نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

طواف کے بعد نماز

بسم اللہ الرحمن الرحیم سوال کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ عمرہ کرنے کے بعد دو رکعت نماز پڑھنے کا کیا طریقہ ہے؟ اگر ایک عمرہ کا طواف مکمل کیا تو کیا اس طواف کی دو رکعت نماز فوراً پڑھنا ضروری ہے؟ یا دوسرا عمرہ کرنے کے بعد دونوں عمرہ کی دو رکعتیں ایک ساتھ پڑھی جاسکتی ہیں؟ قرآن و حدیث اور اقوالِ علمائے مجتہدین کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔ المستفتی: سمیر رضا، چندرپور الجواب وبالله التوفيق صورتِ مسئولہ میں یہ بات واضح رہے کہ عمرہ کے طواف کے بعد پڑھی جانے والی دو رکعتیں نمازِ طواف ہیں۔ حنفی مذہب میں ہر طواف کے بعد دو رکعت نماز واجب ہے ۔ بہارِ شریعت میں ہے: ’’طواف کے بعد مقامِ ابراہیم میں آکر آیتِ کریمہ وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى پڑھ کر دو رکعت طواف پڑھے اور یہ نماز واجب ہے۔‘‘ مزید اسی میں ہے: ’’سنت یہ ہے کہ وقتِ کراہت نہ ہو تو طواف کے بعد فوراً نماز پڑھے، بیچ میں فاصلہ نہ ہو، اور اگر نہ پڑھی تو عمر بھر میں جب پڑھے گا ادا ہی ہے قضا نہیں، مگر برا کیا کہ سنت فوت ہوئی۔‘‘ (بہارِ شریعت، جلد اول، ص 1103، مکتبۃ المدینہ) لہٰذا ایک عمرہ کے طواف...
حالیہ پوسٹس

مالی جرمانہ اور بایکاٹ

الجواب وبالله التوفيق صورتِ مسئولہ میں مالی جرمانہ منسوخ ہے، اور منسوخ پر عمل کرنا ناجائز ہے۔ اسلام میں مالی جرمانہ جائز نہیں۔ چنانچہ بحر الرائق شرح کنز الدقائق میں ہے: «التعزير بالمال كان في ابتداء الإسلام، ثم نسخ» ترجمہ: مالی جرمانہ اسلام کے ابتدائی دور میں تھا، پھر منسوخ ہوگیا۔ (بحر الرائق شرح كنز الدقائق، ج 5، ص 68، مطبوعہ دار الكتب العلمية، بیروت) اسی طرح تین طلاق کے بعد عورت کو بیوی کی حیثیت سے اپنے پاس رکھنے کے متعلق حضرت فقہِ ملت مفتی جلال الدین امجدی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: "مدخولہ عورت کو تین طلاق دے کر پھر بغیر شرعی نکاحِ ثانی کے اس سے بیوی جیسا تعلق رکھنا سخت ناجائز و حرام ہے۔ زید پر لازم ہے کہ اس عورت کو اپنے سے دور کر دے اور خود اس سے دور رہے۔ اگر تین طلاق کے بعد اس سے بیوی جیسا تعلق رکھتا ہو تو اسے توبہ و استغفار کرنا چاہیے۔ اگر وہ ایسا نہ کرے تو مسلمانوں کو چاہیے کہ اصلاح و تنبیہ کی غرض سے اس کا بائیکاٹ کریں، اور اس کے ساتھ کھانا پینا، لین دین اور سلام و کلام ترک کریں۔" (فتاویٰ برکاتیہ، ص 224) اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ﴿وَإِمَّا يُنْسِيَنَّكَ الشَّيْطَانُ ف...

