الجواب وباللہ التوفیق صورتِ مسئولہ میں ڈیجیٹل تصویر اور ویڈیو کے حکم کے بارے میں معاصر علماءِ کرام کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض حضرات اسے ناجائز یا حرام قرار دیتے ہیں، بعض مکروہ کہتے ہیں، جبکہ بعض علماء مخصوص شرائط کے ساتھ اس کے جواز کے قائل ہیں۔ ہمارے نزدیک اس مسئلہ میں حالاتِ زمانہ، مصالحِ شرعیہ، عرفِ عام اور دعوتِ دین کی ضروریات کو پیشِ نظر رکھنا چاہیے، کیونکہ شریعتِ مطہرہ کا مزاج آسانی، اعتدال اور رفعِ حرج پر قائم ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ﴿يُرِيدُ اللّٰهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ﴾ ترجمۂ کنز الایمان: "اللہ تم پر آسانی چاہتا ہے اور تم پر دشواری نہیں چاہتا۔" (سورۂ بقرہ، آیت: 185) اسی طرح حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: «إِنَّ الدِّينَ يُسْرٌ» ترجمہ: "بے شک دین آسان ہے۔" (صحیح البخاری) اور ایک مقام پر فرمایا: «يَسِّرُوا وَلَا تُعَسِّرُوا، وَبَشِّرُوا وَلَا تُنَفِّرُوا» ترجمہ: "لوگوں کے لیے آسانی پیدا کرو، سختی نہ کرو، خوشخبری دو اور نفرت نہ دلاؤ۔" (صحیح البخاری، صحیح مسلم) یہ نصوصِ شرعیہ اس بات پر دلالت کرتی ہیں...
مرحوم کی طرف سے قربانی کرنے سے مالک نصاب کا فرض ساقط ہوجائے گا ؟ الجواب وباللہ توفیق مذکورہ صورتِ حال میں مرحوم والدین کی طرف سے جو بغیر وصیت کے قربانی کی گئی،اُس سے اِس ذبح کرنے والے کا واجب ادا ہو گیا، کیونکہ میت کی طرف سے یا میت کے نام پر قربانی کرنے کا مفہوم یہ ہے کہ اس کا ثواب میت کو پہنچے ،باقی رہی قربانی تو وہ چونکہ ذبح کرنے والے کی مِلک پر واقع ہوئی ہے ،اس لیے اس کا اپنا واجب ادا ہو جائے ترجمہ:اگر وارث نے میت کے حکم سے اس کی طرف سے قربانی کی تو اس پر لازم ہے کہ اسے صدقہ کردے اور اس میں سے نہ کھائے،اور اگر وارث میت کے حکم کے بغیر تبرعاً اس کی طرف سے قربانی کرے ،تو اس کے لیے اس میں سے کھانا ،جائز ہے، کیونکہ یہ قربانی ملکِ ذابح پر واقع ہوئی ہے اور میت کے لیے ثواب ہے،اور اسی لیے اگر ذابح پرایک قربانی لازم ہو، تو ساقط ہو جائے گی (۔ شامی جلد 11 صفحہ 604مترجم) فتاوی قاضی خان میں ہے:’’ ولو ضحی عن المیت من مال نفسہ بغیر امر المیت جاز،ولہ ان یتناول منہ ولا یلزمہ ان یتصدق بہ،لانھا لم تصر ملکاً للمیت بل الذبح حصل علی ملکہ،ولھذا لو کان علی الذابح اضحیۃ سقطت عنہ‘‘ترجمہ...