یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ وَّ اُنْثٰى وَ جَعَلْنٰكُمْ شُعُوْبًا وَّ قَبَآىٕلَ لِتَعَارَفُوْاؕ-اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ(13) ترجمۂ کنز الایمان اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد اورایک عورت سے پیدا کیا اور تمہیں شاخیں اور قبیلے کیا کہ آپس میں پہچان رکھو بیشک اللہ کے یہاں تم میں زیادہ عزت والا وہ جو تم میں زیادہ پرہیزگارہے بیشک اللہ جاننے والا خبردار ہے۔ تفسیر صراط الجنان { یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ وَّ اُنْثٰى : اے لوگو!ہم نے تمہیں ایک مرداورایک عورت سے پیدا کیا۔} ارشاد فرمایا :اے لوگو!ہم نے تمہیں ایک مرد حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اورایک عورت حضرت حوا رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا سے پیدا کیا اورجب نسب کے اس انتہائی درجہ پر جا کر تم سب کے سب مل جاتے ہو تو نسب میں ایک دوسرے پر فخر اوربڑائی کا اظہار کرنے کی کوئی وجہ نہیں ، سب برابر ہو اور ایک جدِّ اعلیٰ کی اولاد ہو (اس لئے نسب کی وجہ سے ایک دوسرے پر فخر کا اظہار نہ کرو) ...
السؤال: گھروں میں کعبۂ معظمہ، گنبدِ خضریٰ یا اولیائے کرام کی درگاہوں کے ماڈل (نمونے) رکھنا کیسا ہے؟ الجواب وباللہ التوفیق: اگر یہ ماڈل صرف بطورِ سجاوٹ، یادگار یا تعظیم کے لیے رکھے جائیں، ان کی عبادت نہ کی جائے، نہ ان سے کسی قسم کی غیبی مدد مانگی جائے، تو فی نفسہٖ اس میں شرک نہیں۔ البتہ گھروں میں ایسی چیزیں رکھنا جن کا کوئی دینی یا دنیوی فائدہ نہ ہو، محض نمائش اور آرائش کے لیے ہو، اس سے بچنا بہتر ہے، خصوصاً جب اس میں فضول خرچی یا بے ادبی کا اندیشہ ہو۔ اگر ان ماڈلز کی ایسی تعظیم کی جائے جو عبادت سے مشابہ ہو، یا ان کے متعلق باطل عقائد رکھے جائیں، تو یہ ناجائز اور گمراہی کا سبب ہوگا۔ لہٰذا بہتر یہی ہے کہ گھر کو قرآنِ کریم کی تلاوت، ذکرِ الٰہی، نماز اور دینی تعلیم سے آباد رکھا جائے، کیونکہ اصل برکت انہی اعمال میں ہے، نہ کہ محض ماڈل رکھنے میں۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب دارالافتاء گلزار طیبہ مفتی ابو احمد ایم جے اکبری صاحب بفیضِ روحانی علامہ غلام رسول سعیدی رحمۃ اللہ علیہ