حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ
عنوان: رسول اللہﷺکے جلیل القدرصحابی ٗخلیفۂ چہارم
امیرالمؤمنین حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کاتعلق مکہ میں قبیلۂ قریش کے مشہوراورمعززترین خاندان’’بنوہاشم‘‘سے تھا، دوسری ہی پشت میں عبدالمطلب پرسلسلۂ نسب رسول اللہ ﷺ کے نسب سے جاملتاہے، لہٰذا رسول اللہ ﷺ ٗ نیزحضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہٗ دونوں کے داداایک ہی تھے،یعنی ’’عبدالمطلب‘‘۔
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی پیدائش مکہ شہرمیں رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے دس برس قبل ہوئی تھی۔آپؓ ابوطالب کے بیٹے تھے،جوکہ رسول اللہ ﷺ کے مشفق ومہربان چچابھی تھے اورسرپرست بھی ، چھ سال کی عمرمیں جب رسول اللہ ﷺ کی والدہ آمنہ بنت وہب کاانتقال ہوگیاتھا، تب آپؐ اپنے داداعبدالمطلب کی کفالت میں آگئے تھے ، اور پھر دوسال بعدجب داداکاانتقال ہوا، تب آپؐ داداکی وصیت کے مطابق اپنے چچاابوطالب کی کفالت میں آگئے تھے ،اُس وقت آپؐ کی عمرمبارک آٹھ سال تھی ،ابوطالب نے تادمِ زیست آپؐ کی کفالت وحفاظت اورسرپرستی وخبرگیری کافریضہ بحسن وخوبی انجام دیاتھا۔
ابوطالب کے چاربیٹے تھے:طالب ، عقیل ، جعفر،اورعلی،جبکہ دوبیٹیاں تھیں :اُم ہانی ، اورجُمّانہ،ابوطالب کثیرالعیال اورقلیل المال تھے،ان کی اس تنگدستی کی وجہ دراصل یہ تھی کہ وہ خاندان بنوہاشم کی سربراہی کے علاوہ مزیدیہ کہ متولیٔ کعبہ بھی تھے،لہٰذااُس دورکے رواج کے مطابق جوکچھ بھی انہیں میسرآتاوہ نہایت فراخدلی کے ساتھ حجاجِ بیت اللہ کی خدمت وخبرگیری اورمیزبانی میں خرچ کردیاکرتے تھے ۔رسول اللہ ﷺ نے بچپن کے مرحلے سے نکلنے کے بعدجب شباب کی منزل میں قدم رکھاتواپنے محسن چچاکا ہاتھ بٹانے اورمعاشی بوجھ ہلکاکرنے کی غرض سے ان کے چھوٹے بیٹے ’’علی‘‘کواپنی کفالت میں لے لیاتھا،لہٰذاحضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ کے گھرمیں اورخودآپؐ کی نگرانی میں ہی تربیت اورنشوونماپائی تھی،اورپھراسی تربیت کی جھلک زندگی بھران کی شخصیت اورسیرت وکردارمیں نمایاں نظرآتی رہی…
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ کی بعثت کے فوری بعد دعوتِ حق پرلبیک کہتے ہوئے دینِ اسلام قبول کرلیاتھاجب ان کی عمرمحض دس برس تھی۔مکہ میں آپ ﷺ کے اعلانِ نبوت کے بعدکمسن علی ؓہمیشہ ہرقدم پرآپؐ کے ساتھ رہے ،اورکمسنی کے باوجودجوبھی خدمت ان سے بن پڑی …بلاترددہمیشہ ہرممکن خدمت سرانجام دیتے رہے۔
یہاں تک کہ آپؐ کی بعثت کے بعداسی طرح مشرکینِ مکہ کے نرغے میں انتہائی نامساعدوپریشان کُن حالات میں تیرہ سال گذرگئے،تب اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کی جانب سے ہجرتِ مدینہ کاحکم نازل ہوا،ہجرت کی رات مشرکینِ مکہ نے آپؐ کے قتل کامنصوبہ بنارکھاتھا،اوراپنے اسی ناپاک منصوبے کوعملی جامہ پہنانے کی غرض سے آپؐ کے گھر کا محاصرہ کررکھاتھا…اُس رات آپؐ نے حضرت علیؓ کواپنے بسترپرسونے کی تلقین فرمائی تھی…تاکہ آپؐ کی وہاں سے روانگی کے بعددشمن اگراندرجھانک کردیکھیں تویہ سوچ کرمطمئن رہیں کہ آپؐ اب تک اپنے گھرمیں ہی موجودہیں اوراپنے بسترپرسورہے ہیں ، لہٰذادشمن آپؐ کاتعاقب کرنے کی بجائے بدستوراسی جگہ موجودرہیں …
حضرت علی ؓ اس حقیقت سے بخوبی آگاہ تھے کہ آج کی رات رسول اللہ ﷺ کے بسترپرسونا گویاقتل گاہ میں سونے کے مترادف ہے…لیکن اس کے باوجودبلاچون وچرااوربلاخوف وخطرآپؐ کے حکم کی تعمیل …یقینااطاعتِ رسولؐ کے حوالے سے، نیزفدائیت کے نقطۂ نگاہ سے …حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ کایہ بے مثال اوریادگارکارنامہ تھا…نیز حضرت علیؓ کے اس عمل میں نوجوان نسل کیلئے ہمیشہ کیلئے یہ قیمتی پیغام بھی پوشیدہ ہے کہ اللہ کے دین کی سربلندی کی خاطروقت پڑنے پرکسی بھی بڑے سے بڑے خطرے کاسامنا کرنے سے گریزنہ کیاجائے۔
رسول اللہ ﷺ کے پاس مشرکینِ مکہ کی بہت سی امانتیں رکھی ہوئی تھیں ،آپؐ نے ہجرت کی رات وہ تمام امانتیں حضرت علیؓ کے سپردکرتے ہوئے یہ تاکیدفرمائی کہ ’’اے علی!یہ تمام امانتیں ان کے مالکوں کے حوالے کرنے کے بعدتم مکہ سے نکلنا‘‘
چنانچہ آپؐ کے اس حکم کی تعمیل کرتے ہوئے حضرت علیؓ وہ تمام امانتیں ان کے مالکوں تک پہنچانے کے بعدمکہ سے تنِ تنہاپیدل ہی مدینہ کی جانب روانہ ہوگئے…اس وقت ان کی عمر بائیس سال تھی۔
