نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

نکاح کوئی پڑھاۓ دستخط امام کرے؟

فرماتے ہیں مفیان کرام آج کل یہ ماحول بن گیا ہے کسی کے گھر نکاح ہے تو وہ لوگ اپنے کسی چاہنے والے مولانا کو دعوت دیتے ہے وہی مولانا نکاح پڑھاتا ہے مگر کاغز پر دستخط امام کو کرنا پڑھتا ہے جس سے کبھی ایسا بھی ہوتا شادی بگڑ جاتی اور معاملہ عدالت تک پہنچ جاتا ہے اور نکاح پڑھانے والے کو عدالت میں حاضر ہونا پڑھتا ہے اور کہنا پڑتا ہے کہ یہ نکاح میں نے پڑھایا تھا حلانکہ نکاح کسی دوسرے نے پڑھایا تھا تو اب امام کا یہاں جھوٹ  بولنا لازم آیا اور جھوٹ گناہ کبیرہ ہے تو اس امام کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا اور اس طرح جالی دستخط کرنا کیسا شرعا حکم کیا ہے دلائل کی روشنی میں جواب عطا فرمائے 
سائل مولانا محمد علی نوی نال گجرات

الجواب وباللہ توفیق 
بے شک جھوٹ اؤر دھوکا دینا دونوں کبیرہ گناہ ہے 
اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:
لَّعْنَتَ اللّٰهِ عَلَى الْكٰذِبِیْنَ(آل عمران -61)
 ترجمہ:جھوٹوں پر اللہ کی لعنت  ہے۔
دھوکہ بازوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں فرماتا ہے: یُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ۚ-وَ مَا یَخْدَعُوْنَ اِلَّاۤ اَنْفُسَهُمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَؕ(۹)ترجَمۂ کنزُالایمان: فریب دیا چاہتے ہیں اللہ اور ایمان والوں کو اور حقیقت میں فریب نہیں دیتے مگر اپنی جانوں کو اور انہیں شعور نہیں۔(پ1،البقرۃ:9)

دھوکے کی تعریف:علامہ عبدالرؤف مناوی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں :کسی چیز کی(اصلی)حالت کو پوشیدہ رکھنا دھوکا ہے۔(فیض القدیر،ج6،ص240،تحت الحدیث:8879)۔ اور یہاں نکاح کوئی اور پڑھا رہا ہے اور دستخط امام کر رہا ہے جو جھوٹ اور دھوکا ہے 

دھوکے کے متعلق احادیثِ مبارکہ:

حدیث:دھوکا دینے والے سے اللہ عزوجل کے محبوب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے لاتعلقی کااظہار کیا ہے چنانچہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: ”جو شخص ہم پر ہتھیار اٹھائے وہ ہم میں سے نہیں ہے اور جو شخص ہم کو دھوکا دے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔(صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَان،حدیث: 283) اس حدیث پاک سے صاف ظاہر ہوا کہ اس طرح نکاح کوئی اور پڑھائے اور دستخط امام کرے یہ کام شریعت کے خلاف ہے اور بھارت کے عائن کے بھی خلاف ہے 
جھوٹ اور دھوکا منافق کی صفات ہیں جیسا کے 
فرمان رسول ہاشمی ﷺ ہے:
جس میں چار خصلتیں ہوں گی، وہ خالص منافق ہے اور جس شخص میں ان خصلتوں میں کوئی ایک خصلت پائی جائے تو اس میں نفاق کی ایک خصلت ہے،  اسے چھوڑدے: جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے، جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو خلاف  کرے  اور جب لڑائی جھگڑا کرے تو گالم گلوچ کرے(بخاری حدیث -٣٤) اس حدیث میں بات کرے تو جھوٹ بولے ہے اور امام جب نکاح رجیسٹر ہوتا ہے تو پنچائت میں بھی اسے دستخط کرنا ہوتا ہے اور وہاں پوچھا جاتا ہے کہ آپ نے نکاح پڑھایا ہے اب اقرار کرتے ہے جو جھوٹ کا اور دھوکا کا دو گناہ کبیرہ میں امام مبتلا ہوا اور امام پر فاسق کا حکم لگے گا 
اور فاسق کی اقتدہ درست نہیں لہاذہ اس سے بچے 
تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى ۪-وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ۪(مائدہ -٢)
ترجمہ کنزالعرفان:نیکی اور پرہیزگاری پر ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ کرو اس آیت کریمہ سے ثابت ہوا کے گناہ کے کاموں میں کسی کی مدد نہ کرو اور اس جگہ نکاح نامہ پر اور پنچائت میں دستخط کرنا گناہ کے کام میں مدد ہے کینوکہ جو کام امام نے کیا نہیں اس پر دستخط کرنا گناہ ہے 

