نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

کمیشن لینا कमिशन लेना हिंदी अनुवाद आखिर में

हिंदी अनुवाद आखिर में है 

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان شرع کے ایک عالم صاحب جو کہ امامت کرتے ہیں ساتھ میں ان کا کاروبار گاڑیوں کے لین دین کا جس میں دو پارٹیوں سے سودا کرواتے ہیں جس میں ان کی ذمہ داری رہتی ہے گاڑیوں کے کاغذ وغیرہ کسی میں فولڈ ہوگا تو گارنٹی ان کی رہتی ہے جس کی وجہ سے کبھی نقصان بھی ہوتا ہے کبھی فائدہ مہینہ دو مہینہ کے بعد جب کاغذ وغیرہ نام پر ہو جاتے ہیں تب 5000/10000 جو کمیشن طے ہوتا ہے وہ ملتا ہے ابھی کوئی شخص بولتا ہے کے کمیشن کا دھندا کرنے والے کے پیچھے نماز نہیں ہوتی قرآن و حدیث کی روشنی میں مدلل جواب عنایت فرمائیں

سائل قاری غلام رسول ضیائی   کوشل کوٹ ضلع بانسواڑہ راجستھان

ُ

الجواب و بللہ توفیق 

  شرعی ضابطے پورے کرتے ہوئے کمیشن کے  ذریعے روزی کمانے میں شرعاً کوئی ممانعت نہیں  ہے، کہ کمیشن یا بروکری وہ ذریعۂ آمدنی ہے جس میں اپنی محنت کے ذریعے ایک سروس دی جاتی ہے اور یہ طریقۂ آمدنی آج کا نہیں بلکہ  صدیوں سے رائج ہے جس کو ہر دور کے علماء نے جائز ہی کہا ۔  بروکر کی اجرت (کمیشن):

بروکر کو "اجیر خاص" یا "وکیل" سمجھا جاتا ہے، اس لیے اگر خریدار یا بیچنے والے میں سے کسی ایک نے اسے اجرت پر مقرر کیا ہے تو وہ اس سے اجرت لے سکتا ہے۔ اگر دونوں نے اسے مقرر کیا ہو، تو دونوں سے لے سکتا ہے، بشرطیکہ دونوں کو اس کا علم اور رضامندی ہو۔ 

کمیشن طے کرنےکا طریقہ

   بروکر اپنا کمیشن دوطریقوں سے طے کرسکتا ہے:


   متعین رقم کی صورت میں طے کرے کہ یہ سودا کروانے کی اتنی رقم لوں گا  ۔


   فیصد میں طے کرے جبکہ اس کا عرف ہو کہ جتنے کی ڈیل ہوگی اس کا اتنا فیصد لوں گا۔


   لیکن دونوں  صورتوں میں یہ ضروری ہے کہ مارکیٹ میں رائج اجرت سے زیادہ وصول نہیں کرسکتا۔


سودا کینسل (Cancel)ہونے کی صورت میں کمیشن

   خریدار (Buyer)اور بیچنے والے (Seller)کے درمیان بروکر نے اپنے کام کے تقاضے پورے کرتے ہوئے اگر سودا کروا دیا  تو یہ اجرت کا مستحق ہو جائے گا ۔ بالفرض یہ   دونوں حضرات سودا کینسل کر دیں تو اب سودا کینسل ہونے سے بروکر کی اجرت پر فر ق نہیں آئے گاوہ لازمی ادا کرنا ہوگی

اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہے اگر بائع کی طرف سے محنت و کوشش و دوادوس میں اپنا زمانہ صرف کیا صرف اجر مثل مستحق ہوگا یعنی ایسے کام اتنی سعی پر جو مزدوری ہوتی ہے اس سے زائد نہ پائے گا خانیہ میں ہے اگر روزگار کے سلسلے میں دلال نے محنت کی اور آیا گیا تو اس کی محنت اور عمل کے مطابق مثلی اجرت ہوگی (فتاوی رضویہ جلد ۱۹ ص ۴۵۳) مفتی امجد علی رحمتہ اللہ علیہ  فرماتے ہے  اجرت یعنی دلالی بائع کے زمہ ہے جب کہ اس نے سامان مالک کی اجازت سے بئع کیا ہو اگر دلال نے طرفین میں بئع کی کوشش کی ہو اور بیع اس نے نہ کی ہو بلکہ مالک نے نے کی ہو تو جیسا وہاں کا عرف ہو یعنی اس صورت میں بھی اگر عرفا بائع کے زمے دلالی ہو تو بائع دے اور مشتری کے زمے ہو تو مشتری دے اور دونوں کے زمے ہو تو دونوں دیں (بہار شریعت جلد دوم ص ۳۳۹) 


4. ناجائز صورتیں:

بروکری درج ذیل صورتوں میں ناجائز ہوگی:


حرام اشیاء کی خرید و فروخت، مثلاً شراب، سور، سودی معاہدے۔


خریدار یا فروخت کنندہ کو دھوکہ دینا یا غلط معلومات دینا۔


ایک ہی معاملے میں دونوں فریقوں کو الگ الگ دھوکہ دینا۔

خلاصہ کلام امام جو یہ کاروبار کرتے ہے جائز اور حلال ہے بشطکیہ جو شرائط بیان کی گئی ہے ان کے مطابق کام کرتے ہو اور جس شخص نے کہا کمیشن پر دھندا کرنے والے کے پیچھے نماز نہیں ہوتی اس نے غلط کہا حدیث میں جو بغیر علم کے فتوی دے اس پر زمین و آسمان کے فعشتوں کی لعنت ہے (فتاوی رضویہ جلد ۲۳ص ۷۱۶)  واللہ اعلم ورسولہ 

ابو احمد ایم جے اکبری 

دارالافتاء گلزار طیبہ گجرت بھارت

=================

تصدیق نامہ

(Verification Certificate)


الحمدللہ وحدہ، والصلاۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ، اما بعد:


یہ بات راقم الحروف محمد عارف قادری (خادم دارالافتاء گلزارِ طیبہ) کے ذمہ ایمان و دیانت کے ساتھ تحریر کی جاتی ہے کہ:


مفتی ابو احمد ایم جے اکبری صاحب کا جو فتویٰ بعنوان "کمیشن و بروکری کے ذریعہ روزی کمانا اور اس کے جواز کا شرعی حکم" جاری کیا گیا ہے، وہ مکمل طور پر شریعتِ مطہرہ کے اصولوں کے مطابق، دلائلِ فقہیہ  کی روشنی میں مرتب کیا گیا ہے۔ اس میں ذکر کردہ ضوابط، قیود و حدود بالکل درست اور معتبر ہیں۔


اس فتویٰ میں دی گئی توضیحات و حوالہ جات، فقہائے کرام خصوصاً اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ اور مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ کے فتاویٰ سے ماخوذ ہیں، جو سنی حنفی مکتبِ فکر کے متفق علیہ اصول و فتاویٰ ہیں۔


لہٰذا، اس فتویٰ کو شرعی طور پر صحیح اور قابلِ اعتماد تسلیم کیا جاتا ہے، اور جو شخص اس کی مخالفت میں بغیر علم کے فتوے جاری کرے یا اہلِ حق پر طعن کرے، وہ سخت گمراہی میں ہے۔


اللہ تعالیٰ ہمیں علم کے ساتھ عمل کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔


واللہ ولی التوفیق


المعترف

خادم دارالافتاء گلزارِ طیبہ

محمد عارف قادری

(بتاریخ: 09 مئی 2025 / 10 ذیقعدہ 1446ھ)

प्रश्न:

एक आलिम साहब जो इमामत करते हैं, साथ ही उनका गाड़ियों की खरीद-बिक्री का कारोबार भी है। वह दो पार्टियों के बीच गाड़ी का सौदा तय करवाते हैं। गाड़ी के कागज़ पूरे होने की ज़िम्मेदारी उनकी होती है। अगर किसी कागज़ में कोई कमी (फोल्ड) हो, तो उसकी गारंटी भी वही देते हैं। इस काम में कभी नुकसान होता है और कभी फायदा। सौदा तय होने के 1-2 महीने बाद, जब कागज़ात पूरे हो जाते हैं, तब उन्हें 5000 या 10000 रुपये कमीशन मिलता है।


