نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

جنوری 22, 2024 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

بچوں کا ہبہ کرنا

سوال -آج کل دیکھا جارہا ہے کہ ماں باپ اپنی حیات میں اپنے دونوں بیٹوں کو الگ کرکے اپنی جائیداد سے برابری کا حصہ دے دیتے ہیں اور کہتے ہیں:تم الگ رہو اور تم اپنے محنت سے کرو ہماری زمہداری نہیں کیا والدین کی حیات میں انکی جائیداد تقسیم کی جا سکتی ہے؟ اور اگر کسی کے ٢ بیٹے اور ایک بیٹی ہو اور جائداد میں ١ کروڈ تو کیسے تقسیم کیا جائگا ؟ سائل؛ عمران بھائی  الجواب باسمہ تعالی وبفضلہ  باپ پر صرف نابالغ اولاد کی کفالت اور نفقہ وجب ہے  بہار شریعت میں ہے: نابالغ اولاد کا نفقہ باپ پر واجب ہے ،جبکہ اولاد فقیر ہو اسکی ملکیت میں مال نہ ہو اور آزاد ہو  (بہار شریعت -٢ صفحہ:٢٧٣) اور بالغ اولاد کا نفقہ باپ پر واجب نہیں  فقہ النفس امام قاضی خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:بالغ بیٹوں کا نفقہ باپ پر واجب نہیں ، فتاویٰ قاضی خان -٢ صفحہ:٢٣٧) لہذا والدین کا اس طرح بچوں کو الگ کرنا جائز ہے  (٢) والدین کی حیات میں بیٹے انہیں   جائداد تقسیم کرنے پر مجبور نہیں کر  سکتے ،لیکن حالات زمانہ کے حساب سے والدین تقسیم کر دیں تو بہتر ہے ،لکین یہ تقسیم وراثت نہیں بلکہ ہبہ کہلاۓگا ، (...