نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

ہندوستان کے بینکوں سے سود کا شرعی حکم

हिंदी अनुवाद आखिर में है 
عنوان: ہندوستانی بینکوں سے ملنے والی سودی رقم کا شرعی حکم

الجواب وباللہ التوفیق

ہندوستان جیسے غیر اسلامی ملک (دارالحرب) میں بسنے والے مسلمان، جب بینکوں میں پیسہ رکھتے ہیں تو اس پر انہیں جو اضافی رقم ملتی ہے، وہ شرعاً سود ہے۔ اگرچہ بعض علماء نے حدیث "لا ربا بین المسلم والحربی فی دار الحرب" کی بنیاد پر اس کے جواز کا فتویٰ دیا ہے، لیکن تحقیق اور عصر حاضر کے مالیاتی نظام کو سامنے رکھتے ہوئے اس رائے سے رجوع کرنا ہی زیادہ محتاط اور حق کے قریب ہے۔


---

دلائل و توضیحات:

1. حدیث: لا ربا بین المسلم والحربی فی دار الحرب

یہ روایت بعض فقہاء نے ذکر کی ہے، اور اس کے مطابق بعض احناف نے یہ موقف اختیار کیا کہ اگر کوئی مسلمان دارالحرب میں حربی (یعنی کافر غیر ذمی) سے سودی معاملہ کرے تو وہ شرعاً سود نہیں کہلاتا۔

لیکن:

یہ حدیث ضعیف و مرسل ہے، اس کی سند میں اضطراب ہے، جسے محدثین نے دلیل کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔

یہ فتویٰ فقہاءِ احناف کے ایک جزوی قول پر مبنی ہے، جو سیاق و سباق کے لحاظ سے خاص حالات پر مبنی تھا، نہ کہ عمومی اجازت۔


2. عصر حاضر کا بینکاری نظام

آج کے بینک انفرادی اشخاص نہیں بلکہ قانونی ادارے (corporate entities) ہوتے ہیں۔

ان کے مالکان کوئی مخصوص حربی فرد نہیں بلکہ مختلف مذاہب، کمپنیوں اور حکومتوں کا مرکب ہیں۔

ان بینکوں کے ساتھ سودی لین دین میں صرف دو افراد کا تعلق نہیں ہوتا، بلکہ ایک مکمل مالیاتی نظام ہوتا ہے، جس میں سود کی بنیاد پر معیشت کو چلایا جاتا ہے۔


لہٰذا، "حربی" سے سود لینے کے جواز کا جو فتویٰ ہے، وہ عصر حاضر کے بینکنگ سسٹم پر لاگو نہیں ہوتا۔

3. اجماعِ امت اور قرآن و سنت کا عمومی حکم

اللہ تعالیٰ نے قرآن میں بار بار سود کو حرام قرار دیا ہے:

"وأحل الله البيع وحرم الربا"
(سورۃ البقرۃ: 275)

"يا أيها الذين آمنوا اتقوا الله وذروا ما بقي من الربا إن كنتم مؤمنين"
(سورۃ البقرۃ: 278)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

"لعن الله آكل الربا، وموكله، وكاتبه، وشاهديه، وقال: هم سواء"
(صحیح مسلم)

ترجمہ: اللہ تعالیٰ نے سود کھانے والے، دینے والے، لکھنے والے اور گواہ بننے والوں پر لعنت فرمائی ہے اور فرمایا: یہ سب برابر ہیں۔


---

نتیجہ و حکم:

فقیر (ابو احمد ایم جے اکبری) نے بھی پہلے بعض اکابر علماء کے فتووں کی بنا پر جواز کا قول کیا تھا، لیکن تفصیلی تحقیق کے بعد اب میں اس قول سے رجوع کرتا ہوں۔

اب ہمارا موقف یہ ہے کہ:

1. ہندوستانی بینکوں سے ملنے والی زائد رقم سود ہے۔


2. سود حرام قطعی ہے، خواہ کسی بھی نام سے دیا جائے۔


3. لہٰذا وہ اضافی رقم استعمال کرنا جائز نہیں۔


4. اس رقم کو بغیر نیتِ ثواب کے کسی محتاج یا غریب کو دے دینا چاہیے تاکہ مال پاک ہو جائے، لیکن اس پر صدقہ کا ثواب نہیں ملے گا کیونکہ یہ مال خالصاً حرام کا ہے۔