مدینہ پہنچنے کے کچھ عرصے بعدآپؐ نے اپنی سب سے چھوٹی اورلاڈلی صاحبزادی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہاکی شادی حضرت علیؓ کے ساتھ کردی، یوں دونوں باہم رشتۂ ازدواج میں منسلک ہوگئے،آپؐ حضرت فاطمہ ؓ سے بہت زیادہ محبت رکھتے تھے،ایک بارآپؐ نے اپنی پیاری بیٹی کے بارے میں ارشادفرمایا: سَیِّدَۃُ نِسَائِ أھلِ الجَنَّۃ (۱) یعنی’’فاطمہ جنت میں تمام عورتوں کی سردارہیں ‘‘۔
اللہ نے ان دونوں کودوبیٹوں حسن اورحسین ٗ نیزدوبیٹیوں ام کلثوم اورزینب سے نوازا…
رسول اللہ ﷺ اپنے ان کمسن نواسوں سے بہت زیادہ محبت کیاکرتے تھے ،ایک موقع پر آپؐ نے ان دونوں کے بارے میں ارشادفرمایاتھا: ھُمَا رَیحَانَتَايَ مِنَ الدُّنیَا (۱) یعنی’’اس دنیامیں یہ دونوں میرے پھول ہیں ‘‘۔
نیزآپؐ اپنے داماداورچچازادیعنی حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی ہمیشہ انتہائی شفقت وعنایت کامعاملہ فرمایاکرتے تھے،چنانچہ ایک موقع پرآپؐ نے ان کیلئے ان الفاظ میں دعاء فرمائی : اَللّھُمّ وَالِ مَن وَالَاہُ ، وَ عَادِ مَن عَادَاہ (۲)یعنی ’’اے اللہ جوکوئی اس سے دوستی رکھے توبھی اُس سے دوستی رکھ ، اورجوکوئی اس سے دشمنی رکھے توبھی اُس سے دشمنی رکھ‘‘۔
نیزایک بارآپؐ نے حضرت علیؓکومخاطب کرتے ہوئے یہ ارشادفرمایا: أَنتَ أَخِي فِي الدُنیَا وَالآخِرَۃِ(۳) یعنی’’ اے علی! آپ دنیامیں بھی اورآخرت میں بھی میرے بھائی ہیں ‘‘۔
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ
عنوان: ہمہ گیرشخصیت: شجاعت وبہادری
اللہ عزوجل نے اپنے اس برگزیدہ بندے یعنی علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کوگوناگوں اوصاف وکمالات سے نوازاتھا،ان کی شخصیت میں جامعیت وہمہ گیری نمایاں نظرآتی تھی،اس چیزکامختصرتذکرہ درجِ ذیل ہے:
شجاعت وبہادری کے لحاظ سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شخصیت کاجائزہ لیاجائے توہم دیکھتے ہیں کہ میدانِ کارزارمیں وہ ہمیشہ پیش پیش نظرآتے رہے،رسول اللہ ﷺ کی حیاتِ طیبہ کے دوران جتنے بھی غزوات پیش آئے ،ہرموقع پرحضرت علیؓ شریک رہے بلکہ پیش پیش رہے اورجرأت وشجاعت کے بے مثال کارنامے دکھاتے رہے…سوائے غزوۂ تبوک کے (سن ۹ ہجری میں ) کیونکہ اُس موقع پرآپ ﷺ نے تبوک کی جانب روانگی کے وقت مدینہ میں حضرت علیؓ کواپنے اہلِ بیت کی حفاظت وخبرگیری کی ذمہ داری سونپی تھی، تب حضرت علیؓ نے عرض کیاتھاکہ : یَا رَسُولَ اللّہ، ھَل تُخَلِّفنِي فِي النِّسَائِ وَ الصِّبیَان؟یعنی’’اے اللہ کے رسول!کیاآپ مجھے عورتوں اوربچوں میں چھوڑے جارہے ہیں ؟‘‘ (۱) اس پر آپؐ نے جواب دیا: أَمَا تَرضَیٰ أن تَکُونَ مِنِّي بِمَنزِلَۃِ ھَارُونَ مِن مُوسَیٰ؟ غَیرَ أنَّہٗ لَا نَبِيَّ بَعدِي (۲) یعنی’’اے علی!کیاآپ کویہ بات پسندنہیں کہ آپ کی میرے ساتھ وہی نسبت ہوجوہارون علیہ السلام کی موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ تھی…؟ ہاں البتہ یہ کہ میرے بعدکوئی نبی نہیں ہے‘‘۔(۳)
الغرض غزوۂ تبوک کے موقع پرخودرسول اللہ ﷺ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ شریک نہیں ہوئے تھے…جبکہ اس کے سواباقی ہرغزوے میں آپؓ شریک رہے ،بلکہ پیش پیش رہے ،اورشجاعت وجرأت کے بے مثال جوہردکھاتے رہے۔
خصوصاً(سن سات ہجری میں )غزوۂ خیبرکے موقع پرحضرت علیؓ کاکردارہمیشہ ناقابلِ فراموش تصورکیاجاتارہے گا…جب اسلامی لشکرکی وہاں آمدکے موقع پرخیبرکے یہودی قلعہ بندہوکربیٹھ گئے تھے،محاصرہ کافی طول پکڑچکاتھا،صورتِ حال کافی سنگین اورباعثِ تشویش تھی…اس دوران فریقین کے مابین متعدچھوٹی بڑی جھڑپوں کی نوبت آتی رہی،تاہم کوئی خاطرخواہ نتیجہ برآمدنہ ہوسکا…آخرایک روزرسول اللہ ﷺ نے اپنے ساتھیوں کومخاطب کرتے ہوئے ارشادفرمایا:’’لَاُعطِیَنَّ الرّایَۃَ غَداً رَجُلاً یُحِبَّ اللّہَ وَ رَسُولَہٰٗ وَ یُحُبُّہُ اللّہُ وَ رَسُولُہٗ‘‘ یعنی ’’کل میں جھنڈاایسے شخص کوعطاء کروں گاجواللہ اوررسول سے محبت کرتاہے ٗ اوراللہ اوررسول بھی اس سے محبت کرتے ہیں ‘‘
ظاہرہے کہ رسول اللہ ﷺ کی طرف سے یہ بہت بڑی خوشخبری تھی ،اوربہت بڑی گواہی تھی اُس شخص کے بارے میں کہ جسے کل علم سونپاجاناتھااورسپہ سالاری وقیادت کی ذمہ داری جس کے حوالے کی جانی تھی …اس کے حق میں یہ بہت بڑی گواہی تھی کہ وہ’’ اللہ اوررسولؐ سے محبت کرتاہے، نیزاللہ اوررسول بھی اس سے محبت کرتے ہیں ‘‘۔
