نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

دعائیں قبول کیوں نہیں ہوتی ؟

مسلمان تو دعا کر اللہ ضرور قبول فرمائیے گا  اللہ تعالیٰ فرماتا ہے  وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ (سورۃ غافر: 60) ترجمہ  اور تمہارے رب نے فرمایا: مجھ سے دعا کرو، میں تمہاری دعا قبول کروں گا ۔ کچھ لوگوں کا یہ کہنا کہ ہم نے بہت دعائیں مانگی مگر قبول نہیں ہوتی اس کا جواب یہ ہے کہ دعا کہ قبول ہونے میں کچھ شرائط ہے  بالکل درست فرمایا، آئندہ سورہ نمبر ضرور لکھوں گا۔ ابھی آپ کے لیے وہی جواب سورہ نمبر کے ساتھ پیش ہے: --- 📿 دعا کی قبولیت کی شرطیں (دلائل کے ساتھ) --- 🌿 1. اخلاص 📖 قرآن: وَأَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلَّهِ فَلَا تَدْعُوا مَعَ اللَّهِ أَحَدًا 👉 سورہ نمبر: 72 (الجن) — آیت: 18 --- 🌿 2. یقین کے ساتھ دعا 📖 حدیث: "ادْعُوا اللَّهَ وَأَنْتُمْ مُوقِنُونَ بِالإِجَابَةِ" (ترمذی) --- 🌿 3. حلال رزق 📖 حدیث: (صحیح مسلم) 👉 حرام کھانے والے کی دعا قبول نہیں ہوتی --- 🌿 4. گناہ اور قطع رحمی سے بچنا 📖 حدیث: (صحیح مسلم) 👉 جب تک گناہ کی دعا نہ ہو --- 🌿 5. جلدی نہ کرنا 📖 حدیث: (صحیح بخاری، مسلم) 👉 “میں نے دعا کی مگر قبول نہ ہوئی” نہ کہے --- 🌿 6. عاجزی کے ساتھ دع...
حالیہ پوسٹس

فتویٰ اصلاح کے لیے

📜 فتویٰ: اصلاح کے لیے، نہ کہ کسی کو نیچا دکھانے کے لیے آج کے دور میں ایک عجیب روش عام ہوتی جا رہی ہے کہ لوگ فتویٰ کو دین سمجھنے کے بجائے اپنے مقصد پورا کرنے کا ذریعہ بنا لیتے ہیں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ: 👉 فتویٰ کا مقصد اپنی اصلاح ہے 👉 نہ کہ کسی کو نیچا دکھانا یا بحث جیتنا 🌿 اصل حقیقت کیا ہے؟ فتویٰ دراصل حکمِ شرع کو جاننے کا نام ہے، اور جب حکم معلوم ہو جائے تو ایک سچے مسلمان کا شیوہ یہ ہونا چاہیے کہ: 👉 فوراً اسے قبول کرے 👉 چاہے وہ اس کی مرضی کے خلاف ہی کیوں نہ ہو 📖 قرآن کی روشنی میں: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "مسلمانوں کی بات تو یہی ہے کہ جب اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلائے جائیں تاکہ رسول ان میں فیصلہ فرمائے تو عرض کریں: ہم نے سنا اور مان لیا، اور یہی لوگ کامیاب ہیں" (سورہ النور: 51) لیکن افسوس! آج کچھ لوگوں کا حال یہ ہے کہ: "اور جب انہیں اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلایا جاتا ہے تاکہ رسول ان میں فیصلہ فرمائیں تو ان میں سے ایک گروہ منہ پھیر لیتا ہے" (سورہ النور: 49) ⚠️ سوچنے کی بات: جب فتویٰ اپنی مرضی کے مطابق ہو: 👉 تو خوشی، تعریف ...

