نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

امام کو ستانا ؟

کیا فرماتے ہے مفتیان کرام جو امام پابند شرع ہو اور اپنی ڑیوٹی پر برابر حاضر رہتا ہو مگر کچھ لوگوں کا کا بلا وجہ شرعی امام کو پریشان کرتے رہنا جس سے امام مجبور ہو کر  چلا جائے تاکہ اپنی پسند کا امام لائے جو ان کے کہنے کے مطابق تقریر کرے ان کے کہنے کے مطابق نماز پڑھائے ان لوگوں کا  ایسا کرنا کیسا اور اس پردوسرے مسلمانوں کا  خاموش رہ کر تماشہ دیکھنا حق کا ساتھ نہ دینا  اور مسلمانوں کا  امام کو بغیر کوئی وجہ سے امامت سے ہٹانے والوں کے متعلق کیا حکم شرح ہے بیان فرمائے 
سائل مولانا اسمائل نوری احمد آباد گجرات

الجواب باسمہ تعالی وبفضلہ
سورت مسؤلہ میں جو لوگ امام کو بلا وجہ شرعی پریشان کرتے ہیں اور مکلنے پر مجبور کرتے ہیں وہ ایک مسلمان کی دل آزاری کی وجہ سے کبریرہ گناہ میں مبتلہ ہیں اور ایک مسلمان کو ستانے کی سخت وعید آئی ہے 

وَ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ بِغَیْرِ مَا اكْتَسَبُوْا فَقَدِ احْتَمَلُوْا بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا(58)
ترجمہ: کنزالایمان
اور جو ایمان والے مردوں اور عورتوں کو بے کئے ستاتے ہیں انہوں نے بہتان اور کھلا گناہ اپنے سر لیا

تفسیر ‎صراط الجنان میں اس آیت کے تحت ہے 

یاد رہے کہ اس کا شانِ نزول اگرچہ خاص ہے لیکن اس کا حکم تمام مسلمان مردوں اور عورتوں کو عام ہے اور آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جولوگ ایمان والے مردوں اور عورتوں کے ساتھ ایسا سلوک کرتے ہیں جس سے انہیں اَذِیَّت پہنچے حالانکہ انہوں نے ایسا کچھ نہیں کیا ہوتا جس کی وجہ سے انہیں اذیت دی جائے توان لوگوں نے بہتان اور کھلے گناہ کا بوجھ اٹھالیا اور خود کوبہتان کی سزا اور کھلے گناہ کے عذاب کا حق دار ٹھہرا لیا ہے

مسلمانوں کوناحق ایذا اور تکلیف نہ دی جائے

(2)…حضرت عبداللہ بن عمرو رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے،سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’کیا تم جانتے ہو کہ مسلمان کون ہے؟صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ نے عرض کی: اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ زیادہ جانتے ہیں۔ ارشاد فرمایا’’مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے (دوسرے) مسلمان محفوظ رہیں۔ ارشاد فرمایا’’تم جانتے ہو کہ مومن کون ہے؟صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ نے عرض کی: اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ زیادہ جانتے ہیں ۔ارشاد فرمایا’’مومن وہ ہے جس سے ایمان والے اپنی جانوں  اور مالوں  کو محفوظ سمجھیں  اور مہاجر وہ ہے جو گناہ کو چھوڑ دے اور اس سے بچے
(تفسیر صراط الجنان تحت سورہ احزاب آیت -٥٨)

اور سوال میں مزکور  لوگوں کی جو عادت بتائی گئی ہے کہ اپنی مرضی کا امام رکھنے کے لیے موجودہ امام کو پریشان کرتے ہیں وہ اصل میں اللہ کی نہیں اپنے نفس کی مانتے ہیں اور نفس پرست کے بارے میں ارشاد خداوندی ہے 

اَرَءَیْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰهَهٗ هَوٰىهُؕ-اَفَاَنْتَ تَكُوْنُ عَلَیْهِ وَكِیْلًا(فرقان -43)
 ترجمۂ کنز العرفان:
کیا تم نے اس آدمی کو دیکھا جس نے اپنی خواہش کو اپنا معبود بنالیا ہے توکیا تم اُس پر نگہبان ہو؟۔

اسکی تفسیر میں ہے :-
زمانۂ جاہلیت میں  عرب کے مشرکین کا دستور تھا کہ ان میں  سے ہر ایک کسی پتھرکو پوجتا تھا اور جب کہیں  اُسے کوئی دوسرا پتھر اس سے اچھا نظر آتاتو پہلے کو پھینک دیتااور دوسرے کو پوجنے لگتا۔
(تفسیر صراط الجنان تحت سورہ فرقان آیت -٤٣)

امام کو ستانے والے لوگوں کو غور کرنا چاہے کہ وہ کس کے طریقہ پر چل رہے ہے

سورہ جاشیہ آیت نمبر٢٣ کی تفسیر میں نفسانی خواہشات کی پیروی کی مذمت بیان کرتے ہوئے مفتی قاسم قادری دامت برکاتہم العالیہ  فرماتے ہیں:

اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے
’ وَ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوٰىهُ بِغَیْرِ هُدًى مِّنَ اللّٰهِ‘‘(قصص:۵۰)
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اس سے بڑھ کر گمراہ کون جو اللہ کی طرف سے ہدایت کے بغیر اپنی خواہش کی پیروی کرے۔

            اور ارشاد فرماتا ہے:
’’وَ لَا تَتَّبِـعِ الْهَوٰى فَیُضِلَّكَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِؕ-اِنَّ الَّذِیْنَ یَضِلُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌۢ بِمَا نَسُوْا یَوْمَ الْحِسَابِ‘‘(ص:۲۶)
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور نفس کی خواہش کے پیچھے نہ چلنا ورنہ وہ تجھے اللہ کی راہ سے بہکادے گی بیشک وہ جو اللہ کی راہ سے بہکتے ہیں  ان کے لیے سخت عذاب ہے اس بنا پر کہ انہوں  نے حساب کے دن کو بھلا دیا ہے۔

            اور ارشاد فرماتا ہے:
’’ وَ لَا تُطِعْ مَنْ اَغْفَلْنَا قَلْبَهٗ عَنْ ذِكْرِنَا وَ اتَّبَعَ هَوٰىهُ وَ كَانَ اَمْرُهٗ فُرُطًا‘‘(کہف:۲۸)
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اس کی بات نہ مان جس کا دل ہم نے اپنی یاد سے غافل کردیا اور وہ اپنی خواہش کے پیچھے چلا اور اس کا کام حد سے گزر گیا۔
(تفسیر صراط الجنان تحت سورہ جاثیہ آیت -٢٣)

لھذا ان لوگوں کی سمبھل جانا چاہیے اور اپنی خواہش کے بیچھے چلنے کے بجائے حق کے پیچھے چلنا چاہئے اسی میں دنیا و اخرت کی بھلائی ہے 

اور جو لوگ یہ سب دیکھ کر بھی خاموش ہیں وہ گنگے شیطان ہیں انکو اپنے مستقبل کی فکر کرنی چاہیے اگر اسی طرح حق گو امام کو یہ خواہش کے قیدی نلکالتے رہے تو وہاں صرف انکے جیسا خواہش کا قیدی ہی امامت کروائے گا اور پھر لوگوں کی  نمازیں برباد ایمان و عقیدہ بھی برباد ہونگے اور اسکے ذمہ دار یہ خامش لوگ بھی ہے

