*(کیا امام حسن نے حضرت امیر معاویہ سے بیعت نہیں کی تھی؟ سنابل ڈھولکی کے دعوے کا علمی محاسبہ)* سنابل ڈھولکی نے بڑے طمطراق کے ساتھ یہ دعویٰ کیا ہے کہ دنیا کی دھرتی پر کوئی ملا پیدا نہیں ہوا جو یہ ثابت کر سکے کہ امام حسن رضی اللہ عنہ نے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے بیعت کی ہو۔ سنابل ڈھولکی کے اس دعوے سے اس کی علمی لیاقت خوب اچھی طرح ظاہر ہو جاتی ہے۔ سنابل ڈھولکی نےحدیث کی کتابوں سے کبھی سنجیدہ تعلق قائم کیا ہوتا تو اتنے بڑے دعوے سے پہلے چند بنیادی کتب کا مطالعہ ضرور فرما لیتا۔ قارئین کی خدمت میں ہم چند روایات پیش کر رہے ہیں، ملاحظہ فرمائیں: 1۔ امام ابن سعد رحمہ اللہ طبقات الکبریٰ میں روایت کرتے ہیں: أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَوْنُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: سَمِعْتُ هِلَالَ بْنَ خَبَّابٍ يَقُولُ: جَمَعَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ رُؤُوسَ أَصْحَابِهِ فِي قَصْرِ الْمَدَائِنِ، فَقَالَ: يَا أَهْلَ الْعِرَاقِ، لَوْ لَمْ تَذْهَلْ نَفْسِي عَنْكُمْ إِلَّا لِثَلَاثِ خِصَالٍ لَذَهَلْتُ: مَقْتَلِكُمْ أَبِي، وَمَطْعَنِكُمْ بِغَلَتِي، وَانْتِهَابِكُمْ ثَقَلِي أَوْ قَالَ: رِدَائِي عَ...
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ الجواب وباللہ توفیق صورت مسئولہ میں شرعی نقطہ نظر سے کسی سنی صحیح العقیدہ مسلمان کے لیے محض اداکاری، ڈرامے یا سوشل میڈیا ریل (Reel) میں بھی خود پر وہابی یا کسی گمراہ فرقے کا لیبل لگانا، یا دوسرے سنی بھائیوں کا اسے لائیو ویڈیو میں "وہابی" کہہ کر پکارنا پسندیدہ اور موزوں عمل نہیں ہے، اور اس سے احتیاط لازم ہے۔ اگرچہ نیت دین کی اشاعت اور سنی عوام تک درست عقائد پہنچانے کی ہے، لیکن اس طریقے کار میں چند اہم شرعی اور سماجی خرابیاں پائی جاتی ہیں جن کی تفصیل درج ذیل ہے: 1. فتنے اور غلط فہمی کا اندیشہ (عوام الناس کا مغالطہ) سوشل میڈیا پر ہر قسم کے لوگ ریلز دیکھتے ہیں۔ بہت سے سیدھے سادھے عوام ریلز کو حقیقت سمجھ بیٹھتے ہیں یا رول پلے کرنے والے بھائی کو مستقل طور پر "وہابی" سمجھ سکتے ہیں۔ شریعتِ اسلامیہ میں ایسے کاموں سے بچنے کا حکم ہے جس سے انسان خود کو تہمت کی جگہ پر کھڑا کرے اور لوگ اس کے بارے میں بدگمانی میں مبتلا ہوں۔ حضرت صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اعتکاف میں تھے۔ میں ایک رات آپ ﷺ سے ملاقات کے لیے آئی۔ واپسی کے ...