نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

تزکرہ ‏حضرت ‏امام ‏حسن ‏رضی ‏اللہ ‏عنہ

حضرتِ سیّدہ فاطمۃُالزّہراء  رضیَ اللہُ تعالٰی عنہَا  کے گلشن کے مہکتے پھول،اپنے نانا جان ،رحمتِ عالمیان  صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسلَّم  کی آنکھوں کے نور ، راکبِ دوشِ مصطفےٰ (مصطفےٰ جانِ رحمت  صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسلَّم  کے مبارک کندھوں پر سواری کرنے والے)، سردارِ امّت، حضرت سیّدُنا  امام حَسَن مجتبیٰ  رضیَ اللہُ تعالٰی عنہُ  کی ولادتِ باسعادت  15رمضان المبارک 3ہجری  کو مدینہ طیبہ میں ہوئی۔                                             (البدايۃوالنہایہ،  5/519)

نام،القابات اورکنیت:آپ  رضیَ اللہُ تعالٰی عنہُ  کا نام حسن کنیت ”ابو محمد“ اور لقب ”سبطِ رسول اللہ“(رَسُوۡلُ اللہ  صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسلَّم  کے نَواسے)اور”رَیْحَانَۃُ الرَّسُوْل“(رَسُوۡلُ اللہ  صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسلَّم  کے پھول)ہے۔(تاریخ الخلفاء، ص149)

مبارك تحنیک (گھُٹی) : نبیِ اکرم  صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسلَّم  نے آپ  رضیَ اللہُ تعالٰی عنہُ  کے کان میں اذان کہی۔ (معجم کبیر، 1/313، حدیث:926) اور اپنے لعابِ دہن سے گھٹی دی۔(البدايۃ والنہایہ، 5/519)

شہد خوارِ لعابِ زبانِ نبی

چاشنی گیر عصمت پہ لاکھوں سلام

عقیقہ:نبیِّ کریم  صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسلَّم  نےآپ  رضیَ اللہُ تعالٰی عنہُ  کے عقىقے میں دو دنبے ذبح فرمائے۔                           (نسائی،ص 688، حدیث: 4225)

سرکارکی امام حسن سے محبت: حضورِ اکرم  صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسلَّم  کوآپ  رضیَ اللہُ تعالٰی عنہُ  سے بے پناہ محبت تھی۔ پیارے آقا  صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسلَّم  آپ  رضیَ اللہُ تعالٰی عنہُ  کو کبھی اپنی آغوشِ شفقت میں لیتے تو کبھی  مبارک کندھے پر سوار کئے ہوئے گھر سے باہر تشریف لاتے،آپ  رضیَ اللہُ تعالٰی عنہُ  کی معمولی سی تکلیف پر بےقرار ہوجاتے، آپ کو دیکھنےاور پیار کرنے کے لئے سیّدتنا فاطمہ  رضیَ اللہُ تعالٰی عنہَا  کے گھر تشریف لے جاتے۔ آپ  رضیَ اللہُ تعالٰی عنہُ  بھی اپنے پیارے نانا جان  صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسلَّم  سے بے حد مانوس تھے، نماز کی حالت میں پشت مبارک پر سوار ہو جاتے تو کبھی داڑھی مبارک سے کھیلتے لیکن سرکارِ دو عالم  صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسلَّم  نے انہیں کبھی نہیں جھڑکا۔ ایک مرتبہ آپ  رضیَ اللہُ تعالٰی عنہُ  کو حضور پرنور  صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسلَّم  کےشانۂ مبارک پرسوار دیکھ کر کسی نے کہا: صاحبزادے! آپ کی سواری کیسی اچھی ہےتو نبیِّ کریم  صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسلَّم  نے فرمایا: سواربھی تو کیسا اچھا ہے۔

 (ترمذی،5/432،حدیث:3809)

حسنِ مجتبیٰ، سیّد الاسخیاء

راکبِ دوشِ عزت پہ لاکھوں   سلام

آپ  رضیَ اللہُ تعالٰی عنہُ  اُن خوش نصیبوں میں شامل  ہیں جنہیں نبیِّ کریم  صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسلَّم  نے فرمایا:بِاَبِي وَاُمِّي یعنی تم پر میرے ماں باپ فِدا۔(معجم کبیر،3/65، حديث:2677)