اور بغیر شرعی مجبوری کے امام کو معزول کرنا جائز نہیں اور اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو وہ ظلم و دل آزاری مسلم دو بڑے گناہ  میں گرفتار ہے اور اگر توبہ نہ کرے اور اپنی اصلاح نہ کرے تو عذاب نار کے حقدار ہے
 حضرت مفتی فقیہ ملت رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہے امامت کے منصب ہٹایا تو یہ اس سراسر ظلم و زیادتی ہے اور لوگوں اس معاملہ میں کوشش کی یا اس پر راضی رہے وہ گنہگار حق العبد میں گرفتار ہیں (فتاوی فقیہ ملت جلد اول صفہ ۱۳۰) اعلی حضر امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہے اگر صحت موہب قرائت و طہارت میں بقدر جواز نماز ہے تو پہلے کو معزول کرنا گناہ ہوا (فتاوی رضویہ جلد سوم صفہ ۲۶۲) خلاصہ کلام یہ ہے کہ امام رکھنا مسلمانوں کا کام ہے اور امام کو بغیر وجہ موعزول کرنے کا حق نہیں ہے جب تک کسی امام کی وہ غلطی جس کی وجہ سے امام کو موعزول کیا جا رہا ہے اس پر حکم شرع نہ لیا جائے یعنی کسی مفتی کے سامنے امام کی جو غلطی ہے وہ بتائے پھر مفتی جو حکم شرع دے (فتوی) اس کے مطابق عمل کرنا لازم مفتی کے  فتوے کے بغیر اپنی مرضی سے امام کو ہٹانا ناجائز ہے اور سخت گناہ  مسلمانوں کو اللہ سے ڈرنا چاہے بغیر شرعی غلطی کے امام کو ہٹانا بہت بڑا گناہ ہے البتہ امام خود استیفاء دیتا ہے تو جائز ہے مگر حق گوہ عالم کو نہیں جانے دینا چاہے ورنہ قوم کی گمراہی کا بوج بھی یہ لوگ اٹھائے گے اللہ فرماتا ہے 
وَ لَیَحْمِلُنَّ اَثْقَالَهُمْ وَ اَثْقَالًا مَّعَ اَثْقَالِهِمْ٘-وَ لَیُسْــٴَـلُنَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عَمَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ(13)

 ترجمۂ کنز الایمان

اور بیشک ضرور اپنے بوجھ اٹھائیں گے اور اپنے بوجھوں کے ساتھ اور بوجھ اور ضرور قیامت کے دن پوچھے جائیں گے جو کچھ بہتان اٹھاتے تھے۔
واللہ تعالیٰ اعلم ورسولہ
مفتی ادارہ ایم جے اکبری قادری حنفی
دارالافتاء فیضان مدینہ گجرات


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

نسبندی کا شرعی حکم

نسبندی کا شرعی حکم روشن تحقیق السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام کہ نس بندی کرانا کیسا ہے جبکہ ڈاکٹر یہ کہے کہ اب یہ عورت مزید بچے پیدا کرے گی، جس سے اسے سخت بیماری پیدا ہونے یا جان کا خطرہ ہے، اور باقی ضبط تولید کے ذرائع سے بھی کبھی خطرہ رہتا ہے، وہ ذرائع فیل ہو جاتے ہیں، اور عورت حاملہ ہو جاتی ہے، اس صورت میں عورت کی مجبوری کو مدنظر رکھتے ہوئے حکم شرعی بیان فرمائیں۔  *سائل: محمد علی باڑمیر*  . وعلیکم السلام ورحمتہ وبرکاتہ  الجواب وباللہ توفیق  نسبندی کی جائز اور ناجائز صورتیں بیان کرتے ہوئے علامہ غلام رسول سعیدی، شرح مسلم جلد سوم میں فرماتے ہیں  1۔ کوئی شخص تنگی رزق کے خوف کی وجہ سے خاندانی منصوبہ بندی (نسبندی کرواتا ہے) اصلًا جائز نہیں ہے، یہ اس لیے کہ حرمت کی علت تنگی رزق کا ہونا قرآن مجید میں مذموم ہے: "لا تقتلوا اولادکم من املاق   (سورہ نمبر 6آیت 151" 2۔ اور کوئی شخص لڑکیوں کی پیدائش سے احتراز کے لیے ضبط تولید کرے، کیونکہ ان کی پرورش میں مشقت اور عار کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور یہ نیت زمانہ جاہلیت کے مشرکین ...

