نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

دسمبر 23, 2023 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

طلاق عورت کے کہنے ؟

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ علمائے کرام کی بارگاہ میں ایک سوال عرض ہے کہ ہندہ کی شادی ہوئی دو  بچے بھی ہوا ہندہ بکر کے ساتھ بھاگ گیی ہے ہندہ کہتی ہے میں اب اپنے شوہر کے پاس نہیں جاؤں گی بکر کے ساتھ شادی کرنا ہے بکر بھی راضی ہے اب ہندہ کہتی ہے کہ میرا شوہر دو مرتبہ طلاق دے رکھا ہے ہندہ کی ماں کو بھی پتا ہے کہ دو مرتبہ طلاق دے رکھا ہے علمائے کرام قرآن و حدیث   کی روشنی میں بتائیں کیا ہندہ بکر کے ساتھ شادی کر سکتی ہے جو اس کا نکاح پڑھاتا ہے اس کے اوپر شریعت کا کیا حکم لگے گا؟ جواب دے کر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں سائل محمد اظہر الدین عظیمی بہار کھگڑیا پھولتوڑا الجواب باسمہ تعالی وبفضلہ  صرف ہندہ اور اسکی ماں کے کہنے سے طلاق ثابت نہیں ہوگی جب تک ٢ مرد عادل طلاق کی گواہی نہ دے یا ہندہ کا شوہر اقرار نہ کرلے  فتاویٰ جامعہ اشرفیہ میں اسی طرح کا سوال جس میں  بیوی کی ماں -چچی اور چچا نے گواہی دی کہ شوہر نے طلاق دی ہے اسکے بارے میں حکم شرعی بیان کرتے ہوئے علامہ  حضور حافظ ملت رحمت اللہ علیہ نے فرمایا کہ:-جو لوگ طلاق کے گواہ ہیں ان کی گواہی خدیجہ (بیوی)کے ح...