نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

مئی 10, 2025 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

ڈاڑھی منوڑا کی امامت ؟ हिंदी अनुवाद आखिर में हैं

سوال نمبر: 00132 / واراہی - رادھنپور / گجرات سوال: ایک شخص داڑھی منڈاتا ہے لیکن اس کی قراءت صحیح ہے۔ دوسرا شخص داڑھی سنت کے مطابق رکھتا ہے مگر قراءت درست نہیں۔ ان دونوں میں سے امامت کا زیادہ حقدار کون ہے؟ اور کیا داڑھی منڈانے والے کے پیچھے نماز جائز ہے؟ نیز اگر داڑھی اور قراءت دونوں والے شخص نے ایسے فاسق امام کے پیچھے نماز پڑھ لی تو کیا حکم ہے؟ --- الجواب وباللہ التوفیق: امام کے لیے دو بنیادی شرطیں ہیں: 1. سنتِ نبوی کی پیروی، خاص طور پر داڑھی جو کم از کم ایک مشت ہو۔ 2. قراءت صحیح ہو یعنی قرآن کی تلاوت بغیر غلطی کے ہو۔ پہلا معاملہ: داڑھی منڈانے والا، لیکن صحیح قراءت والا شخص ایسا شخص شریعت کے مطابق فاسقِ معلن (کھلا گناہ گار) کہلاتا ہے، کیونکہ داڑھی منڈانا یا ایک مشت سے کم رکھنا حرام اور کبیرہ گناہ ہے۔ فتاویٰ رضویہ (جلد 6، ص 603) میں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی علیہ الرحمہ نے فرمایا: > "داڑھی منڈانے والے کی امامت مکروہِ تحریمی ہے، اور اس کے پیچھے نماز پڑھنا گناہ اور واجب الاعادہ ہے۔" دوسرا معاملہ: داڑھی والا مگر قراءت میں کمزور شخص اگر اس کی قراءت میں ایسی غلطی ہے کہ...