نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

فروری 8, 2024 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

امام کو ستانا ؟

کیا فرماتے ہے مفتیان کرام جو امام پابند شرع ہو اور اپنی ڑیوٹی پر برابر حاضر رہتا ہو مگر کچھ لوگوں کا کا بلا وجہ شرعی امام کو پریشان کرتے رہنا جس سے امام مجبور ہو کر  چلا جائے تاکہ اپنی پسند کا امام لائے جو ان کے کہنے کے مطابق تقریر کرے ان کے کہنے کے مطابق نماز پڑھائے ان لوگوں کا  ایسا کرنا کیسا اور اس پردوسرے مسلمانوں کا  خاموش رہ کر تماشہ دیکھنا حق کا ساتھ نہ دینا  اور مسلمانوں کا  امام کو بغیر کوئی وجہ سے امامت سے ہٹانے والوں کے متعلق کیا حکم شرح ہے بیان فرمائے  سائل مولانا اسمائل نوری احمد آباد گجرات الجواب باسمہ تعالی وبفضلہ سورت مسؤلہ میں جو لوگ امام کو بلا وجہ شرعی پریشان کرتے ہیں اور مکلنے پر مجبور کرتے ہیں وہ ایک مسلمان کی دل آزاری کی وجہ سے کبریرہ گناہ میں مبتلہ ہیں اور ایک مسلمان کو ستانے کی سخت وعید آئی ہے  وَ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ بِغَیْرِ مَا اكْتَسَبُوْا فَقَدِ احْتَمَلُوْا بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا(58) ترجمہ: کنزالایمان اور جو ایمان والے مردوں اور عورتوں کو بے کئے ستاتے ہیں انہوں نے بہتان اور کھلا...