نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

فروری 13, 2024 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

ستونوں کے درمیان صف

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ مفتی صاحب کی بارگاہ میں عرض ہے کیا مسجد میں ستونوں کے بیچ میں صف بنانا جائز ہے ؟ الجواب و باللہ توفیق  سیدی اعلی حضرت علیہ الرحمہ نے فتاوی رضویہ جلد 6 میں فرمائی  ۔چنانچہ فرماتے ہیں :”عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری میں قبیل  باب  الصلاۃ الی الراحلۃ  سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ہے کہ انہوں نے فرمایا :” لا تصفوا بین الاساطین  و اتموا الصفوف “۔ ستونوں کے بیچ میں صف نہ باندھو اور صفیں پوری کرو۔ اور اس کی وجہ  قطع  صف ہے اگر تینوں دروں میں لوگ کھڑے ہوئے  تو ایک صف  کے تین ٹکڑے  ہوئے  اور یہ ناجائز ہے  اور اگر بعض  دروں میں کھڑے ہوئے بعض خالی چھوڑ دے جب بھی قطع صف ہے کہ صف ناقص چھوڑ دی ، کاٹ دی  پوری نہ کی ، اور اس کا پورا کرنا لازم ہے۔ اور اگر اس وقت اور زائد لوگ نہ ہوں تو آنے سے کون مانع ہے  تو یہ ممنوع کا سامان مہیا کرنا ہے اور وہ بھی ممنوع ہے   اور دروں میں مقتدیوں کے کھڑے ہونے کو قطع صف نہ سمجھنا  محض خطا ہے۔ علمائے کرام نے صاف تصریح فرمائی کہ اس میں قطع...

ایک ماہ کا حمل ساقط

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ مفتی صاحب کی بارگاہ میں ایک سوال عرض ہے  الر کسی عورت کو ایک ماہ کا حمل ساقط ہو جائے تو اس  عورت کے لیے پاکی اور نماز کا کیا حکم ہوگا ؟ وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ الجواب باسمہ تعالی وبفضلہ مفتی امجد علی اعظمی رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں: حمل ساقط ہونے سے پہلے کچھ خون آیا کچھ بعد کو ،تو پہلے والا استحاضہ ہے اور بعد والا نفاس ،یہ اس صورت میں ہے جب کہ عضو بن چکا ہو (بہار شریعت -جلد:١ ص-٣٧٨) لیکن چونکہ عضو  ٤ ماہ میں بنتا ہے اور یہ تو ١ ماہ کا تھا اس  لیے اس میں حکم یہ ہے'کہ  اسقاط حمل کے بعد اگر خون جاری ہوگیا تو جو دن حیض کی عادت کے تھے اس کے پورا ہونے کے بعد غسل  کرکے نماز  پڑھیگی  جیسا کے بہار شریعت ہی میں ہے-:(٤ ماہ سےکم کے حمل میں) بعد اسقاط کے خون ہمیشہ کو جاری ہوگیا تو اسے حیض کے حکم میں سمجھے کہ حیض کی جو عادت تھی اس کے گزرنے کے بعد نہاکر نماز شروع کردے اور عادت نہ تھی تو دس دن کے بعد باقی وہی احکام ہے جو حیض کے ہیں (ج-1 ص-378) لھذا صورت مسؤلہ میں حیض کی عادت کے  دن نکال کر اگر خون جاری رہے تو وہ است...