अब कोई व्यक्ति कहता है कि "कमीशन के ज़रिए रोज़ी कमाने वाले इमाम के पीछे नमाज़ नहीं होती।"

कुरआन और हदीस की रौशनी में इसका जवाब दीजिए।


प्रश्नकर्ता: क़ारी ग़ुलाम रसूल ज़ियाई, कोशलकोट, ज़िला बांसवाड़ा, राजस्थान।



---


उत्तर (अल्लाह की मदद से):


शरीअत के नियमों के अनुसार, अगर कोई इंसान ईमानदारी से और तय शर्तों के साथ बिचौलिए (ब्रोकर/दलाल) का काम करता है, तो कमीशन के ज़रिए रोज़ी कमाना जायज़ और हलाल है।


कमीशन या दलाली क्या है?

यह ऐसा काम है जिसमें एक शख्स अपनी मेहनत और समय खर्च करके दो लोगों के बीच सौदा तय करवाता है, और इसके बदले में तयशुदा मेहनताना (कमीशन) लेता है। यह तरीका नया नहीं है, सदीयों से चला आ रहा है, और हर दौर के उलमा ने इसे जायज़ कहा है।


कमीशन की शरीअत में क्या हैसियत है?

शरीअत में ब्रोकर को "वकील" या "अजीर खास" कहा गया है:


अगर खरीदार या बेचने वाले में से किसी एक ने उसे तय किया है, तो वही उसे मेहनताना देगा।


अगर दोनों ने तय किया है, तो दोनों देंगे — लेकिन उनकी रज़ामंदी और जानकारी ज़रूरी है।



कमीशन तय करने के तरीके:


1. मुकर्रर रकम (जैसे ₹5000 या ₹10000 एक सौदे पर)



2. फीसदी के रूप में, जैसे 2% या 5% — बशर्ते यह बाज़ार में आम हो।

लेकिन यह ज़रूरी है कि बाज़ार के रिवाज से ज़्यादा न लिया जाए।




अगर सौदा कैंसल हो जाए:

अगर दलाल ने पूरी कोशिश करके सौदा तय करवा दिया, और बाद में ग्राहक या बेचने वाला सौदा रद्द कर दें — तब भी दलाल अपनी मेहनत की मज़दूरी का हक़दार रहेगा।


उलमा के फतवे:


इमाम अहमद रज़ा खाँ रह.:

अगर दलाल ने कोशिश की हो और वक्त खर्च किया हो, तो उसे उतना मेहनताना मिलेगा जितना इस तरह के काम पर आमतौर पर मिलता है।

(फ़तावा रज़विया, जिल्द 19, सफा 453)


मुफ्ती अमजद अली रह. (बहार-ए-शरीअत):

अगर दलाल ने सौदा करवाने की कोशिश की हो, लेकिन सौदा मालिक ने खुद किया हो, तब भी रिवाज के मुताबिक दलाल को मेहनताना मिलेगा।



हराम और नाजायज़ सूरतें:

अगर दलाल ये काम करता है, तो उसका काम हराम और नाजायज़ होगा:


हराम चीज़ों की खरीद-बिक्री करे (शराब, सूअर, सूद वगैरह)


झूठ, धोखा या फरेब से काम करे


दोनों पार्टी को अलग-अलग धोखा दे



नतीजा:

जिस इमाम साहब का ज़िक्र सवाल में हुआ है, अगर वह ईमानदारी और शरीअत की शर्तों के साथ यह काम करते हैं, तो उनका कारोबार जायज़ और हलाल है, और उनके पीछे नमाज़ पढ़ना बिल्कुल दुरुस्त है।


जो व्यक्ति कहता है कि "कमीशन से रोज़ी कमाने वाले के पीछे नमाज़ नहीं होती", वह ग़लत कह रहा है, और बिना इल्म के फतवा देने वाला है, जो शरीअत में बड़ा गुनाह है।