منی ٹرانسفر کا حکم

السلام علیکم و رحمۃاللہ و برکاتہ علماء کرام کی خدمت میں مسئلہ عرض ہے کہ منی(Money) ٹرانسفر کا کاروبار کرنا جس میں ایک ہزار روپے پر سو روپیہ چارج وصول کیا جاتا ہے تو ایسا کرنا درست ہے.. سائل محمد انیس رضوی الجواب وباللہ توفیق صورت مسئولہ  منی ٹرانسفر کا کاروبار کرنا شرعاً درست ہے اور اس پر فیس یا سروس چارجز لینا جائز ہے، بشرطیکہ وہ رقم آپ کی محنت، وقت اور فراہم کردہ خدمات (Services) کی اجرت (فیس) کے طور پر ہو، نہ کہ رقم کے بدلے رقم کا سود۔علماء کرام اور مفتیانِ عظام کے مطابق اس معاملے کی شرعی حیثیت اور درست طریقے کی تفصیل درج ذیل ہے:1۔ جواز کی شرعی وجہ (وجہِ جواز)جب آپ کسی کے پیسے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرتے ہیں، تو آپ اصل میں ایک خدمت (Service) فراہم کر رہے ہوتے ہیں، جسے فقہ اسلامی کی اصطلاح میں "اجارہ" (امورِ نیابت پر اجرت لینا) کہا جاتا ہے۔ آپ جو 100 روپے وصول کر رہے ہیں، وہ رقم کے بدلے رقم کا تبادلہ نہیں ہے، بلکہ آپ کی درج ذیل خدمات کا معاوضہ ہے:آپ کی دکان، انٹرنیٹ، یا بینک اکاؤنٹ کا استعمال۔آپ کا وقت اور محنت۔رقم کو بحفاظت منتقل کرنے کی ذمہ داری۔2۔ سود سے بچنے کے لیے ...

حلال بھی واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے

مفتی صاحب کی بارگاہ میں سوال عرض ہے کہ حلال بھی واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے اس کا مطلب کیا ہے جواب عنایت فرمائیں سایل محمد علی جمیلانی سانوا باڑمیر  الجواب وباللہ توفیق  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا  بے شک حلال بھی واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے، اور ان دونوں کے درمیان کچھ مشتبہ (شک والی) چیزیں ہیں جنہیں بہت سے لوگ نہیں جانتے۔ پس جس شخص نے شبہات سے پرہیز کیا، اس نے اپنے دین اور اپنی عزت کو محفوظ کر لیا، اور جو شخص شبہات میں پڑ گیا، وہ حرام میں مبتلا ہو گیا۔ اس کی مثال اس چرواہے جیسی ہے جو (شاہی) چراگاہ کے ارد گرد اپنے جانور چرائے، تو بہت ممکن ہے کہ وہ اس کے اندر چرنے لگیں۔ سن لو! ہر بادشاہ کی ایک چراگاہ ہوتی ہے اور اللہ کی چراگاہ اس کی حرام کردہ حدود ہیں۔ خبردار! جسم میں گوشت کا ایک لوتھڑا ہے، جب وہ ٹھیک ہو جائے تو پورا جسم ٹھیک رہتا ہے اور جب وہ خراب ہو جائے تو پورا جسم خراب ہو جاتا ہے، سن لو! وہ دل ہے۔“(صحیح البخاری: 52، صحیح مسلم: 1599) یہاں حدیثِ پاک ”إِنَّ الْحَلَالَ بَيِّنٌ وَإِنَّ الْحَرَامَ بَيِّنٌ“ (حلال بھی واضح ہے اور حرام بھی...) کی علمی اور فقہی شروح...

کیا ہر عورت ناقص عقل ہے

دارالافتاء گلزار طیبہ تحقیق سینٹر سوال کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے میں کہ زید نے کہا: "مرد کے مقابلے میں عورت کا درجہ کم ہے، چاہے رابعہ بصری ہوں یا سیدہ فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا، کیونکہ یہ سب ناقص العقل اور ناقص الدین ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نہ ان میں کوئی امام ہوئی، نہ مفتیہ اور نہ فقیہہ۔" کیا زید کا یہ کہنا درست ہے؟ سائل: فقیر قادری عبدالقیوم اسماعیلی الجواب وباللّٰہ التوفيق زید کا مذکورہ کلام اس مطلق انداز میں درست نہیں ، بلکہ اس میں متعدد شرعی مسائل کو باہم خلط کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ (النساء: 34) اس آیت میں مردوں کی قوامیت، کفالت اور گھریلو ذمہ داری بیان ہوئی ہے، یہ حکم نہیں کہ ہر مرد ہر عورت سے علم، تقویٰ اور فضیلت میں افضل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فضیلت کا اصل معیار تقویٰ قرار دیتے ہوئے فرمایا: إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ أَتْقَاكُمْ (الحجرات: 13) یعنی اللہ کے نزدیک زیادہ عزت والا وہ ہے جو زیادہ متقی ہے۔ حدیثِ "ناقصات عقل ودین" کا صحیح مفہوم صحیح بخاری میں حدیثِ "ناقصات عقل ودین...