چنانچہ لشکرمیں موجودبڑے بڑے صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے وہ رات اسی آرزو میں گذاری کہ کاش کل صبح رسول اللہ ﷺ میرانام پکاریں …اورجب صبح کاسورج طلوع ہوا، تورسول اللہ ﷺ کی آوازگونجی’’أینَ عَلي؟‘‘ یعنی ’’علی کہاں ہیں ؟‘‘ تب حضرت علی رضی اللہ عنہ حاضرِخدمت ہوئے ، رسول اللہ ﷺ نے اپنے دستِ مبارک سے انہیں عَلَم (جھنڈا) عطاء فرمایا، نیزفتح اورخیروبرکت کی دعائیں دیتے ہوئے انہیں رخصت فرمایا۔
رسول اللہ ﷺ کے حکم کی تعمیل میں حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اسلامی لشکرکی قیادت کرتے ہوئے دشمن کی جانب پیش قدمی کرنے لگے،آمناسامناہوا، کافی سنسنی خیزاوراعصاب شکن قسم کی جنگ لڑی گئی۔
اس موقع پریہودی فوج کی قیادت ’’مرحب‘‘نامی شخص کررہاتھا ٗجس کابڑارعب اوردبدبہ تھا،اورجس کی بہادری کے بڑے چرچے تھے…مزیدیہ کہ وہ اُس دورکابڑانامی گرامی پہلوان بھی تھا۔
چنانچہ اس نے انتہائی غروروتکبرکے ساتھ حضرت علی رضی اللہ عنہ کوللکارا،جواب میں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس پرایسابھرپوروارکیاکہ غروروتکبرکاوہ پتلا… پلک جھپکتے میں ہی زمیں بوس ہوگیا، اورپھرآخرتمام شہر’’خیبر‘‘مسلمانوں کے ہاتھوں فتح ہوگیا،اور یوں رسول اللہ ﷺ اپنے لشکرسمیت کامیاب وکامران واپس مدینہ تشریف لے آئے۔
خلاصۂ کلام یہ کہ تمام غزوات کے موقع پر ٗ بالخصوص’’غزوۂ خیبر‘‘کے موقع پرحضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی خدمات ٗجرأت وشجاعت ٗاورجذبۂ سرفروشی یقیناتاریخِ اسلام کاسنہری باب ہے۔
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ
عنوان: عبادت اورمنبرومحراب
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ زہدوتقویٰ ٗ تعلق مع اللہ ٗ خشیتِ الٰہیہ ٗ شب بیداری وتہجدگذاری ٗ دنیاومافیہاسے دور…الگ تھلگ…رات کے اندھیروں میں اپنے اللہ سے لَولگانے …اوراس کے سامنے گریہ وزاری …دعاء ومناجات …اورآہ وفریاد کے حوالے سے بہت بلندترین مقام پرتھے۔
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ
عنوان: دنیاسے بے رغبتی
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ دنیاوی مال ودولت اورشان وشوکت سے ہمیشہ دوررہے،دنیاسے بے رغبتی ،سیدھی سادھی زندگی،صبروقناعت، نام ونموداورشہرت سے گریز،آپؓ کے مزاج کاخاصہ تھا…چنانچہ ایک بارآپؓ مدینہ میں مسجدِنبوی میں فرش پرہی محوِآرام تھے…اورآپؓ کاجسم خاک آلودبھی ہورہاتھا…کہ اس دوران رسول اللہ ﷺ آپ کوتلاش کرتے ہوئے وہاں پہنچے،آپ ﷺ نے جب یہ منظردیکھاتوانتہائی پیار اور شفقت سے علیؓ کومخاطب کرتے ہوئے آپ ﷺ نے یوں آوازدی: قُم یَا أبَا تُرَاب…یعنی’’اے مٹی والے… اُٹھو…‘‘۔
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ
عنوان: حکمت ودانش
اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کی طرف سے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کوبے مثال حکمت ودانش اورفہم وفراست سے بہرہ مندفرمایاگیاتھا،چنانچہ آپؓ کے اقوالِ زریں اورارشادات وفرمودات طالبانِ حق کیلئے مشعلِ راہ کی حیثیت رکھتے ہیں ،گویاآپؓ حکمت ودانش کاچلتاپھرتاخزانہ اوربحرِ بیکراں تھے،یہی وجہ ہے کہ آپ ؓ زندگی بھرحکمت ودانش کے موتی بکھیرتے رہے۔
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ
عنوان: بے مثال علمی استعداد
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اللہ سبحانہ ٗ وتعالیٰ کی طرف سے عطاء فرمودہ بے مثال علمی استعداداورقابلیت وصلاحیت کی وجہ سے مرجعِ عام وخاص تھے،فقہائے صحابہ میں انہیں ممتازومنفردمقام ومرتبہ حاصل تھا،بڑے بڑے جلیل القدرصحابۂ کرام (رضوان اللہ علیہم اجمعین)مختلف دینی مسائل کے حل کیلئے ا ن کی طرف رجوع کیاکرتے تھے،بالخصوص خلیفۂ دوم حضرت عمربن الخطاب رضی اللہ عنہ اپنے زمانۂ خلافت کے دوران مختلف دینی معاملات ٗفقہی مسائل ٗاورشرعی احکام کے بارے میں بکثرت ان سے مشاورت کیاکرتے تھے،اسی بارے میں ان کایہ مقولہ مشہورہے: لَولَا عَلِيٌّ لَھَلَکَ عُمَرُ یعنی’’اگرعلی نہ ہوتے توعمر(یعنی میں خود) توبس ماراہی گیاتھا…‘‘