---

واللہ اعلم بالصواب
خادمِ شرعیہ
ابو احمد ایم جے اکبری
دارالافتاء گلزار طیبہ
हिन्दी अनुवाद: भारत के बैंकों से मिलने वाले सूद (ब्याज) का शरई हुक्म

الجواب وبالله التوفيق

भारत जैसे ग़ैर-इस्लामी मुल्क (दारुल-हरब) में रहने वाले मुसलमान जब बैंकों में पैसा जमा करते हैं, तो उस पर जो अतिरिक्त रकम मिलती है, वह शरई तौर पर सूद (ब्याज) है। कुछ उलेमा ने हदीस "لا ربا بین المسلم والحربی فی دار الحرب" की बुनियाद पर इसे जायज़ कहा है, लेकिन दौर-ए-हाज़िर के बैंकिंग सिस्टम और तफसीली तहक़ीक़ की रौशनी में अब इस फتوए से रुजू करना ज़्यादा सही और एहतियात वाला रास्ता है।


---

दलीलें और वज़ाहत:

1. हदीस: لا ربا بین المسلم والحربی فی دار الحرب

इस हदीस को कुछ फुकहा ने बयान किया है, जिसकी बुनियाद पर उन्होंने कहा कि अगर कोई मुसलमान दारुल-हरब में किसी हरबी (गैर-ज़िम्मी काफिर) से सूद ले, तो वह सूद नहीं कहलाता।

लेकिन:

यह हदीस ज़ईफ़ (कमज़ोर) है, और इसकी सनद में इख़्तिलाफ है।

यह हुक्म खास हालात पर मबनी था, जिसे आम हालात पर लागू नहीं किया जा सकता।


2. आज का बैंकिंग सिस्टम

आज के बैंक शख्स (व्यक्ति) नहीं होते, बल्कि इदारे (संस्थाएं) होते हैं।

इनके मालिक अलग-अलग मज़हबों, सरकारों और कंपनियों से होते हैं।

इनसे सूद लेने का मामला दो शख्सों के बीच का नहीं, बल्कि पूरे नाजायज़ माली निज़ाम का हिस्सा बनता है।


3. कुरआन और सुन्नत का हुक्म

"अल्लाह ने व्यापार को हलाल और सूद को हराम किया है"
(सूरह बकरा: 275)

"ऐ ईमानवालों! अल्लाह से डरो और जो सूद बाकी है उसे छोड़ दो"
(सूरह बकरा: 278)

हदीस में है:

"रसूलुल्लाह (ﷺ) ने सूद खाने वाले, देने वाले, लिखने वाले और गवाह बनने वालों पर लानत की और कहा: ये सब बराबर हैं"
(सहीह मुस्लिम)


---

हुक्म और फैसला:

फ़क़ीर (अबू अहमद एम.जे. अकबरी) ने पहले जायज़ का क़ौल किया था, लेकिन अब तफ़सील से तहक़ीक़ करने के बाद इस क़ौल से रुजू करता हूँ।

अब हमारा रुख़ ये है कि:

1. भारत के बैंकों से मिलने वाला ब्याज हराम सूद है।


2. उसे इस्तेमाल करना जायज़ नहीं।


3. ये रकम बिना सवाब की नियत के किसी ग़रीब को दे दी जाए।


4. इससे माल पाक हो जाएगा, मगर सवाब नहीं मिलेगा क्योंकि ये हराम पैसा है।




---

والله أعلم بالصواب
अबू अहमद एम.जे. अकबरी
दारुल इफ्ता गुलज़ार-ए-तैयबा

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

نسبندی کا شرعی حکم

نسبندی کا شرعی حکم روشن تحقیق السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام کہ نس بندی کرانا کیسا ہے جبکہ ڈاکٹر یہ کہے کہ اب یہ عورت مزید بچے پیدا کرے گی، جس سے اسے سخت بیماری پیدا ہونے یا جان کا خطرہ ہے، اور باقی ضبط تولید کے ذرائع سے بھی کبھی خطرہ رہتا ہے، وہ ذرائع فیل ہو جاتے ہیں، اور عورت حاملہ ہو جاتی ہے، اس صورت میں عورت کی مجبوری کو مدنظر رکھتے ہوئے حکم شرعی بیان فرمائیں۔  *سائل: محمد علی باڑمیر*  . وعلیکم السلام ورحمتہ وبرکاتہ  الجواب وباللہ توفیق  نسبندی کی جائز اور ناجائز صورتیں بیان کرتے ہوئے علامہ غلام رسول سعیدی، شرح مسلم جلد سوم میں فرماتے ہیں  1۔ کوئی شخص تنگی رزق کے خوف کی وجہ سے خاندانی منصوبہ بندی (نسبندی کرواتا ہے) اصلًا جائز نہیں ہے، یہ اس لیے کہ حرمت کی علت تنگی رزق کا ہونا قرآن مجید میں مذموم ہے: "لا تقتلوا اولادکم من املاق   (سورہ نمبر 6آیت 151" 2۔ اور کوئی شخص لڑکیوں کی پیدائش سے احتراز کے لیے ضبط تولید کرے، کیونکہ ان کی پرورش میں مشقت اور عار کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور یہ نیت زمانہ جاہلیت کے مشرکین ...

حربی سے سود لینے کا حکم روشن تحقیق

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ  سوال کیا فرماتے ہیں مفتیان اعظم مسلہ ذیل میں ہندستان کے کفار سے سود لینا کیسا اور ہندوستان کی بینکوں سے ملنے والا سود کا کیا حکم ہے اور کیا ہندوستان کے کفار حربی ہے ان سوالات کا جواب عنایت فرمائیں سایل محمد علی سانوا باڑمیر راجستھان  وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ الجواب وباللہ توفیق  تحقیق یہ ہے کہ ہندوستان کے کفار سے بھی سودی معاملات جایز نہیں اور ہندوستان کی بینکوں سے ملنے والا سود بھی حرام ہے اس رقم کو بغیر نیت ثواب کے  کسی غریب کو دے دیں اب آے اس مسلے پر تفصیلی گفتگو کرتے ہیں  دارالحرب کے سود میں جمہور فقہا کا نظریہ علامہ ابن قدامہ حنمبلی فرماتےہے دارالحرب میں سود اسی طرح حرام ہے جس طرح دارال اسلام میں سود حرام ہے امام احمد امام مالک امام اوزاعی امام ابو یسف امام شافعی اور اسحاق کا بھی یہی مزہب ہے امام ابو حنیفہ نے کہا کہ مسلمان اور حربی کے درمیان دارالحرب میں ربا جاری نہیں ہوگا اور ان سے ایک روایت یہ بھی ہے کہ دو شخص دارالحرب میں مسلمان ہو گئے توان کے درمیان ربا (سود) نہیں ہوگا اور ان کے اموال مباح ہیں علامہ غلام رسول س...

کیا حضور پر جادو کا اثر ہوا تھا

کیا حضور پر جادو کا اثر ہوا تھا حنفی دارالافتا۶ - 01/03/2025  کیا فرماتے ہے مفیان کرام کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کا اثر ہوا تھا اور ہوا تھا تو اس پر صحیح حدیث موجود ہے اور دوسرا سوال یہ ہے کہ صحیح بخاری کی اس حدیث کا کیا جواب ہے جس میں ہے کہ وحی رک گئی تو آپ نے اپنے آپ کو پہاڈ سے گرانا چاہا جواب عنائت فرمائے سائل محمد علی کچھ گجرات  الجواب و باللہ توفیق کسی بھی مسئلے میں قائدہ یہ ہے کہ اس کو قرآن کے سامنے پیش کریں گے اگر قرآن کے خلاف ہے تو اگرچہ حدیث صحیح ہو اس کو قبول نہیں کیا جائے گا آپ پر جادو کا اثر ہوا تھا اس پر جمہور مفسرین نے یہ ہی لکھا ہے تبیان القرآن جلد۔ اول صفہ ۱۰۴۸میں ہے  امام فخر الدین محمد بن عمر رازی متوفی 606  ھ لکھتے ہیں :- جمہور مفسرین نے یہ کہا ہے کہ لبیدبن اعصم یہودی نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر گایرہ گرہوں میں جادو کیا تھا اور اس دھاگے کو ذروان نامی کنوئیں کی تہہ میں ایک پتھر کے نیچے دبا دیا تھا، پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیمار ہوگئے اور تین دن آپ پر سخت گزرے، پھر اس وجہ سے معوذتین نازل ہوئیں اور حضرت جبریل نے آ کر آپ کو ...