نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

اکتوبر 10, 2021 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

فاسقہ ‏عورت ‏سے ‏نکاح؟

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام مسئلہ ھذا میں کہ ایک عورت ہے جس کا یہ دھندہ بن چکا ہے کسی مرد سے نکاح کرتی ہے کچھ دنوں کے بعد اپنے شوہر کو کہتی ہے کہ میں اپنے میکے جاتی ہوں پھر نہیں آتی پھر دوسرے مرد سے شادی کرلیتی ہے چند دن اس کے گھر رہتی ہے اس کو لوٹ کر چلی جاتی ہے پھر تیسرے مرد سے شادی کرلیتی ہے اس نے بہت سارے نکاح کیے ہیں سوال یہ ہے کہ اگر کوئی امام نکاح پڑھاے لیکن اس کو اس کے بارے میں معلومات نہیں ہے بعد میں معلوم ہوا کہ یہ عورت نہ جانے کتنے نکاح کرچکی ہے تو امام اور سامعین کے نکاح کے بارے میں کیا حکم ہوگا ...سائل.. علی محمد اکبری خطیب و امام مدینہ مسجد نانی چیرئی بھچاو واگڑ کچھ *الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق* صورت مسوئلہ میں اس عورت کا دوسرے سے نکاح  جب تک نہیں ہو سکتا جب تک پہلے والا شوہر اسے طلاق دے دی ہو تو دوسرے سے نکاح ہو سکتا ہے ورنہ بغیر طلاق کے دوسرے سے نکاح ہرگز جائز نہیں بلکہ حرام ہے ،قال اللہ تعالٰی، *شوہر والی عورتیں تم پر حرام ہیں الخ* قرآن مجید سورتہ 4 آیت 24 اور سوال سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ عورت مطلق...

مسافر ‏امام ‏نے ‏چار ‏رکعت ‏پڑھ ‏لی؟

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارےمیں کہ امام مسافر ہےاورمقتدی مقیم ہیں، امام نے بھولے سے نماز ظہر چار رکعتیں پڑھا دیں، اور دوسری رکعت کے بعد قعدہ بھی کیا، لیکن آخر میں سجدہ سہو  نہیں کیا،نماز کے بعد مسافر امام کو یاد آیا کہ میں نے چار پڑھا دی،حالانکہ میں مسافر ہوں،نماز کا کیا حکم ہو گا؟ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ      مسافر امام نے جو نماز بُھولے سے چار رکعت پڑھا دی اور دوسری رکعت میں قعدہ بھی کیا تھا،تو اس صورت میں مسافر امام اور مقیم مقتدیوں کے لیے الگ الگ حکم ہو گا۔مسافر امام کی نماز کا  حکم یہ ہو گاکہ اس کے فرض ادا ہو جائیں گےاور آخری دو رکعت نفل ہو جائیں گی ،لیکن بُھولے سے چار رکعت مکمل کرنے کی وجہ سےسجدۂ سہو لازم تھا جو کہ مسافر امام نے نہ کیا، لہٰذا نماز واجبُ الاِعَادہ کی نیت سے دوبارہ اداکرنی ہو گی۔ جبکہ مقتدیوں کے لیے حکم یہ ہو گا کہ ان  کی نمازباطل ہو گئی، کیونکہ اقتداءکے لئےصحیح ہونے کی شرائط میں سے ایک یہ بھی ہے کہ امام کی نما...