مزیدیہ کہ حضرت علیؓ کی یہ بے مثال علمی استعدادکسی خاص علم تک محدودنہیں تھی…بلکہ وہ خالص دینی وشرعی علوم ہوں …یاعلم کاکوئی بھی شعبہ اورکوئی بھی صنف ہو…ہرشعبے میں یہی کیفیت نظرآتی تھی،بالخصوص علم القضاء ، علم الفرائض (۱)نیزعربی ادب ٗ لغت ٗ اورصرف ونحو کے میدان میں آپؓ کوحجت تسلیم کیاجاتاتھا،عربی لغت اورصرف ونحوکے بڑے بڑے پہنچے ہوئے ماہرین آپؓ ہی کے تلامذہ میں سے تھے۔(۲)
ان تمامتراوصاف وکمالات کی وجہ (توفیقِ الٰہی کے بعد) یقینایہی تھی کہ حضرت علیؓ نے اپنے زمانۂ بچپن سے رسول اللہ ﷺ کی وفات تک تقریباًتیس سال کاطویل عرصہ آپؐ کی صحبت ومعیت میں گذارا،اسی طویل اورمسلسل صحبت ومعیت کاہی یہ نتیجہ تھاکہ حضرت علیؓ انتہائی بلندپایہ عالمِ دین تسلیم کئے جاتے تھے،فقہ واجتہادمیں انہیں کامل دسترس ٗ غیرمعمولی مہارت ٗاورمکمل بصیرت حاصل تھی۔
اس علمی مقام ومرتبے کے ساتھ ساتھ مزیدیہ کہ رسول اللہ ﷺ کی صحبت وتربیت کی بدولت آپؓ اخلاق وکرداراوراعلیٰ انسانی اقدارکے لحاظ سے بھی نہایت عمدہ واعلیٰ شخصیت کے مالک تھے۔رسول اللہ ﷺ کے ساتھ آپؓ کی رفاقت اورصحبت ومعیت کایہ مبارک سلسلہ جس کی ابتداء زمانۂ طفولیت سے ہوئی تھی …آپ ﷺ کی وفات ،اورپھرتجہیزوتکفین،حتیٰ کہ آپ ﷺ کے جسدِاطہرکوقبرمبارک میں اتارنے کے مراحل تک یہ سلسلہ جاری وساری رہاتھا۔
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ
عنوان: خلافت کیلئے انتخاب
رسول اللہ ﷺ تادمِ آخرحضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے انتہائی مسرورومطمئن رہے اورزندگی بھرشفقت وعنایت کامعاملہ فرماتے رہے۔
آپؐ کامبارک دورگذرجانے کے بعدخلیفۂ اول حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کے دورمیں بھی حضرت علیؓ کوخاص حیثیت اورقدرومنزلت حاصل رہی ، حضرت ابوبکرؓ اہم فقہی امورمیں ان سے مشاورت کرتے رہے اوران کی اصابتِ رائے پرمکمل یقین واطمینان کا اظہارکرتے رہے۔
خلیفۂ دوم حضرت عمربن الخطاب رضی اللہ عنہ بھی اپنے دورِخلافت میں بکثرت حضرت علیؓ سے مشاورت کیاکرتے تھے، فتحِ بیت المقدس کے یادگاراورتاریخی موقع پرجب سلطنتِ روم کی طرف سے یہ مطالبہ کیاگیاتھاکہ فریقین کے مابین ’’معاہدہ‘‘ کے موقع پرمسلمانوں کے خلیفہ خودبیت المقدس آئیں …تب حضرت عمرؓ نے اکابرصحابۂ کرام سے اس سلسلہ میں مشورہ کیاتھا اوران کی رائے دریافت کی تھی ،اس موقع پربعض حضرات نے یہ مشورہ دیاتھاکہ’’ اے امیرالمؤمنین! آپ کووہاں نہیں جاناچاہئے ، تاکہ رومیوں کویہ احساس ہوکہ ہم مسلمان ان کاہرمطالبہ تسلیم کرناضروری نہیں سمجھتے،اوریوں ان پرہماری مزیدہیبت قائم ہوجائے۔
جبکہ حضرت علیؓ نے یہ مشورہ دیاتھاکہ ’’اے امیرالمؤمنین!آپ کووہاں جاناچاہئے ، تاکہ اس طرح فریقین کے مابین خیرسگالی اورباہمی اعتمادواطمینان کے جذبات پروان چڑھ سکیں ‘‘۔
حضرت عمرؓ نے اسی رائے کوپسندکرتے ہوئے خودبیت المقدس جانے کافیصلہ فرمایاتھا، اورمدینہ سے اپنی اس غیرموجودگی کے موقع پرحضرت علیؓ کوہی اپنانائب وجانشین مقرر کیاتھا۔
اورپھرحضرت عمرؓ جب قاتلانہ حملے کے نتیجے میں شدیدزخمی ہوگئے تھے، تب اپنی شہادت سے قبل آپؓ نے اپنے جانشین کے طورپرجن چھ افرادکے نام تجویزکرتے ہوئے یہ وصیت کی تھی کہ یہی چھ افرادباہمی مشاورت کے بعدتین دن کے اندرآپس میں سے ہی کسی کو ’’منصبِ خلافت ‘‘کیلئے منتخب کرلیں …انہی چھ افرادمیں حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے۔(۱)
اسی طرح خلیفۂ سوم حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے زمانۂ خلافت کے دوران بھی حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کوبدستوریہی قدرومنزلت حاصل رہی،حضرت عثمانؓ مختلف دینی وانتظامی امورمیں ہمیشہ حضرت علیؓ سے مشاورت کرتے رہے،جبکہ حضرت علی ؓ بھی ہمیشہ ان کی معاونت کرتے رہے،خصوصاًباغیوں نے جب شورش برپاکی ٗ اس نازک ترین موقع پرحضرت علیؓ ہی باربارمختلف تدبیروں کے ذریعے ان باغیوں کوسمجھانے بجھانے اوررفع دفع کرنے کی کوششیں کرتے رہے…مزیدیہ کہ اُن دنوں حضرت علیؓ نے اپنے دونوں جوان بیٹوں یعنی حضرت حسن ٗنیزحضرت حسین رضی اللہ عنہماکومسلسل حضرت عثمان کے گھرکی نگرانی پرمقررکئے رکھا…تاکہ شرپسندکوئی موقع پاکرگھرکے اندرداخل نہ ہوسکیں ، غرضیکہ ان دونوں جلیل القدرشخصیات میں باہم بڑی محبتیں اورقربتیں رہیں ،اورآپس میں یہ ہمیشہ شیروشکرکی مانندرہے۔
اورپھرحضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے گھرکے طویل محاصرے کے بعدآخرجب انہیں نہایت بیدردی کے ساتھ شہیدکردیاگیا…اوریہ المناک خبرحضرت علیؓ تک پہنچی توآپؓ حیرت زدہ رہ گئے،اورانتہائی رنجیدہ ودل گرفتہ ہوگئے،حتیٰ کہ شدتِ غم کی وجہ سے آنکھوں سے آنسوجاری ہوگئے…کیونکہ باقی تمام صحابۂ کرام کی طرح یہ خبران کیلئے بھی بالکل غیرمتوقع تھی،دراصل اس بغاوت اورفتنے کے موقع پران سبھی حضرات کایہی خیال تھاکہ یہ وقتی معاملہ ہے…کیونکہ دوردرازکے علاقوں سے آئے ہوئے یہ باغی کچھ عرصے بعدتنگ آکرخودہی واپس لوٹ جائیں گے…نیزیہ کہ ان باغیوں کی سرکوبی کی غرض سے بعض دوردرازکے علاقوں سے اسلامی لشکرکی مدینہ کی جانب روانگی کی خبریں بھی موصول ہورہی تھیں … لہٰذاان تمام حضرات کایہی خیال تھاکہ اس معاملے کاکوئی نہ کوئی مناسب حل ضرورنکل آئے گا…یا…زیادہ سے زیادہ یہ کہ اس فتنے کی آگ کوبجھانے کی غرض سے حضرت عثمان ؓ خودہی ’’منصبِ خلافت‘‘سے دستبرداری اختیارکرلیں گے…کیونکہ باغیوں کامحض یہی مطالبہ تھا…جان لینے دینے کاتووہاں کوئی معاملہ ہی نہیں تھا…لیکن اب جوکچھ ہوگیا…یعنی حضرت عثمان ؓ کاقتلِ ناحق…اوروہ بھی اس قدربھیانک طریقے سے اوراس قدروحشیانہ اندازمیں …یہ توکسی کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا،لہٰذااس غیرمتوقع ظلم وبربریت کی وجہ سے دیگرتمام صحابۂ کرام کی مانندحضرت علیؓ بھی انتہائی صدمے اوررنج وغم کی کیفیت سے دوچارتھے۔
خلیفۂ سوم امیرالمؤمنین ذوالنورین حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے اس المناک واقعے کے بعدایک اہم ترین معاملہ یہ درپیش تھاکہ منصبِ خلافت کی ذمہ داری اب کون سنبھالے گا…؟ظاہرہے کہ اُس معاشرے میں یہ بات روزِروشن کی طرح عیاں تھی کہ حضرت علیؓ سے بڑھ کرکوئی اوراس منصب کااہل نہیں ہوسکتا۔چنانچہ لوگوں نے بار بارحضرت علیؓ کے سامنے اس بات کامطالبہ اوراصرارکیاکہ آپ یہ منصب سنبھال لیجئے… لیکن حضرت علیؓ ہرباریہی جواب دیتے رہے کہ ’’ہمارے خلیفہ قتل کردئیے گئے…اورمیں ان کی جگہ منصبِ خلافت سنبھال کربیٹھ جاؤں …مجھے ایساکرتے ہوئے شرم محسوس ہوتی ہے…لہٰذاکسی اورکوتلاش کرو…‘‘لوگوں کی طرف سے اصرار…جبکہ حضرت علیؓ کی طرف سے معذرت اورانکار…چندروزیہی سلسلہ چلتارہا…آخر مہاجرین وانصارمیں سے سرکردہ افراد پرمشتمل متعددحضرات نے حضرت علیؓ سے ملاقات کی اورانہیں منصبِ خلافت سنبھالنے پرآمادہ کیا…تب آپؓ نے ان کی بات کوردکرنامناسب نہیں سمجھا اوراپنی طرف سے آمادگی کااظہارکیا۔
اوریوں سن ۳۵ ہجری میں ماہِ ذوالحجہ کے آخری دنوں میں مدینہ منورہ میں حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے خلیفۂ چہارم کی حیثیت سے ذمہ داری سنبھالی۔
.
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ
عنوان: منصبِ خلافت سنبھالنے کے بعد
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے حصے میں یہ نازک ترین ذمہ داری ایسے وقت میں آئی تھی کہ جب چہارسوشدیداضطراب اوربے چینی کاایک لامتناہی سلسلہ تھا…ہرنئے دن کے ساتھ ہی نئی سازش اورنئی شورش جنم لیتی تھی…انہی شرانگیزقسم کے حالات میں خلیفۂ چہارم کے دورِخلافت کاآغازہوا۔
اس موقع پرسب سے اہم اورنازک ترین معاملہ جوفوری طورپردرپیش تھا، وہ قاتلینِ عثمان ؓ کی گرفتاری اورپھرانہیں قرارواقعی سزادینے کامعاملہ تھا…لیکن یہ کوئی آسان معاملہ نہیں تھا،کیونکہ صورتِ حال انتہائی پیچیدہ تھی، باغی اب بھی بدستورکافی طاقتورتھے،اورپھریہ کہ جہاں بلوہ ہو ٗماردھاڑ ٗ قتل وغارتگری ٗ افراتفری ٗ جہاں ہزاروں انسانوں کاجمعِ غفیرہو… وہاں توشایدخودبلوائیوں اورفسادیوں کوبھی درست اندازہ نہیں ہوسکتاکہ کس نے کس کوقتل کیا؟لہٰذامحض افواہ یاسنی سنائی بات کی بنیادپرکسی کومجرم قراردینا،اورپھراسے سزا بھی دینا، یہ کسی صورت مناسب نہیں تھا،بلکہ وہاں توتمام شرعی وعدالتی تقاضوں کی تکمیل لازمی تھی۔
یہی وجہ تھی کہ حضرت علیؓ نے خلافت کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعداس معاملے کوفی الحال کچھ عرصہ کیلئے ملتوی کرنامناسب سمجھا،تاکہ اس شورش زدہ ماحول میں قدرے بہتری آجائے، مرورِوقت کے ساتھ معاملات پرگرفت بھی نسبۃً بہتراورمضبوط ہوجائے، مزیدیہ کہ اس خونِ ناحق کے حوالے سے جواسرارہیں …جوپوشیدہ گوشے ہیں …اورجوخفیہ حقائق ہیں …وہ قدرے کُھل کرسامنے آجائیں ، تب مکمل خوداعتمادی کے ساتھ بھرپور طریقے سے اس معاملے کی طرف توجہ دی جائے۔
