نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

مئی 7, 2025 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

ہندوستان کے بینکوں سے سود کا شرعی حکم

हिंदी अनुवाद आखिर में है  عنوان: ہندوستانی بینکوں سے ملنے والی سودی رقم کا شرعی حکم الجواب وباللہ التوفیق ہندوستان جیسے غیر اسلامی ملک (دارالحرب) میں بسنے والے مسلمان، جب بینکوں میں پیسہ رکھتے ہیں تو اس پر انہیں جو اضافی رقم ملتی ہے، وہ شرعاً سود ہے۔ اگرچہ بعض علماء نے حدیث "لا ربا بین المسلم والحربی فی دار الحرب" کی بنیاد پر اس کے جواز کا فتویٰ دیا ہے، لیکن تحقیق اور عصر حاضر کے مالیاتی نظام کو سامنے رکھتے ہوئے اس رائے سے رجوع کرنا ہی زیادہ محتاط اور حق کے قریب ہے۔ --- دلائل و توضیحات: 1. حدیث: لا ربا بین المسلم والحربی فی دار الحرب یہ روایت بعض فقہاء نے ذکر کی ہے، اور اس کے مطابق بعض احناف نے یہ موقف اختیار کیا کہ اگر کوئی مسلمان دارالحرب میں حربی (یعنی کافر غیر ذمی) سے سودی معاملہ کرے تو وہ شرعاً سود نہیں کہلاتا۔ لیکن: یہ حدیث ضعیف و مرسل ہے، اس کی سند میں اضطراب ہے، جسے محدثین نے دلیل کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔ یہ فتویٰ فقہاءِ احناف کے ایک جزوی قول پر مبنی ہے، جو سیاق و سباق کے لحاظ سے خاص حالات پر مبنی تھا، نہ کہ عمومی اجازت۔ 2. عصر حاضر کا بینکاری نظام آج کے بینک انفرادی...