हदीस में है:


> "जो शख्स बिना इल्म के फतवा दे, उस पर ज़मीन-आसमान के फ़रिश्ते लानत करते हैं।"

(फ़तावा रज़विया, जिल्द 23, सफा 716)




वल्लाहु अअलम व रसूलुहू बिस्सवाब


मुफ्ती: अबू अहमद एम. जे. अकबरी

दारुलइफ्ता गुलज़ार-ए-तय्यबा, गुजरात (भारत)

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

نسبندی کا شرعی حکم

نسبندی کا شرعی حکم روشن تحقیق السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام کہ نس بندی کرانا کیسا ہے جبکہ ڈاکٹر یہ کہے کہ اب یہ عورت مزید بچے پیدا کرے گی، جس سے اسے سخت بیماری پیدا ہونے یا جان کا خطرہ ہے، اور باقی ضبط تولید کے ذرائع سے بھی کبھی خطرہ رہتا ہے، وہ ذرائع فیل ہو جاتے ہیں، اور عورت حاملہ ہو جاتی ہے، اس صورت میں عورت کی مجبوری کو مدنظر رکھتے ہوئے حکم شرعی بیان فرمائیں۔  *سائل: محمد علی باڑمیر*  . وعلیکم السلام ورحمتہ وبرکاتہ  الجواب وباللہ توفیق  نسبندی کی جائز اور ناجائز صورتیں بیان کرتے ہوئے علامہ غلام رسول سعیدی، شرح مسلم جلد سوم میں فرماتے ہیں  1۔ کوئی شخص تنگی رزق کے خوف کی وجہ سے خاندانی منصوبہ بندی (نسبندی کرواتا ہے) اصلًا جائز نہیں ہے، یہ اس لیے کہ حرمت کی علت تنگی رزق کا ہونا قرآن مجید میں مذموم ہے: "لا تقتلوا اولادکم من املاق   (سورہ نمبر 6آیت 151" 2۔ اور کوئی شخص لڑکیوں کی پیدائش سے احتراز کے لیے ضبط تولید کرے، کیونکہ ان کی پرورش میں مشقت اور عار کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور یہ نیت زمانہ جاہلیت کے مشرکین ...

حربی سے سود لینے کا حکم روشن تحقیق

حربی سے سود لینے کا حکم ؟ دارالافتاء گلزارِ طیبہ کی یہ علمی تحقیق نہایت دقیق، جامع اور بصیرت افروز ہے۔ اس میں جہاں امام ابو حنیفہؒ کے قول کا صحیح مفہوم واضح کیا گیا ہے، وہیں اس کے غلط استعمالات اور اس کے دینی، سماجی و بین الاقوامی مضمرات پر بھی مدلل کلام کیا گیا ہے۔ علمی و ادبی تاثرات: 1. محققانہ اسلوب: تحقیق کی بنیاد قرآنی آیات، صحیح احادیث اور فقہاء کی معتبر تشریحات پر رکھی گئی ہے۔ علامہ ابن قدامہ، علامہ سعیدی، امام ابن ہمام، امام شافعی، سرخسی وغیرہ جیسے جلیل القدر علماء کے اقوال سے مزین یہ رسالہ اسلوبِ تحقیق کا عمدہ نمونہ ہے۔ 2. فقہی توازن و اعتدال: تحقیق میں نہ صرف مختلف اقوال کا ذکر کیا گیا بلکہ ان کا تجزیہ بھی علمی انداز میں کیا گیا ہے، جو قاری کو یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ امام ابو حنیفہؒ کا اصل مدعا کیا تھا، اور بعد کے علماء نے ان کے قول کو کس حد تک محدود کیا ہے۔ 3. دورِ حاضر کے تقاضے: یہ تحقیق صرف نصوص کی بحث نہیں، بلکہ موجودہ حالات کے تناظر میں ایک عملی رہنمائی بھی ہے۔ خاص طور پر سوشل میڈیا کے دور میں فتاویٰ کے غلط استعمال، اسلام کے بارے میں پھیلنے والی بدگمانیوں اور ہندوست...