داڈھی ‏کی ‏حد ‏کہا ‏تک ‏

داڑھی کی حد کہا تک؟  السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ  کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے میں کہ داڑھی کی جو  مقدار ایک مشت بتائیں گءی ہے' وہ تھوڑی کے نیچے کی ہی شمار ہوگی  یا دونوں ختصار کی طرف بھی ایک مشت رکھنی واجب ہے ساءل: عارف عطاری از:کاریلا، سریندر نگر وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ  الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق اسی طرح کے ایک سوال کے جواب میں حضرت مفتی محمد قاسم صاحب فرماتے ہیں  داڑھی کی حد کو آسان سے آسان الفاظ میں یوں سمجھ لیں کہ داڑھی قلموں کے نیچے سے کنپٹیوں ، جبڑوں ، ٹھوڑی پر جمتی ہے اور عرضا اس کا بالائی حصہ کانوں اور گالوں کے بیچ میں ہوتا ہے ۔ اب اگر کوئی شخص اپنے کانوں کے برابر والے بالوں میں سے وہ بال چھوٹے کرواتا ہے کہ جو قلموں سے نیچے ، داڑھی کا حصہ ہیں تو وہ گنہگار ہو گا کیونکہ داڑھی کے بالوں کو لمبائی اور چوڑائی دونوں طرح سے ایک مشت پوری ہونے سے پہلے تھوڑا یا زیادہ کاٹنا ناجائز ہے دارالافتاء اہلسنت  ) واللہ اعلم و رسولہ  فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حن...

بدمذہب ‏سے ‏نکاح ‏؟

اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎ علماۓ کرام کی بارگاہ میں سوال ہے  ? کہ لڑکی اھل حدیث اور لڑکا سنی انکا نکاح آپس میں ہو سکتا ہے یا نہیں اور نکاح پڑھانے والے پر کیا حکم لگے گا  جواب عطا کریں   بڑی مھر بانی ہو گی  بشیر احمد اکبری پاٹن گجرات === *وعلیکم السلام و رحمۃاللہ و برکاتہ* === *الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق* اہل حدیث غیر مقلد فرقہ ہے جو بدمذہب گمراہ ہے ان کے ساتھ سنی کا نکاح نہیں ہو سکتا قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بدمذہب اگر بیمار پڑ جائے تو اس کی عیادت نہ کرو اگر مر جائے تو جنازہ میں شرکت نہ کرو ان سے ملاقات ہو تو انھیں سلام نہ کرو ان کے پاس نہ بیٹھوں نہ کھانا کھاؤ نہ پانی پیو نہ ان کے ساتھ شادی کرو نہ ان کی جنازہ کی نماز پڑھو اور نہ ان کے ساتھ نمازیں پڑھو  *انوار الحدیث صفحہ 103* 📕 *مسند امام اعظم صفحہ 23*  📗 ایسی نکاح حرام ہے پڑھانے والا سخت گنہگار مستحق عذاب نار ہے کہ یہ نکاح نہیں بلکہ زنا ہے جس کی سند  دے رہا ہے  لہٰذا نکاح پڑھانے والے پ...

تجدید ‏نکاح؟

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسلہ کے بارے میں کہ تجدیدِ نکاح میں کیا مہر شرط ہے جواب عنایت فرمائیں  ساءل: محمد ذکی عطاری از زیناباد سریندر گجرات *وعلیکم السلام و رحمۃاللہ و برکاتہ* *الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق* مہر کسی بھی نکاح میں شرط نہیں  بلکہ مہر واجب ہوتا ہے  اور۔۔۔ نکاح تجدید میں بھی مہر واجب ہے ،،،تجدید نکاح کی معنی ہے نئے مہر سے نکاح کرنا اس کے لیے لوگوں کو اکٹھا کر نا ضروری نہیں نکاح نام ہے ایجاب و قبول کا ہاں بوقت نکاح بطور گواہ کم از کم دو مسلمان مرد یا ایک مسلمان مرد  اور دو مسلمان عورتوں کا حاضر ہونا لازمی ہے خطبہ نکاح شرط نہیں بلکہ مستحب ہے *تجدید ایمان و تجدید نکاح صفحہ 6* احتیاطی تجدید نکاح میں مہر لازم نہیں یہ بلکل مفت ہے  *واللہ اعلم و رسولہ* *دارالافتاء فیضان مدینہ* *فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری* تاریخ 6 مئی 2021 بروز جمعرات