🌹 قسطوں اور EMI کے نام پر سود سے بچیں! 🌹 آج کل بہت سے لوگ موبائل، فریج، ٹی وی، بائیک، کار، گھر اور کاروبار کے لیے EMI اور Loan لے رہے ہیں، اور بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ چونکہ ہر ماہ تھوڑی تھوڑی رقم ادا کرنی ہے، اس لیے کوئی گناہ نہیں۔ ⚠️ یہ سوچ درست نہیں! سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ہر EMI حرام نہیں اور ہر قسط سود نہیں۔ اصل حکم معاہدے کی نوعیت پر منحصر ہے۔ 📌 اگر کوئی سامان قسطوں پر ایک مقررہ قیمت میں خریدا جائے اور خریداری کے وقت کل قیمت اور قسطوں کی مدت واضح ہو، تو شرعی شرائط کے ساتھ ایسی خرید و فروخت جائز ہو سکتی ہے۔ قسطوں پرکسی چیز کی خرید و فرخت کرنا تجارت کی ایک جائز قسم ہے، جو عام طور پر نقد سے قدرے زائد قیمت پر بائع (دوکاندار) اور مشتری (خریدار )کی باہمی رضامندی سے طے پاتا ہے، البتہ اس کے صحیح ہونے کے لیےچند شرائط کی پابندی کرنا ضروری ہے، اگر ان شرائط کی رعایت نہ کی جائے تو سود لازم آئے گا جو کہ حرام ہے۔ شرائط مندرجہ ذیل ہیں: 1۔عقد کے وقت ہی کوئی ایک قیمت متعین کرلی جائے۔ 2۔ ادھار کی مدت بھی متعین کرلی ...
سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ حضرت مفتی صاحب! میرا ایک پیدائشی مسئلہ ہے، براہِ کرم شریعت کی روشنی میں میری رہنمائی فرمائیں۔ میرا پرائیویٹ پارٹ عام مردوں کی طرح نہیں ہے۔ میرا عضوِ تناسل بہت چھوٹا ہے، اس میں پیشاب کا سوراخ (یوریتھرا) موجود نہیں ہے، اور دونوں خصیے (Testicles) بھی باہر نہیں ہیں بلکہ پیدائشی طور پر پیٹ کے اندر ہیں۔ میری خواہش ہے کہ میری شناخت مرد کے طور پر ہو، لیکن اپنی پیدائشی کیفیت کی وجہ سے میں شریعت کا حکم جاننا چاہتا/چاہتی ہوں۔ سوال یہ ہے کہ شریعت کی نظر میں میرا حکم کیا ہے؟ کیا مجھے مرد شمار کیا جائے گا یا عورت؟ اور مجھ پر مردوں کے احکام لاگو ہوں گے یا عورتوں کے؟ الجواب وباللہ توفیق صورت مسئولہ میں شرعی معیار کے مطابق جس پر خنثٰی مشکل کا نیز خنثٰی مشکل کی تعریف اور اس کی پہچان کا شرعی معیار مندرجہ ذیل ہے : خنثٰی وہ فرد ہے جس میں مرد و عورت دونوں کے اعضاء ہوں یا دونوں میں سے کوئی عضو نہ ہو ۔ اگر دونوں عضو ہوں،تو نابالغی کی حالت میں اس پر مرد یا عورت کا حک...