سوال -آج کل دیکھا جارہا ہے کہ ماں باپ اپنی حیات میں اپنے دونوں بیٹوں کو الگ کرکے اپنی جائیداد سے برابری کا حصہ دے دیتے ہیں اور کہتے ہیں:تم الگ رہو اور تم اپنے محنت سے کرو ہماری زمہداری نہیں
کیا والدین کی حیات میں انکی جائیداد تقسیم کی جا سکتی ہے؟
اور اگر کسی کے ٢ بیٹے اور ایک بیٹی ہو اور جائداد میں ١ کروڈ تو کیسے تقسیم کیا جائگا ؟
سائل؛ عمران بھائی
الجواب باسمہ تعالی وبفضلہ
باپ پر صرف نابالغ اولاد کی کفالت اور نفقہ وجب ہے
بہار شریعت میں ہے:
نابالغ اولاد کا نفقہ باپ پر واجب ہے ،جبکہ اولاد فقیر ہو اسکی ملکیت میں مال نہ ہو اور آزاد ہو
(بہار شریعت -٢ صفحہ:٢٧٣)
اور بالغ اولاد کا نفقہ باپ پر واجب نہیں
فقہ النفس امام قاضی خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:بالغ بیٹوں کا نفقہ باپ پر واجب نہیں ،
فتاویٰ قاضی خان -٢ صفحہ:٢٣٧)
لہذا والدین کا اس طرح بچوں کو الگ کرنا جائز ہے
(٢) والدین کی حیات میں بیٹے انہیں جائداد تقسیم کرنے پر مجبور نہیں کر سکتے ،لیکن حالات زمانہ کے حساب سے والدین تقسیم کر دیں تو بہتر ہے ،لکین یہ تقسیم وراثت نہیں بلکہ ہبہ کہلاۓگا ،
(٣)اگر کسی کے ٢ بیٹے اور ١ بیٹی ہے اور وہ زندگی میں ان کو جایداد وغیرہ دینا چاہتا ہے تو شریعت کا حکم یہ ہے کہ سب کو برابر دے
جیسا کہ مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمن صاحب فرماتے ہیں: اگر کوئی شخص اپنی زندگی میں اپنی اولاد کو کچھ مال ہبہ کرنا چاہتا ہے تو شریعت کا حکم یہ ہے کہ سب کو برابر حصہ دے
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں -ان کی والدہ نے ،ان کے والد سے درخواست کی کہ وہ اپنے مال میں سے کچھ ان کے بیٹے (نعمان)کو ہبہ کردے
میری والد نے ایک سال تک یہ معاملہ ملتوی رکھا ،پھر انہیں اسکا خیال آیا ،میری والدہ نے کہا میں اس وقت تک راضی نہیں ہوں گی جب تک کہ تم میرے بیٹے کے ہبہ پر رسول اللہ ﷺ کو گواہ نہ کرلو ،میرے والد میرا ہاتھ پکڑ کر رسول اللہ ﷺ کے پاس لے گیے اور اس وقت میں نو عمر لڑکا تھا ،
انہوں نے عرض کی :یا رسول اللہ ﷺ اسکی ماں بنت رواحہ یہ چاہتی ہے کہ میں آپ کو اس چیز پر گواہ بنالوں جو مینے اپنی اس لڑکے کو ہبہ کی ہے
رسول اللہ ﷺ نے دریافت کیا:کیا اسکے علاوہ تمہاری اور بھی اولاد ہے؟
انہوں نے عرض کیا:جی ہاں
آپ ﷺ نے فرمایا: تو مجھے گواہ نہ بناؤ کیونکہ میں ظلم پر گواہ نہیں بنوں گا
اسی موضوع پر صحیح مسلم کی حدیث نمبر ٤٠٦٩ کے آخر میں ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ سے ذرو اںر اپنے اولاد کے درمیان انصاف کرو ،
حدیث نمبر ٤٠٨٣ میں فرمایا: جاؤ میرے علاوہ کسی اور کو گواہ بناؤ پھر فرمایا:کیا تمہیں یہ بات اچھی لگتی ہے کہ (تمہارے سب بیٹے) تمہارے ساتھ حسن سلوک اور ایک جیسا رویہ اختیار کریں
اسنے عرض کی کیوں نہیں
آپ ﷺ نے فرمایا: پھر تم بھی ایسا کرو (یعنی عدم مساوات نہ کرو)
مزکورہ بالا احادیث کی روشنی میں کسی شخص کو اولاد کی درمیان ہبہ اور عطیہ کے طور پر مال تقسیمِ کرنے میں سب کے ساتھ مساوی برتاؤ کرنا چاہتے، اور یہ حکم مستحب ہے اور کسی کو زیادہ دینا مکروہ تنزیہی ہے (تفہیم المسائل -٢ صفحہ:٢٩٥-٢٩٦ پتغیر قلیل
لہذا اگر آپ کے والد صاحب کے پاس ١ کروڈ ہو تو اسکے ٣ حصہ کرکے سب کو برابر دینا چاہیے لیکن اگر کسی کے انتقال کے بعد اسکی جائداد وغیرہ تقسیم ہو تو اس کی تقسیم کا طریقہ الگ ہوگا اور اس میں قرآن و حدیث کی روشنی میں کئی رشتہ داروں کا حصہ بنتا ہے اصحاب فرائض ہی ١٢ ہے یعنی ان کا مقرر حصہ قرآن پاک میں ہے جس کی تفصیل وراثت کی کتب میں مزکور ہے
واللہ تعالیٰ اعلم
مفتی ادارہ-ایم جے اکبری قادری حنف
دارالافتاء فیضان مدینہ-گجرات

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
Gulzaretaibah284@gmail.com