نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

فروری 20, 2024 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

نکاح کوئی پڑھاۓ دستخط امام کرے؟

فرماتے ہیں مفیان کرام آج کل یہ ماحول بن گیا ہے کسی کے گھر نکاح ہے تو وہ لوگ اپنے کسی چاہنے والے مولانا کو دعوت دیتے ہے وہی مولانا نکاح پڑھاتا ہے مگر کاغز پر دستخط امام کو کرنا پڑھتا ہے جس سے کبھی ایسا بھی ہوتا شادی بگڑ جاتی اور معاملہ عدالت تک پہنچ جاتا ہے اور نکاح پڑھانے والے کو عدالت میں حاضر ہونا پڑھتا ہے اور کہنا پڑتا ہے کہ یہ نکاح میں نے پڑھایا تھا حلانکہ نکاح کسی دوسرے نے پڑھایا تھا تو اب امام کا یہاں جھوٹ  بولنا لازم آیا اور جھوٹ گناہ کبیرہ ہے تو اس امام کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا اور اس طرح جالی دستخط کرنا کیسا شرعا حکم کیا ہے دلائل کی روشنی میں جواب عطا فرمائے  سائل مولانا محمد علی نوی نال گجرات الجواب وباللہ توفیق  بے شک جھوٹ اؤر دھوکا دینا دونوں کبیرہ گناہ ہے  اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: لَّعْنَتَ اللّٰهِ عَلَى الْكٰذِبِیْنَ(آل عمران -61)  ترجمہ:جھوٹوں پر اللہ کی لعنت  ہے۔ دھوکہ بازوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں فرماتا ہے: یُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ۚ-وَ مَا یَخْدَعُوْنَ اِلَّاۤ اَنْفُسَهُمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَؕ(۹)ترجَمۂ کن...