مگرصدافسوس کہ ہرگذرتے ہوئے لمحے کے ساتھ یہ معاملہ نازک تراورسنگین ترین ہوتاچلاگیا…پیچیدگیاں بڑھتی ہی رہیں …جس قدرسلجھانے کی کوشش کی گئی ٗ اسی قدرالجھنیں بڑھتی گئیں ، نوبت بایں جارسید…کہ …ہرنئی صبح طلوع ہونے والے نئے سورج کے ساتھ ہی ایک نیافتنہ بھی طلوع ہوجاتا۔
فتنوں اورسازشوں سے بھرپوراس گھٹن زدہ ماحول میں ایک اہم حقیقت یہ تھی کہ ان تمامترمشکلات کی اصل آماجگاہ مدینہ سے کافی دوردرازکے علاقے تھے،اوریہ کہ یہاں اس قدردورمدینہ میں رہتے ہوئے اس بگاڑ کی اصلاح کافی مشکل تھی،اسی حقیقت کااحساس وادراک کرتے ہوئے حضرت علیؓ نے اب مدینہ سے انہی دوردرازکے علاقوں کی طرف نقل مکانی کاارادہ کیا،تاکہ وہاں قریب رہتے ہوئے ان فتنوں کابہترطریقے سے قلع قمع کیا جاسکے۔
چنانچہ حضرت علیؓ نے ماہِ ربیع الثانی سن ۳۶ہجری میں مدینہ میں نوسوجانبازوں پرمشتمل ایک لشکرتیارکیا،اورخوداس کی قیادت کرتے ہوئے ابتدائی طورپربصرہ کی طرف کوچ کرنے کا اعلان کیا۔
اکابرصحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے متعددحضرات ٗبالخصوص حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اس پریشان کُن صورتِ حال میں اُن شورش زدہ علاقوں کی جانب روانگی کاارادہ ترک کردینے کامشورہ دیا۔
لیکن حضرت علیؓ نے اس سلسلہ میں معذرت کااظہارکیا…اورپھرمدینہ سے عین روانگی کے وقت حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے بے ساختہ آگے بڑھ کرآپؓ کے گھوڑے کی لگام تھام لی اوراسے روک لیا،اورپھربڑے ہی حسرت آمیزلہجے میں یوں کہاکہ :’’اے امیرالمؤمنین!اگرآپ ایک بارمدینہ سے چلے گئے تو…پھرشایدآپ زندگی میں دوبارہ کبھی رسول اللہ ﷺ کایہ شہرمدینہ ٗرسول اللہ ﷺ کی یہ مسجد ٗاوریہ منبرومحراب… نہیں دیکھ سکیں گے‘‘، اس کے بعدمزیدیہ بھی کہا’’اگرآپ آج اس شہرمدینہ کوچھوڑکرچلے گئے…تو پھرشایدقیامت تک دوبارہ کبھی یہ شہرمدینہ مسلمانوں کادارالخلافہ نہیں بن سکے گا…‘‘(۱)
اس پرلشکرمیں سے کسی جوشیلے شخص نے آگے بڑھ کرحضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کے ساتھ کچھ تلخ کلامی کی …جس پرحضرت علیؓ نے اسے تنبیہ کی اوراس حرکت پرناگواری کااظہارکیا …اورپھرحضرت عبداللہ بن سلام ؓکی طرف متوجہ ہوتے ہوئے حسبِ سابق اپنافیصلہ تبدیل کرنے کے بارے میں معذرت کااظہارکیا…اورپھران سب کی نگاہوں کے سامنے وہاں سے بصرہ کی جانب روانہ ہوگئے۔
اورپھربصرہ میں کچھ عرصہ قیام کے بعدوہاں سے مزیدآگے کوفہ چلے گئے(۲)لیکن وہاں پہنچنے کے بعدبھی صورتِ حال میں کوئی بہتری نہ آسکی۔
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کواپنی تمام مدتِ خلافت کے دوران روزِاول سے روزِآخرتک سکون کاکوئی ایک لمحہ بھی میسرنہ آسکا…پانچ سال کے عرصے پرمحیط آپؓ کایہ تمامترزمانۂ خلافت داخلی فتنوں ٗ شورشوں ٗ سازشوں ٗ افتراق وانتشار ٗ اورخانہ جنگیوں کی نذرہوگیا۔
مشکل درمشکل کے اس لامتناہی سلسلے کے حوالے سے ایک اہم حقیقت جسے ذہن نشیں رکھناضروری ہے ،وہ یہ کہ خلیفۂ چہارم امیرالمؤمنین حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے قبل گذشتہ خلفاء ٗ بالخصوص پہلے دونوں خلفاء کومنصبِ خلافت جب ملا،اُس وقت صورتِ حال یہ تھی کہ ان کی رعیت میں سے بہت بڑی اکثریت خودحضرات صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہی کی تھی…جوبڑی حدتک ان کے ہم خیال اورہم مزاج تھے…
اس بات کویوں سمجھناچاہئے کہ جس طرح کسی کلاس روم میں بعض اوقات کوئی استادنظم وضبط برقراررکھنے کی غرض سے وہاں موجودطلبہ میں سے ہی کسی کو’’مانیٹر‘‘مقررکردیتاہے۔اُس موقع پرصورتِ حال یہ ہوتی ہے کہ وہ مانیٹرجن طلبہ کی ’’مانیٹرنگ‘‘یانگرانی اوردیکھ بھال کررہاہوتاہے…وہ سب اس کے اپنے دوست اورساتھی ٗ اس کے ہم جماعت ٗ ہم عصر ٗ اورہم عمرہواکرتے ہیں …وہ سب ایک ہی استادسے تعلیم حاصل کررہے ہوتے ہیں ، ایک ہی کتاب اورایک ہی نصاب پڑھ رہے ہوتے ہیں ،ایک ہی ادارے کے وہ طلبہ ہواکرتے ہیں …ان کی تعلیم وتربیت ایک ہی اندازسے ہورہی ہوتی ہے…ان کی سوچ ٗ ان کے اندازواطوار ٗ ان کے خیالات وافکار ٗ ان کے اہداف ٗ ان کے ارادوں ٗ نیزان کے اغراض ومقاصدمیں بڑی حدتک مماثلت ویگانگت ہواکرتی ہے…لہٰذاخودانہی کے اس ساتھی ’’مانیٹر‘‘کو اپنے ان ہم جماعت طلبہ کی نگرانی ٗ یاان کے ساتھ کسی قسم کی کوئی مفاہمت ٗ یاکوئی معاملہ طے کرنے میں قطعاًکوئی دشواری پیش نہیں آتی۔