شبیہِ مصطفےٰ: حضرت سیّدناانس  رضیَ اللہُ تعالٰی عنہُ  فرماتے ہیں: ( امام) حسن  رضیَ اللہُ تعالٰی عنہُ  سے بڑھ کرکوئی بھی حضور اکرم  صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسلَّم  سے مُشابہت رکھنے والا نہ تھا۔

(بخاری، 2/547، حدیث :3752)

امامِ حسن سردار ہیں:آپ  رضیَ اللہُ تعالٰی عنہُ   نے حضرت امیر معاویہ  رضیَ اللہُ تعالٰی عنہُ  سےصلح فرما کر اپنے نانا جان،رحمتِ عالمیان  صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسلَّم  کے اس فرمان کو عملاً پورا فرمایا: میرایہ بیٹا سردار ہے، اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کی بدولت مسلمانوں کی دوبڑی جماعتوں میں صلح فرمائے گا۔

(بخاری،2/214،حدیث:2704)

اوصاف:آپ  رضیَ اللہُ تعالٰی عنہُ  نہایت رحم دل،سخی، عبادت گزار اور عفوودرگزر کے پیکر تھے۔ آپ  رضیَ اللہُ تعالٰی عنہُ  فجر کى نماز کے بعد طلوع آفتاب تک ٹیک لگاکر بیٹھ جاتے اور مسجد میں موجود لوگوں سے دینی مسائل پر گفتگو فرماتے۔ جب آفتاب بلند ہوجاتا تو چاشت کے نوافل ادا فرماتے  پھر اُمَّہاتُ المؤمنین   رضیَ اللہُ تعالٰی عنہُنَّ  کے گھر تشریف لے جاتےتھے۔(تاریخ ابن عساکر، 13/241) آپ  رضیَ اللہُ تعالٰی عنہُ  نے(مدینۂ منورہ زادہَا اللَّہُ شرفًا وَّتعظیمًا سے مکۂ مکرمہ زادہَا اللَّہُ شرفاً وَّ تعظیماً)پیدل چل کر 25 حج ادا فرمائے۔

(سیراعلام النبلاء، 4/387)

سخاوت: آپ  رضیَ اللہُ تعالٰی عنہُ  کثرت سے صدقہ و خیرات فرماتے حتّی کہ دو مرتبہ اپنا سارا مال اور تین مرتبہ آدھا مال را ہِ خدا میں صدقہ فرمایا۔  (ابن عساکر، 13/243)

 شہادت:کسی کے زہر کھلا دینے کی وجہ سےآپ  رضیَ اللہُ تعالٰی عنہُ  نے 5ربیع الاول 49 ہجری کو مدینۂ منورہ میں شہادت کا جام نوش فرمایا۔ایک قول50ہجری کا بھی ہے۔(المنتظم، 5/226، صفۃ الصفوة،1/386)

 اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ان پر  رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری بے حساب مغفرت ہو ۔
 ماہنامہ فیضان مدینہ سے یہ مضمون لیا گیاہے

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

نسبندی کا شرعی حکم

نسبندی کا شرعی حکم روشن تحقیق السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام کہ نس بندی کرانا کیسا ہے جبکہ ڈاکٹر یہ کہے کہ اب یہ عورت مزید بچے پیدا کرے گی، جس سے اسے سخت بیماری پیدا ہونے یا جان کا خطرہ ہے، اور باقی ضبط تولید کے ذرائع سے بھی کبھی خطرہ رہتا ہے، وہ ذرائع فیل ہو جاتے ہیں، اور عورت حاملہ ہو جاتی ہے، اس صورت میں عورت کی مجبوری کو مدنظر رکھتے ہوئے حکم شرعی بیان فرمائیں۔  *سائل: محمد علی باڑمیر*  . وعلیکم السلام ورحمتہ وبرکاتہ  الجواب وباللہ توفیق  نسبندی کی جائز اور ناجائز صورتیں بیان کرتے ہوئے علامہ غلام رسول سعیدی، شرح مسلم جلد سوم میں فرماتے ہیں  1۔ کوئی شخص تنگی رزق کے خوف کی وجہ سے خاندانی منصوبہ بندی (نسبندی کرواتا ہے) اصلًا جائز نہیں ہے، یہ اس لیے کہ حرمت کی علت تنگی رزق کا ہونا قرآن مجید میں مذموم ہے: "لا تقتلوا اولادکم من املاق   (سورہ نمبر 6آیت 151" 2۔ اور کوئی شخص لڑکیوں کی پیدائش سے احتراز کے لیے ضبط تولید کرے، کیونکہ ان کی پرورش میں مشقت اور عار کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور یہ نیت زمانہ جاہلیت کے مشرکین ...

