نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

فروری 1, 2024 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

ہندو مردے کا کھانا

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ حضرت میرا سوال ہے کہ ہندو کی موت پر انکے یہاں بارہویں کا کھانا کھانا گناہ ہے یا کفر ؟ واحد خان- رادھنپور وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ الجواب باسمہ تعالی وبفضلہ  ہندو کی موت پر انکے یہاں جو کھانا پکایا جاتا ہے وہ اسکو ایصالِ صواب پہونچا نے کے لیے کھلایا جاتا ہے اور اسکا کھانا حرام ہے    مفتی شریف الحق امجدی رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں:اس لیے سرادھ کا کھانا ہندو اپنے مردے کے ایصال صواب کے لیے کرتے ہیں اور یہ بات سب کو معلوم ہے .... اور اس (کھانے والے) پر توبہ لازم ہے  فتاویٰ شارح بخاری -جلد -٢ صفحہ:٥٥٩) لھذا ان کے یہاں  بارہویں کا کھانا حرام ہے  اور اگر یہ اعتقاد رکھا کہ جو میں کھارہا ہو اسکا ثواب اس کافر کو پہونچے گا تو کفر ہے اس صورت میں توبہ کے ساتھ تجدید ایمان بھی لازم ہے واللہ تعالیٰ اعلم ورسولہ مفتی ادارہ ایم جے اکبری قادری حنفی دارالافتاء فیضان مدینہ -مالون گجرات