نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

جنوری 3, 2024 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

حاضہ عورت سے مباشرت

حیض کی حالت میں عورت کو کپڑے کے اوپر سے فائدہ اٹھانا کیسا ؟ الجواب باسمہ تعالی وبفضلہ  اگر کپڑے ایسے ہے جس سے بدن کی گرمی محسوس نہیں ہوتی تو اس طرح عورت سے نفع اٹھانا جائز ہے  مفتی امجد علی اعظمی رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں: اس حالت میں ناف سے گھٹنے تک عورت کے بدن سے مرد کا اپنے کسی عُضْوْ سے چھونا جائز نہیں جب کہ کپڑا وغیرہ حائل نہ ہو شَہوت سے ہویا بے شَہوت اور اگر ایسا حائل ہو کہ بدن کی گرمی محسوس نہ ہوگی تو حَرَج نہیں۔  مزید آگے فرماتے ہیں: ناف سے اوپر اور گھٹنے سے نیچے چھونے یا کسی طرح کا نفع لینے میں کوئی حَرَج نہیں۔ یوہیں بوس وکنار بھی جائز ہے بہارِ شریعت ،جلد اول،حصہ دوم،صفحہ٣٩١) واللہ تعالیٰ اعلم مفتی ادارہ ایم جے اکبری قادری حنفی دارالافتاء فیضان مدینہ -گجرات

کیا اللہ پاک کو استاد؟

کیا اللہ پاک کو أستاذ کہ سکتے ہے؟ الجواب باسمہ تعالی وبفضلہ اللہ پاک کو أستاذ کہنا جائز ہے استاذ کا لغوی معنی سیکھانے والاہے   اور اللہ پاک نے قرآن پاک میں سیکھانے کی نسبت اپنی طرف کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:  وَ عَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُؕ-وَ كَانَ فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكَ عَظِیْمًا(۱۱۳) ( ترجَمۂ کنزالایمان: اورتمہیں سکھا دیا جو کچھ تم نہ جانتے تھے اور اللہ  کا تم پر بڑا فضل ہے۔(پ5، النساء:113) ایک اور جگہ ارشاد خداوندی ہے : اَلرَّحْمٰنُۙ(۱) عَلَّمَ الْقُرْاٰنَؕ(۲)   ترجمۂ کنزالایمان: رحمٰن نے اپنے محبوب کو قرآن سکھایا۔سورہ رحمن آیت ١-٢) ظاہرا  اللہ پاک کو أستاذ کہنے میں حرج نہیں لیکن استاد کی جگہ معلم کاینات کہنا بہتر ہے  کے چس کو جو ملا سب اللہ کی عطا اور اللہ کے سیکھانے سے ملا  واللہ تعالیٰ اعلم مفتی ادارہ ایم جے اکبری قادری حنفی دارالافتاء فیضان مدینہ

گاڑی کے نچے جانور ؟

سوال: راستہ میں جاتے ہوئے اگر انجانے میں گاڈی کے نیچے جانور کچل جاۓ تو ہم گنہگار ہونگے ؟ الجواب باسمہ تعالی وبفضلہ اگر جان بجھ کر جانور کو نہیں مارا ،اچانک آکر مرگیا تو گنہگار نہیں ہوں نگے اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: لَا یُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَاؕ(بقرہ ٢٨٦) ترجمہ کنزالعرفان ا:للہ کسی جان پر اس کی طاقت کے برابر ہی بوجھ ڈالتا ہے  اور انسان کی طاقت میں یہ ہے کہ وہ جان بجھ کر کسی جانور کو قتل کرنے سے بچے، اور چالو گاڈی میں کئی بار ہمارے توجہ کے باوجود انجانے میں جانور آ جاتا ہے جس کو بچانا ہماری طاقت سے باہر ہوتا ہے  اور اللہ کسی پر طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: وَ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا(مومنون -٦٢) ترجمہ کنزالعرفان:اور ہم کسی جان پر بوجھ نہیں رکھتے مگر اس کی طاقت بھر واللہ تعالیٰ اعلم مفتی ادارہ ایم جے اکبری قادری حنفی دارالافتاء فیضان مدینہ

کپڑے پر تصویر کا حکم؟

سوال کپڑے پر جانور کی تصویر ہو تو اس کپڑے کا کیا حکم ہے ؟ سائل عمر جمیل کچھ  الجواب و باللہ توفیق  اسی طرح کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے اعلیٰ حضرت امام اہلِ سنّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان  علیہ رحمۃ الرحمٰن  فرماتے ہیں : “ کسی جاندار کی تصویر جس میں اس کا چہرہ موجود ہو اور اتنی بڑی ہو کہ زمین پر رکھ کر کھڑے سے دیکھیں تو اعضاء کی تفصیل ظاہر ہو ، اس طرح کی تصویر جس کپڑے پر ہو اس کا پہننا ، پہنانا یا بیچنا ، خیرات کرنا سب ناجائز ہے اور اسے پہن کر نماز مکروہِ تحریمی ہے جس کا دوبارہ پڑھنا واجب ہے۔ ۔ ۔ ایسے کپڑے پر سے تصویر مٹادی جائے یا اس کا سر یا چہرہ بالکل محو کردیا جائے ، اس کے بعد اس کا پہننا ، پہنانا ، بیچنا ، خیرات کرنا ، اس سے نماز ، سب جائز ہوجائے گا۔ اگر وہ ایسے پکے رنگ کی ہو کہ مٹ نہ سکے دھل نہ سکے تو ایسے ہی پکے رنگ کی سیاہی اس کے سر یا چہرے پر اس طرح لگادی جائے کہ تصویر کا اتنا عضو محو ہوجائے صرف یہ نہ ہو کہ اتنے عضو کا رنگ سیاہ معلوم ہو کہ یہ محو ومنافی صورت نہ ہوگا۔ “ (فتاویٰ رضویہ ، 24 / 567) خلاصہ اگر زمین پر رکھے کپڑے پر سے تصویر صاف نہیں دیکھتی تو م...