حربی سے سود لینے کا حکم روشن تحقیق

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ  سوال کیا فرماتے ہیں مفتیان اعظم مسلہ ذیل میں ہندستان کے کفار سے سود لینا کیسا اور ہندوستان کی بینکوں سے ملنے والا سود کا کیا حکم ہے اور کیا ہندوستان کے کفار حربی ہے ان سوالات کا جواب عنایت فرمائیں سایل محمد علی سانوا باڑمیر راجستھان  وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ الجواب وباللہ توفیق  تحقیق یہ ہے کہ ہندوستان کے کفار سے بھی سودی معاملات جایز نہیں اور ہندوستان کی بینکوں سے ملنے والا سود بھی حرام ہے اس رقم کو بغیر نیت ثواب کے  کسی غریب کو دے دیں اب آے اس مسلے پر تفصیلی گفتگو کرتے ہیں  دارالحرب کے سود میں جمہور فقہا کا نظریہ علامہ ابن قدامہ حنمبلی فرماتےہے دارالحرب میں سود اسی طرح حرام ہے جس طرح دارال اسلام میں سود حرام ہے امام احمد امام مالک امام اوزاعی امام ابو یسف امام شافعی اور اسحاق کا بھی یہی مزہب ہے امام ابو حنیفہ نے کہا کہ مسلمان اور حربی کے درمیان دارالحرب میں ربا جاری نہیں ہوگا اور ان سے ایک روایت یہ بھی ہے کہ دو شخص دارالحرب میں مسلمان ہو گئے توان کے درمیان ربا (سود) نہیں ہوگا اور ان کے اموال مباح ہیں علامہ غلام رسول س...

کیا حضور پر جادو کا اثر ہوا تھا

کیا حضور پر جادو کا اثر ہوا تھا حنفی دارالافتا۶ - 01/03/2025  کیا فرماتے ہے مفیان کرام کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کا اثر ہوا تھا اور ہوا تھا تو اس پر صحیح حدیث موجود ہے اور دوسرا سوال یہ ہے کہ صحیح بخاری کی اس حدیث کا کیا جواب ہے جس میں ہے کہ وحی رک گئی تو آپ نے اپنے آپ کو پہاڈ سے گرانا چاہا جواب عنائت فرمائے سائل محمد علی کچھ گجرات  الجواب و باللہ توفیق کسی بھی مسئلے میں قائدہ یہ ہے کہ اس کو قرآن کے سامنے پیش کریں گے اگر قرآن کے خلاف ہے تو اگرچہ حدیث صحیح ہو اس کو قبول نہیں کیا جائے گا آپ پر جادو کا اثر ہوا تھا اس پر جمہور مفسرین نے یہ ہی لکھا ہے تبیان القرآن جلد۔ اول صفہ ۱۰۴۸میں ہے  امام فخر الدین محمد بن عمر رازی متوفی 606  ھ لکھتے ہیں :- جمہور مفسرین نے یہ کہا ہے کہ لبیدبن اعصم یہودی نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر گایرہ گرہوں میں جادو کیا تھا اور اس دھاگے کو ذروان نامی کنوئیں کی تہہ میں ایک پتھر کے نیچے دبا دیا تھا، پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیمار ہوگئے اور تین دن آپ پر سخت گزرے، پھر اس وجہ سے معوذتین نازل ہوئیں اور حضرت جبریل نے آ کر آپ کو ...