السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
علمائے کرام کی بارگاہ میں ایک سوال عرض ہے کہ
ہندہ کی شادی ہوئی دو بچے بھی ہوا ہندہ بکر کے ساتھ بھاگ گیی ہے ہندہ کہتی ہے میں اب اپنے شوہر کے پاس نہیں جاؤں گی بکر کے ساتھ شادی کرنا ہے بکر بھی راضی ہے اب ہندہ کہتی ہے کہ میرا شوہر دو مرتبہ طلاق دے رکھا ہے ہندہ کی ماں کو بھی پتا ہے کہ دو مرتبہ طلاق دے رکھا ہے علمائے کرام قرآن و حدیث کی روشنی میں بتائیں کیا ہندہ بکر کے ساتھ شادی کر سکتی ہے جو اس کا نکاح پڑھاتا ہے اس کے اوپر شریعت کا کیا حکم لگے گا؟
جواب دے کر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں
سائل محمد اظہر الدین عظیمی بہار کھگڑیا پھولتوڑا
الجواب باسمہ تعالی وبفضلہ
صرف ہندہ اور اسکی ماں کے کہنے سے طلاق ثابت نہیں ہوگی جب تک ٢ مرد عادل طلاق کی گواہی نہ دے یا ہندہ کا شوہر اقرار نہ کرلے
فتاویٰ جامعہ اشرفیہ میں اسی طرح کا سوال جس میں
بیوی کی ماں -چچی اور چچا نے گواہی دی کہ شوہر نے طلاق دی ہے اسکے بارے میں حکم شرعی بیان کرتے ہوئے علامہ حضور حافظ ملت رحمت اللہ علیہ نے فرمایا کہ:-جو لوگ طلاق کے گواہ ہیں ان کی گواہی خدیجہ (بیوی)کے حق میں معتبر نہیں ،ان لوگوں کے ذریعہ طلاق ثابت نہیں ہوگی ،جب کہ شوہر منکر ہو, لھذا اس (شوہر) سے قسم لی جائے کہ میں نے خدیجہ کو ٣ طلاق یا بائن طلاق نہیں دی (فتاویٰ جامعہ اشرفیہ جلد - صفحہ:٤١٢)
لہذا اگر شوہر انکار کرتا ہے ،اور صرف ہندہ کی ماں اور ہندہ گواہی دیتے ہیں تو اس سے طلاق ثابت نہیں ہوگی اور ہندہ بدستور اپنے سابقہ شوہر کے نکاح میں ہے ،اور اسکے ساتھ بکر کا نکاح نہیں ہو سکت وہ بکر پر حرام ہے
اللہ پاک ارشاد فرمایا ہے:
وَّ الْمُحْصَنٰتُ مِنَ النِّسَآءِ(سورہ نساء -آیت ٢٤)
ترجمہ کنزالایمان:اور حرام ہیں شوہر دار عورتیں
لہذا ایسا نکاح پڑھانا جائز نہیں حرام ہے
لہذا بکر اور ہندہ فوراً الگ ہو جاۓ اور اللہ کی بارگاہ میں سچی توبہ کرے ،اور ہندہ اپنے سابقہ شوہر کے ساتھ زندگی گزارے ،یا اگر نبھایا نہیں جا سکتا تو اس سےگواہوں کی موجودگی میں طلاق لے اور بعد عدت چاہے تو بکر سے نکاح کر سکتی ہے
واللہ تعالیٰ اعلم
مفتی ادارہ -ایم جی اکبری قادری حنفی
دارالافتاء فیضان مدینہ -گجرات

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
Gulzaretaibah284@gmail.com