نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

مئی 12, 2025 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

اذان کے تلفظ درست ہونا ضروری ہے

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ السائل: محمد علی عطّاری، موربی (گجرات) آپ کا سوال نہایت عمدہ ہے، اس کا جواب فقہی اصولوں اور تلفظ کے قواعد کی روشنی میں تفصیل سے دیا جا رہا ہے: --- ╔════════════════════════════╗ دارالافتاء گلزارِ طیبہ – گجرات (بھارت) Dār al-Iftā Gulzār-e-Ṭayyibah – Gujarat, India ╚════════════════════════════╝ فتویٰ نمبر: GT-AZN-034 │ تاریخِ اجرا: 14 ذو القعدہ 1446ھ / 13 مئی 2025ء سوال: اذان میں جب "حی علی الصلوٰۃ" اور "حی علی الفلاح" کہا جاتا ہے تو کچھ مؤذن "ی" کو کھینچ کر (لمبا کر کے) پڑھتے ہیں، اور کچھ بغیر کھینچے پڑھتے ہیں۔ اس بارے میں شرعی رہنمائی فرمائیں کہ درست طریقہ کیا ہے؟ --- جواب: "حَیِّ عَلَی الصَّلَاةِ" اور "حَیِّ عَلَی الفَلَاحِ" میں "حَیِّ" کا تلفظ تشديد اور مد (کھنچاؤ) کے ساتھ ہونا چاہیے، کیونکہ: 1. لفظ "حَیِّ" دراصل "حَیّ" سے ہے، جس میں "ی" پر تشدید ہے۔ 2. تشدید کا مطلب ہے کہ حرف کو دو بار کی مقدار میں ادا کیا جائے – یعنی "ی" کو واضح اور مکمل ادا کیا جائے...

निकाह पढ़ाना इमाम का हक़ है?

═══════════════╗ دارالافتاء گلزارِ طیبہ – गुझरात (भारत) Dār al-Iftā Gulzār-e-Ṭayyibah – Gujarat, India ╚════════════════════════════════════╝ फ़तवा नंबर: GT-NKH-031 │ तारीख़ ए इजराः 14 ज़ुलक़अदा 1446 हिजरी / 13 मई 2025 ◆━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━◆ निकाह पढ़ाने का हक़ – शरीअत व समाजी नज़रिया ◆━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━◆ सवाल: क्या निकाह पढ़ाने का हक़ सिर्फ मस्जिद के इमाम को है? अगर कोई और आलिम या नेक मुसलमान पढ़ा दे तो क्या ये इमाम साहब का हक़ छीनना कहलाएगा? जवाब: शरीअत में निकाह पढ़ाने के लिए "इमाम" होना शर्त नहीं है। अगर कोई समझदार, दीनी समझ रखने वाला, बालीग़ और शरीअत के उसूलों को जानने वाला शख़्स (चाहे वो इमाम हो या न हो) निकाह के इजाब-ओ-क़बूल को सही तरीक़े से अंजाम दे, तो निकाह बिलकुल दुरुस्त और जायज़ होगा। लेकिन...! मस्जिद के इमाम को निकाह पढ़ाने में तरजीह (प्राथमिकता) देना ज़्यादा बेहतर और मुनासिब है, क्योंकि: ये इमाम के ओहदे का अदब है, मस्जिद का निज़ाम क़ायम रहता है, और इमाम को एक जायज़ आमदनी मिलती है। अगर कोई दूसरा निकाह पढ़ा दे तो... यह शरीअत की नज़र में इमाम का हक़ मारना नही...

خون دینا کیسا

خون دینا: جائز و ناجائز کی شرعی رہنمائی (اسلام کی روشنی میں ایک جامع و حسین فتویٰ) --- سوال: کیا کسی انسان کو خون دینا شرعاً جائز ہے؟ شریعت کے مطابق کون سی صورتیں درست ہیں اور کون سی منع کی گئی ہیں؟ --- نقوشِ شریعت: خون دینا – ایک امانت، ایک خدمت اسلام ہمیں انسانیت کی فلاح، ایک دوسرے کی مدد، اور جان بچانے کی تلقین کرتا ہے۔ خون دینا ایک ایسا عمل ہے جو بظاہر طبی (Medical) ہے، مگر اس کی بنیاد ایک عظیم دینی اصول پر ہے: "وَمَنْ أَحْيَاهَا فَكَأَنَّمَا أَحْيَا النَّاسَ جَمِيعًا" (سورۃ المائدہ: 32) ترجمہ: "جس نے ایک جان کو بچایا، گویا اس نے پوری انسانیت کو زندگی بخشی۔" --- جائز صورتیں: نورِ شریعت کے مطابق 1. جان بچانے کی ضرورت ہو: جب کسی مریض کی زندگی کا انحصار خون پر ہو، اور خون نہ ملنے کی صورت میں موت یا شدید ضرر متوقع ہو — تو ایسی حالت میں خون دینا نہ صرف جائز بلکہ ثواب کا ذریعہ ہے۔ 2. خون بغیر قیمت کے دیا جائے: خالص نیت، ہمدردی، اور خیرخواہی کے جذبے سے خون دینا جائز و مستحسن ہے۔ 3. خون دینے والے کو ضرر نہ ہو: اگر خون دینے سے دینے والے کی صحت پر کوئی سنگین اثر نہ ہو، تو...