تفسیرِ بغوی
مفسر: ابو محمد حسین بن مسعود
سورۃ نمبر 2 البقرة
آیت نمبر 214
تفسیر:
(تفسیر) ٢١٤۔:
(آیت)” ام حسبتم ان تدخلوا الجنۃ “ حضرت قتادہ (رح) اور سدی (رح) کہتے ہیں یہ آیت کریمہ غزوہ خندق کے موقع پر نازل ہوئی ، مسلمانوں کو مشقت اور سخت خوف اور سردی اور تنگدستی اور مختلف قسم کی تکلیفیں پہنچیں ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت)” وبلغت القلوب الحناجر “ (کہ دل شدت غم کے باعث گلے تک آگئے) اور بعض نے کہا ہے کہ یہ آیت کریمہ جنگ احد کے موقع پر نازل ہوئی ۔
حضرت عطاء (رح) فرماتے ہیں کہ جب حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین مدینہ منورہ میں تشریف لائے تو انہیں سخت تکلیف کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ وہ بغیر مال کے نکلے تھے اور اپنے گھر بار اور مال ومتاع مشرکوں کے ہاتھوں چھوڑ آئے تھے اور (ان چیزوں پر) انہوں نے اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رضا کو ترجیح دی تھی ، یہود نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عداوت کو ظاہر کیا اور (منافق) قوم نے اپنی منافقت کو چھپایا ، پس اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے دلوں کو خوش کرنے کے لیے یہ آیت نازل فرمائی ، (آیت)” ام حسبتم “ اس کا معنی ہے تم نے گمان کیا فراء (رح) کا کہنا ہے کہ میم صلہ ہے زجاج (رح) کہتے ہیں ” ام حسبتم “ کا معنی ہے ” بل حسبتم “ اور آیت کا معنی ہے کیا تم نے اے مسلمانو ! یہ گمان کرلیا ہے کہ تم جنت میں داخل ہوجاؤ گے ” ولما یاتکم “ ابھی تمہیں نہیں پہنچا (ما) صلہ ہے ۔
(آیت)” مثل الذین خلوا “ ان لوگوں جیسے حالات جو لوگ گزر گئے ، (آیت)” من قبلکم “ (تم سے پہلے) نبیوں اور ایمان والوں میں سے (آیت)” مستھم الباسائ “ فقر ، شدت اور دیگر مصائب ” والضراء “ مرض اپاہج پن اور دائمی بیماری (آیت)” وزلزلوا “ قسم وقسم کی مصیبتوں تکلیفوں کے ساتھ جھنجھوڑے گئے اور خوفزدہ کیے گئے (آیت)” حتی یقول الرسول والذین معہ حتی نصر اللہ “ ان کو ہمیشہ تکلیف رہی حتی کہ انہوں نے نصرت خداوندی کو مؤخر سمجھا یعنی دیر سے آنے والی سمجھا ۔
(آیت)” الا ان نصر اللہ قریب “ نافع (رح) نے (آیت)” حتی یقول الرسول “ یقول کی لام کو پیش کے ساتھ پڑھا اس کا معنی ہے ” حتی قال الرسول “ اور جب وہ فعل جو ” حتی “ کے قریب ہو معنی کے لحاظ سے ماضی اور لفظ مستقبل کا صیغہ ہو تو تجھے اختیار ہے دونوں وجہوں کا کہ اس کو پیش دے یا اگر نصب دے تو یہ ظاہر کلام کی بنا پر ہوگی ، کیونکہ ” حتی “ فعل مستقبل کو زبر دیتا ہے اور پیش اس لیے کہ اس کا معنی ماضی ہے اور ” حتی “ ماضی میں عمل نہیں کرتا ۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
Gulzaretaibah284@gmail.com