دارالافتاء گلزار طیبہ تحقیق سینٹر سوال کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے میں کہ زید نے کہا: "مرد کے مقابلے میں عورت کا درجہ کم ہے، چاہے رابعہ بصری ہوں یا سیدہ فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا، کیونکہ یہ سب ناقص العقل اور ناقص الدین ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نہ ان میں کوئی امام ہوئی، نہ مفتیہ اور نہ فقیہہ۔" کیا زید کا یہ کہنا درست ہے؟ سائل: فقیر قادری عبدالقیوم اسماعیلی الجواب وباللّٰہ التوفيق زید کا مذکورہ کلام اس مطلق انداز میں درست نہیں ، بلکہ اس میں متعدد شرعی مسائل کو باہم خلط کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ (النساء: 34) اس آیت میں مردوں کی قوامیت، کفالت اور گھریلو ذمہ داری بیان ہوئی ہے، یہ حکم نہیں کہ ہر مرد ہر عورت سے علم، تقویٰ اور فضیلت میں افضل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فضیلت کا اصل معیار تقویٰ قرار دیتے ہوئے فرمایا: إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ أَتْقَاكُمْ (الحجرات: 13) یعنی اللہ کے نزدیک زیادہ عزت والا وہ ہے جو زیادہ متقی ہے۔ حدیثِ "ناقصات عقل ودین" کا صحیح مفہوم صحیح بخاری میں حدیثِ "ناقصات عقل ودین...
🕌 بسم اللہ الرحمن الرحیم سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! انتخابات کے دوران امیدواروں سے دین کے کام کروانے کے بدلے ووٹ دینا، اور اس کے ساتھ ذاتی طور پر روپیہ لینا شرعاً کیسا ہے؟ الجواب بعون الملک الوہاب وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! ووٹ ایک امانت اور ذمہ داری ہے، اسے ذاتی مال یا کسی دنیاوی فائدے کے بدلے دینا شرعاً درست نہیں۔ اگر کسی امیدوار سے یہ معاملہ طے کیا جائے کہ “آپ ہمیں اتنی رقم دیں یا ذاتی فائدہ پہنچائیں، ہم آپ کو ووٹ دیں گے” تو یہ رشوت کے مفہوم میں داخل ہے، اور رشوت لینا اور دینا دونوں ناجائز ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ﴾ “اور آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق نہ کھاؤ۔” 📖 سورۃ البقرۃ، آیت 188 اور رسول اللہ ﷺ نے رشوت دینے اور لینے والے پر سخت وعید فرمائی ہے: «لَعَنَ رَسُولُ اللهِ ﷺ الرَّاشِيَ وَالْمُرْتَشِيَ» “رسول اللہ ﷺ نے رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے پر لعنت فرمائی۔” 📖 سنن ابی داؤد، جامع ترمذی لہٰذا ووٹ کے بدلے ذاتی طور پر روپیہ لینا جائز نہیں، خواہ رقم کم ہو یا زیادہ۔ البتہ اگر کسی امیدوار سے یہ کہا جائے ک...