لیکن اگرکبھی بعدمیں طویل زمانہ گذرجانے کے بعداسی مانیٹرکواپنے انہی ہم جماعت طلبہ کی بجائے ان کی اولادمیں سے کسی کے ساتھ کوئی معاملہ طے کرنے کی نوبت آجائے … توصورتِ حال یقینابہت مختلف ہوگی…
یاجس طرح دوبھائیوں میں باہم کس قدرمحبتیں اورقربتیں ہواکرتی ہیں …ہمیشہ دکھ سکھ کے ساتھی…بلاتکلف اوربلاجھجک ہمیشہ ایک دوسرے کے سامنے صاف صاف حالِ دل بیان کردینے والے …
لیکن اگربعدمیں کبھی انہی میں سے ایک بھائی کواپنے دوسرے بھائی کی بجائے اس کی اولادکے ساتھ کوئی مفاہمت کرنی پڑے ،یاکوئی معاملہ طے کرنے کی نوبت آئے… تب یقیناوہ بات نہیں ہوگی جوخودبھائیوں میں آپس میں تھی…قدرت کایہی نظام ہے…
بعینہٖ اسی طرح خلیفۂ چہارم سے قبل گذشتہ خلفاء ٗ بالخصوص پہلے دوخلفاء ٗ کے دورمیں صورتِ حال یہ تھی کہ ان کی رعیت میں غالب اکثریت اکابرصحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تھی،جوان کے ہم خیال اورہم مزاج تھے،ایمان واخلاص ٗ زہدوتقویٰ ٗ للہیت وفنائیت ٗ فکرِ آخرت ٗ امانت ودیانت ٗ حق گوئی وراست بازی ٗ دنیاکے حقیرمال ومتاع سے بے رغبتی ٗ غرضیکہ ہرلحاظ سے ان سب کامعیارایک ہی جیساتھا…ان سبھی کی تربیت خودخاتم الأنبیاء واشرف المرسلین نے فرمائی تھی…ان سبھی نے اللہ سبحانہ وتعالیٰ کادین براہِ راست خوداللہ کے رسول ﷺ سے ہی سیکھاتھا…آپؐ کی صحبت ومعیت ٗ کسبِ فیض کے وہ مبارک سلسلے ٗ اورآپؐ کاوہ فیضانِ نظر…یہی وہ بے مثال شرف تھا…اوریہی وہ اعلیٰ ترین اعزاز تھا… جس نے انہیں تمام بنی نوعِ انسان میں یکتائے روزگاربنادیاتھا…لہٰذاان گذشتہ (دو) خلفاء کواپنے ہی ان مخلص دوستوں اورساتھیوں پرمشتمل اپنی اس رعیت کے ساتھ مفاہمت اورمعاملات طے کرنے میں …نیزانتظامی معاملات چلانے میں کسی دقت کا … کسی سازش کا…کسی شورش کا…سامنانہیں کرناپڑا…
جبکہ اس کے برعکس خلیفۂ چہارم حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے جب منصبِ خلافت سنبھالاتودنیابدلی ہوئی تھی…ماحول بدلاہواتھا…لوگوں کے مزاج بدلے ہوئے تھے…اورپھربالخصوص مدینہ سے بصرہ اورپھرکوفہ منتقل ہوجانے کے بعدتواس ناگوار تبدیلی میں مزیدشدت آچکی تھی،مدینہ میں تواب بھی کافی تعدادمیں اہلِ خیرموجودتھے… مبارک ہستیاں بکثرت نظرآتی تھیں …لیکن سینکڑوں میل کی مسافت پرواقع اس نئی جگہ پر توہرطرف ناآشناہی نظرآتے تھے،نئی نئی شکلیں ،نامانوس اوراجنبی چہرے،جن کے مزاج مختلف،اندازبدلے ہوئے،اخلاق وعادات جداگانہ، عمررسیدہ اورتربیت یافتہ شخصیات کی بجائے نوجوانوں کی ٹولیاں …ناتجربہ کار…ناقص تربیت…جوش عروج پر…لیکن ہوش کافقدان…مزیدیہ کہ ان میں سے اکثریت نومسلموں کی …یہی وہ صورتِ حال تھی جس کی وجہ سے حضرت علیؓ اکثربیتے دنوں کویادکرکے…نیزرسول اللہ ﷺ کو… اوراپنے پرانے احباب کویادکرکے رنجیدہ وافسردہ ہوجایاکرتے تھے۔
حضرت علیؓ کویہ بات بخوبی یادتھی کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں ’’ شہادت‘‘ اورپھر’’جنت ‘‘کی خوشخبری سے شادکام فرمایاتھا…لہٰذاوہ اپنے اللہ کی رضاکی خاطرصبروشکراورہمت و استقامت کے ساتھ …بس اللہ سے لَولگائے ہوئے…سب کچھ برداشت کررہے تھے…کوئی شکوہ نہیں تھا…کوئی فریادنہیں تھی…کوئی آہ وبکاء نہیں تھی…بس خاموشی کے ساتھ سب کچھ دیکھتے ہوئے اسی انجام کی طرف …اوراسی منزل کی جانب بڑھ رہے تھے…کہ …جواس فانی وعارضی دنیامیں اکثر’’اللہ والوں ‘‘ کامقدررہی ہے۔
اسی لئے اُن دنوں اکثراپنے ایک ہاتھ سے اپنی داڑھی کوتھامے ہوئے اوردوسرے ہاتھ سے اپنی پیشانی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یوں کہاکرتے تھے: لَتُخْضَبَنَّ ھٰذِہٖ مِنھٰذِہٖ … یعنی’’عنقریب یہ (یعنی میری داڑھی) یہاں (یعنی میری پیشانی سے بہنیوالے خون )سے رنگی جائے گی…‘‘(۱)
اورپھراسی پُرآشوب دورمیں بالآخربدنامِ زمانہ ’’خوارج‘‘کا ایک گروہ جسے کچھ عرصہ قبل ہی ’’نہروان‘‘کے میدان میں حضرت علیؓ کے ہاتھوں بدترین اوررسواکن شکست وہزیمت کا سامناکرناپڑاتھا،اس گروہ نے اپنی اسی شکست کاانتقام لینے کی غرض سے حضرت علیؓ کے قتل کی ٹھانی…اورغوروفکرکے بعدیہ ذمہ داری ’’ابن مُلجَم‘‘کوسونپی گئی…جوکہ اس مذموم مقصدکی تکمیل کی خاطرکوفہ جاپہنچا…اوروہاں آمدکے بعدکسی مناسب جگہ روپوش ہوکراس ناپاک ارادے کوعملی جامہ پہنانے کی غرض سے خفیہ طورپرتیاری میں مشغول ومنہمک ہوگیا، وہاں قیام کے دوران ایک ماہ تک مسلسل روزانہ بلاناغہ وہ اپنی تلوارکوزہرآلودکرتارہا، نیزاس دوران وہ حضرت علیؓ کی نقل وحرکت ودیگرمعمولاتِ زندگی کابغورجائزہ بھی لیتارہا۔