کمیشن لینا कमिशन लेना हिंदी अनुवाद आखिर में

हिंदी अनुवाद आखिर में है  کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان شرع کے ایک عالم صاحب جو کہ امامت کرتے ہیں ساتھ میں ان کا کاروبار گاڑیوں کے لین دین کا جس میں دو پارٹیوں سے سودا کرواتے ہیں جس میں ان کی ذمہ داری رہتی ہے گاڑیوں کے کاغذ وغیرہ کسی میں فولڈ ہوگا تو گارنٹی ان کی رہتی ہے جس کی وجہ سے کبھی نقصان بھی ہوتا ہے کبھی فائدہ مہینہ دو مہینہ کے بعد جب کاغذ وغیرہ نام پر ہو جاتے ہیں تب 5000/10000 جو کمیشن طے ہوتا ہے وہ ملتا ہے ابھی کوئی شخص بولتا ہے کے کمیشن کا دھندا کرنے والے کے پیچھے نماز نہیں ہوتی قرآن و حدیث کی روشنی میں مدلل جواب عنایت فرمائیں سائل قاری غلام رسول ضیائی   کوشل کوٹ ضلع بانسواڑہ راجستھان ُ الجواب و بللہ توفیق    شرعی ضابطے پورے کرتے ہوئے کمیشن کے  ذریعے روزی کمانے میں شرعاً کوئی ممانعت نہیں  ہے، کہ کمیشن یا بروکری وہ ذریعۂ آمدنی ہے جس میں اپنی محنت کے ذریعے ایک سروس دی جاتی ہے اور یہ طریقۂ آمدنی آج کا نہیں بلکہ  صدیوں سے رائج ہے جس کو ہر دور کے علماء نے جائز ہی کہا ۔  بروکر کی اجرت (کمیشن): بروکر کو "اجیر خاص" یا "وکیل" سمجھا جات...

حربی سے سود لینے کا حکم روشن تحقیق

حربی سے سود لینے کا حکم ؟ دارالافتاء گلزارِ طیبہ کی یہ علمی تحقیق نہایت دقیق، جامع اور بصیرت افروز ہے۔ اس میں جہاں امام ابو حنیفہؒ کے قول کا صحیح مفہوم واضح کیا گیا ہے، وہیں اس کے غلط استعمالات اور اس کے دینی، سماجی و بین الاقوامی مضمرات پر بھی مدلل کلام کیا گیا ہے۔ علمی و ادبی تاثرات: 1. محققانہ اسلوب: تحقیق کی بنیاد قرآنی آیات، صحیح احادیث اور فقہاء کی معتبر تشریحات پر رکھی گئی ہے۔ علامہ ابن قدامہ، علامہ سعیدی، امام ابن ہمام، امام شافعی، سرخسی وغیرہ جیسے جلیل القدر علماء کے اقوال سے مزین یہ رسالہ اسلوبِ تحقیق کا عمدہ نمونہ ہے۔ 2. فقہی توازن و اعتدال: تحقیق میں نہ صرف مختلف اقوال کا ذکر کیا گیا بلکہ ان کا تجزیہ بھی علمی انداز میں کیا گیا ہے، جو قاری کو یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ امام ابو حنیفہؒ کا اصل مدعا کیا تھا، اور بعد کے علماء نے ان کے قول کو کس حد تک محدود کیا ہے۔ 3. دورِ حاضر کے تقاضے: یہ تحقیق صرف نصوص کی بحث نہیں، بلکہ موجودہ حالات کے تناظر میں ایک عملی رہنمائی بھی ہے۔ خاص طور پر سوشل میڈیا کے دور میں فتاویٰ کے غلط استعمال، اسلام کے بارے میں پھیلنے والی بدگمانیوں اور ہندوست...