نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

جنوری 11, 2024 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

پرشاد لینا ؟

کیا فرماتے ہے مفتیان کرام کہ کفار کے بتوں پر چڑھائی گئی مٹھائی کھانا کیسا ہے کبھی کھبی غیر مسلم پڑوسی یہ چیزیں دیتے ہے تو لینا کیسا ہے ہمارے یہاں کے مولانا نے کہا کہ حرام ہے  حالات زمانہ کے مدنظر جواب عطا فرمائیں سائل توفیق ڈھسا  الجواب و باللہ توفیق بتوں پر چڑائی ہوئی مٹھائی حلال ہے مگر نہ لینا بہتر ہے مفتی امجد علی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہے جو مٹھائی وغیرہ بتوں پر چڑھاتے ہیں اگرچہ وہ حرام نہیں ہو جاتی تاہم اس سے اجتناب اولی (یعنی بچنا بہتر ) کہ وہ اسے تبرک سمجھ کر تقسیم کرتے ہیں اور بت پر چڑھنے کے بعد کوئی چیز تبرک نہیں ہو سکتی (فتاوی امجدیہ جلد 4 صفہ 59)  اور( فتاوی مرکز تربیت افتاء جلد 2 صفہ 80 ) میں ہے ہندوں کی ایسی مٹھائی جو دیوتاؤں پر چڑھائی جاتی ہے اس کا لینا جائز ہے مگر اجتناب بہتر ہے  امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہے حلال ہے مگر احتراز چاہے نسبت خباشت کی وجہ سے ( فتاوی رضویہ جلد 21 صفہ 606) مولانا صاحب نے غلط کہا ہے حرام کہنے کے لئے دلیل شرعی ہونی چاہے بغیر کوئی دلیل کے حرام کہنا گناہ ہے حدیث میں جو بے علم فتوی دے اس پر آسمان و زمین کے فرشتوں کی لعنت...