ایک شخص ہے اس نے ایک بکری قربانی کے لیے خاص کی اس کی وجہ سے اس خاص بکری کی پسند کی ہوئی بکری کی قربانی کرنی واجب ہوتی ہے اب ایام قربانی اتے اتے اس بکری میں جس کو قربانی کے لیے خاص کیا تھا نقص پیدا ہو گیا اب سوال یہ ہے کہ جو جانور قربانی کے لیے خاص کیا ہو اسی جانور کی قربانی واجب ہوتی ہے اگر اس میں کوئی نقص ا جائے تو کیا اب بھی اس کی قربانی واجب ہے یا اس نقص کی وجہ سے کوئی اور جانور ذبح کرنا جائز ہے ذرا اس بات پر مفتیان کرام روشنی ڈالیں اور قران و حدیث کی روشنی میں جواب ارسال فرمائیں وما توفیق الا باللہ سائل منتظر نظر رحمت ماتحت دست برکت مولانا محمد سمیر برکاتی وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ الجواب وباللہ توفیق صورت مسئولہ میں اگر شخص غنی ہے تو اسے دوسرے جانور کی قربانی کرنا واجب ہے کہ جس جانور میں عیب ہو جائے وہ قربانی کے لائق نہیں رہتا بدائع الصنائع، ہندیہ اور رد المحتار میں ہے:واللفظ للاول:”لو كان فی ملك انسان شاة فنوى ان يضحی بها او اشترى شاة ولم ينو الاضحية وقت الشراء،ثم نوى بعد ذلك ان يضحی بها لا يجب عليه سواء كان غنيا او فقيرا “یعنی اگر کسی شخص کی ملکیت میں بک...
سوال میں ذکر کردہ اسکیم قرآن و حدیث کے خلاف اور جوئے پر مشتمل ہونے کی وجہ سے ناجائز و حرام ہے۔ نیزاس کی خرابیوں میں سے یہ بھی ہے کہ جوئے کے ذریعے جو مال ملے گا، وہ لینا حرام اور دوسروں کا مال باطل طریقے سے کھانا کہلاتا ہے۔پھر مالِ حرام سے کیا جانے والا عمرہ بھی اللہ عزوجل کی پاک بارگاہ میں قبول نہیں ہوتا۔ لہذا بحیثیتِ مسلمان اس اسکیم سے بچنا شرعاً لازم ہے۔ نیز اس اسکیم کی سر پرستی کرنے والوں کو بھی حکمتِ عملی سے شرعی حکم بتاتے ہوئے یہ اسکیم ختم کرنے کی ترغیب دلائیں، بلکہ انہیں خود بھی چاہئے کہ اس شیطانی عمل سے بچیں اور اپنی آخرت داؤ پر نہ لگائیں۔ لفظ ’’قمار‘‘ ’’قمر‘‘سے بنا ہے جو گھٹتا اور بڑھتا رہتا ہےاور قمار کو قمار اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس میں بھی بازی لگانے والوں میں سے ہر ایک کا مال دوسرے کے پاس جانا، ممکن ہوتا ہے اور وہ مدِ مقابل کے مال سے نفع حاصل کر لیتا ہے ،پس اس طرح ان میں سے ہر ایک کا مال بھی کبھی گھٹتا ہے اور کبھی بڑھتا ہے ،پس جب مال جانبین سے مشروط ہو ،تو یہ قمار ہو گا اور قمار حرام ہے ،اس لیے کہ اس میں اپنے مال کو خطرےپر پیش کرنا ہےاور یہ جائز...