نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

فروری 22, 2024 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

قرض دیتے وقت زکوة کی نیت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ اگر ہمنے کسی کو قرض کے تور پر رقم دی ہو ،تو کیا رقم دینے کے بعد اس میں زکوت کی تیت ہو سکتی ہے؟ وعلیکم السلام ورحمتہ وبرکاتہ  الجواب باسمہ تعالی وبفضلہ صورت مسئولہ میں اگر وہ رقم جو قرض کے تور پر کسی کو دی ہے وہ اگر اس کے پاس موجود ہے خرچ نہیں کی تو اس پر زکوٰۃ کی نیت ہو سکتی ہے اور اس طرح زکوت ادا ہو جائے گی مفتی امجد علی اعظمی رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں:- دیتے وقت نیت نہیں کی تھی بعد کو کی ،اگر وہ مال فقیر کے پاس موجود ہے یعنی اسکی ملک میں ہے تو یہ نیت کافی ہے ورنہ نہیں بہار شریعت ج-١ ص:٨٨٦) لیکن اگر اس نے خرچ کردی ہے تو اب زکوٰۃ کی نیت نہیں ہو سکتی اور نہ اس طرح زکوٰۃ ادا ہوگی  واللہ تعالیٰ اعلم ورسولہ مفتی ادارہ ایم جے اکبری قادری حنفی دارالافتاء فیضان مدینہ گجرات