نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

نومبر 1, 2021 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

تزکرہ ‏حضرت ‏امام ‏حسن ‏رضی ‏اللہ ‏عنہ

حضرتِ سیّدہ فاطمۃُالزّہراء  رضیَ اللہُ تعالٰی عنہَا  کے گلشن کے مہکتے پھول،اپنے نانا جان ،رحمتِ عالمیان  صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسلَّم  کی آنکھوں کے نور ، راکبِ دوشِ مصطفےٰ (مصطفےٰ جانِ رحمت  صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسلَّم  کے مبارک کندھوں پر سواری کرنے والے)، سردارِ امّت، حضرت سیّدُنا  امام حَسَن مجتبیٰ  رضیَ اللہُ تعالٰی عنہُ  کی ولادتِ باسعادت  15رمضان المبارک 3ہجری  کو مدینہ طیبہ میں ہوئی۔                                             (البدايۃوالنہایہ،  5/519) نام،القابات اورکنیت:آپ  رضیَ اللہُ تعالٰی عنہُ  کا نام حسن کنیت ”ابو محمد“ اور لقب ”سبطِ رسول اللہ“(رَسُوۡلُ اللہ  صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسلَّم  کے نَواسے)اور”رَیْحَانَۃُ الرَّسُوْل“(رَسُوۡلُ اللہ  صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسلَّم  کے پھول)ہے۔(تاریخ الخلفاء، ص149) مبارك تحنیک (گھُٹ...

کرامات ‏حضرت ‏علی ‏رضی ‏اللہ ‏عنہ

امیرالمؤ منین حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کاشانہ خلافت سے کچھ دور ایک مسجد کے پہلو میں دومیاں بیوی رات بھر جھگڑا کرتے رہے ۔ صبح کوامیرالمؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دونوں کو بلا کر جھگڑے کا سبب دریافت فرمایاتو شوہر نے عرض کیا ’’اے امیر المؤمنیںؓ میں کیا کروں ؟نکاح کے بعد مجھے اس عورت سے بے انتہا نفرت ہوگئی ہے ،میرا رویہ دیکھ کر بیوی مجھ سے جھگڑا کرنے لگی، پھر بات بڑھ گئی اوررات بھر لڑائی ہوتی رہی امیرالمؤ منین حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تمام حاضرین دربارکوباہر نکال دیا اور عورت سے فرمایا ’’ دیکھ میں تجھ سے جو سوال کروں اس کا سچ سچ جواب دینا‘‘ پھرآپؓ نے فرمایا’’ اے عورت! تیرا نام یہ ہے ؟ تیرے باپ کا نام یہ ہے؟‘‘ عورت حیران ہوئی کہ امیرالمؤ منین حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ سب کیسے معلوم ہوا حالانکہ اس نے بتایا بھی نہیں۔ بولی’’بالکل ٹھیک آپ نے بتایاہے یا امیر المومینینؓ ‘‘۔ پھرآپ نے فرمایا ’’ اے عورت تو یاد کر کہ تو زناکاری سے حاملہ ہوگئی تھی اورایک مدت تک تو اورتیری ماں اس حمل کو چھپاتی رہی۔ جب دردزہ شروع ہوا تو تیری ماں تجھے اس گھر سے باہر لے گئی اور جب بچہ ...

سیرت ‏حضرت ‏علی ‏رضی ‏اللہ ‏عنہ

حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ عنوان: رسول اللہﷺکے جلیل القدرصحابی ٗخلیفۂ چہارم امیرالمؤمنین حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کاتعلق مکہ میں قبیلۂ قریش کے مشہوراورمعززترین خاندان’’بنوہاشم‘‘سے تھا، دوسری ہی پشت میں عبدالمطلب پرسلسلۂ نسب رسول اللہ ﷺ کے نسب سے جاملتاہے، لہٰذا رسول اللہ ﷺ ٗ نیزحضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہٗ دونوں کے داداایک ہی تھے،یعنی ’’عبدالمطلب‘‘۔ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی پیدائش مکہ شہرمیں رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے دس برس قبل ہوئی تھی۔آپؓ ابوطالب کے بیٹے تھے،جوکہ رسول اللہ ﷺ کے مشفق ومہربان چچابھی تھے اورسرپرست بھی ، چھ سال کی عمرمیں جب رسول اللہ ﷺ کی والدہ آمنہ بنت وہب کاانتقال ہوگیاتھا، تب آپؐ اپنے داداعبدالمطلب کی کفالت میں آگئے تھے ، اور پھر دوسال بعدجب داداکاانتقال ہوا، تب آپؐ داداکی وصیت کے مطابق اپنے چچاابوطالب کی کفالت میں آگئے تھے ،اُس وقت آپؐ کی عمرمبارک آٹھ سال تھی ،ابوطالب نے تادمِ زیست آپؐ کی کفالت وحفاظت اورسرپرستی وخبرگیری کافریضہ بحسن وخوبی انجام دیاتھا۔ ابوطالب کے چاربیٹے تھے:طالب ، عقیل ، جعفر،اورعلی،جبکہ دوبیٹ...