ولیمہ لڑکی کی طرف سے

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ **سوال:**کیا ولیمہ کی دعوت لڑکے والوں اور لڑکی والوں دونوں کو کرنا سنت ہے یا صرف لڑکے والوں کے لیے؟اور کیا ہر شخص کو دعوت دینا ضروری ہے چاہے حیثیت ہو یا نہ ہو؟ **الجواب وباللہ التوفیق:**ولیمہ نکاح کے بعد شوہر کی طرف سے کی جانے والی دعوت ہے،اس لیے سنت صرف لڑکے یعنی شوہر کے ذمہ ہے،لڑکی والوں پر ولیمہ کرنا سنت نہیں ہے۔نبی کریم ﷺ نے صحابی عبدالرحمن بن عوف سے فرمایا:أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍترجمہ:ولیمہ کرو اگرچہ ایک بکری ہی سے کیوں نہ ہو۔اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ ولیمہ مرد کی طرف سے سنت ہے۔لڑکی والوں کا اگر اپنی خوشی سے کھانا کھلانا ہو تو یہ جائز ہے مگر اسے ولیمہ نہیں کہا جائے گا اور نہ ہی اسے سنت سمجھا جائے گا۔ہر شخص کو دعوت دینا ضروری نہیں ہے بلکہ شریعت کا اصول یہ ہے کہ آدمی اپنی حیثیت کے مطابق دعوت کرے،ریاکاری اور فضول خرچی سے بچے،اور غریبوں کا بھی خیال رکھے۔حدیث شریف میں آیا ہے کہ بدترین دعوت وہ ہے جس میں مالداروں کو بلایا جائے اور غریبوں کو چھوڑ دیا جائے۔لہٰذا خلاصہ یہ ہے کہ ولیمہ صرف لڑکے والوں کے لیے سنت ہے،لڑکی والوں پر لازم نہیں،اور نہ ہی ہر شخص کو ...

اختلافی مسائل میں کسی کو فاسق کہنا

السلام علیکم حضرت صاحب زید اور بکر کی بحث دونوں حضور تاج الشریعہ کے مرید ہیں زید نے بکر سے کہا کہ تمہارے پیچھے نماز نہیں ہوگی بکر نے کہا کیوں ؟ زید نے کہا کہ تم حضور تاج الشریعہ کے مرید ہو اور ویڈیو میں نعت تقریر دیکھتے ہو اور لاؤڈ اسپیکر پر نماز پڑھتے ہو - اور یہ ہمارے پیر کے نزدیک حرام ہے - اور حرام کام کرنے والا فاسق ہے - اور فاسق کے پیچھے نماز جائز نہیں! بکر نے کہا کہ ہمارے اکابر علماء اہلسنت میں اختلاف ہے - کچھ حضرات جائز کہتے ہیں اور کچھ حضرات ناجائز - ہمارے نزدیک دونوں طرف کے علماء ہمارے سر کے تاج ہیں - ہم دونوں طرف کے علماء کا ادب و احترام کرتے ہیں - ہم دونوں کو حق و صحیح مانتے ہیں دونوں حضرات کی اپنی اپنی تحقیق ہے - زید نے کہا کہ دونوں کیسے صحیح ہو سکتے ہیں؟ تم تو اپنے پیر کے فتوے پر عمل نہیں کرتے - مرید کا مطلب ہوتا ہے بِک جانا - تم اب ہمارے پیر کے مرید نہیں رہے - *زید کا کہنا صحیح ہے یا بکر کا؟ علمائے اہلسنت کی بارگاہ میں عرض ہے کہ تسلی بخش اور نصیحت آمیز جواب عنایت فرمائیں؟* الجواب وباللہ التوفیق صورتِ مسئولہ میں اصل مسئلہ “اختلافِ علماء” کو صحیح انداز میں سمجھنے کا ہے، کیو...

الزام لگاتے ہو

السلام علیکم حضرت صاحب آج کل لوگ کان کے اتننے کچے ہو گئے ہیں کہ بغیر تحقیق کئے لوگ کہتے ہیں کہ فلاں عالم ایسے ہیں، فلاں امام ایسا ہے، فلاں شخص ایسا ہے جبکہ کہنے والوں کے پاس نہ کوئی شرعی سبوت ہوتا ہے، ایسے کہنے والوں پر اور ایسا سن کر آگے بڑھانے پر کیا حکم ہے؟ وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاۃ الجواب وباللہ توفیق  بغیر تحقیق کسی عالم، امام یا مسلمان کے بارے میں غلط بات کہنا یا سن کر آگے پھیلانا شریعت میں سخت ناجائز اور گناہِ کبیرہ ہے۔ قرآنِ کریم میں واضح حکم ہے: "اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو تحقیق کر لیا کرو" (سورہ الحجرات: 6) اسی طرح بلا تحقیق بات پھیلانے والوں کے بارے میں فرمایا: "اور جس بات کا تمہیں علم نہ ہو اس کے پیچھے نہ پڑو" (سورہ بنی اسرائیل: 36) حدیث شریف میں بھی سخت وعید آئی ہے: نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات بیان کر دے" (صحیح مسلم) حکم کی وضاحت: بغیر ثبوت کسی پر الزام لگانا بہتان ہے۔ کسی کی برائی بیان کرنا اگر سچی بھی ہو تو بلا ضرورت غیبت ہے۔ سنی سنائی بات آگے پھیلان...

تبرکات اور نزرانہ

آجکل تبرکات شریفہ کو شہر شہر گھمایا جاتا ہے اور ہر سال نئے تبرکات پیش کیے جاتے ہیں ـ لیجیے امام اہلسنت رضی الله عنہ کو پڑھیں: تبرکات شریفہ بھی الله عزوجل کی نشانیوں سے عمدہ نشانیاں ہیں ان کے ذریعہ سے دنیا کی ذلیل قلیل پونجی حاصل کرنے والا دنیا کے بدلے دین بیچنے والا ہے شناعت سخت تر یہ ہے کہ اپنے اس مقصد فاسد کے لئے تبرکات شریفہ کو شہر بشہر در بدر لئے پھرتے ہیں اور کس و نا کس کے پاس لے جاتے ہیں یہ آثار شریفہ کی سخت توہین ہے ـ [فتاوٰی رضویہ، جِلد²¹، صفحہ ⁴¹⁷] مزید پڑھیں: رہا یہ کہ بـے اس کے مانگے زائرین کچھ اسے دیں اور یہ لے ۔ اس میں تفصیل ہے؛ شرع مطہر کا قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ ”المعہود عرفا کالمشروط لفظا (عرفا مقررہ چیز لفظا مشروط کی طرح ہے۔ ت) یہ لوگ تبرکات شریفہ شہر بشہر لئے پھرتے ہیں ان کی نیت و عادت قطعا معلوم کہ اس کے عوض تحصیل زر و جمع مال چاہتے ہیں یہ قصد نہ ہو تو کیوں دور دراز سفر کی مشقت اٹھائیں، ریلوں کے کرائے دیں، اگر کوئی ان میں زبانی کہے بھی کہ ہماری نیت فقط مسلمانوں کو زیارت سے بہرہ مند کرنا ہے تو ان کا حال ان کے قال کی صریح تکذیب کر رہا ہے ان میں علی العموم وہ لوگ ہیں جو ضرو...

زکوۃ ادا کرنے والے پر دعا نبوی

خُذْ مِنْ اَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَ تُزَكِّیْهِمْ بِهَا وَصَلِّ عَلَیْهِمْؕ-اِنَّ صَلٰوتَكَ سَكَنٌ لَّهُمْؕ-وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ(103)   ترجمۂ کنز الایمان اے محبوب ان کے مال میں سے زکوٰۃ تحصیل کرو جس سے تم انہیں ستھرا اور پاکیزہ کردو اور ان کے حق میں دعائے خیر کرو بیشک تمہاری دعا ان کے دلوں کا چین ہے اور اللہ سنتا جانتا ہے۔   تفسیر صراط الجنان { خُذْ مِنْ اَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً : اے حبیب! تم ان کے مال سے زکوٰۃ وصول کرو۔} اس آیت میں جو ’’صدقہ‘‘ کا لفظ مذکور ہے اس کے معنی میں مفسرین کے کئی قول ہیں۔ ایک قول یہ ہے کہ جن صحابۂ کرام    رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم  کا ذکر اُوپر کی آیت میں ہے ،انہوں نے کفارے کے طور پر جو صدقہ دیا تھا وہ مراد ہے اوروہ صدقہ ان پر واجب نہ تھا۔  دوسرا قول یہ ہے کہ اس صدقہ سے مراد وہ زکوٰۃ ہے جو اُن کے ذمہ واجب تھی ،انہوں نے توبہ کی اور زکوٰۃ ادا کرنی چاہی تو  اللہ  تعالیٰ نے اس کے لینے کا حکم دیا۔ امام ابوبکر جصاص  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  نے اس قول کو ترجیح دی ہے کہ صدقہ سے زکوٰۃ م...