امام صاحب نے عدالت میں جھوٹ  بولنے اور بغیر دستخط کرکے   دھوکا دیا  اس وجہ سے ان پر  علی لاعلان توبہ فرض ہے بعد توبہ انکے پیچھے نماز جائز ،ورنہ جب تک توبہ نہ کرلے ان کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ہوگی کیونکہ اعلانیہ فسق کرنے کے سبب وہ فاسق معلن ہوۓ اور فاسق معلن کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ہوتی ہے
امام احمد رضا قادری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
اعلانیہ کبیرہ گناہ کا ارتکاب یا صغیرہ پر اسرار کرتا ہے تو اسے امام بنانا  گناہ ہے اور اسکے پیچھے نماز مکروہ تحریمی کے پڑھنی گناہ اور پڑھ لی تو پھیرنی واجب (فتاویٰ رضویہ ج-٦ ص:٦٠١) 

لہذا امام صاحب کو عل ی الاعلان توبہ لازم ہے ورنہ جب توبہ نہ کرے انکے پیچھے نماز مکروہ تحریمی 
اور امام صاحب کو یہ تنبیہ کی جاتی ہے کہ آئندہ کسی بھی کام کو کرنے سے پہلے اسکے حکم شرعی پر ضرور غور کرے ،تاکہ  گناہ  سے بچ سکے
خلاصہ کلام اس طرح کے کاغذات پر دستخط کرنا ناجائز اور گناہ ہے مگر ہم جانتے ہے کہ یہاں امام مجبور ہے کہ امام پر جاہل لوگ فتنہ کرے گے افسوس تو ان لوگوں پر ہے جو اتنا بھی نہیں جانتے کہ نکاح ہم نے پڑھایا ہے تو دستخط بھی ہم ہی کو کرنا ہے امام سے کیوں اگر ایسا ہی شوق ہے آپ کو یہاں گھر والوں کو کے ہم امام کے علاوہ کسی دوسرے سے نکاح پڑھائے تو دو میں ایک کام کرنا ہوگا یا تو دستخط خود نکاح پڑھانے والا کرے یا پھر ایجاب و قبول امام کرائے اور خطبہ آپ پڑھے کیونکہ اصل نکاح نام ہے ایجاب وقبول کا جو کہ امام کروائے تاکہ دستخط کرنے میں امام جھوٹا نہ ہو واللہ اعلم ورسولہ 
ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی 
دارالافتاء فیضان مدینہ آنلائن


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

نسبندی کا شرعی حکم

نسبندی کا شرعی حکم روشن تحقیق السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام کہ نس بندی کرانا کیسا ہے جبکہ ڈاکٹر یہ کہے کہ اب یہ عورت مزید بچے پیدا کرے گی، جس سے اسے سخت بیماری پیدا ہونے یا جان کا خطرہ ہے، اور باقی ضبط تولید کے ذرائع سے بھی کبھی خطرہ رہتا ہے، وہ ذرائع فیل ہو جاتے ہیں، اور عورت حاملہ ہو جاتی ہے، اس صورت میں عورت کی مجبوری کو مدنظر رکھتے ہوئے حکم شرعی بیان فرمائیں۔  *سائل: محمد علی باڑمیر*  . وعلیکم السلام ورحمتہ وبرکاتہ  الجواب وباللہ توفیق  نسبندی کی جائز اور ناجائز صورتیں بیان کرتے ہوئے علامہ غلام رسول سعیدی، شرح مسلم جلد سوم میں فرماتے ہیں  1۔ کوئی شخص تنگی رزق کے خوف کی وجہ سے خاندانی منصوبہ بندی (نسبندی کرواتا ہے) اصلًا جائز نہیں ہے، یہ اس لیے کہ حرمت کی علت تنگی رزق کا ہونا قرآن مجید میں مذموم ہے: "لا تقتلوا اولادکم من املاق   (سورہ نمبر 6آیت 151" 2۔ اور کوئی شخص لڑکیوں کی پیدائش سے احتراز کے لیے ضبط تولید کرے، کیونکہ ان کی پرورش میں مشقت اور عار کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور یہ نیت زمانہ جاہلیت کے مشرکین ...

