زیرِ نظر رسالہ "قرآن اور حدیث کے مقابلہ میں اپنے دینی پیشواؤں کو ترجیح دینے کی مذمت" ایک نہایت اہم اور فکر انگیز تحریر ہے، جس میں قرآنِ مجید، احادیثِ مبارکہ، آثارِ صحابہ اور اکابرِ امت کے اقوال کی روشنی میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ دین میں اصل حجت اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا فرمان ہے۔ یہ رسالہ اندھی عقیدت، بے جا تعصب اور شخصیت پرستی کے نقصانات کو بیان کرتا ہے اور ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ ائمہ و علماء کا ادب اپنی جگہ، لیکن قرآن و سنت سب سے مقدم ہیں۔ لہٰذا ہر طالبِ علم، امام، خطیب، عالمِ دین اور ہر سنجیدہ مسلمان سے گزارش ہے کہ اس رسالے کا ضرور مطالعہ فرمائیں، اپنے اہل و احباب تک پہنچائیں اور اسے زیادہ سے زیادہ عام کریں، تاکہ ہم قرآن و سنت کی صحیح سمجھ حاصل کر سکیں اور اعتدال و انصاف کے راستے پر گامزن رہیں۔ مطالعہ کیجیے، غور کیجیے اور دوسروں تک بھی پہنچائیے، کیونکہ علم جتنا پھیلے گا، گمراہی کے اندھیرے اتنے ہی کم ہوں گے۔ ✍️ مفتی ابو احمد ایم۔ جے۔ اکبری  دارالافتاء گلزارِ طیبہ (بھارت) ٠) قرآن اور حدیث کے مقابلہ میں اپنے دین کے  پ...