آخرایک روزجب ماہِ رمضان کی سترہ تاریخ تھی،نمازِفجرسے قبل اندھیرے کافائدہ اٹھاتے ہوئے وہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے گھرسے مسجدکی طرف جانے والی گلی کے ایک موڑپر چھپ کربیٹھ گیا…حضرت علی ؓ کایہ معمول تھاکہ نمازِفجرکیلئے گھرسے مسجدکی طرف روانگی کے موقع پراس گلی میں حَيَّ عَلَیٰ الصَّلَاۃ کی صدابلندکرتے جاتے تھے ،تاکہ جوکوئی خوابِ غفلت میں مبتلاہو وہ اس طرف متوجہ ہوجائے اورنمازکیلئے تیاری کرے…اس چیزسے اس بدبخت کیلئے اپنے ناپاک منصوبے کی تکمیل میں مزیدسہولت ہوگئی،چنانچہ جب اس نے حَيَّ عَلَیٰ الصَّلَاۃ کی یہ صداسنی تووہ مزیدچوکس اور خوب مستعدہو گیا،تلوارپراپنی گرفت خوب مضبوط کرلی…جیسے ہی حضرت علیؓ اُس موڑ پر پہنچے اس نے اچانک سامنے نمودارہوکراپنی اس زہرآلودتلوارسے آپؓ کے سرپر بھرپور وار کیا…جس کے نتیجے میں آپؓ شدیدزخمی ہوکرگرپڑے(۱)اورآپؓ کے سرسے مسلسل خون بہنے لگا…
اس المناک واقعہ سے تقریباًپینتیس سال قبل غزوۂ خندق کے یادگاراورتاریخی موقع پرجب مشرکینِ مکہ کانامورشہسوار’’عبدوُد‘‘جس کی بہادری کے بڑے چرچے تھے…اورجس کی بڑی ہیبت ودہشت تھی…ایک موقع پرجب وہ خندق پارکرنے میں کامیاب ہوگیاتھا، اورمسلمانوں کے سامنے پہنچ کرانہیں للکاررہاتھا، تب رسول اللہ ﷺ نے حضرت علیؓ کواس کے مقابلے کیلئے نکلنے کاحکم دیاتھا،اس حکم کی فوری تعمیل کرتے ہوئے آپؓ بلاخوف وخطرغروروتکبرکے اُس پتلے کے سامنے جاکھڑے ہوئے تھے…عبدِوُدنے آپؓ پرتلوار کا بھرپوروارکیاتھا،جس کے نتیجے میں آپؓ کے سرمیں کاری زخم آیاتھااوربڑی مقدارمیں خون بہنے لگاتھا،اسی کیفیت میں آپؓ نے پلٹ کراس دشمنِ خداپرایسا بھرپوروارکیاتھاکہ چشم زدن میں وہ زمین بوس ہوگیاتھا۔
پینتیس سال کاطویل عرصہ گذرجانے کے بعداب کوفہ میں دوبارہ آپؓ کے سرمیں عین اس مقام پرکہ جہاں اُس پرانے زخم کانشان بدستورباقی تھا…اسی جگہ اب تلوارکی ضرب لگی اوراُسی طرح بڑی مقدارمیں خون بہنے لگا۔
لوگوں کوجب اس افسوسناک ترین صورتِ حال کی اطلاع ملی تودیکھتے ہی دیکھتے وہاں جمعِ غفیراکٹھاہوگیا،حضرت علیؓ کواٹھاکرگھرلے جایاگیا…جبکہ قاتل ’’ابن مُلجَم‘‘نے جائے واردات سے فرارہونے کی کوشش کی ،تاہم وہاں موجودمجمع نے اسے موقع پرہی دبوچ لیا۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ اس قاتلانہ حملے میں شدیدزخمی ہونے کے بعددودن موت وزیست کی کشمکش میں مبتلارہے…اس دوران آپؓ نے عام لوگوں کو ٗاوربالخصوص اپنے صاحبزادگان ودیگراہلِ بیت کومتعددوصیتیں فرمائیں ،اپنے قاتل کے بارے میں وصیت کرتے ہوئے فرمایاکہ ’’اگرمیری موت واقع ہوگئی توشرعی قوانین کی مکمل پاسداری کرتے ہوئے صرف اسے جائزسزادینا،اس سے زیادہ اسے یااس کے افرادِ خانہ میں سے کسی کوکوئی گزندنہ پہنچانا…اوراگرمیں زندہ رہا تومیں خودفیصلہ کروں گاکہ اسے سزادی جائے،یا معاف کردیاجائے…‘‘
انہی دنوں متعددافرادنے آپؓ سے یہ مطالبہ کیاکہ ’’اے امیرالمؤمنین!آپ اپناکوئی جانشین تومقررکردیجئے‘‘مگرآپؓ نے ایساکرنے سے معذرت کی…اورکسی کواپناجانشین مقررنہیں فرمایا۔
آخرکوفہ میں اسی قاتلانہ حملے کے نتیجے میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے۲۱/رمضان سنہ ۴۰ہجری تریسٹھ برس کی عمرمیں امیرالمؤمنین حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اس جہانِ فانی سے کوچ کرگئے اوراپنے اللہ سے جاملے۔(۱)آپؓ کے صاحبزادگان حضرت حسن رضی اللہ عنہ ،حضرت حسین رضی اللہ عنہ ٗ محمدبن الحنفیہ رحمہ اللہ،نیزبھتیجے حضرت عبداللہ بن جعفررضی اللہ عنہما نے غسل اورتجہیزوتکفین کے فرائض انجام دئیے۔نمازِجنازہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے پڑھائی۔
اللہ تعالیٰ جنت الفردوس میں آپؓ کے درجات بلندفرمائیں ، نیزہمیں وہاں اپنے حبیب ﷺ اورتمام صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی صحبت ومعیت کے شرف سے نوازیں ۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
Gulzaretaibah284@gmail.com