🌹 تشریح 🌹 علامہ غلام رسول سعیدی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اگرچہ بعض فقہاء نے نفلی صدقہ غیر مسلم کو دینے کی اجازت دی ہے، لیکن صحیح اور راجح قول یہ ہے کہ غیر مسلم کو صدقہ نہیں دیا جائے گا۔ کیونکہ صدقہ عبادت اور قربتِ الٰہی کا عمل ہے، اور مسلمان محتاج اس کا زیادہ حق دار ہے۔ لہٰذا مسلمان کو چاہیے کہ اپنے صدقات اور خیرات حتیٰ الامکان مسلمان فقراء، مساکین، یتیموں اور ضرورت مندوں پر خرچ کرے تاکہ ایک طرف ثواب حاصل ہو اور دوسری طرف مسلمانوں کی حاجت روائی بھی ہو۔ 📚 علامہ غلام رسول سعیدی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "صحیح یہ ہے کہ غیر مسلم کو صدقہ نہیں دیا جائے گا۔" (شرح صحیح مسلم، جلد 6، صفحہ 766) ✍️ دارالافتاء گلزارِ طیبہ بفیضِ روحانی حضور محدثِ کبیر علامہ غلام رسول سعیدی رحمۃ اللہ علیہ 🌹
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ سلام کے بعد مفتی صاحب کی بارگاہ میں سوال ہے کہ: ایک بیمہ (انشورنس) پالیسی ہے جس کا اصول یہ ہے کہ ہر سال ستر ہزار (70,000) روپے جمع کروانے ہوتے ہیں، اور یہ رقم سات سال تک ادا کرنی ہوتی ہے۔ سات سال مکمل ہونے کے بعد مزید کوئی رقم جمع نہیں کرنی پڑتی۔ اگر پالیسی لینے والے شخص کا انتقال 75 سال کی عمر سے پہلے ہو جائے تو بیمہ کمپنی اس کے ورثاء کو ایک کروڑ (1,00,00,000) روپے ادا کرتی ہے، اور اگر اسی مدت کے دوران حادثے (ایکسیڈنٹ) میں وفات ہو جائے تو ورثاء کو ڈیڑھ کروڑ (1,50,00,000) روپے دیے جاتے ہیں۔ لیکن اگر 75 سال کی عمر کے بعد انتقال ہو یا حادثے میں وفات ہو تو کوئی رقم نہیں دی جاتی، اور پالیسی بھی ختم ہو جاتی ہے۔ نیز جو رقم سات سال تک جمع کروائی گئی تھی، وہ بھی واپس نہیں ملتی۔ مفتی صاحب کی بارگاہ میں عرض ہے کہ کیا ایسی بیمہ (انشورنس) پالیسی شریعتِ مطہرہ کی رو سے لینا جائز ہے یا نہیں؟ سائل: غلام یاسین، وانکانےر الجواب وباللہ توفیق صورت مسئولہ انشورنس کروانا حرام و گناہ ہے چاہے لائف انشورنس ہو یا جنرل انشورنس ۔ لائف انشورنس سود پر مشتمل ہے کیونکہ اس می...