ووٹ ڈالنے کے

🕌 بسم اللہ الرحمن الرحیم سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! انتخابات کے دوران امیدواروں سے دین کے کام کروانے کے بدلے ووٹ دینا، اور اس کے ساتھ ذاتی طور پر روپیہ لینا شرعاً کیسا ہے؟ الجواب بعون الملک الوہاب وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! ووٹ ایک امانت اور ذمہ داری ہے، اسے ذاتی مال یا کسی دنیاوی فائدے کے بدلے دینا شرعاً درست نہیں۔ اگر کسی امیدوار سے یہ معاملہ طے کیا جائے کہ “آپ ہمیں اتنی رقم دیں یا ذاتی فائدہ پہنچائیں، ہم آپ کو ووٹ دیں گے” تو یہ رشوت کے مفہوم میں داخل ہے، اور رشوت لینا اور دینا دونوں ناجائز ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ﴾ “اور آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق نہ کھاؤ۔” 📖 سورۃ البقرۃ، آیت 188 اور رسول اللہ ﷺ نے رشوت دینے اور لینے والے پر سخت وعید فرمائی ہے: «لَعَنَ رَسُولُ اللهِ ﷺ الرَّاشِيَ وَالْمُرْتَشِيَ» “رسول اللہ ﷺ نے رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے پر لعنت فرمائی۔” 📖 سنن ابی داؤد، جامع ترمذی لہٰذا ووٹ کے بدلے ذاتی طور پر روپیہ لینا جائز نہیں، خواہ رقم کم ہو یا زیادہ۔ البتہ اگر کسی امیدوار سے یہ کہا جائے ک...

زکوٰۃ سے علاج

دارالافتاء گلزار طیبہ تحقیق سینٹر سوال: کچھ مسلمان شرعاً مالکِ نصاب ہوتے ہیں، مگر بیماری اور علاج کے اخراجات میں کافی رقم خرچ ہوجاتی ہے۔ کیا ایسے لوگوں کو زکوٰۃ دے سکتے ہیں؟ اور اگر زکوٰۃ کا حیلۂ شرعی کیا جائے تو اس کا کیا حکم ہے؟ الجواب وباللّٰہ توفیق اگر کوئی مسلمان شرعاً مالکِ نصاب ہے تو محض بیمار ہونے یا علاج کے اخراجات زیادہ ہونے کی وجہ سے وہ زکوٰۃ کا مستحق نہیں ہوجاتا۔ جب تک اس کے پاس حاجتِ اصلیہ سے زائد نصاب کے بقدر مال موجود ہے، اسے زکوٰۃ دینا جائز نہیں۔ البتہ اگر علاج کے ضروری اخراجات اور حاجاتِ اصلیہ کے بعد اس کے پاس نصاب کے بقدر زائد مال باقی نہ رہے تو وہ شرعاً مستحقِ زکوٰۃ ہوسکتا ہے اور اسے زکوٰۃ دی جاسکتی ہے۔ حیلۂ شرعی کے متعلق: حیلۂ شرعی ہر جگہ کرنا درست نہیں اور اسے زکوٰۃ سے بچنے یا غیر مستحق کو زکوٰۃ پہنچانے کا معمول نہیں بنانا چاہیے۔ صرف حقیقی سخت مجبوری اور شرعی ضرورت کی صورت میں معتبر علما کی رہنمائی سے جائز شرعی طریقہ اختیار کیا جاسکتا ہے۔ زکوٰۃ میں اصل تملیکِ مستحق ہے۔ لہٰذا جو بیمار شخص مالکِ نصاب ہونے کی وجہ سے زکوٰۃ کا مستحق نہیں، مسلمانوں کو چاہیے کہ...