نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

نومبر 8, 2023 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

افیون کھانا؟

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم  السّلام علیکم ورحمۃاللہ بعد سلام عرض یہ ہے کہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام مسئلہ ھاذا کے بارے میں کہ افیون اور ڈوڈے کھانا اور پینا شرعاً کیسا ہے یعنی حرام ہیں یا مکروہ یعنی افیون کھانا حرام ہے یا مکروہ ونیز ڈوڈے پینا حرام ہے مکروہ  بینوا تاجروں سائل عبد المصطفیٰ بھوج الجواب وباللہ توفیق  افیون اور ڈوڈے کھانا پینا ناجائز ہے اور اس کی تجارت بھی جائز نہیں  بہارشریعت میں ہے افیون وغیرہ جس کا کھانا ناجائز ہے ایسوں کے ہاتھ فروخت کرنا جو کھاتے ہو ناجائز ہے اس میں گناہ پر اعانت ہے افیون اتنی استعمال کرنا عقل فاسد ہو جائے ناجائز ہے اور اگر کمی کے ساتھ استعمال کی گئی عقل میں فتور نہیں آیا تو حرج نہیں (بہارشریعت حصہ ہفد ہم صفہ ۶۷۷) واللہ اعالم ورسولہ  ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی