نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

فروری 20, 2026 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

مندر کا بھنڑارا کھانا ؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم دارالافتاء گلزارِ طیبہ، گجرات الجواب بعون الملک الوہاب مسئلہ: کیا مسلمانوں کے لئے مندروں میں دیوتاؤں پر چڑھائی گئی مٹھائی (بھندارہ / پرساد) کا لینا یا کھانا جائز ہے؟ الجواب: فقہائے اہلِ سنّت کے نزدیک دیوتاؤں پر چڑھائی گئی مٹھائی وغیرہ فی نفسہٖ حرام نہیں ہو جاتی ، البتہ چونکہ ہندو حضرات اس کو بطورِ تبرک تقسیم کرتے ہیں، اس لئے مسلمانوں کے لئے اس سے اجتناب (بچنا) اولیٰ و بہتر ہے۔ چنانچہ صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی فرماتے ہیں: "جو مٹھائی وغیرہ بتوں پر چڑھاتے ہیں اگرچہ وہ حرام نہیں ہو جاتی، تاہم اس سے اجتناب اولیٰ ہے کہ وہ اسے تبرک سمجھ کر تقسیم کرتے ہیں، اور بت پر چڑھنے کے بعد کوئی چیز تبرک نہیں ہو سکتی۔" (فتاویٰ امجدیہ، ج 4، ص 59) اسی طرح امام احمد رضا خان تحریر فرماتے ہیں: "حلال ہے مگر احتراز چاہئے نسبتِ خباثت کی وجہ سے۔" (فتاویٰ رضویہ، ج 21، ص 606) لہٰذا ایسی مٹھائی کا لینا جائز ہے ، مگر بچنا بہتر و مستحسن ہے۔ خلاصۂ کلام: موجودہ زمانہ میں مسلمان اکثر دیہات میں کم آبادی کے ساتھ رہتے ہیں، ایسی صورت میں اگر غیر مسلم ح...

ہم طاقت سے ذیادہ حکم نہیں

القرآن - سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 152 أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ وَلَا تَقۡرَبُوۡا مَالَ الۡيَتِيۡمِ اِلَّا بِالَّتِىۡ هِىَ اَحۡسَنُ حَتّٰى يَبۡلُغَ اَشُدَّهٗ‌ ۚ وَاَوۡفُوۡا الۡكَيۡلَ وَالۡمِيۡزَانَ بِالۡقِسۡطِ‌ ۚ لَا نُـكَلِّفُ نَفۡسًا اِلَّا وُسۡعَهَا‌ ۚ وَاِذَا قُلۡتُمۡ فَاعۡدِلُوۡا وَلَوۡ كَانَ ذَا قُرۡبٰى‌‌ ۚ وَبِعَهۡدِ اللّٰهِ اَوۡفُوۡا‌ ؕ ذٰ لِكُمۡ وَصّٰٮكُمۡ بِهٖ لَعَلَّكُمۡ تَذَكَّرُوۡنَ ۞ ترجمہ: اور مت قریب جاؤ یتیم کے مال کے مگر اسی طریقہ سے جو اچھا ہو۔ یہاں تک کہ وہ سن بلوغ کو پہنچ جائے۔ ناپ اور تول کو انصاف کے ساتھ پورا کرو، ہم کسی جان کو اس کی طاقت سے زیادہ عمل کرنے کا حکم نہیں دیتے۔ اور جب تم بات کرو تو انصاف کرو اگرچہ وہ تمہارا قرابت دار ہی ہو اور اللہ کے عہد کو پورا کرو، یہ وہ چیزیں ہیں جن کا اللہ نے تمہیں تاکیدی حکم دیا ہے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