کمیشن لینا कमिशन लेना हिंदी अनुवाद आखिर में

हिंदी अनुवाद आखिर में है  کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان شرع کے ایک عالم صاحب جو کہ امامت کرتے ہیں ساتھ میں ان کا کاروبار گاڑیوں کے لین دین کا جس میں دو پارٹیوں سے سودا کرواتے ہیں جس میں ان کی ذمہ داری رہتی ہے گاڑیوں کے کاغذ وغیرہ کسی میں فولڈ ہوگا تو گارنٹی ان کی رہتی ہے جس کی وجہ سے کبھی نقصان بھی ہوتا ہے کبھی فائدہ مہینہ دو مہینہ کے بعد جب کاغذ وغیرہ نام پر ہو جاتے ہیں تب 5000/10000 جو کمیشن طے ہوتا ہے وہ ملتا ہے ابھی کوئی شخص بولتا ہے کے کمیشن کا دھندا کرنے والے کے پیچھے نماز نہیں ہوتی قرآن و حدیث کی روشنی میں مدلل جواب عنایت فرمائیں سائل قاری غلام رسول ضیائی   کوشل کوٹ ضلع بانسواڑہ راجستھان ُ الجواب و بللہ توفیق    شرعی ضابطے پورے کرتے ہوئے کمیشن کے  ذریعے روزی کمانے میں شرعاً کوئی ممانعت نہیں  ہے، کہ کمیشن یا بروکری وہ ذریعۂ آمدنی ہے جس میں اپنی محنت کے ذریعے ایک سروس دی جاتی ہے اور یہ طریقۂ آمدنی آج کا نہیں بلکہ  صدیوں سے رائج ہے جس کو ہر دور کے علماء نے جائز ہی کہا ۔  بروکر کی اجرت (کمیشن): بروکر کو "اجیر خاص" یا "وکیل" سمجھا جات...

حربی سے سود لینے کا حکم روشن تحقیق

حربی سے سود لینے کا حکم ؟ دارالافتاء گلزارِ طیبہ کی یہ علمی تحقیق نہایت دقیق، جامع اور بصیرت افروز ہے۔ اس میں جہاں امام ابو حنیفہؒ کے قول کا صحیح مفہوم واضح کیا گیا ہے، وہیں اس کے غلط استعمالات اور اس کے دینی، سماجی و بین الاقوامی مضمرات پر بھی مدلل کلام کیا گیا ہے۔ علمی و ادبی تاثرات: 1. محققانہ اسلوب: تحقیق کی بنیاد قرآنی آیات، صحیح احادیث اور فقہاء کی معتبر تشریحات پر رکھی گئی ہے۔ علامہ ابن قدامہ، علامہ سعیدی، امام ابن ہمام، امام شافعی، سرخسی وغیرہ جیسے جلیل القدر علماء کے اقوال سے مزین یہ رسالہ اسلوبِ تحقیق کا عمدہ نمونہ ہے۔ 2. فقہی توازن و اعتدال: تحقیق میں نہ صرف مختلف اقوال کا ذکر کیا گیا بلکہ ان کا تجزیہ بھی علمی انداز میں کیا گیا ہے، جو قاری کو یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ امام ابو حنیفہؒ کا اصل مدعا کیا تھا، اور بعد کے علماء نے ان کے قول کو کس حد تک محدود کیا ہے۔ 3. دورِ حاضر کے تقاضے: یہ تحقیق صرف نصوص کی بحث نہیں، بلکہ موجودہ حالات کے تناظر میں ایک عملی رہنمائی بھی ہے۔ خاص طور پر سوشل میڈیا کے دور میں فتاویٰ کے غلط استعمال، اسلام کے بارے میں پھیلنے والی بدگمانیوں اور ہندوست...