نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

عشر واجب

القرآن - سورۃ نمبر 2 البقرة آیت نمبر 267 ترجمہ: مومنو! جو پاکیزہ اور عمدہ مال تم کماتے ہوں اور جو چیزیں ہم تمہارے لئے زمین سےنکالتے ہیں ان میں سے (راہ خدا میں) خرچ کرو۔ اور بری اور ناپاک چیزیں دینے کا قصد نہ کرنا کہ (اگر وہ چیزیں تمہیں دی جائیں تو) بجز اس کے کہ (لیتے وقت) آنکھیں بند کرلو ان کو کبھی نہ لو۔ اور جان رکھو کہ خدا بےپروا (اور) قابل ستائش ہے القرآن - سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 141 ترجمہ: اور خدا ہی تو ہے جس نے باغ پیدا کئے چھتریوں پر چڑھائے ہوئے بھی اور جو چھتریوں پر نہیں چڑھائے ہوئے وہ بھی اور کھجور اور کھیتی جن کے طرح طرح کے پھل ہوتے ہیں اور زیتون اور انار جو (بعض باتوں میں) ایک دوسرے سے ملتے ہیں جب یہ چیزیں پھلیں تو ان کے پھل کھاؤ اور جس دن (پھل توڑو اور کھیتی) کاٹو تو خدا کا حق بھی اس میں سے ادا کرو اور بےجا نہ اڑاؤ کہ خدا بیجا اڑانے والوں کو دوست نہیں رکھتا

توبہ والے اور صفائی ستھرائی

القرآن - سورۃ نمبر 2 البقرة آیت نمبر 222 ترجمہ: اور تم سے حیض کے بارے میں دریافت کرتے ہیں کہہ دو وہ تو نجاست ہے سو ایام حیض میں عورتوں سے کنا رہ کش رہو اور جب تک پاک نہ ہوجائیں ان سے مقاربت نہ کرو ہاں جب پاک ہوجائیں تو جس طریق سے خدا نے تمہیں ارشاد فرمایا ہے ان کے پاس جاؤ کچھ شک نہیں کہ خدا توبہ کرنے والوں اور پاک صاف رہنے والوں کو دوست رکھتا ہے

مؤمن کے لئے مناسب نہیں کہ ہلاکت میں پیش کر

جامع ترمذی کتاب: فتنوں کا بیان حدیث نمبر: 2254 ترجمہ: حذیفہ ؓ کہتے ہیں کہ  رسول اللہ  ﷺ  نے فرمایا:  مومن کے لیے مناسب نہیں ہے کہ وہ اپنے نفس کو ذلیل کرے ، صحابہ نے عرض کیا: اپنے نفس کو کیسے ذلیل کرے گا؟ آپ نے فرمایا:  اپنے آپ کو ایسی مصیبت سے دو چار کرے جسے جھیلنے کی وہ طاقت نہ رکھتا ہو ۔     امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔     تخریج دارالدعوہ:  سنن ابن ماجہ/الفتن ٢١ (٤٠١٦) (تحفة الأشراف: ٣٣٠٥)، و مسند احمد (٥/٤٠٥) (صحیح  )     قال الشيخ الألباني:  صحيح، ابن ماجة (4016)     صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2254

شیطان نے گمراہ کرنے کا

القرآن - سورۃ نمبر 15 الحجر آیت نمبر 39 ترجمہ: (اس نے) کہا پروردگار جیسا تو نے مجھے راستے سے الگ کیا ہے میں بھی زمین میں لوگوں کے لئے (گناہوں کو) آراستہ کر دکھاؤں گا اور سب کو بہکاؤں گا۔

خدا کی نعمتوں کو بدل دیتے

القرآن - سورۃ نمبر 2 البقرة آیت نمبر 211 ترجمہ: (اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بنی اسرائیل سے پوچھو کہ ہم نے ان کو کتنی کھلی نشانیاں دیں اور جو شخص خدا کی نعمت کو اپنے پاس آنے کے بعد بدل دے تو خدا سخت عذاب کرنے والا ہے

کافر کے لئے دنیا کی زندگی

القرآن - سورۃ نمبر 2 البقرة آیت نمبر 212 ترجمہ: اور جو کافر ہیں ان کے لیے دنیا کی زندگی خوشنما کردی گئی ہے اور وہ مومنوں سے تمسخر کرتے ہیں لیکن جو پرہیزگار ہیں وہ قیامت کے دن ان پر غالب ہوں گے اور خدا جس کو چاہتا ہے بیشمار رزق دیتا ہے

تم خیال کرتے ہو جنت میں داخل

تفسیرِ بغوی مفسر: ابو محمد حسین بن مسعود سورۃ نمبر 2 البقرة آیت نمبر 214 تفسیر: (تفسیر) ٢١٤۔:  (آیت)” ام حسبتم ان تدخلوا الجنۃ “ حضرت قتادہ (رح) اور سدی (رح) کہتے ہیں یہ آیت کریمہ غزوہ خندق کے موقع پر نازل ہوئی ، مسلمانوں کو مشقت اور سخت خوف اور سردی اور تنگدستی اور مختلف قسم کی تکلیفیں پہنچیں ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت)” وبلغت القلوب الحناجر “ (کہ دل شدت غم کے باعث گلے تک آگئے) اور بعض نے کہا ہے کہ یہ آیت کریمہ جنگ احد کے موقع پر نازل ہوئی ۔  حضرت عطاء (رح) فرماتے ہیں کہ جب حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین مدینہ منورہ میں تشریف لائے تو انہیں سخت تکلیف کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ وہ بغیر مال کے نکلے تھے اور اپنے گھر بار اور مال ومتاع مشرکوں کے ہاتھوں چھوڑ آئے تھے اور (ان چیزوں پر) انہوں نے اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رضا کو ترجیح دی تھی ، یہود نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عداوت کو ظاہر کیا اور (منافق) قوم نے اپنی منافقت کو چھپایا ، پس اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے دلوں کو خوش کرنے...