نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

مئی 24, 2025 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

تکبر کرنا جایز نہیں

سوال: "تکبر کرنے والوں کے ساتھ تکبر سے پیش آنا صدقہ ہے" کیا یہ حدیث ہے؟ اگر حدیث ہے تو اس کا کیا مطلب ہے؟پر حاجی خان وارایی  الجواب وباللہ توفیق  آپ نے جو جملہ نقل کیا ہے کہ "تکبر کرنے والوں کے ساتھ تکبر سے پیش آنا صدقہ ہے"، یہ الفاظ بطور حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول نہیں ہیں۔ علماء کرام اور حدیث کے ماہرین کے مطابق، یہ جملہ عوام الناس میں مشہور ضرور ہے، لیکن اسے حدیث نبوی کے طور پر ثابت کرنے کے لیے کوئی معتبر سند یا حوالہ موجود نہیں ہے۔ لہٰذا، اسے حدیث کے طور پر بیان کرنا درست نہیں۔شرعی نقطہ نظر:تکبر (غرور) ایک روحانی بیماری ہے جس کی اسلام میں سخت مذمت کی گئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "لا يدخل الجنة من كان في قلبه مثقال ذرة من كبر" یعنی "وہ شخص جنت میں داخل نہیں ہوگا جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی تکبر ہو۔" (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 4173)  اس حدیث سے واضح ہے کہ تکبر، خواہ وہ کسی کے ساتھ ہو، ایک ناپسندیدہ صفت ہے اور اس سے ہر حال میں بچنا چاہیے۔ اگر کوئی شخص تکبر کا مظاہرہ کرتا ہے، تو اس کے ساتھ تکبر سے پیش آن...

امام بھی انسان ہے ؟

السلام علیکم و رحمۃ اللہ کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان شرع اِس مسئلہ کے بارے میں ایک گام میں مسجد مدرسہ دونوں کی آ مدنی اور خرچہ گام والوں کی طرف سے ایک ساتھ ملا ہوا ہے اب سوال یہ ہے کہ کوئی چیز مسجد میں کام نہیں دے رہی ہے جیسے اے سی پنکھا تو اسے مسجد سے نکال کر امام صاحب کے روم اور مدرسہ میں استعمال کر سکتے ہیں قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں سائل ولی محمد اکبری جامع مسجد آ سپور ضلع ڈوگرپور راجستھان وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ  الجواب و باللہ توفیق  مسجد کی AC امام یا مدرسہ میں لگانا جائز نہیں کہ جو چیز جس مقصد کے لئے وقف ہوتی ہے اسے دوسری جگہ استعمال کرنا منع ہے جیسا کہ فتاوی فقیہ ملت جلد دوم ص ۱۴۴) میں ہے مسجد کا سامان مدرسہ یا کسی اور جگہ لگانا جائز نہیں یہاں تک کہ ایک مسجد کا سامان دوسری مسجد میں نہیں لگا سکتے (بحوالہ فتاوی رضویہ جلد ششم ص ۴۳۸)   سوال جو آمدنی کا زکر ہے اس سے لوگوں کی نیت یہ تھی کہ ہمارے پیسو سے مدرسہ اور مسجد کا کام کیا جائے گا تو مدسہ میں لگانے کی گنجایش ہے مگر امام کے گھر میں لگانے کی اجازت نہیں     البتہ یہ ہوسکتا ہے کہ م...

بکری کا ایک تھن خشک ہو تو قربانی

سوال بکری کے ایک تھن میں دودھ کم آتا ہے اور ایک میں برابر آتا ہے تو کیا اس بکری کی قربانی کر سکتے ہے سائل ظہرالدین کوٹھی گجرات  اگر بکری کے ایک تھن کسی بیماری کی وجہ سے ضائع ہو جائے تو اس کی قربانی جائز نہیں خلاصہ میں ہے ایسے جانور کی قربانی جائز ہونے کا زکر ہے جس کا دودھ بغیر کسی بیماری کے نہیں اترتا اور تتار خانیئ میں ہے شطور کی قربانی جائز نہیں یعنی دو تھنوں میں سے ایک سے دودھ آنا منقطع ہو جائے بہار شریعت میں ہے جس کے تھن خشک ہوں اس کی قربانی ناجائز ہے (حصہ ۱۵ص ۳۴۱) سوال میں ایک تھن میں دودھ کم اترتا ہے کا زکر ہے بلکل خشک نہیں ہے ایسی صورت میں قربانی جائز ہے مگر افضل یہ کہ بلکل بے عیب جانور کی قربانی کرنا چاہے فتاوینوریہ جلد ۳ ص ۴۴۵) میں افضل یہ ہے کہ قربانی کا جانور خوبصورت فربہ اور بے عیب ہو ،،،،،،، معمولی عیب ہو تو قربانی ہو جائے گی اس سلسلے میں فقہائے کرام نے یہ نکتہ بیان فرمایا ہے کہ ایسا عیب جو جو منفعت کو بلکل زائل کر دے یا جمال و زیبائی کو اکثر ختم کر دے قربانی سے مانع ہے مزکورہ سوال کے مطابق اگرچہ قربانی ہو جائے گی مگر مکروہ ہوگی بہتر یہ ہے اس کے بجائے دوسرا جانور قربان...